امریکہ کی دوا ساز کمپنی فائزر نے آزمائشی بنیاد پر اپنی تیار کردہ ویکسین کی تقسیم شروع کر دی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ ویکسین امریکہ کی چار ریاستوں میں تقسیم کی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق کرونا وائرس کی ویکسین ریاست ٹیکساس، نیو میکسیکو، رہوڈی آئی لینڈ اور ٹینیسی میں آزمائشی بنیاد پر مریضوں کو دی جائے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ویکسین کے نتائج سے پرامید ہیں جس کے بعد کرونا سے بچاؤ کی ویکسین امریکہ کی دیگر ریاستوں اور دنیا کے مختلف ملکوں میں تقسیم کی جائے گی۔
یاد رہے کہ فائزر کی تیار کردہ ویکسین کے ابتدائی نتائج کے مطابق یہ کرونا ویکسین کی روک تھام کے لیے 90 فی صد مؤثر ہے جسے 70 ڈگری سیلسیس پر رکھنا ضروری ہے۔
کمپنی کو توقع ہے کہ ویکسین کے بڑے پیمانے پر جاری تجربات نومبر کے تیسرے ہفتے تک جاری رہیں گے جس کے بعد ان کے پاس دوا کے مؤثر ہونے سے متعلق اتنا ڈیٹا موجود ہو گا جس کی بنیاد پر ویکسین کی ہنگامی بنیاد پر استعمال کی اجازت کی درخواست دی جائے گی۔
یاد رہے کہ فائزر اور اس کی پارٹنر کمپنی بائیو ٹیک نے امریکہ کی حکومت سے ایک ارب 95 کروڑ ڈالر کے عوض 10 کروڑ خوراکیں فراہم کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔
فائزر نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس کی تیار کردہ ویکسین 90 فی صد تک مؤثر ہے جب کہ موڈرنا نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ اس کی تیار کردہ ویکسین 94 اعشاریہ پانچ فیصد تک کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے کارآمد ہے۔
دونوں کمپنیوں کی تیاری کردہ ویکسین میں ایک نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا گیا ہے جسے سینتھیٹک میسینجر (آر این اے) کہا جاتا ہے جو وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت کو متحرک کرنے کا کام انجام دیتی ہے۔













