“عالمی شہرت یافتہ سوز خوان اور قصور پٹیالہ گھرانے کے چشم چراغ استاد رضا علی خان صاحب سے عالمی اخبار کی شعبہ ادب کی مدیرہ روما رضوی گفتگو”
“سوز لفظ ہے فارسی زبان کا اور شعری لغت میں سوز کو ایک ایسی خوبصورت نظم کہا گیا ہے جو جنگ کربلا میں حسین بن علی اور اس کے اہل خانہ اور صحابہ کے اعزاز میں لکھی گئی ہو۔۔ سوز سے مراد غم و اندوہ کا دل میں گھر کرنا ہے ۔۔سوز و سلام و رباعیات منقبت مرثیہ اٹھارویں صدی کے خاص حصے میں پروان چڑھے لکھنو ان کا مرکز خیال کیا جاتا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان کا یہ شہر شیعہ مسلم کمیونٹی کا مرکز تھا ، عزاء امام حسین علیہ السلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کی بنا پر مذہبی فریضہ کی طرح ادا کیا جاتا ہے۔۔ذاكرين اس تصور کو بنیاد بتاتے ہیں کہ جس نے امام علیہ السلام کے غم میں اپنے کلام سے یا ذکر سے کسی کو غمزدہ کیا اور گریہ کا باعث ہوا تو وہ محبانِ اہلیبت میں شمار کیا جائے گا۔۔
اگر مرثیہ ایک طویل مسدس کی طرح لکھا جاتا ہے۔۔تو اسکی ذیلی نظموں کو نوحہ اور سوز کہا جاسکتا ہے ۔اور جو لوگ سوز کی تلاوت کرتے ہیں وہ سوزخوان کہلاتے ہیں۔۔
برصغیر پاک و ہند میں موسیقی کے اساتذہ میں کئی افراد ایسے گزرے ہیں اور اس دور میں کئی فنکار ایسے ہیں جو اپنی سوز خوانی کے باعث دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں ۔
آج کی گفتگو ہے خوبصورت آواز و انداز کے مالک ہر دل عزیز سوز خوان استاد رضا علی خان صاحب سے جن کے والد استاد منور علی خان اور دادا بڑے غلام علی خان صاحب اپنے فن پر مہارت و دسترس کے باعث عالمی شہرت رکھتے ہیں
انہیں بیشمار عالمی اور قومی اعزازات سے بھی نوازہ گیا تھا ان حضرات کا نام اب بھی ایک سند سمجھا جاتا ہے۔۔
موجودہ دور میں اس خاندان کی نمائیندگی استاد رضا علی خان صاحب کر رہے ہیں ۔۔ وہ اپنے دادا اور والد کی اس وراثت کو اپنے اجداد کے رنگ میں ہی سامعین تک پہنچا رہے ہیں ۔۔بڑے گھرانوں میں معیار کو بلند رکھنا اور اگلی نسل میں فن کی من و عن منتقلی کرنا ایک بڑا مرحلہ ہوتا ہے جو رضا بھائی انتہائی فراخ دلی سے اپنے گھرانے کے نوجوانوں کیساتھ ساتھ سوز خوانی کے شائقین جو دنیا کے مختلف ممالک میں بھی موجود ہیں ان کو تربیت کر کے اس فن کی بقا کے لئے مصروف عمل ہیں۔
استاد رضا علی خان صاحب کا تعلق قصور پٹیالہ گھرانے سے ہے جنکی گائیکی کا انداز انتہائی منفرد ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سُر سنگیت سے واقفیت نہ رکھنے والوں کے لئے بھی قابلِ فہم ہے۔۔
آج کی نشست میں عالمی اخبار کی جانب سے رضا علی خان صاحب کو خوش آمدید کہتی ہوں ۔۔۔
س1 – آپ کلاسیکی موسیقی میں اساتذہ کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔
مگر آپ کی اصل پہچان سوز خوانی کے حوالے سے ہے اس صنف کو آپ نے خود منتخب کیا؟
ج– محترمہ ایسا نہیں ہے کہ میرے گھر کے بزرگ صرف موسیقی سے وابستہ رہے ہوں۔۔ انہوں نے بھی بہت سوز خوانی کی مگر بدقسمتی سے اس زمانے میں ریکارڈنگ کی وہ سہولتیں موجود نہیں تھیں جو اب پائی جاتی ہیں ۔اس لئے ان کا اس حوالے سے کوئی کام محفوظ نہیں رہ سکا۔
اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی مہربانی ہے کہ دور دور تک پڑھنے والوں کو سنا جاتا ہے اور یو ٹیوب وغیرہ پر محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
س2_سوز خوانی کو بطورِ فن زیادہ وقت دینے کی کیا وجہ ہے ؟
ج– ہمارے ملنے والوں کے حلقے اور دوستوں کی محفلوں میں بہت کم ایسے لوگ تھے جو کلاسیکی انداز سے سوز خوانی کرتے ہوں اور سمجھ سکتے ہوں ۔میں بھی کلکتہ اور حیدر آباد کے چند گنتی کے گھروں میں ہی سوز پڑھتا تھا ۔۔ یہ 2004 /سن دو ہزار چار کی بات ہوگی کہ ایک معمول کی ریکارڈنگ میں مصروف تھا تو میرے دو دوست جو خود بھی باذوق اور بہت عمدہ شاعر تھے مرزا فرید بیگ اور آغا سروش مجھے سے اس دوران ملاقات کے لئے آگئے۔ چائے وائے کے دوران ہی انہوں نے فرمائش کردی کہ اسٹوڈیو میں موجود ہیں تو کوئی سوز و سلام کو ریکارڈ کرلیئے جائیں اور یوں پہلی بار
1-حرم کی گود میں اس طرح بو تراب آئے۔۔
2-ثنائے مرتضا ہے اور میں ہوں۔۔
3-ہمشیر کو چادر ہے نہ بھائی کو کفن ہے۔۔
جیسے مشہور زمانہ سلام اپنی آواز میں ریکارڈ کروائے انہی دوستوں نے سی ڈیز کی صورت انہیں جاری کردیا ۔۔بس پھر سننے والوں کی بہت تعریف ۔۔ بہت محبت ملی ۔۔لوگ پڑھوانے کے لئے رابطہ کرنے لگے ۔۔اور اسی نام حسین علیہ السلام کے صدقے دنیا بھر میں سوز پڑھنے جانے لگا ۔۔
سننے والے سمجھتے ہیں کہ میں پاکستان سے ہوں شاید انداز وہی پنجاب کا غالب ہے۔اور آپ سب سننے والوں کو مانوس لگتا ہے ۔

س_آپ کی تربیت کس نے زیادہ کی والد نے یا آپکے جد آپکے دادا نے؟
ج– ہمارے بزرگ کیونکہ قصور پنجاب سے تھے تو وراثت میں وہی انداز ملا جو پاکستانی پنجاب میں رائج تھا ۔۔
میری پیدائش کراچی کی ہے بہت ہی کم عمری میں ہندوستان ہجرت کی تھی ۔۔
تربیت کا جو وقت تھا دادا کے ساتھ بس چار سال گزرا جو ناسمجھی کا ہی دور تھا مگر موسیقی سے اصل تعارف مجھے اپنے بابا والد صاحب سے ہی حاصل ہوا ان سے ہی سیکھا ان کا ہی انداز اپنایا ۔والد ظاہر ہے کہ دادا کی زیر نگرانی سیکھتے رہے تھے ۔اور میں نے ان سے سیکھا تو انداز وہی ہے جو سینہ با سینہ چل رہا ہے۔۔ اب بھی لاہور میں میرے چچا زاد استاد پیارے خان صاحب کے دو بیٹے مجالس میں سوز پڑھتے ہیں پیارے خان صاحب سے کون واقف نہیں اب تو وہ کچھ سال پیشتر انتقال کرگئے ہیں مگر انکا انداز انکے پڑھے ہوئے سوز و سلام نے ان کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔۔۔ایک اور عزیز بشیر علی ماہی کے نام سے اندرون لاہور مجالس و مرکزی جلوس میں سوز خوانی کرتے ہیں ۔۔
س– اپنے استاد سے کن کن موقعوں پر بہت زیادہ شاباش ملی ؟
ج،استاد جیسے میں نے بتایا والد صاحب تھے سب سے اچھی بات یہ ہوتی کہ وہ میرا ریاض بھی سنا کرتے تھے جہاں خامی نظر آتی ٹوک دیتے عموما” جو سیکھنے والے ہیں وہ ریاض اپنے گھروں میں کرتے ہیں اور کبھی کچھ غلطیاں بھی کر جاتے ہیں پھر استاد سے ڈانٹ کھا کر از سر نو سیکھتے ہیں ۔۔مگر خوش قسمتی کہہ لیں کہ بابا جان ہر دم نگرانی کرتے تھے بس یوں کہیئے کہ والد کے استاد ہونے سے معاملہ کچھ اچھا ہی رہا ۔۔ ویسے میرے منہ پر تو کبھی انہوں نے تعریف نہیں کی ۔۔مگر دوستوں سے معلوم ہوتا تھا کہ آج استاد جی نے تمہارے پڑھے کی بہت تعریف کی ۔۔اکثر ایسا بھی ہوا کہ ریاض کے دوران بے اختیار انکے منہ سے وااہ نکل گیا ہمارے لئے وہی بڑی بات ہوجاتی تھی۔۔
ہم پنجاب سے ہیں مگر اردو کے تلفظ پر والد صاحب بہت زور دیتے تھے کہ مکمل اور واضح لفظ منہ سے ادا کیا جائے ۔۔انکی تاکید تھی کی زبان کوئی ہو مگر اسکا تلفظ درست انداز سے ادا کرنا ضروری ہے۔۔
