اپوزیشن جماعتوں کی جانب 25 نومبر کو کورونا وائرس کی بیماری پر قائم پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا امکان ہے۔
اس اجلاس کے بائیکاٹ کا امکان اپوزیشن کے گزشتہ فیصلے کے تناظر میں ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر جانبداری کے باعث قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں تمام اجلاسوں سے دور رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جب مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دوٹوک اعلان کیا گیا کہ وہ اجلاس میں شرکت نہی کرے گی تو وہی پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہوں نے بھی اسپیکر کی زیر صدارت اجلاسوں سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم 25 نومبر کے اجلاس میں شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی دیگر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
اس حوالے سے جب رابطہ کیا گیا تو مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے واضح طور پر کہا کہ ’ہم نے اسپیکر کی جانب سے بلائے گئے (25 نومبر کے) اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کی والدہ کے انتقال کی وجہ سے پہلے ہی تمام سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔
ادھر قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کے 25 نومبر کے اجلاس کے لیے ایک ایجنڈا جاری کیا گیا جس میں ’کووڈ 19 کے باعث قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق معاملات اور کورونا وائرس کی بیماری پر بریفنگ‘ شامل ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈٰی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سینئر حکام کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ 6 ہفتوں کے دوران یہ تیسری مرتبہ ہے جب اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر کے تحت ہونے والے اجلاس کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔
اس سے قبل اسپیکر کی جانب سے 11 نومبر کو ’عکسری حکام کی جانب سے قومی سلامتی کے حالیہ معاملات پر ایک بریفنگ‘ کے لیے بلایا جانے والا پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس اس وقت منسوخ کردیا تھا جب اپوزیشن جماعتوں نے اس سے دور رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔
حکومت میں موجود ذرائع کا کہنا تھا اس بریفنگ کا اصل مقصد گلگت بلتستان کو ’عارضی صوبائی حیثیت‘ دینے پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنا تھا۔
اگرچہ اس حوالے سے حکومتی یا انٹرسروسز پبلک ریلیشن کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی تھی تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو بریفنگ دینا تھی۔
اسی طرح اسپیکر کی جانب سے 28 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کو بھی منسوخ کیا گیا تھا، یہ اجلاس میں گلگت بلتستان میں انتخابات سے متعلق بلایا گیا تھا۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ان کی جماعت اسپیکر کی جانب سے 16 ستمبر کو پارلیمنٹ کے آخری مشترکہ اجلاس کے دوران کی جانے والی جانبداری پر کسی پارلیمانی کمیٹی کا حصہ نہیں بنے گی۔
دوسری جانب اسپیکر کے ترجمان نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’حقیقت میں غلط‘ قرار دیا۔
ڈان سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ اسپیکر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ ایوان کے فلور پر بولنے کے لیے اپوزیشن اراکین کو موقع اور آزادی دی، جو اس حقیقت سے ظاہر ہے کہ بجٹ بحث کے دوران انہیں مختص وقت سے زیادہ وقت دیا گیا تھا۔












