سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے ذمے داروں کا نام منظر عام پر لانے کا حکم دےدیا ہے، جسٹس اعجاز افضل کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں ، اگر حکومت چاہتی ہے تو خود کمیشن بنالیں ، عدالت کا کندھا استعمال نہ کریں ۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ کی مطالعے سے قبل حسین نواز کی جانب سے دائر درخواست کو نمٹاتے ہوئے حسین نواز کی تصویر لیک کرنے والے ذمہ دار کا نام منظر عام پر لایا جائے جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تصویر لیکس پر کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں، اگر حکومت نے خود کمیشن بنانا ہے تو وہ خود بنالیں ،سپریم کورٹ کا کندھا استعمال نہ کریں ۔
جبکہ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ حکومت ذمہ دار شخصیت کے خلاف کاروائی کرنا چاہتی ہے توکرے۔ اس موقع پر انہوں نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ تصویر لیکس پر حکومت کو کوئی اعتراض تو نہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق کو تصویر لیکس کا نام منظر عام پر لانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے












