نظم : چڑیا،،،رخشندہ بتول

0
2139

نظم : چڑیا
چپ رہنے کی عادت کب تھی
صبح سویرے دانا چگتی چوں چوں کرتی
اڑتی پھرتی
رنگ برنگے پھولوں سے مس ہوتی جاتی
ڈال ڈال پہ جھومتی گاتی
چوں چوں کرتی
شور مچاتی
تنکا تنکا لا کر اپنی سیج سجاتی
ہر اک سمت میں خوشیاں بانٹتی
چوں چوں کرتی
اک دن ایک شکاری آیا
جال بچھایا،مجھے پھنسایا
آنکھوں میں بھر آئے آنسو
لیکن میں نے چوں چوں کر کے دل بہلایا
اس ظالم نے اک اک کر کے پَر بھی نوچے
زخم پہ اس نے زخم لگائے
میں نے بس نوحہ ہی سنایا
چوں چوں کر کے
اس کو پھر بھی رحم نہ آیا
حلق سے میری ‘جیبھ ‘ کو کھینچا
میں چلائی چوں چوں کر کے
اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔
تب سے اب تک چپ ہوں
لیکن دل میں آج بھی میں
چوں چوں کرتی ہوں ۔
رخشندہ بتول 

SHARE

LEAVE A REPLY