نصیرترابی اور عارف امام – فقیر عارف امام

0
1635

” کوئی ہم سا ہی مقابل ہو تو ہم کھلتے ہیں”

نصیر ترابی کی یادیں اور باتیں

نصیرترابی اور عارف امام ۔ ۔ داستانِرفاقت

تحریر : – فقیر عارف امام

نصیر بھائی کو یاد کرنا پھر انکے بارے میں لکھنا میرے لیے کچھ اتنا سہل نہیں۔ نصیر بھائی کم آمیز تھے مگر ان کی یاد مجمع ساز ہے، کبھی اکیلی نہیں آتی، کسی بالیں سے زیڈ اے بخاری کا گونج دار لہجہ سنائی دیتا ہے، کسی گوشے سے مصطفے زیدی دکھائی پڑتے ہیں تو کسی سمت سے روشن علی بھیم جی، کسی روشن دان سے پروفیسر مجتبیٰ حسین جھلملاتے ہیں تو کسی کھڑکی سے ابراہیم جلیس، کسی نیم روشن گوشے میں عزیز حامد مدنی سیاہ عینک اور کالا اوور کوٹ پہنے دکھائی دیتے ہیں، کسی کونے میں جون ایلیا سر نیہوڑائے بیٹھے ہوتے ہیں تو کسی دروازے سے عبید اللہ علیم پیارے صاحب کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔

اس وقت ہم نوجوان شعرا کے لیے نصیر بھائی ایک ایسی یونیورسٹی تھے جسے ہم آج کی زبان میں ورچوئل درسگاہ کہہ سکتے ہیں۔ پروفیسر مجتبی حسین سے کبھی ملنے کا موقع نہ ملا مگر ان کے افکار اور بالخصوص میر انیس کے مرثیوں پر انکی ایک بالکل مختلف انداز کی گفتگو نصیر بھائی کی زبانی سنی۔ محمد حسین آزاد کی انشاپردازی کی جھلک ان کی زبان سے دیکھی۔ لفظ برتنے اور اس کے مترادفات کا سلیقہ ان کی شاعری اور ان کی نثر نے سکھایا۔ جب نصیر بھائی گفتگو کرتے تو کسی اور کو بولنے کی مجال ہوتی نہ ضرورت۔ چائے پر چائے آتی جاتی، سگریٹ پہ سگریٹ راکھ ہوتی جاتی اور دیوار پہ آویزاں علامہ رشید ترابی کی سیاہ و سفید تصویر ہماری آنکھوں میں جھانکتی اور زیرِ لب مسکراتی رہتی۔

نصیر بھائی بے تکان گفتگو کرتے اور پھر اچانک کھڑے ہوکر الوداعی مصافحے کے لیے تین انگلیاں بڑھا دیتے۔

انہی دنوں ایک چھریرے بدن کا خوش پوش نوجوان اور کسی میڈیکل کالج کا طالب علم خورشید عبداللہ بھی تسلسل کیساتھ نصیر بھائی کی خدمت میں حاضر رہتا، نصیر بھائی ہم نوجوانوں کی بہ نسبت اس کو زیادہ وقت دیتے، ان دنوں تو ہمیں اس نوجوان سے حسد جیسا محسوس ہوتا مگر جب یہ علم ہوا کہ یہ منحنی سا نوجوان ایک ضخیم مطالعے کا حامل بھی ہے تو یہ حسد رشک میں بدل جاتا۔

ہم نوجوانوں کو خوش قسمتی سے تین ایسے سینیر شعرا کا ساتھ حاصل رہا جو ہماری ہر طرح کی بھوک اور پیاس کا خیال رکھتے۔ نصیر بھائی سے علمی تشنگی میں افاقہ ہوتا تو جمال احسانی حلق تر رکھنے میں ممد و معاون ہوتے۔ رات گئے عبیداللہ علیم لسبیلہ کے چارپائی ہوٹلوں میں تکے کباب اور پراٹھے کھلاتے۔

