جنہوں نے شمشان میں بجلی کے کھمبے کی روشنی میں بیٹھ کر پڑھائی کی تھی

0
1221

ستائیسویں برسی ( 4 جولائی) کے موقع پر🌟
محمود سروش:
جنہوں نے شمشان میں بجلی کے کھمبے کی روشنی میں بیٹھ کر پڑھائی کی تھی
(آمد:2اپریل1921-رخصت:4جولائی1996)
ندیم ؔصدیقی (ممبرا نواحِ ممبئی)
وہ ایک لڑکا محمود حسن جو ممبئی کے کھار علاقے میں الہ آباد (کراری کے) ایک مدرس منظور حسن کے گھر2 اپریل 1921ء کو جنما تھا جس کے گھر میں بجلی نہیں تھی وہ اسٹریٹ لائٹ کے نیچے پڑھتا تھا کہ ایک دن گھر سے قریب شمشان کے پنڈت نے دیکھا تواُس نے اِس لڑکے کو شمشان میں لگے بجلی کے کھمبے کی روشنی میں بیٹھ کر پڑھنے کی پیش کش کی اوراُس نے اس پیش کش کو قبول کیا ۔نو عمری کا زمانہ، رات میں وہ شمشان میں پڑھتا تھا تو دوسری طرف اُسی شمشان میں چتا جلائی جا رہی ہوتی تھی۔
کسی طور اُس نے تاریخ جیسے مضمون میں جامعہ ممبئی سے اور ناگپور یونیورسٹی سے انگریزی اور تاریخ میں MA کر لیا۔
آل انڈیا ریڈیو ،ممبئی کے ٹریڈ مارک رجسٹر آفس میں1949 سے1975 تک ملازمت کی بعد ازاں از خود ریٹائرمنٹ لے لی۔
محمود سروش اُردو ،فارسی اور عربی تو جانتے ہی تھے نیز انگلش، فرنچ، ہندی، مراٹھی اور گجراتی سے بھی ان کی خاصی واقفیت تھی، جب شعور کو پہنچے توشاعری کا شوق ہوا اُس زمانے میں علامہ آرزوؔ لکھنوی کاطوطی بول رہا تھاسو انہوں نے آرزوؔکی شاگردی اور محمود حسن رضوی سے محمود سروش جیسا تخلص اختیار کیا۔ روایت ہے کہ آرزؔو اُس نوجوان کو ہر دوسرے تیسرے دِن کوئی ایک مصرع دیتے اور اس’ طرح‘ پر کم از کم بیس سے پچیس شعر کہنے کی تاکید کرتے اور شرط یہ بھی ہوتی کہ جب میرے پاس آنا تو ہر شعر میں کم از کم ایک غلطی ضرور تلاش کرلینا اور کوشش یہ بھی کرنا کہ اس غلطی کی اصلاح بھی خود کرسکو اور جب کوشش کے باوجود اصلاح نہ کرسکو تو پھر مجھ سے کہنا اور اگر کسی شعرمیں تم کو کوئی غلطی نہ ملے تو سمجھ لینا کہ مَیں اس میں کم از کم دو غلطی تو ضرور نکالوں گا، یہ سلسلہ چلا اور کئی برس تک چلتا رہا۔ مشق اور ریاضت کی اس اگنی سے وہ نکلا تو کندن بن چکا تھا پھر خود اس کے شاگردوں کا ایک حلقہ معروف ہو چکا تھا۔ علامہ آرزوؔکا ایک جملہ ادبی تاریخ میں درج ہے: ۔۔۔ ’’مَیں شاگرد نہیں ، اُستاد بناتا ہوں‘‘۔۔۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی بات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ پرتوؔ لکھنوی، احسن ؔرضوی داناپوری اور محمود حسن سروشؔ یہ تینوں استاد تو اِسی شہر ممبئی میں گزرے ہیں جو علامہ آرزؔو لکھنوی ہی کے تربیت یافتہ تھے اور اپنے زمانے میں ممبئی کے ادبی و شعری حلقے میں یہ تینوں حضرات بلا اختلاف محترم اورمُعزَز تھے۔محمود حسن سروش انگریزی اور تاریخ میں یعنی ڈبل ایم اےتھے ہی مگر فارسی پراس درجہ قدرت تھی کہ ممبئی کے ایران کلچرل ہاؤس میں جب کوئی اِیرانی مہمان آتا تو اسکی تقریر کا بر وقت اور برجستہ اُردو ترجمہ محمود سروش ہی کرتے تھے۔ اُنہوں نے کوئی 75برس عمر پائی۔(چارجولائی 1996 کو محمود سروش ممبئی ہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔ )
محمود سروش خوب کہتے تھے طرحی مشاعروں اور مقاصدوں کے لیے فی البدیہ شعر موزوں کرتے تھے یعنی اُنھیں زود گو بھی کہا جاسکتا ہے ہر چند کہ اہلِ بیت کی شان میں قصیدہ کہنا کوئی عام سی بات نہیں برسوں کی ریاضت اور مشق مطلوب ہوتی ہے ،اُنہوں نے قصیدے کہے مگر اس کے باوجود اُنہیں بسیار گو نہیں کہا جاسکتا۔ دراصل زود گوئی تو اپنے آپ میں ایک وصفِ احسن ہے مگر بسیار گوئی۔۔۔بسیار خوری کی طرح غیر مستحسن ہی نہیں بلکہ معیوب عمل سمجھا گیا ہے۔
محمودسروش عالم شخص تھےمگر اپنے علم سے بے نیازی بھی اُن کی ایک صفت تھی۔اُنہوں نے اپنے بھائیوں سبط ِحسن رضو ی،یعقوب حسن رضوی وغیرہ کے لیے فلمیں بھی لکھیں(دھرمیندر اور مینا کماری کی مشہور فلم ’’ بہاروں کی منزل‘‘ کی کہانی انہی محمود سروش کا نتیجہ ٔ فکر تھی) اورمحمود سروش نے دہلی میں بھی علم و ادب کے کام کیے، جامعہ ملیہ اسلامیہ(دہلی) میںچار برس تک نصاب کی کتابوں کی ترتیب و تدوین کی اور مشہور اسکالر عابد حسین اور صالحہ عابد حسین کے ساتھ ترجمے کا کام بھی کیا،نیز انگریزی میںGems of Islamic History جیسے کتاب مدون کی، اسی کے ساتھ سہ ماہی مجلّے’ اسلام اور عصرِ جدید‘ کی سال بھر ادارت بھی کی،بےشمار مضامین علم وا دب، تعلیم و تدریس، معاشی و معاشرتی اور مذہبی موضوعات پر لکھے مگر اپنا نام عام نہیں کیا ۔ اُنہوں نے اُس زمانے میں نیشنل بک ٹرسٹ جیسے مؤقر ادارے کے لیے بھی علمی و ادبی خدمات انجام دیں۔
بمبئی کے مشہور روزنامہ انقلابؔ کے لیے وقائع نگاری ( رپورٹنگ)کی ذمے داری بھی وہ نبھا چکے تھے ۔ اُن کا ذاتی کتب خانہ شہر بھر میں مشہور تھاجس میں علمی وادبی کتب کا ایک بیش بہا خزانہ تھا جو، اب رضوی کالج (باندرہ۔ ممبئی)میں منتقل ہو چکا ہے۔
سروش مرحوم کے ذوق ِمطالعے کے بارے میں ایک واقعہ یہ بھی یہاں درج ہوجائے کہ مصحفی پر وہ ، کچھ کام کر رہے تھے۔ مصحفی کی ایک کتاب کی انھیں تلاش تھی جو عام اطلاع کے مطابق شہر میں کسی کے پاس نہیں تھی، کسی سے انھیں اطلاع ملی کہ فلاں صاحب کے پاس وہ کتاب ہے مگر وہ صاحب اپنی کتاب کسی کو نہیں دیتے۔ محمود سروش نے کہا :
’’ارے بہت ہوگا وہ صریح انکار کر دیں گے ۔ مَیں اُن کے پاس جاؤں گا ضرور اور عرض بھی کروں گا ، اگر اللہ اور میرے مولا نے چاہا تو ہو سکتا ہے کہ میرے ساتھ وہ نہ ہو جو وہ دوسروں کے ساتھ رویہ روا رکھتے ہیں، لازم نہیں کہ سب کو ملے ایک سا جواب۔‘‘
مختصر یہ کہ محمود سروش اُن صاحب کے پاس گئے اور اُن کے ذخیرۂ کتب کو دیکھ کر موصوف کے ذوق ِ علم کی تعریف کی اور وہاںموجود بعض کتابوں کے بارے میں اپنی مفصل رائے بھی دِی، شخصِ مذکور نے بھی کچھ سوال وجواب کیے تو اُن صاحب پر بھی محمود سروش کا ذوق ِعلم عیاں ہوا اور اب انہوں نے کہا:
’’عزیزم ! میں آپ کی مطلوبہ کتاب دے سکتا ہوں مگر ایک شرط کے ساتھ! ‘‘
محمود سروش نے شرط دریافت کی۔
جواب ملا کہ صبح کتاب دوں گا اور شام کو وہ کتاب آپ مجھے واپس لا کردیں گے۔
محمود سروش نے یہ شرط مان کر اُن کا شکریہ ادا کیا اور کوئی ایک عشرے تک یہ سلسلہ چلتا رہا کہ وہ صبح اُس شخص کے گھر جاتے ، کتاب لاتے اور شام کو وہی کتاب واپس کرنے ان کے گھر جاتے اور پھر دوسری صبح وہی عمل اور پھر شام کو کتاب کی واپسی۔۔۔
یہاں اس کی وضاحت ضروری ہے کہ وہ شخص بمبئی کے ڈونگری علاقے میں رہتے تھےاور محمود سروش باندرہ میں۔ یہ بھی واضح ہوجائے کہ باندرہ سے ڈونگری کا علاقہ کوئی بارہ کلو میٹر تو ہوگا ہی۔
ہم نے محمودسروش کی ذاتی لائبریری کا ذکر کیا ہے گھر کی دیواروں میں بنی الماریوں میں فرش سے لے کر چھت تک کتابیں ہی کتابیں تھیں ایک بار ہم گئے ہم نے اپنی ایک غزل سنائی اور یہ کہا کہ’’ اس غزل کے بارے میں زیب غوری کا کہنا ہے کہ اس کے مصرعے مختلف الوزن ہیں۔ سروش صاحب! آپ بتائیں کہ کیا زیب ؔصاحب کا کہنا صحیح ہے؟۔۔۔‘‘
اُنہوں نے پوری غزل سُنی اور پھر کہا :وہ تِپائی لیجیے اور اُس طرف کھڑے ہوجائیے ،ہم تپائی پر کھڑے ہوگئے ۔
اب کہنے لگے کہ اوپر سے تیسری صف میں دیکھو دائیں سے دسویں کتاب ہوگی۔ نکالو۔۔۔ ہم نے کتاب نکالی تو اُنہوں نے کتاب کا نام پوچھا۔ راقم نے کتاب کا نام پڑھ کر سنایا توکہنے لگے ا س کتاب کا 36واں صفحہ کھولو۔ وہ صفحہ کھولا ،تو کہا گیا اب آٹھویں سطرسے پڑھنا شروع کرو۔
المختصر ،پوری تقطیع تھی اُن سطروں میں۔ اس سے اندازہ اُن کی کتب بینی کا لگائیے اور مطالعے کے ہاضمے کااتہ پتہ بھی پائیے ۔
پڑھتے تو ہم بھی ہیں اور انہی کی نقل میں ہم نے بھی کتابیں جمع کر رکھی ہیں مگر وہ مطالعہ جس کا ذکر ابھی ہو اوہ ہم میں مفقود ہے۔ اُردو، فارسی اور انگریزی کا یہ مثالی عالِم جو عروض اور زبان دانی میں اپنی مثال آپ تھا اور پی آر او شپ سے اس کا دور قریب کا بھی تعلق نہیں تھا، جس کے زمانے میں مہاراشٹراُردو اکادیمی بھی قائم ہوچکی تھی مگر اسے نہ توکبھی اکادیمی مذکور کی رُکنیت کی پیش کش ہوئی اور نہ ہی کوئی اکادیمی ایوارڈ دِیا گیا۔ یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ہم نے اسے کبھی کسی ایوارڈ وغیرہ کا طالب بھی نہیں پایا اور اس سے بڑی بات یہ تھی کہ علمی یا دانشوری کے زَعم سے دور بہت دور تھا وہ۔ اسے اس کا قطعاً احساس نہیں تھا کہ لوگ اسے دانشور یا شاعر اعظم سمجھیں ایک بار کسی تذکرے میں اُس کا نام نہیں تھا شاگرد جزبز ہوئے تو اْس نے فوراً سے پیشتر سب کو ڈانٹ دیا کہ
