شوقؔ جس دن سے چراغاں ہے خیالوں کی گلی

0
1047

رضی اختر شوق کی مکمل غزل

سنگ ہیں ناوک دشنام ہیں رسوائی ہے
یہ ترے شہر کا انداز پذیرائی ہے

کتنا پھیلے گا یہ اک وصل کا لمحہ آخر
کیا سمیٹو گے کہ اک عمر کی تنہائی ہے

کچھ تو یاروں سے ملا سنگ ملامت ہی سہی
کس نے اس شہر میں یوں داد ہنر پائی ہے

ایک پتھر ادھر آیا ہے تو اس سوچ میں ہوں
میری اس شہر میں کس کس سے شناسائی ہے

شوقؔ جس دن سے چراغاں ہے خیالوں کی گلی
جشن سا جشن ہے تنہائی سی تنہائی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY