صدر بائیڈن نے حکومتی اخراجات کے ایک اعشاریہ سات ٹریلین ڈالر کے بل پر دستخط کر دیے

0
898

صدر بائیڈن نے جمعرات کے روز ایک اعشاریہ سات ٹریلین ڈالر کے اخراجات کے بل پر دستخط کر دیے جس کے تحت وفاقی حکومت ستمبر 2023 میں وفاقی بجٹ سال کے اختتام تک کام کرتی رہے گی اور یوکرین کو روس کے خلاف اس کی لڑائی کے لیے اربوں ڈالر کی نئی امداد فراہم کی جائے گی ۔بائیڈن کے پاس جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن سے بچنے کے لیے بل پر دستخط کرنے کے لیے جمعہ کے آخر تک کا وقت تھا۔

ڈیموکریٹک کنٹرول والے ایوان نے 201 کے مقابلے میں 225 ووٹوں سے بل کو منظور کیا ۔ ایوا ن میں یہ ووٹنگ اس کے ایک روز بعد ہوئی جب ڈیمو کریٹک قیادت ہی کی سینیٹ نے نمایاں طور پر زیادہ ری پبلکن حمایت کے ساتھ بل کو 29 کے مقابلے میں 68 ووٹوں سے منظور کیا۔

بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ یہ بل اس بات کا ثبوت ہے کہ ری پبلکنز اور ڈیمو کریٹس اکٹھے کام کر سکتے ہیں ۔

اخراجات کے اس بل میں ملکی پروگراموں کےلئے لگ بھگ 6 فیصد اخراجات کے ساتھ 772 اعشاریہ 5 ارب ڈالر شامل ہیں ۔ دفاع کے پروگراموں میں اخراجات تقریباً 10 فیصد بڑھ کر 858 ارب ڈالر ہوجائیں گے۔

یہ بل وفاقی اداروں کے لئے فنڈز ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل منظورہوا ۔ قانون ساز حکومت کو مسلسل چلانے کے لئے مختصر مدت کے دواخراجاتی بلوں اور تیس دسمبر تک حکومت کو چلانے کے لئے گزشتہ جمعے کو ایک تیسرے بل کی منظوری دے چکے تھے ۔ بائیڈن نے اس چیز کو یقینی بنانے کے لئے اس بل پر دستخط کئے کہ کانگریس کی جانب سے اومنی بس نامی پورے سال کا بل بھیجے جانے تک ملک کی تمام سروسز چلتی رہیں ۔

4ہزار سے زیادہ صفحات کے اس بل میں قانون سازوں نے یوکرین اور نیٹو اتحادیوں کے لئے تقریباً 45 ارب ڈالر فراہم کئے جواس سے بھی زیادہ تھے جتنے بائیڈن نے کہے تھے۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ مڈ ٹرم انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کے بعدری پبلکنز جب اگلے ہفتے ایوان کا کنٹرول سنبھالیں گے تو فنڈنگ کے مستقبل کے مراحل کی کوئی ضمانت نہیں ہو گی ۔

اگرچہ یوکرین کے لئے زیادہ تر حمایت دو جماعتی رہی ہے تاہم ایوان کے کچھ ری پبلکنز نے ان اخراجات کی مخالفت کی ہے اور یہ جواز پیش کیا ہے کہ وہ رقم ملکی ترجیحات پر زیادہ بہتر طور پر خرچ ہوگی ۔ ایوان کے ری پبلکن لیڈر کیون میک کارتھی خبردار کر چکے ہیں کہ ری پبلکنز مستقبل میں یوکرین کے لئے بلینک چیک نہیں لکھیں گے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY