برطانیہ کی سپریم ٰ نے حکم دیا ہے کہ بریگزیٹ پر عمل درآمد شروع کرنے کا فیصلہ پارلیمان میں ووٹنگ کے ذریعے کرنا ہو گا
اس عدالتی فیصلے کا مطلب یہ وزیراعظم تھریسا مے ارکان پارلیمان کی منظوری کے بغیر یورپی یونین کے ساتھ بات چیت شروع نہیں کر سکیں گی اگرچہ اس کے لیے حکومت کی جانب سے 31 مارچ کی ڈیڈلائن دی گئی تھی۔
تاہم عدالتی حکم کے مطابق سکارٹش پارلیمان، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کی اسبملیوں کی رائے کی ضرورت نہیں ہے۔
بریگزیٹ سیکریٹری ڈیوڈ ڈیوسرکان پارلیمان کو اس حوالے سے بیان جاری کریں گے۔
عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران مہم چلانے والوں کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں برطانوی پارلیمان کو ووٹ کا حق نہ دینا غیرجمہوری طرزعمل تھا۔
تاہم حکومت کا کہنا تھا کہ اس کے پاس لزبن معاہدے کے آرٹیکل 50 کو لاگو کرنے کا اختیار موجود ہے، جس کے مطابق مذاکرات کا آغاز ارکان پارلیمان کی مشاورت کے بغیر کیا جاسکتا ہے۔
تھریسا مے کا کہنا تھا کہ وہ مارچ کے آخر تک آرٹیکل 50 کو لاگو کر دیں گی۔
اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے صدر لارڈ نیوبرگر کا کہنا تھا: ‘تین کے مقابلے میں آٹھ کی اکثریت سے، سپریم کوٹ آج یہ فیصلہ سناتی ہے کہ حکومت پارلیمان کی منظوری کے بغیر آرٹیکل 50 لاگو نہیں کرسکتی۔’۔