۔۔۔ ’’ لوگ سمجھیں گے کہ مَیں ہنگامہ کر وارہا ہوں اگر مجھ سے محبت کرتے ہوتو اس معاملے میں خموش رہو۔ ورنہ میرے طوطے سمجھے جاؤ گے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ علم ایک نور ہے اور نور سے تعلق رکھنے والے کو ظلمت کبھی اپنے حصار میں نہیں لے سکتی۔ علم اپنے آپ میں خود ایک اعزاز ہے، ایک ایوارڈ ہے۔یہ جو ایوارڈز کی خبریں آرہی ہیں یہ خبر یں ہی ہیں ، یاد رکھو خبر باسی بھی ہوجاتی ہے مگر علم کبھی باسی نہیں ہوتا اور عزت و تکریم علم ہی سے ملتی ہے۔‘‘
محمود سروش کے درج ذیل اشعار جو اُردو دُنیا میں زباں زدِ خاص وعام ہیں یہ اور بات کہ اکثر عوام کو، ان اشعار کے خالق کا نام نہیں پتہ:
اب مجھ سے کاروبار کی حالت نہ پوچھیے
آئینہ بیچتا ہوں مَیں اندھوں کے شہر میں

زمیں کا دِل بھی یقیناً کسی نے توڑا ہے
بلا سبب تو یہ چشمے اُبل نہیں سکتے

ویران کس قدر ہے یہ بازار اے سروشؔ!
شاید یہاں متاعِ ہنر بیچتے ہیں لوگ
اور یہ نعتیہ رُباعی بھی اِنہی محمود سروش کی فکر کا نتیجہ ہے:
اوروں کا شرف اُنؐ سے مِلایا، نہ ملا
اغیار میں ایسا کوئی آیا، نہ ملا
دُنیا نے بہت ڈھونڈا محمد(ﷺ) کا جواب
ثانی تو بڑی چیز ہے سایہ نہ ملا
سروش مرحوم کے ایک شاگردِ عزیز عثمان غنی عادلؔ نے آخری دِنوں(دسمبر1995) میں اُن کا ایک شعری مجموعہ ’’متاعِ ہنر‘‘کے نام سے شائع کروادِیاتھا۔ دخترِسروش اور ہماری شبو آپا(شبیر فاطمہ) نے اپنے بابو کی رثائی شاعری پر مبنی ایک کتاب’ متاعِ زندگی‘ اپنے مصارف سے شائع کی۔
’متاعِ ہنر‘ کے ذکر پر ایک علمی واقعہ بھی یہاں درج ہوجائے کہ اس شعری مجموعے پر کچھ لکھنے کےلیےعلی سردار جعفری سے عثمان غنی عادل نے گزارش کی اور مسودہ علی سردار جعفری کو دے آئے۔ جب عادلؔ مرحوم ، ایک دن جعفری کا مضمون لینے ان کے فلیٹ واقع سیتاؔ محل پہنچے تو جعفری مرحوم نے اپنے مضمون کے ساتھ مسودہ بھی دِیا اور کہا کہ’’ عادل صاحب !محمودسروش نے ایک مطلع میں لفظ سِہَر(Sihar) اِستعمال کیا ہے ، یا تو مَیں اس لفظ کے معنیٰ سے نا آشنا ہوں یا پھر یہ لفظ غلط ہے۔ ‘‘
عادل مرحو م بہت بُجھے بُجھے سے ہمارے پاس آئے۔ ہوٹل میں لے گئے اور سارا ماجراکہہ سنایا۔ ہم بھی حیران کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ محمود سروش اور غلط لفظ کااستعمال۔۔۔!
