مارچ12, 2020
ہنگامی میٹنگ

آج میں نے
اپنی آنکھوں سے دیکھا
چوبیس گھنٹوں میں دنیا کیسے بدلتی ہے
بینکس ٹاؤن ہوسپٹل پہنچی
جورجینا نے بتایا کہ نو بجے ٹیلیفونک کانفرنس ہے
میڈیکل ڈاریکٹرز نے ہنگامی میٹنگ بلائی ہے
میٹنگ ہوئی ۔۔۔۔۔۔
کتنی ہی تجاویز زیر بحث آیئں
ٹیلی ہیلتھ فون اور وڈیو کے زریعے مریضوں کو دیکھنا
فیس چیٹ پر اپنے پیاروں رابطے کا زکر ہوا
زیادہ سے زیادہ مریضوں کو
فارمیسیز پر ٹرانسفر کرنا کہ کلینک پر رش نہ ہو
دو میٹر سوشل ڈیسٹنس رکھنے کی ہدایت بار بار ہوئی
مریضوں کے لئے فرش پر چاک سے گول دائرے بنانے کی تاکید
روزانہ مریضوں اور اسٹاف کا ٹمریچر چیک کرنا
مریضوں کو حفظان صحت سےآگاہی دینا
پمفلٹس ۔۔۔ آڈیو ۔۔ وڈیو ریکارڈنگ سے انہیں سمجھانا
الایئڈ ہیلتھ کے عملے کو
گھر سے کام کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی
میٹنگ ختم ہو چکی تھی ۔۔۔۔
یقینا ہر وارڈ میں تجاویز پر بحث ہو رہی ہو گی
شام تک ۔۔
ہر کلینک پر ایک ڈاکٹر اور چار نرسوں کی کئی ٹیمیں بن گیئں
ڈاکٹروں نرسوں کی چھٹیاں منسوخ ہو چکی ہو گیئں
ہر وارڈمیں کورونا ایمرجنسی ٹیم تشکیل پا گیئں
ایمرجنی یونٹ اور ہر وارڈمیں
چند بیڈ کورونا کے مریضوں کے لئے مختص کر دیئے گئے
ہم سب تک حفاظتی کٹ (پی پی ای) پہنچا دی گئیں
شام کے پانچ بجے ہوسپٹل سے نکلی
سڑکوں پر وہ رونق نہ تھی جو رش آور میں ہوتی ہیں
جانے کیوں ؟
آج جلدی گھر پہنچنے پر کوئی خوشی نہیں ہوئی
جانے کب تک یہ حالات رہیں
انسان ، انسانوں سے دور رہیں
———————————————————
مارچ13, 2020
فیور کلینک

افففففف
آج جو دیکھا بھول نہیں پا رہی ہوں
لنچ بریک پر
جب واک کے لئے نکلی تو حیران رہ گئی
ڈرگ ہیلتھ کمیونٹی سینٹر کے داخلی دروازے کے دایئں طرف
بینکس ٹاؤن ہوسپٹل کا
مین ریسیپشن اور ملحقہ وارڈ
فیور کلینک
یعنی کورونا وارڈ میں بدل چکا ہے
داخلی دروازے کےسلایئڈنگ گلاس ڈور کے سامنے
پیلے نارجی رنگ کی فرشی لکیریں کھنچ چکی ہیں
ہماری کلینک کے سامنے
لوگ دو دو میٹر کے فاصلے پر کھڑے
منہ پر ماسک لگائے ہاتھ میں موبائل فون پکڑے
فیور کلینک میں داخل ہو رہے ہیں
سیکیورٹی گارڈ ماسک پہنے
آنے والوں کو مسلسل لائن اپ کر رہا ہے
کلینک کا پچھلا دروازہ
جہاں سے ہم لوگ دوسرے وارڈز میں جایا کرتے
وہ راستہ پلاسٹک کے پیلے جنگلوں سے بند ہو چکا ہے
یہ صورتحال سب کے لئے بہت اچانک اور نئی تھی
فیور کلینک پر اتنا رش ؟
نرس یونٹ منیجر جورجینا ٹرینیٹی نے بتایا
باہر کورونا ٹیسٹ کروانے والوں کا رش ہے
پہلی بار یوں لگا
جیسے
کورونا گھر تک آ گیا ہو
یا اللہ خیر !
ڈاکٹر نگہت نسیم