س_سوز خوانی ( ُسر اور راگ )جیسے مشکل فن سیکھنے کے لئے آواز کا اچھا ہونا کافی ہے یا کچھ اور صلاحیتیں ہونا بھی ضروری ہیں ؟
ج۔تخت خوانی یا اس فن کلاسیکی سنگیت کے لئے جسکی آپ بات کر رہی ہیں سب سے اہم بات استاد کا اچھا ہونا یعنی فن میں ماہر ہونا ضروری ہوتا ہے آواز اچھی نہ بھی ہو استاد آواز کی تربیت کر کے اسے نکھار سکتا ہے ۔۔صرف آواز کا معاملہ نہیں ہے اس فن میں کئی پہلو ہیں جو جاننا ضروری ہے مثلا” سُر سے واقف ہونا پڑھنے کے آداب جاننا یعنی نشست و برخاست ۔۔افسوس یہ ہے کہ آدابِ مجلس وغیرہ سے لگتا ہے کہ اب لوگ نابلد ہیں ایسے ہی ان فنون کا معیار گرتا جا رہا ہے۔۔۔ ہر ایک فن کے کچھ لوازمات ہوتے ہیں اور ان کے جانے بغیر کسی ایک صلاحیت کے ساتھ اسے مکمل نہیں سمجھا جاسکتا ۔
س_ اس فن میں ریاض کی یعنی مشق کی باقاعدگی ہونا کس قدر ضروری ہے؟
ج– صاحب ایسا ہے کہ فن سیکھنا تو جنون کا کام ہے۔۔مشاقی کے لئے مشق یعنی ریاض کی ہر شعبے میں ضرورت ہوتی ہے چاہے لکھنے والا ہو مصور ہو گلوکار ہو ۔۔مشق نہیں ہوگی تو صلاحیتوں میں نکھار نہیں آئے گا ۔یا پھر شروعات سے ہی اتنی محنت کروائی جائے کہ فن پر مکمل دسترس حاصل ہو۔۔۔
س_ کیا غیر ملکی افراد نے بھی اس فن میں کبھی دلچسپی ظاہر کی ؟
ج– جی ملک سے باہر جب پڑھنے جاتے ہیں تو کئی بار غیر ملکی سامعین سے بھی واسطہ پڑتا ہے ۔۔زبان تو وہ نہیں سمجھ پاتے مگر سر کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے ۔۔جو پوری دنیا میں ایک ہی ہے یعنی موسیقی کے بارہ سُر اور چودہ مقام یورپ میں بھی وہی ہیں جو ہندوستان میں سکھائے جاتے ہیں ۔۔یوں سمجھ لیں کہ اگر سُر کو زبان کی صورت استعمال کیا جائے تو موسیقی جاننے والے چاہے کسی قوم و زبان کے بولنے والے ہوں آپس میں ابلاغ کرسکتے ہیں ۔۔
بہت سے ایسے نوجوان بھی ہیں جو ہمیشہ سے بیرون ملک مقیم ہیں اردو ہندی نہیں جانتے مگر نوحہ سوز خوانی و مرثیہ خوانی شوق سے کرتے ہیں ۔۔
س_ کیا موسیقی یا گائیکی یا سُر کا سہارا لینا واقعہ کربلا کے بیان میں ضروری تھا ؟
ج– دیکھیں جناب لحن یعنی سُر میں اشعار پڑھنے کی روایت کم و بیش تین ہزار سال پرانی ہے جو پیغمبر خدا حضرت داود علیہ السلام سے منسوب کی جاتی ہے ۔
مذہب اسلام میں نبئ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے ازان کے ذریعہ نماز کا پیغام علی الأعلان کیا۔جب نماز کے لئے اذان سُر میں دی جاسکتی ہے تو واقعہ کربلا کا بیان سوز خوانی کا ذریعہ ہونا کیوں ممکن نہیں ۔۔اس کی اجازت تو شریعت بھی دیتی ہے۔ ترنم میں سوز خوانی پر لوگ اس لئے بھی اعتراض کرتے ہیں کیونکہ وہ خود اس فن سے واقفیت نہیں رکھتے ۔آپ کو شاید معلوم ہو کہ عزاداری کا آغاز ہی ملتان سے صوفیاء کرام نے کیا تھا اور سرائیکی جیسی میٹھی زبان میں نوحہ بہت دل کو لگتا شاید اس لئے بھی کہ میں اس خطے سے ہوں
میر انیس کے بارے میں سنا جاتا ہے کہ وہ راگ سے واقفیت رکھتے تھے اور مرثیہ و سوز خوانی کرنے والوں کو خود بتاتے تھے کہ فلاں راگ میں یا فلاں سر میں اسے پڑھیں ۔۔امام سجاد کے دور میں فرزدق اور دیبل جیسے شعرا کلام پیش کرتے تھے تو امام فرمائش کرتے تھے کہ اسے اپنے انداز سے جیسے تم پڑھتے ہو بین کی طرح لحن میں پڑھو ۔۔
میں تو یہی کہوں گا کہ سوز خوانی مجلس کا جزوِلازم ہے اسے سمجھ کر سنیں اور پڑھنے والوں کے لئے غم ممکن ہو تو ضرور سیکھیں..