عادل ؔمرحوم نےمسودے کی ایک غزل میں مطلع کی نشاندہی کی ، ہم نے اس کا پہلا مصرع پڑھا، اتفاق کہ مصرعےکا وہ اوّلین ہی لفظ تھا ، اب ہمیں بھی اطلاع ملی کہ’’ میاں ندؔیم! تم بھی اس لفظ سے بے خبر ہو۔‘‘
’سِہَرْ‘ اٹھتا ہے دِل پہلے پہل جب پیار پاتا ہے
بڑی دیر تک ہم دونوں کو اس مصرع کے اس لفظ سِہَر (Sihar) نے اپنےسِحَرمیں مبتلا رکھا۔چائے پینے کے بعد جیسےذہن میں محمود سروش نے سوئی چبھوئی :
’’ ندیم میاں ! ذرا دوسرا مصرع بھی تو دیکھو اورپڑھو کہ اس میں کیا کہا گیا ہے! ‘‘
دوسرا مصرع پڑھا تو پشیمانی کی کیفیت سے گزرنا پڑا کہ مصرعٔہ ثانی میں قافیے کی صورت، شاعر نے خود اس لفظ کے معنیٰ بتا دِیے تھے۔ ہم نے جب عثمان غنی عادلؔ کو بتایا تو وہ اُچھل پڑے اور جیسے اُن کی دِلی مراد پوری ہوگئی ہو، فوراً ہوٹل کے بیرے کو بلا کر آرڈر دِیا کہ’’ میرے ندیمؔ کےلیے کوئی مٹھائی لاؤ۔ میں تو پہلے ہی سوچ رہا تھا کہ سرکار( سروش مرحوم کے شاگرد اسی کلمۂ تکریم سے اپنے اُستاد کو یاد کرتے تھے) اور غلط لفظ۔۔۔!! یہ کیوں کرممکن ہے۔۔۔؟‘‘
اس مطلع کاثانی مصرع یوں تھا:
سِکورہ بھیگ کر پانی میں جیسے’ سنسناتا‘ہے
جو لوگ یوپی کے دیہات میں رہ چکے ہیں یا کسی طور اس دیار سے ان کا کوئی تعلق ہے اُن میں اکثر اصحاب، ہندی کے اس لفظ ’سِہَر‘سے ضرور آشنا ہوںگے۔مِٹّی کے برتن میں جب پہلی بار پانی پڑتا ہے تو سَن کی سی ایک آواز آتی ہے اسی کیفیت کو ’سِہَر‘ کہتے ہیں۔
جعفری مرحوم بلرام پور کے رہنے والے تھے اور وہاں بھی ٹھیٹ ہندی کا یہ لفظ عام طور پر بولا جاتا ہے۔
’’ علی سردار جعفری اس لفظ سے نا آشنا تھے ۔۔۔‘‘
اُس وقت یہ سوچ کر ہمیں حیرت رہی مگر کچھ دِنوں بعد جب یہ پتہ چلا کہ سردار جعفری دماغ کی کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہیں اور اس عارضے نے اُن کی یادداشت کو بھی بُری طرح متاثر کیا ہے، تو سمجھ میں بات آئی کہ جب وہ محمود سروش کا مسودہ دیکھ رہے تھے تو یہ عارضہ اُنھیں اپنی گِرِفت میں لے چکاتھا، اس بات سے یہ بھی سبق ملا کہ فوری طور پر کسی کے بارے میں کوئی رائے دینا یا رائے بنا لینا عجلت یعنی عملِ ابلیس سے کم نہیں۔
