سینیٹ کی داخلہ کمیٹی نے اسلام آباد پولیس کو دس دنوں میں اسامہ ندیم قتل کیس کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
کمیٹی نے ہزارہ برادری کے 23 بیگناہ افراد کے بہیمانہ قتل کی بھی شدید مذمت کی۔ معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہا ہے کہ اسامہ ندیم اور ہزارہ برادری مقتولین کے لواحقین کو ہر صورت انصاف دلائیں گے۔
ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس وقار الدین نے کمیٹی کو اسامہ ندیم کے قتل پر بریفنگ دی۔ چئیرمین کمیٹی رحمان ملک نے کہا کہ پولیس کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کا قتل افسوسناک ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، گاڑی پر جس طرح گولیاں برسائی گئیں، یہ سفاکیت ہے۔ اس جرم کے مرتکب افراد کیساتھ کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے اسامہ ستی کی رسم قل میں شرکت کی۔ اس موقع پر زلفی بخاری نے کہا کہ وزیراعظم خود اس کیس کو دیکھ رہے ہیں، وعدہ کرتا ہوں کہ اسامہ کی فیملی کو انصاف ملے گا، اہلخانہ کے مطالبے پر جوڈیشل انکوائری ہوگی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اسلام آباد میں پولیس کی فائرنگ سے کار سوار نوجوان کی ہلاکت معمہ بن گئی، ابتدائی رپورٹ کے مطابق نوجوان کو 22 گولیاں ماری گئی ہیں، والد نے بتایا کہ پولیس والوں نے اعتراف کیا ہے بچہ بے قصور تھا۔
کار سوار اسامہ کے والد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میرے بیٹے کو 16،17 گولیاں ماری گئیں جس سے وہ جاں بحق ہوا۔
اسامہ ندیم کے والد کا کہنا تھا کہ پولیس والوں نے اعتراف کیا کہ بچہ بے قصور تھا،ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ٹائر کے بجائے ونڈ اسکرین پر فائر کرکے کھلم کھلا دہشت گردی کی،وزیراعظم، وزیرداخلہ ،اسلام آباد انتظامیہ سےانصاف کی اپیل کرتا ہوں۔
دوسری جانب پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکار ایچ 13 میں ڈکیتی کی اطلاع پر پہنچے، سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ایک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی، نہ رکنے پر اہلکاروں نے گاڑی کا تعاقب کیا۔
سب انسپکٹر کا کہنا ہے کہ گاڑی والے نے ان پر فائرنگ کی جس پر اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، نوجوان کو 22 گولیاں لگیں،ترجمان پمز وسیم خواجہ کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے مطابق سامنے سے گولیاں ماری گئی ہیں۔
وقوعہ کےمتعلق پولیس کی ابتدائی رپورٹ کی کاپی بھی سامنےآئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی کی گاڑی میں ایک سب انسپکٹراور4 جوان سوار تھے،اہلکارایچ 13 میں ڈکیتی کی اطلاع پرموقع پرپہنچے تھے۔
سی ٹی ڈی اہلکاروں نےگاڑی کوروکنےکی کوشش کی، نہ رکنےپر اہلکاروں نے گاڑی کا تعاقب کیا ، سب انسپکٹر کا کہنا ہے گاڑی والے نے ان پر فائرنگ کی،اہلکاروں کی جوابی فائرنگ سے نوجوان کو 22گولیاں لگیں۔
ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گاڑی سے کوئی اسلحہ نہیں ملا، نوجوان کا نام اسامہ ندیم ہے اور وہ ورچول یونیورسٹی کا طالبعلم تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق پانچوں اہلکاروں کو تحویل میں لےلیا گیا ہے۔













