چاند ھاتھ میں بھر کر جگنوؤں کے سر کاٹو اور آگ پر رکھ دو۔ بشیر بدر

0
391

چاند ھاتھ میں بھر کر جگنوؤں کے سر کاٹو اور آگ پر رکھ دو
قافلہ پرندوں کا جب زمیں پہ گر جائے چاقوؤں کے سر رکھ دو

میں بھی اک شجر ھی ھوں جس پہ آج تک شاید پھول پھل نہیں آئے
تم مری ھتیلی پر ایک رات چپکے سے برف کا ثمر رکھ دو

دھوپ کا ھرا بجرا آگ کے سمندر میں چل پڑا ھمیں لینے
نرم و گرم ھونٹوں سے بند ھوتی تتلیوں کے پر رکھ دو

چاھے کوئی موسم ھو دن گئی بہاروں کے پھر سے لوٹ آئیں گے
ایک پھول کی پتی اپنے ھونٹ پر رکھ کر میرے ھونٹ پر رکھ دو

میرا تن درختوں میں اس لیے جھلستا ھے سخت دھوپ سہتا ھے
کیا عجب تم آ نکلو اور میرے کاندھوں پر تھک کے اپنا سر رکھ دو

روز تار کٹنے سے رات کے سمندر میں شہر ڈوب جاتا ھے
اس لیے ضروری ھے اک دیا جلا کر تم دل کے طاق پر رکھ دو

بشیربدر

SHARE

LEAVE A REPLY