محمود سروش ایک عَالِم اور اعلےٰ درجے کے شاعرو ادیب تو تھے ہی مگر ایک شفیق شخص بھی ان کے اندرون میں موجود تھا۔ ہمارے بزرگ ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتے تھے ، یعنی ہم ان کے سامنے بہر حال خرد ہی تھے۔ ایک دن انجمن اسلام اسکول( نزد سی ایس ٹی ریلوے اسٹیشن۔ ممبئی) کے باہر مل گئے۔ ہم نے سلام کیا اُنہوں نے گھر کے لوگوں کی خیریت وغیرہ دریافت کی۔ بعدہٗ ہم نے عرض کیا :
سروش صاحب! چائے پی جائے۔
اُنہوں نے کہا:’’ ہاں ہاں ضرور‘‘
اُس زمانے میں اِس اسکول کے آس پاس کوئی ریسٹورنٹ یا ہوٹل وغیرہ نہیں تھا یا تو کیپٹل سنیما یا پھر اب جہاں نیا حج ہاؤس ہے، وہاں (انجمن سے)قدرے فاصلے پر ایک ہوٹل تھا( اب بھی ہے) اس ہوٹل میں جاکرچائے پی گئی، چائے پی کر ہم جلدی سے بِل کی ادائیگی کے لیےہوٹل کے کاؤنٹر کی طرف بڑھے تو پیچھے سے اُتنی ہی سرعت کے ساتھ سروش صاحب آئے اور کہنے لگے:
’’ ندیم ؔمیاں! کیا اِتنے بڑے ہوگئے ہو ؟ ‘‘
ہم اُن کے اِس جملے پر خجل ہو کر رہ گئے۔۔ ۔ !
اس واقعے کو کوئی چالیس برس سے زائد مد ت گزر ر ہی ہے ، یقیناً آج ہماری عمر تو ضرور بڑھی بلکہ تمام ہو رہی ہے مگر سچ یہ ہے کہ ہم اب تک سروش مرحوم کے اُس جملے کو بھول سکے اور نہ ہی بڑے ہو سکے۔ *
********
محمود سروش کی پوری ایک غزل ذیل میں درج کی جاتی ہے:
شناسائی کا امکاں ہی وہاں پیدا نہیں ہوتا
جہاں پیکر تو ہوتے ہیں مگر چہرا نہیں ہوتا
شکستِ دل کا باعث دیکھ کر منہ پھیر لینا ہے
یہ صدمہ ہوتا کیوں، تم نے اگر دیکھا نہیں ہوتا
برائی بھی ہے جائز مصلحت بینی کے پردے میں
مگر ہم کیا کریں، دل سے جو سمجھوتہ نہیں ہوتا
اِدھر نامطمئن دل ہے، اُدھر گردش زمانے کی
سوالِ عافیت ایسے میں تو پیدا نہیں ہوتا
کچھ اُس کے غم کے بہلانے کی بھی صورت بتا دِیجیے
جو بےچارہ کبھی مِنّت کشِ صہبا نہیں ہوتا
محبت کے سِوا قیمت نہیں کوئی، محبت کی
برابر کا نہ ہو سودا تو پھر سودا نہیں ہوتا
جسے تم صبر کہتے ہو سکوتِ حشر پَروَر ہے
سماں ہوتا ہے دل میں ہٗو کا سنّاٹا نہیں ہوتا
جمالِ دوست کی تابانیوں کی انتہا یہ ہے
نظر کچھ بھی نہیں آتا ہے گو پردا نہیں ہوتا
چمن میں کھِل ہی سکتا ہے نہ کوئی رہنے دیتا ہے
حفاظت کے لیے جس پھول میں کانٹا نہیں ہوتا
نہ سطحِ آب تک پہنچی حرارت قہرِ دریا کی
تعجب کیا ! جو دل کا رُخ سے اندازہ نہیں ہوتا
کبھی چاکِ گریباں شدّتِ غم کی علامت تھا
سروؔش ! اب تو کسی عَالَم میں بھی ایسا نہیں ہوتا
شعری مجموعہ ’ متاعِ ہنر‘ سے ماخوذ

SHARE

LEAVE A REPLY