کراچی ٹیسٹ کے چوتھے روز جنوبی افریقہ کی ساری ٹیم 245 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی، پاکستان کو جیت کیلئے 88 رنز کا ہدف حاصل کرنا ہے۔
پروٹیز کو آج کھیل شروع ہوتے ہی 2 وکٹوں کا خسارہ برداشت کرنا پڑا، کیشاو مہاراج اور ڈی کوک 2، 2 رنز بنا کر 187 اور 192 کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ گئے۔ باوما نے 3 چوکے لگا کر بیٹنگ لائن کو تھوڑا سہارا دیا تاہم کچھ خاص کارکردگی نہ دکھا سکے اور نعمان علی کی بال پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
گزشتہ روز پروٹیز ٹیم نے 158 رنز کے خسارے میں جانے کے بعد اننگز کا آغاز کیا تو اوپنرز نے سنبھل کر بیٹنگ کرتے ہوئے کھانے کے وقفے تک کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔ پاکستان کو پہلی کامیابی کھانے کے وقفے کے بعد اس وقت ملی جب 29رنز بنانے والے ڈین ایلگر وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔ محمد رضوان نے شاندار کیچ تھاما۔
پہلی وکٹ گرنے کے بعد مارکرم کا ساتھ دینے وین ڈر ڈوسن آئے اور دونوں نے بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرے سیشن میں کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔
دونوں کھلاڑیوں نے اپنی ٹیم کو خسارے نکالتے ہوئے برتری دلائی اور دوسری وکٹ کے لیے 127 رنز کی عمدہ شراکت قائم کی۔ اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب یاسر شاہ کی گیند پپر عابد علی نے کیچ لے کر ڈوسن کو چلتا کردیا جنہوں نے 64 رنز کی اننگز کھیلی۔
پاکستان کو اگلی وکٹ کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور فاف ڈیو پلیسی 10 رنز بنانے کے بعد یاسر شاہ کی اننگز میں تیسری وکٹ بن گئے۔ تاہم جنوبی افریقا کو دن کے اختتام سے قبل برا دھچکا اس وقت لگا جب دوسرے اینڈ پر موجود مرکرم 74 رنز بنانے کے بعد نعمان علی کو وکٹ دے بیٹھے۔
جب میچ کے تیسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو جنوبی افریقا نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے تھے اور اسے دوسری اننگز میں صرف 29 رنز کی برتری حاصل ہے۔ پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ نے تین اور نعمان علی نے ایک وکٹ حاصل کی۔