س_ عام سننے والوں کا کلاسیکی رنگ میں سوز و سلام سن کر کیا رد عمل ملتا ہے ؟
ج– بھئی راگ نہ بھی سمجھ سکیں مگر اشعار تو سب کو سمجھ میں آتے ہیں نا ۔۔۔ تو نوحہ ہے سوز ہے مرثیہ ہے عام آدمی کے لئے احترام کا سبب ہے ۔۔۔ بس لوگوں میں اسکی سمجھ پیدا کرنا ضروری ہے۔۔اکثر جگہ لوگ خیال کو قوالی کی طرح گاتے ہیں ۔
مجلس و میلاد میں بھی سوز خوانی جشن کی طرح اور ۔۔جشن سوز کی طرزوں میں پڑھ کر اٹھ جاتے ہیں۔۔اس لئے اس فن کو سن رہے ہیں تو اس کو سمجھ کر سنیں۔۔
س– آپ نے کتنے شاگرد بنائے اور کتنوں کا آپ مستقبل بہت روشن دیکھتے ہیں ؟
ج– ماشا اللہ جو شوق سے سنتے ہیں وہ سیکھنے کے بھی خواہشمند ہوتے ہیں میرے اپنے گھر میں تو میرا بیٹا فضلِِ علی خان ، بھانجا آصف علی خان بھتیجے عون عباس ۔۔پیارے خان صاحب کے بیٹے نفیس پیارے خان اور انکے بھائی اب خاندان کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں باقی دنیا بھر میں شاگرد ہیں جو سارا سال رابطے میں رہتے ہیں ۔۔آن لائین سیکھتے ہیں کہیں کچھ مشکل ہو تو ٹیکنیکل باتوں کے لئے کال پر سیکھتے ہیں ۔سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ سامعین بہت پر خلوص ہیں انٹر نیٹ ہی سب سے تعارف کا ذریعہ بنا رہا ہے۔۔
س- اپنے سننے والوں کے لئے خاص پیغام کیا دینا چاہیں گے؟
ج– بصد احترام یہ کہوں گا کہ آل محمد کا ذکر قیامت تک رکنے والا نہیں ہے انشا اللہ ۔ ہمیشہ کوئی نہ کوئی ضرور ایسا پیدا ہوگا جو اس ذکر میں کمال حاصل کرے گا عجب یہ ہے کہ لکھنو سے اس کا آغاز ہوا اب وہاں تربیت کا وہ رجحان نہیں مگر دنیا بھر میں تیزی سے پڑھنے والوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔۔اس روایت کو ہمیشہ زندہ رکھیں یہ وہ رکن ہے کہ جس سے نقابت کا کام لیا جا رہا ہے اسے جاری رہنا چاہیئے ۔
یہ ذندہ رہے گا تو ہمارے نام بھی اسکی نسبت سے زندہ رہیں گے۔۔۔۔
بہت ممنون ہوں جناب ۔۔
دعا ہے کہ استاد رضا علی خان صاحب کی یہ دعا ضرور قبول ہو ۔ انکے مستقبل کے لئے نیک خواہشات اور دعاووں کیساتھ نشست کا اختتام کرتے ہیں ۔۔
روما رضوی اور عالمی اخبار رضا علی خان صاحب کا تہہ دل سے ممنون ہے کہ انہوں اس گفتگو کے لئے بیحد مصروفیت کے دوران وقت نکالا ۔۔ اگلی ملاقات تک کے لئے رخصت چاہتی ہوں ۔














Excellent reporting.all the best for Roma sahiba and our Aamiakhbar