اس تحریر میں میری کوشش یہ رہے گی کہ وہ نصیر ترابی آپ کو دکھا سکوں جو ہر نظر پہ نہیں کھلتا۔ نصیر کو بہ حیثیت شاعر اور ادیب انکی کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں، بہ حیثیت ناظم مشاعروں میں ملاحظہ کرسکتے ہیں مگر میں آپ کو بظاہر اکھڑ مزاج اور کج کلاہ نظر آنے والے نصیر ترابی کی جھلک دکھلانا چاہتا ہوں جس نے ہر جوہرِ قابل کی رہنمائی کو بِلا کسی تمنائے ستائش اپنے تمام تر اخلاص سے اپنا کارِ منصبی جانا۔

نصیر بھائی جہاں قدیم و جدید لسانیات کے عالم تھے وہاں وہ نئی لفظیات اور محاورے بھی ایجاد کرتے تھے۔ ان کی نثر پڑھنے اور سننے سے لفظ کے ایسے ایسے نادر قرینے سامنے آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے کہ واللہ اس لفظ کو اس طرح بھی استعمال کیا جاسکتا ہے؟ وہ اوروں کی طرح لفظ گھڑتے نہیں تھے، لفظ چمکاتے تھے اور اس کے وہ پہلو دکھاتے تھے جو عام نگاہ پہ نہیں کھلتے۔ اس بات کی مزید وضاحت کے لئے اس تحریر کے ساتھ ایک وڈیو لف ہے جو ایک دوست کے ساتھ میں نے ہیوسٹن میں اپنے گھر چند سال پہلے ان کی آمد پہ ریکارڈ کی تھی۔

شاعری پہ تنقید کرتے ہوئے وہ ایک لفظ “کھوکا پینٹنگ” اکثر استعمال کرتے جس سے ان کی مراد کیفیت سےعاری محض آرائشِ لفظی پہ مبنی شاعری ہوتی۔

۱۹۸۹ کے اواخر میری شادی ہوئی، میری شادی کی چار خاص باتیں ہیں جس میں سب سے اہم میری شریک مشکلات کا مجھے شادی سے پہلے دیکھ اور مل لینے اور میری تمام تر بد قماشیوں سے آگاہی کے باوجود شادی پہ آمادگی ہے، دوسری نصیر بھائی کا شادی کی مختلف تقریبات کے دعوت ناموں کی منفرد عبارت تحریر کرنا، (کچھ عرصے قبل تک یہ دعوت نامے میرے پاس محفوظ تھے اب خدا جانے کہاں کھو گئے)۔ تیسری ان دعوت ناموں کی کتابت جو اس وقت کے نامور خطّاط سلیم ساغر نے کی اور چوتھی اہم بات منور عباس ایڈوکیٹ کے بیٹے اور اشرف عباس کے چھوٹے بھائی پرویز کا اپنی خواہش پر اپنی کار میری بارات کے لیے سجانا اور چلانا ہے۔ آج ہی اشرف عباس مرحوم کے صاحبزادے سے فون پہ بات ہوئی تو پتہ چلا کہ پرویز بھی ڈیڑھ سال پہلے اس جہانِ فانی سے رخصت ہوچکے ہیں۔ پروردگار غریقِ رحمت فرمائے۔

میرے کوچۂ سخن میں قدم رکھنے سے پہلے نصیر بھائی، علیم بھائی اور جون بھائی کا ایک مثلث ہوا کرتا تھا۔ نصیر بھائی اور جون بھائی سے اس دور کے بہت قصے سنے جب یہ تینوں ناظم آباد ایک نمبر کے ایک ریستوراں میں باقاعدگی سے بیٹھا کرتے پھر نجانے کن وجوہات کی بنا پر یہ تثلیث قائم نہ رہ سکی البتہ علیم بھائی اور نصیر بھائی کے تعلقات دوبارہ استوار ہو چکے تھے۔

