انتخابات ،اسلام اور حقوق العباد (47) شمس جیلانی

0
101

 گزشتہ قسط میں اسلام اور انتخابات پربات کر رہے تھےاور اس سلسلہ ہمیں جو کچھ۔ گوش گزار کرنا تھا وہ کرچکے ہیں؟ اس سلسلہ میں یہ ہمارا دوسرا اور آخری کالم ہوگا۔ بہت سے لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ انتخابات تو ایک سیاسی عمل ہے اس کا اسلام سے کیا واسطہ جبکہ ان کو پتہ نہیں ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے اور اللہ نے شعبہ بغیر ہدایت کے نہیں چھوڑا ؟ یہ نطریہ قطعی غلط ہے کہ دین علیحدہ چیز ہے، سیاست اور چیز ہے یہ انکی تشریح ہے۔ جس کی وجہ سے آج کے دور میں لفظ “ سیاسی “ بطور صفت جب کسی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو وہ اچھے معنوں میں نہیں ہوتا۔ اگر کسی کےبارے میں کوئی پوچھے کہ وہ کیسا آدمی ہے ؟ اسے اگر جو اب ملے کہ وہ تو سیاسی آدمی ہے؟ تو اس کے ساتھ معاملہ کرنے والے کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں؟جبکہ ہمیشہ سے اس کے یہ معنی نہیں تھے۔ یہ عربی الا صل لفظ ہے وہیں سے اردو اور دوسری زبانوں میں بھی شامل ہوا،جس کا مطلب ہے “امور سیاست جاننے والا یا نظامِ حکومت سے متعلق فرد ہے“ لیکن ہمارے ہاں جن معنوں میں یہ استعمال ہو تا ،اس کا ایک نمو نہ میں نے اوپر پیش کیا ہے اور یہ صرف اردو میں ہی نہیں ہے اور زبانوں میں بھی یہ ہی حالت ہے۔ مثلاً سندھی میں کسی کو کہدیں کہ“ با با ہوسیاسی مانو آہے“ تو اس کا مطلب ہے بہت بڑا جھوٹا ؟ اس لفظ کی یہ درگت بنی کیوں؟ اس وجہ سے کہ سیاست دانوں نے اتنا جھوٹ بولا جس کی وجہ سے کوئی ان کی بات ماننا تو بڑی بات ہے سننے کو بھی تیار نہیں ہے؟ صرف لالچ ہے جو لوگ پارٹیوں کے ابھی تک لیڈر بنے ہوئے ہیں؟ جبکہ وعدہ ہر ایک سے بڑے سے بڑا کرالو ؟ مگر بعد میں کون پورا کرتا ہے؟

انتخابات ختم ہوئے بات گئی اب پانچ سال کے بعد ہی ملا قات ہوگی۔جبکہ وعدہ پورا کرنے پر اسلام نے اتنا زور دیا ہے۔ کہ وعدہ خلافی کو منافقت کی تین اقسام میں ایک قرار دیا گیا ہے؟ باقی دو یہ ہیں کہ“ بولے تو جھوٹ بولے ۔ کوئی امانت رکھے تو خیانت کرے“ یہ تینوں خوبیاں جس میں ہو وہ حضور(ص)کی اس مشہور حدیث کے مطابق منافق ہے جوکفار سے بھی بدتر ہیں؟ اس پر آپ ذراا پنے امید واروں کو پرکھئے تو سہی آپ کو کوئی ڈھوندھے سے نہیں ملے گا جو ان تینوں عیبوں سے پاک ہو؟لہذا ووٹر بھی جان گئے ہیں کہ آج ہی نہیں بلکہ ابھی لیلو جوکچھ بھی لینا ہے؟1971 ء کا بھٹو صاحب ولا ا لیکشن بڑے کانٹے کا الیکشن تھا ۔ایک وڈیرے کے یہاں ہم با جماعت پہنچے تو اس نے بتایا کہ میں تمہارے ا مید وار کوووٹ نہیں دونگا؟ کیوںکہ میں نے اس سے ایک کتے کا بچہ مانگا تھا؟ وہ ا س نے مجھے نہیں دیا؟اسی وقت جیپ دوڑائی گئی اور وہ بچہ جوا ب پورا کتا بن چکا تھا گڑ کے بجا ئے بھیلی کے مصداق دینا پڑا؟ اس لیے کہ اس کو وعدے کاا عتبار نہیں تھا؟ جبکہ میں جانتا تھا کہ وہ امید وار جھوٹا نہیں متقی اور وضعدار آدمی تھا یہ اس وقت کی بات تھی ؟

اب اس میدان میں مسلمان بہت ترقی کرچکا ہے؟ اب لوگ صرف نقد پر زیادہ یقین رکھتے ہیں بجا ئے ادھار کے؟ یہ کیوں ہوا جھوٹوں کا تناسب معاشرے میں بڑھ جا نے کی وجہ سے؟ پھر امید وار جنہیں اپنی عزت کاپاس نہیں ہے بات کا پاس نہیں ہے جس سےمعاشرے میں عزت ہوتی ہے؟ اپنے آپ کو معتبر سمجھیں ،تو سمجھتے رہیں؟ مگرجو خلقِ خداکہتی وہ بھی انہیں معلوم ہے۔ جبکہ وہ ہر بات شروع کرنے سے پہلےانشا ء اللہ ضرور کہتے ہیں ؟ یعنی اسلامی قدروں کا بھی مذاق اڑوانے کا باعث بن ر ہےہیں؟وہ کیاسمجھتے ہیں کہ اس پر ان کی ا للہ کے ہاں پکڑ نہیں ہوگی؟ لینے والے کے لیے کیا یہ رشوت نہیں ہے کیونکہ ووٹ تو شہادت کے زمرہ میں آتا ہے کیا شہادت کی خرید وفروخت جائز ہے؟ ملک کے اس نازک دور میں بھی اگر ووٹرز نے اپنے ذاتی مفادات سامنے رکھے تو پاکستان کاا للہ ہی حافظ ہے؟

SHARE

LEAVE A REPLY