ملائیت کسی فرد کا نام نہیں یہ ایک ذہنی رویہ ہے جو کسی کو بھی گرفت میں لے سکتا ہے۔ ہم دراصل ملاں مولوی خطیب ذاکر پیش امام اور عالم دین کے درمیان فرق نہیں کر پاتے اور ہر وردی پوش کو عالم دین کہنے لگے ہیں یہاں تک کہ وہ سچ میں خود کو عالم دین ہی سمجھنے لگتا ہے۔
ملائیت سے تو باب العلم نے بھی دور رہنے کو کہا اور اقبال تو میری ہی طرح ملائیت کا دشمن ہے۔
ملائیت کا دوسرا نام جہالت ہے۔
اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم پی ایچ ڈی کر کے بھی دین کے بنیادی علم کے لیئے مولوی کے پاس جاتے ہیں جو ظلم ہے۔
دین اور مذہب میان فرق نوے فیصد لوگوں کو معلوم نہیں وہ نماز روزے حج زکوات کو دین سمجھتے ہیں کہ مولوی یہی بتاتا ہے جبکہ یہ دین کا پانچ فیصد بھی نہیں۔
قرآن میں عبادات بیس فیصد ہیں اور معاملات اسی فیصد اوراسی فیصد سے ہمارا کتنا تعلق ہے؟
پھر ہر مولوی کی اپنی شریعت ہے وہ ہر چیز کو اتنا مشکل بناتا ہے کہ آپکو اسکی ضرورت پڑے۔
ہم بچے کے کان میں اذان
رسم بسم اللہ
نکاح
نیاز
بزرگوں کا فاتحہ
نماز جنازہ
تدفین
اور ایسے ہی کتنے کام مولوی سے اجرت پر کرواتے ہیں جبکہ یہ ہمارے کام ہیں ہمیں خود کرنے ہیں۔
یہ بہت طویل فکری موضوع ہے۔
یہی وجوہات تھیں کہ بیس بائیس پہلے میں خود منبر پر آیا تھا کہ جس بات پر مجھے اعتراض ہے وہ میں خود کیوں نہ درست کروں پر میں ناکام رہا کیونکہ لوگ غلام رہنا چاہتے ہیں ۔
منبر اور دین بغیر ٹیکس کے تجارت ہے اور اسکو فروغ دینے میں عام آدمی کا قصور ہے۔
ہم اپنے حصے کا کام نہیں کر رہے بچے کو سکول یا مدرسے بھیج کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔
آپس میں مکالمے کی عادت نہیں۔
بس مسالک میں الجھے ہیں۔
کاش ہم اپنے درمیان حقیقی اہل علم کی شناخت کر سکیں۔
ہماری دینی اور سیاسی دونوں قیادتیں نوے فیصد سے زیادہ بے ایمان ہیں۔
شاعر ادیب قلم کار جو معاشرے کی تہذیب کرتے ہیں پچانوے فیصد درباری اور اداکار اور ضمیر و قلم فروش ہیں ۔
ایک غزل پڑھنے کے لیئے اپنے ہی شاعر بھائی کی لاش سے گزر جاتے ہیں ۔
فقط ملاں مولوی ہی نہیں ہم من حیث المجموع سر انڈ زدہ اور مکروہ معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں ۔ اپنی اگلی نسلوں کے مستقبل کو خود سیاہ کر رہے ہیں۔۔ملاں مولوی بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔
صفدرھمدانی













