امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین انتہا پسند حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
دونوں رہنماؤں کی جمعرات کو ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق صدر بائیڈن اور وزیرِ اعظم مودی نے سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گرد پراکسیز کے استعمال کی شدید مذمت کی اور پاکستان سے اس بات کو یقینی بنانےکےلیے فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا کہ اس کے زیرِ کنٹرول کوئی بھی علاقہ دہشت گردحملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
مشترکہ بیان کے مطابق صدر بائیڈن اور وزیر اعظم مودی نے القاعدہ، داعش، لشکرِ طیبہ، جیش محمد اور حزب المجاہدین سمیت اقوامِ متحدہ کی فہرست میں شامل تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے بائیڈن اور مودی نے ممبئی حملوں اور پٹھان کوٹ حملوں کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ بھی کیاہے۔
سال2016 میں بھارت کے پٹھان کوٹ ایئر بیس پر ہونے والے حملے میں بھارت کےسات سیکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔
واضح رہے کہ جوہری ہتھیاروں سےمسلح پڑوسی ملکوں بھارت اور پاکستان کے تعلقات برسوں سے کشیدہ ہیں۔ 1947 میں برصغیر پاک و ہند میں برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کے خاتمے کے بعد سے دونوں ملک تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان دو جنگیں مسلم اکثریتی کشمیر پر ہوئی ہیں جس کے پورے حصےپر دونوں ہی کادعویٰ ہے لیکن کشمیر جزوی طور پردونوں ملکوں کے زیرِ انتظام ہے۔













