دسمبر اب جو جاؤ تم , کرن مہک

0
944

دسمبر جا رہا ہے ۔دوستوں آئیں مل کر دعا کرتے ہیں کہ آنے والا سال ہم سب کے لیے خیر و عافیت اور خوشیوں میں کشادگی اور ہماری ذندگی میں رحمتیں برکتیں لے کر آۓ ۔اور اپنے ساتھ تمام وبائ امراض خاص طور پے کرونا وبا کو اپنے ساتھ ایسی مقام پے لے جاۓ جہاں واپسی کے راستے نہیں ہوتے

دو ہزار بیس نے ابن آدم کو موت کا کتنا گھناونا روپ دیکھایا ہے ۔۔ایسا روپ جسے انسانی زھن اس جدید دور میں تصور نہیں کر سکتا تھا یہ وہ قدیم دور تو نہیں جس میں کرونا نام کی وبا طاعون بیماری کی طرح انسانوں کو نگل جاتا ۔کرونا نے تو انسان کو انسان سے ہی خوفزدہ ۔پوری دنیا کے کاروبار زندگی کو مفلوج کیا ۔۔

موجودہ دور میں اتنی ترقی ہوچکی ہے کہ آج ہر اس بیماری کا علاج ممکن ہے جسے طاعون کا نام دیا جاتا تھا اگر نا ممکن بھی ہے تو بیماری کو ادویات کی مدد سے کنٹرول کرکے انسان ایک نارمل زندگی گزار سکتا ہے ۔۔آج کا انسان رات کو روشن کرچکا ہے ۔۔اور اس مصنوعی روشنی میں وہ اپنی پرانی اقدار کو بلاۓ طاق رکھ چکا ہے ۔بس نفاق ریاکاری کے علاج کی کھوج نا کر سکا ۔۔نیتوں کی خرابی نے کرونا وبا کو ذندگی دی ۔۔جس نے ایک شہر ایک ملک کو ہی نہیں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔رستے سنسان ہوۓ لوگ اپنے ہی گھروں میں محسور رہے ۔۔انسان انسان کے لیۓ اچھوت بن گیا ۔۔

دو ہزار بیس کا یہ پورا سال پوری دنیا کے لیے وبائ سال ٹہرا جس نے انسان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور خواہشوں کو نگل لیا ۔حضرت انسان کو احساس دلایا کہ انسان چاہے کتنی ہی ترقی یافتہ دور میں داخل ہوجاۓ رب کے سامنے بےبس ہے۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک کے لوگ رب کے دامنے سجدہ زیر ہوتے نظر آۓ ۔۔ہماری مسجدیں ویران کردی گئ ۔۔یہاں تک کہ حرم کعبہ کا طواف عبادتیں روک دی گئ ۔۔یہ منظر دیکھنا بھی بحیثیت مسلمان قیامت سے کم تو نہیں تھا۔۔

دوہزار اکیس کا سورج طلوع ہونے کو ہے ۔آئیں دسمبر کو خوشی خوشی الوداع کہیں اور اپنے پروردگار سے دعا کریں کہ آنے والا سال ہمارے لئے خیر و برکت کی سوغات لے کر آۓ ۔ آمین

کرن مہک

SHARE

LEAVE A REPLY