مبینہ خط کی تحقیقات،اسلام آبادمیں دائردرخواست مسترد

0
699

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مبینہ امریکی خط کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت دیتے ہوئے مسترد کردی

عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دائر درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا اور ناقابل سماعت دیتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔اسلام آبادہائیکورٹ نے درخواست گزار پر1 لاکھ روپے ہرجانہ بھی عائد کردیا۔

عدالت نے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ غیرسنجیدہ درخواست عائد کرکے عدالت کا وقت ضائع کرنے کی کوشش کی گئی،سابق منتخب وزیراعظم پر عائد الزامات فرسودہ ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آبزرویشنز دی کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ نیشنل سیکورٹی مسائل کو سیاسی نہ بنایا جائے اور نہ سنسنی خیز، سفارت کاروں اوران کی کلاسیفائیڈ رپورٹس کو سیاسی تنازعوں میں گھسیٹنا قومی مفاد کو کمزور کرسکتا ہے۔

اس سے قبل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے 8مارچ کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی،وزیراعظم27مارچ تک اس معاملے پر خاموش رہتےہیں اور پھر 27مارچ کو وزیراعظم کہتے ہیں کہ یہ دھمکی آمیزخط ملا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ یہ خط نہیں کیبل تھا،خط اورکیبل میں فرق ہے۔

درخواست گزار نے کہا تھا کہ اخبارات ،میڈیا میں ہر جگہ اسے خط لکھا جارہا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اورآپ اس کوکیوں سیاسی کرناچاہتے ہیں؟ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا پروسیجر کی خلاف ورزی ہوئی۔

درخواست گزاراقبال حیدر نے کہا کہ اس سے پہلے پرویز مشرف نے بھی آئین شکنی کی تھی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مولوی اقبال حیدر کو عمران خان کا پرویز مشرف کے ساتھ موازنہ کرنے سے روک دیا تھا اور ریمارکس دئیے کہ عمران خان منتخب وزیراعظم تھے پرویز مشرف سے موازنہ نہ کریں۔

SHARE

LEAVE A REPLY