قسط سنتالیس
حضرت امام حسین کے رفقا میں
ایک نام
جون بن حوی بھی ہے
زرا تصور کیجئے
وہ کیسا منظر ہوگا
جب امام حسین علیہ السلام مدینہ چھوڑ رہے ہونگے
اور
ایک 70 سالہ ضعیف سیاہ فام شخص نے
امام حسین علیہ السلام سے درخواست کی ہوگی
کہ
وہ بھی ان کے ہمراہ کوفہ جانا چاہتا ہے
جب امام حسین ع نے
اس شخص سے کہا ہوگا
کہ
“ آپ نے اہلیبیت ع کی بہت خدمت کرلی اب آپ آرام کیجئے “
اور
اس سیاہ فام شخص نے بھرائی آواز میں کہا ہوگا
کہ
“ جانتا ہوں
آپ مجھے کیوں اپنے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے
کہ
میں سیاہ فام ہوں اور میرے پسینے سے بدبو آتی ہے “
اور جب
امام حسین علیہ السلام نے
آگے بڑھ کر
اس ستر سالہ شخص کی پیشانی پر بوسہ دیا ہوگا
پھر اس سیاہ فام ضیف کو سینے سے لگایا ہوگا
تسلی دی ہو گی ۔۔اور ساتھ چلنے پر رضا دی ہو گی
میرا دل کہتا ہے
کہ
دیکھنے والوں کو
حسین ع کے نانا ص اور بلال رض کی یاد آگئی ہوگی
یہ سیاہ فام ضیف
جون بن حوی تھے
کربلا کے منور و معطر شہید
صحابیِ رسول ص اور مولا علی علیہ السلام کے وفادار
انہوں نے
حبشہ میں اسلام قبول کیا
ہجرت کرکے مدینہ آئے اور امام علی ع کی غلامی اختیار کی
امام حسن ع و حسین ع کا ساتھ پایا
امام علی ع نے اُنہیں ابوذر کے سپرد کیا
آپ ابو ذر غفاری کے قرب میں رہے
یہاں تک
کہ
اُن ہی کے ساتھ جلاوطن کرکے شام بھیجے گئے
اور کلمہ حق کی پاداش میں
ایک بار پھر
جبل الامل نامی پہاڑی قصبے میں جلاوطن کیے گئے
جون اور ابوذر غفاری کے تعلق کو بیان کرنے کیلئے
اس سے بہترین مثال اور کیا ہوگی
کہ
زیارتِ ناحیہ میں جون اور ابوذر غفاری کا نام ایک ساتھ آتا ہے
گویا
جون وہ ہستی ہے
جنہوں نے
کربلا میں
اپنے آقا اپنے دوست ابوذر غفاری کی نیابت بھی کی
جون بن حوی کا
ابوذر غفاری کے ساتھ تعلق ان کی مظلومانہ شہادت کے ساتھ ختم ہوگیا
جون بن حوی حبشہ میں مسلمان ہوئے
ہجرت کرکے رسولِ خدا ص کی خدمت میں مدینہ آئے
امام علی ع کے ساتھ رہے
اور
ابوذر غفاری کی ہمراہی میں شام اور جبل الامل سے ہوتے ہوئے
ساٹھ ہجری میں
دوبارہ
امام حسین ع کے سامنے اس انداز سے آکھڑے ہوئے
کہ
جیسے کہہ رہے ہوں
کہ
میرے آقا ابوذر غفاری تو شہید ہوچکے
میں یقینا
اسی لیے زندہ ہوں
کہ
آپ کے ساتھ شہید ہوسکوں
کہتے ہیں
جب یہ ستر سالہ بوڑھے میدان کربلا میں گھوڑے سے گرے تھے
تو انہوں نے اپنے سر کو امام حسین ع کے زانو پر پایا
وہ جون
جس نے مدینہ میں امام حسین سے شکوہ کیا تھا
کہ
شاید
آپ مجھے اس لیے نہیں لے جانا چاہتے تھے
کہ
میں سیاہ فام ہوں
میرے پسینے سے بدبو آتی ہے
اُسی جون نے اپنا سر زانوئے حسین ع پر پایا
یہ وہ موقع تھا
جب جون کا سر اپنے زانو پر رکھ کر امام حسین ع تو وہ تاریخی دعا کی تھی
کہ
“ اے پروردگار !
جون کا چہرہ منور کردے
اس کے پسنے کو معطر کردے “
کہتے ہیں
کہ
دعا ختم ہوتے ہی
جون کا جسم خوشبو سے معطر ہوگیا تھا
چہرہ نور کی مانند چمک اُٹھا تھا
یہ کربلا کے منور و معطر شہید تھے
جو حبشہ سے ہوتے ہوئے کربلا پہنچے تھے
کہ
اپنا خون، خون حسین ع کے ساتھ شامل کرسکیں
ایک رات میں
باطل سے حق کا سفر کرنے والے
حُر بن یزید تمیمی الریاحی
ستر سالہ جون بن حوی
اور
سترہ سالہ وہب کلبی
کربلا کے ایسے کردار ہیں
جو رہتی دنیا تک
اُن “مسلمانوں” اور اُن کی نسلوں کو گھیرے رکھیں گے
جنہوں نے
اکسٹھ ہجری میں خانوادہ رسالت ص کو گھیرا تھا
کربلا کے یہ کردار
یہ پیغام دیتے ہیں
کہ
آج بھی امام حسین علیہ السلام
ہر مذہب و مکتب سے تعلق رکھنے والے
انسانوں کے دل میں
کیوں بستے ہیں
اور کیا وجہ ہے
کہ
کچھ “مسلمان”
آج بھی
امام حسین علیہ السلام سے بغض رکھتے ہیں
السلام علیک یا جون بن حوی
اللہ کے آخری نبی کے رفیق جون آپ پر عاشقان حسین کا سلام
نفس رسول مولا علی کے جانثار جون آپ پر ہم سب کا سلام
نواسہ رسول پر کربلا میں جاں نثار کرنے والے جون آپ پر وفا کا سلام
السلام علیک یا اخی یا محبی یا شہیدی جون
کربلا میں منور ہونے والے اُس چہرے پر سلام جو دعائے امام حسین ع کا معجزہ ہے
السلام علیک یا جون شہید دشت نینوا
جاری ہے













