ریڈیو پاکستان لاہور کے تاریخی یاد باغ میں قیام پاکستان کا اعلان کرنے والی آواز مصطفے علی ہمدانی کی یاد میں شجر کا اضافہ ،ایک قومی قرض جو بہت دیر سے ادا ہوا

لاہور کے دوماہ کے قیام کے دوران میرا یہ آخری دن دو اپریل 2018شاید میری پوری زندگی پر بھاری ہے۔ میری کئی برس کی تحریری اور تقریری محنت آخر کار میری دوست اور شاگرد نزاکت شکیلہ کی ذاتی کوششوں سے بار آور ہوئی اور میرے آغا جان کی تصویر کی بھی نقاب کشائی ہوئی جو پہلے بھی وہاں آویزاں تھی لیکن کسی ناعاقبت اندیش نے اس تصویر کو وہاں سے غائب کر دیا تھی۔

اسی روز کی دوسری اہم ترین بات لاہور کے یاد باغ میں میرے والد مرحوم کے نام کے پودے کو لگانا تھا۔ یہ باغ 1976میں اسوقت کے اسٹیشن ڈائریکٹر سلیم گیلانی نے بنوایا تھا جسمیں لگ بھگ ہر بڑے نام کے ہاتھ سے پودے لگئے گئے تھے جو اب بلند بالا درخت ہیں تا ہم اسوقت حیات مصطفی علی ھمدانی کواس سعادت سے محروم رکھا گیا تھا۔

yad bagh mahpara
بہت سے لوگ برابرفیس بک ان باکس میں اس زیادتی اور ایک تاریخی شخصیت سے نتعصبانہ رویے کی وجہ جاننا چاہتے ہیں۔ میں اسکی مکمل تفصیل ضرور پیش کر دیتا لیکن اب سوچتا ہوں کہ زیادتی کرنے والا اور زیادتی کا شکار ہونے والا دونوں اللہ پاک کے پاس جا چکے ہیں وہی عادل و عدیل سب سے بڑا منصف ہے۔

lahore radio mustafa ali hamadani

ایسے رویوں کے لوگ آج بھی ریڈیو سمیت ہر ادارے میں موجود ہیں۔

میں سمجھتا ہوں ہمیں نیکی اور نیک لوگوں کی بات کرنی اور انہیں فروغ دینا چاہیئے۔ لاہور ریڈیو کی پہلی خاتون اسٹیشن ڈائریکٹر اور میری شاگرد نزاکت شکیلہ کو اللہ پاک نے اس نیکی کی اور اس تاریخی زیادتی کے ازالے کی توفیق دی اور یہ اسمیں انکی ذاتی مساعی شامل ہیں۔ انکا شکریہ،لاہور ریڈیوکا شکریہ اورریڈیو پاکستان کا شکریہ

safdar lahore radio yad bagh

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY