پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے فاسٹ باؤلرز کے لیے سازگار وکٹ تیار کی گئی ہے جس کی وجہ سے پاکستان نے اسپنرز کو ڈراپ کر کے تمام فاسٹ باؤلرز کے ساتھ میدان میں اترنے پر غور شروع کردیا ہے۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 4فروری سے راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔
راولپنڈی کی وکٹ باؤلنگ کے لیے سازگار تصور کی جاتی ہے اور گزشتہ پانچ سالوں میں یہ وکٹ باؤلرز کے لیے جنت کی حیثیت رکھتی تھی۔
گزشتہ پانچ سال کے دوران فرسٹ کلاس کرکٹ میں راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کی وکٹ پر 21.40 کی اوسط سے فاسٹ باؤلرز نے 498 وکٹیں حاصل کیں جبکہ اسپنرز 34.18 کی اوسط سے صرف 72 وکٹیں لے سکے۔
پاکستان نے پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کو 7 وکٹوں سے شکست دی تھی اور اس فتح میں اسپنرز نے مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کی 20 میں سے 14 وکٹیں حاصل کیں۔
تاہم پاکستان ٹیم مینجمنٹ راولپنڈی میں فاسٹ باؤلرز کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے پہلے ٹیسٹ میچ میں اسپنرز کی عمدہ کارکردگی کے باوجود اسپنرز کو ڈراپ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
کراچی میں گراؤنڈزمین نے وکٹ پر نمی کو برقرار رکھنے کے لیے وکٹ پر ڈھانپ کر رکھا تھا لیکن اس کے باوجود پہلے دن 14 وکٹیں گر گئی تھیں لیکن راولپنڈی کی نمی سے بھرپور وکٹ پر نہیں ڈھانپا گیا تاکہ دھوپ لگا کر وکٹ کو کسی حد تک خشک کیا جا سکے۔
وکٹ کو دیکھتے ہوئے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے اسپنرز کو ڈراپ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
کرک انفو کے مطابق مصباح الحق نے کہا کہ راولپنڈی میں وکٹ اور موسم کراچی سے مختلف ہے لیکن ہم ٹیم کے حوالے سے فیصلہ میچ کے قریب آ کر کریں گے، اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ہم ٹیم میں تبدیلیوں کے لیے تیار ہیں۔