نصیر بھائی کی پہلی کتاب کی اشاعت کے وقت میں بہ سبب ملازمت لاہور میں مقیم تھا۔ نصیر بھائی لاہور آئے اور مجھ سے رابطہ کرکے اپنی قیام گاہ آنے کا حکم دیا۔ میں پہنچا تو اپنی کتاب مجھے مرحمت فرمائی۔ پھر کچھ دنوں بعد فون کیا اور کتاب کے بارے میں تاثرات پوچھے۔ میں بہت حیران ہوا کہ کیا میں اور کیا میری اوقات کہ نصیر ترابی جیسا کج کلاہِ سخن مجھ سے تاثرات کا طلب گار ہے؟ پھر مجھے رئیس امروہوی سے اپنی پہلی ملاقات یاد آگئی، نصیر بھائی نے ایک دن مجھ سے کہا کہ بھائی رئیس سے ملنے جارہا ہوں تم چاہو تو میرے ساتھ چلو۔ میں تو خود بہت مشتاق تھا بھائی رئیس سے ملنے کا مگر کبھی اکیلے جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ بھائی رئیس کے گھر پہنچے تو وہاں حسبِ روایت گھر کے آنگن میں محفل آراستہ تھی، پانچ یا چھ افراد موجود تھے جن میں سے ایک بھائی تقی بھی تھے، نصیر بھائی کے آداب کے بعد میں نے آداب عرض کیا تو بھائی رئیس نے تسلیمات کے فوراََ بعد ہی مجھ سے کہا کہ بھئی بالے اب کے بڑے دن بعد آئے؟ میں بھونچکا ہوکر نصیر بھائی کو دیکھا کیا تو انہوں نے چپکے سے میرا ہاتھ دبا کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ انہیں تو خبر تھی کہ میں کیسا اجڈ اور بدتہذیب نوجوان ہوں، پلٹ کے یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ بڑے میاں زیادہ چڑھا لی ہے کیا؟ میں تو پہلی بار آیا ہوں۔ وہاں سے اٹھتے ہی میں نے پہلا سوال نصیر بھائی سے یہی کیا کہ نصیربھائی ضرور بھائی رئیس کو کوئی غلط فہمی ہوئی جو انہوں نے یہ بات کہی۔ مسکرا کے بولے نہیں ایسی بات نہیں! وہ ہر نئے آنے والے سے اسی طرح کہتے ہیں تاکہ وہ خود کو اس ماحول میں اجنبی، نو وارد اور غیر اہم نہ سمجھے۔ تب میری سمجھ میں آیا کہ نصیر بھائی نے اپنی کتاب پہ میرے تاثرات کیوں پوچھے تھے۔

رئیس بھائی اور اس خانوادے سے جڑے اکثر واقعات نصیر بھائی اپنے مخصوص انداز میں اکثر سنایا کرتے جو اب میری یاد داشت سے محو ہوچکے ہیں۔

عقیدہ نوائی پہ مبنی کتاب “لاریب” مجھے بھجوائی تو میں نے فیس بک پہ ایک مختصر تبصرے پہ مبنی پوسٹ تحریر کی جو انہیں ڈاکٹر خورشید عبداللہ نے پڑھوائی تو مجھے خود فون کرکے شکریہ ادا کیا۔ کوئی آدمی کیا اتنا بڑا بھی ہوسکتا ہے کہ جس پودے کو اس نے خود سینچا ہو اس سے اگر ذرا سا بھی سایہ اسے دستیاب ہو تو اس کا شکریہ ادا کرے؟

ایک اور اہم واقعہ جو اس موقعے پر لکھنا ضروری اور اہم ہے، اگرچہ اس کا تعلق بھی میری ذات ہی سے ہے مگر اس میں آپ کو دو اتنے بڑے کردار نظر آئیں گے کہ انہیں سر اٹھا کے دیکھنا اور پھر احتراماً گردن جھکانا آپ کے لیے ناگزیر ہو جائے گا۔

اپنے پہلے مرثیے کی تصنیف کے بعد شاہد جعفر کے حکم پر میں کچھ بزرگ اہلِ علم ہستیوں کے گھر مجلس میں تشریف لانے کی درخواست کرنے کے لیے انہی کے ساتھ انکی لال سوزوکی پک اپ میں گیا جن میں مولانا حسن امداد بھی شامل تھے۔ مشہورِ ومحبوبِ زمانہ نوحہ خواں علی ضیا رضوی کے متوجہ کرنے پر میں انہی کے ساتھ اسی سلسلے میں رضویہ سوسائٹی میں مقیم ایک نابغہ روزگار اہلِ علم اور انیس و دبیر پہ گہری نگاہ رکھنے والے بزرگ ماجد چچا کے دولت خانے پہ بھی گیا۔ (ان کی دوسری پہچان ان کا پروین شاکر کا چچا ہونا بھی ہے) ماجد چچا ان سلسلہ مجالس سے اس بات پر خفا تھے کہ میری شمولیت کی وجہ سے پہلی مجلس میں بجائے تحت اللفظ مرثیۂ میر انیس مجھے اپنا نوتصنیف مرثیہ پیش کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ ماجد چچا نے شدید غصے کا اظہار کیا اور فرمایا کہ اچھا تو آپ ہیں وہ حضرت جن کی وجہ سے میر انیس کا مرثیہ ہٹایا گیا ہے؟ میں ہرگز نہیں آنے کا۔ علی ضیا نے میرا ہاتھ دبا کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ میں نے غصے میں تمتماتے ہوئے ان کو رخصت کا سلام پیش کیا اور تلملاتا ہوا باہر آگیا۔

خون کے عنوان پہ اپنے دوسرے مرثیے کی تصنف اور اس کی بے مثال پذیرائی کے بعد مجھے علی ضیا نے فون کرکے حکم دیا کہ انجمنِ غمخوارانِ عباس ع کی سالانہ شب بیداری میں تمہیں اپنا مرثیہ پیش کرنا ہے، میری ہچر مچر کے باوجود علی ضیا رضوی نے میری ایک نہ سنی اور مجھے بتایا کہ سارا پروگرام نصیر بھائی نے ترتیب دیا ہے اور وہ تم سے پہلے سلام بھی پیش کریں گے۔ میں حیران و ششدر تھا کہ وہ نصیر ترابی جن کے سامنے ہمیں بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی وہ میری پیش خوانی فرمائیں گے؟ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کون سی اعلی تہذیب ہے جو اس فرشِ عزا پہ خاک بسر بیٹھ کے سیکھی اور سکھائی جاتی ہے۔ سوز خوانی کے بعد نصیر بھائی نے سلام پیش کرنے سے پہلے اس فقیر کا تعارف جن الفاظ سے کروایا میں اسوقت بھی ان کا حق دار تھا نہ آج ہوں۔ میں نے مرثیہ تمام کیا اور منبر سے اتر کے نیچے آیا تو سب سے پہلے جس شخص نے خود آگے بڑھ کے مجھے گلے سے لگایا اور کہا کہ بیٹا مجھے معاف کردینا میں غلطی پر تھا وہ کوئی اور نہیں ماجد چچا تھے، میں گریہ کناں اس چھوٹے قد کے بلند قامت بزرگ کے قدموں سے لپٹ گیا۔ آپ نے آسماں قامت لوگ شاید نہ دیکھے ہوں مگر میں وہ بخت آور ہوں کہ میں نے دیکھے بھی اور ان کی قدم بوسی بھی کی۔

نصیر بھائی کی صفات میں ایک نمایاں صفت ان کا ایک بہترین اور بے غرض مشیر ہونا بھی ہے۔ وہ نہ صرف بہترین مشورے سے نوازتے بلکہ اگر اس میں کسی اور سے مدد بھی طلب کرنی ہو تو وہ بلا تکلف متعلقہ شخص کو فون بھی کھڑکھڑا دیتے۔ مجھے کل ہی شاہد جعفر کے بیٹے ندیم نے بتایا کہ شاہد بھائی کے انتقال کے بعد سے اپنے انتقال تک انہوں نے ان کے اہلِ خانہ کا ہر ممکن خیال رکھا اور حال ہی میں شاہد بھائی کی بڑی بیٹی کو ملازمت بھی دلوائی۔

