اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 131 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا
العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 7سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کر دیا گیا۔
چونکہ ملزم نواز شریف خریداری کے ٹائم کے دوران وزیراعلیٰ اور وزیراعظم رہے ٰلہذا وہ جرم میں ملوث تھے اور اس طور جرم ثابت ہو چکا تھا۔ فاضل جج نے اس امر پر زور دیا کہ 96-95-1993ء میں ملزم کے بچے اس پوزیشن میں نہ تھے کہ وہ جائیداد خرید کر سکیں ٰلہذا ملزم ہی ذمہ دار تھا۔ فاضل جج نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ نے مکمل طور پر جرم ثابت کر دیا تھا فاضل جج نے تحریر کیا کہ چونکہ ملزم نواز شریف اقتدار میں تھے ٰلہذا اس کا ناجائز فائدہ ان کے بچوں نے اٹھایا اور اس طور ملزم کا جرم ثابت ہو گیا تھا اور مریم صفدر کا حوالہ دیتے ہوئے فاضل جج نے تحریر کیا کہ جو دستاویزات انہوں نے پیش کیں وہ بوگس تھیں اور اس طور وہ جائیداد کو چھپانے میں ذمہ دار تھیں ان حاالت وواقعات کی روشنی میں ملزم نواز شریف کو دس سال قید بامشقت اور 8 ملین پائونڈ جرمانے کی سزا جبکہ ملزمہ مریم صفدر کو 7 سال قید بامشقت اور دو ملین پائونڈ جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ محمد صفدر ملزم کے حوالے سے تحریر کیا گیا چونکہ وہ جرم کی سازش میں شریک ہے ٰلہذا ان کو ایک سال قید بامشقت کی سزا دی گئی اور جائیداد ہائے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا۔ مزید برآں ملزمان کو دس سال تک الیکشن لڑنے سے بھی نااہل قرار دے دیا۔













