قسط 89
اربعین کے موقع پر
دنیا میں پہلے شخص
جنہوں نے
کسی دوسرے شہر سے
قبر امام حسین علیہ السلام کی جانب سفر کیا
وہ صحابی رسول ص
حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری تھے
آپ چہلم سید الشہداء کے موقع پر
مدینہ سے سفر کرکے کربلا تشریف لائے تھے
اور چند روز اس مقام پر قیام کیا
دوسرا قافلہ
جو اس قبر کی زیارت کے لیے کربلا میں اترا
وہ اسیران کوفہ و شام کا قافلہ تھا
جو رہائی کے بعد
مدینہ جاتے ہوئے کربلا میں تین روز کے لئے مقیم ہوا
ایک سو پچہتر 175 دن کا سفر کربلا
کوئی معمولی انسان کا معمولی سفر نہیں تھا
یہ سفر
نواسہ رسول صلی اللی علیہ والہ وسلم کا بقا ئے دین کا سفر تھا
زرا سوچیئے
دین ہے کیا
سوائے ” سچ ” اور ” صداقت ” کے
آپ عالی مقام امام حسین علیہ السلام نے جا بجا اپنا تعارف کروایا
نواسہ رسول جو صادق اور امین تھے
اسی صداقت اور امانت کی حفاطت کے لئے سفر کیا
اسیران کربلا اپنے پچاس سے پچپن دنوں کے سفر میں
اسی صداقت اور سچ کے تحفظ کے لئے صدا بلند کرتے رہے
کربلا ایک درسگاہ ہے
جو کھرے کھوٹے کی پہچان بتا تی ہے
حسینت اور یذیدیت کے درمیان لکیر کھینچ دیتی ہے
آزادی ، حریت اور ظلم و استبداد کے آگے نہ جھکنے کا درس دیتی ہے
کربلا سکھاتی ہے
ظلم کی بیخ کنی کرنے کے لیے جنگ کرنا سب سے بڑی نیکی ہے
کربلا وعدوں کی پاسداری اور وفاداری کی درسگاہ ہے
رضا و تسلیم اور اخلاص کا گوہر نایا ب ہے
کربلا ایک تہذیب ہے ۔۔ادب کا گہوارہ ہے
کربلا مسلمانوں کی جاگیر نہیں عالمگیر درسگاہ ہے
کہ
امام حسین علیہ السلام مسلمانوں کے نہیں
زمانوں کے ہیں ۔۔۔ محبت العالمین ہیں
آیت عشق ہے حسین
تفہیم عشق ہے حسین
تجسیم عشق ہے حسین
کیا مثال ہو
حسین کی
تعظیم عشق ہے حسین
تکمیل عشق ہے حسین
سلطان عشق ہے حسین
کیا مثال ہو
حسین کی
میراحسین سب سے جدا
میرا حسین عشق کا خدا
جاری ہے