۲۰۱۱ میں جب میں تقریباً دس سال بعد پہلی بار پاکستان گیا تو اپنے دوست اور نصیر بھائی کے چھوٹے بھائی ابو طالب کی تعزیت کے لیے گیا۔ ایک دو دن بعد ہی انہوں نے مجھ سے کچھ کہے بغیر ہی کسی ٹی وی چینل سے بات کرکے مجھے فون کرکے کہا کہ بھئی تمہارا انٹرویو فلانے دن طے ہے تم پہنچ جانا۔ میں نے اپنی افتادِ طبع کے تحت معذرت کی تو کہنے لگے یار میں نے ان سے وعدہ کرلیا ہے لیکن میں کوئی بہانہ کرلوں گا۔ مجھ پہ ذرا بھی معترض ہوئے نہ کسی ناراضی کا اظہار کیا۔

ابوطالب کے انتقال کے صدمے نے ان کی شخصیت کے مصنوعی روکھے پن کو بھی ختم کردیا تھا اور وہ جو ایک لیے دئیے رہنے کا کرّوفر ان کی شخصیت کو گھیرے رہتا تھا ٹوٹ چکا تھا۔ انکے اندر کا مرنجاں مرنج نصیر ترابی اب ہر کسی کو دکھائی دیتا تھا۔

آخری بار جب نصیر بھائی امریکہ تشریف لائے تو دو تین ھفتے ان سے مسلسل ملاقاتیں رہیں، ان ملاقاتوں میں جہاں شعر و ادب کے حوالے سے گفتگو رہی وہاں انہوں نے ان مشاہیر کے متعلق بھی اپنی یادوں میں شریک کیا جن کے ساتھ ان کی زندگی کا بڑا عرصہ گزرا۔ زیڈ اے بخاری کا ایک واقعہ جو انہوں نے سنایا اس میں آپ بھی شریک ہوجائیں شاید اس سے واقعے سے آپ اس راز تک پہنچ سکیں کہ اہلِ کمال کی بھیڑ میں چند ایسے افراد کون ہوتے ہیں جو افراد کے دلوں میں بس جاتے ہیں اور ان کا ذکر کیوں جاری و ساری رہتا ہے۔

نصیر بھائی نے بتایا کہ سردیوں کی راتوں میں زیڈ اے بخاری نصیر بھائی کی معیت میں اپنی کار میں گشت پہ نکلتے۔ کار کی پچھلی نشست اور ٹرنک (ڈگی) روئی کی نئی رضائیوں سے بھری ہوتی۔ رات گئے یہ دونوں گولیمار یا دوسری غریب بستیوں کا رخ کرتے۔ بخاری صاحب اسٹیرینگ وہیل پہ ہوتے کسی گھر کے سامنے کار روکتے، نصیر بھائی ایک رضائی اس گھر کے صحن میں اچھالتے اور کار میں بیٹھ کے آگے روانہ ہوجاتے۔ کبھی فٹ پاتھ پہ سوتے ہوئے مزدوروں کو چپکے سے رضائیاں اڑھاتے اور خاموشی سے آگے بڑھ جاتے۔

نصیر بھائی اور دیگر گردوں قد شخصیات (جنہوں نے میری نسل کی آبیاری اور کراچی کا ادبی منظرنامہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کیا) کے بارے میں تحاریر کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ان میں بیشتر نام ایسے ہیں جن کا ذکر میری نسل کے شعرا اور ادیبوں پہ قرض بھی ہے اور فرض بھی۔ اگلی قسط میں حسبِ وعدہ نصیر بھائی کی شاعری پر حسبِ مقدور گفتگو کروں گا۔

سرکار عارف امام

SHARE

LEAVE A REPLY