‘رانا شمیم نے ثاقب نثار کیخلاف حلف نامہ نواز شریف کے دفتر میں نوٹرائز کرایا’

0
973

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ رانا شمیم نے ثاقب نثار کیخلاف حلف نامہ نواز شریف کے دفتر میں نوٹرائز کرایا ، نئے انکشافات نےایک بار پھر شریف فیملی کو سسیلین مافیا ثابت کر دیا ہے۔

وزیراطلاعات فواد چودھری کا اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ رانا شمیم نے جسٹس ثاقب نثار اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج صاحبان کیخلاف حلف نامہ نوازشریف کے دفتر میں ان کے سامنے نوٹرائز کرایا۔ ثابت ہو گیا یہ مافیا اداروں کو کس طرح بلیک میل کرنےکی صلاحیت رکھتا ہے۔

گذشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملکی تاریخ میں نوازشریف کا باب اب بند ہوچکا ہے۔ ہم تو حق میں ہیں انہیں واپس لایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی نااہلی ختم کرنے کے لیے راستے نکالے جا رہے ہیں۔ لیگی قائد کی کرپشن نیب لا میں ثابت ہوچکی ہے، سیاسی بونے اپنا قد بڑھانے کے لیے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے قائد ڈبل نااہل ہیں، ایک سپریم کورٹ سے جبکہ دوسری جانب سے وہ نیب لاء میں بھی نا اہل ہیں۔

………………………

توہینِ عدالت کیس سے متعلق گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کا اصل بیان حلفی اسلام آباد ہائیکورٹ کو موصول ہوگیا ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق ڈی ایچ ایل کا کورئیر لندن سے رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ کو موصول ہوا، رجسٹرار ہائی کورٹ نے سربمہر لفافے کو ایک اور سیل لگا دی۔

عدالتی ذرائع کے مطابق رانا شمیم کے بیان حلفی کو سربمہر لفافے میں آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے گا، آئندہ پیر کو دوران سماعت رانا شمیم کے بیان حلفی کے لفافے کو کھولا جائے گا۔ لفافے پر کانفیڈنشل کے علاوہ لکھا ہے کہ صرف چیف جسٹس کھول سکتے ہیں۔

اس سےقبل سابق چیف جج گلگت بلتستان کیخلاف توہین عدالت کے کیس میں رانا شمیم پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا، سماعت 20 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

رانا شمیم توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، ، اٹارنی جنرل نے سابق چیف جج گلگت بلتستان سمیت تمام افراد پر فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی۔ سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کے حکم پر رانا شمیم کی متفرق درخواست پڑھ کر سنائی۔

درخواست کے مطابق 9 دسمبر کو نواسے نے لندن سے اصلی بیان حلفی کوریئر کے ذریعے بھجوایا دیا ہے، ڈاکومنٹ ملنے میں تین دن لگ سکتے ہیں۔

سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے ناصر زیدی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا بیان حلفی دینے والا اگر اس کی تصدیق کررہا ہے تو وہ شائع ہونا چاہیے۔

بیان حلقی شائع کرنے والے صحافی نے عدالت کو بتایاکہ رانا شمیم نے انہیں بیان حلفی شائع کرنے سے نہیں روکا۔ چیف جسٹس نے صحافی کو مخاطب کر تے ہوئے کہاکہ آپ کو بہت پہلے سے جانتا ہوں،آپ کی اچھی ساکھ ہے عدالت آپ سے بیان حلفی حاصل کرنے کا سورس نہیں پوچھے گی لیکن یہاں سوال عدالت کی ساکھ اور اس پر عوام کے اعتماد کا ہے، ہم اس معاملے کو بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں دیکھیں گے۔اگر وہ ڈاکومنٹ خفیہ ہوتو کیا پھر بھی وہ بیان حلفی شائع ہونا چاہیے؟ زیر التوا اپیلوں پر اس طرح رپورٹنگ نہیں ہوسکتی۔

چیف جسٹس نے کہاکہ رانا شمیم کہتے ہیں کہ بیان حلفی نوٹری پبلک سے لیک ہوا ہوگا، پری ولیج ڈاکومنٹ لیک ہونے پرنوٹری پبلک کےخلاف انکوائری شروع ہوسکتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے شوکاز نوٹس پر رانا شمیم کا تحریری جواب بھی پڑھ کر سنایا کہ اگرعدلیہ کی توہین مقصود ہوتی تو بیان حلفی پاکستان میں رکارڈ کراکے میڈیا کو دیتا۔ رانا شمیم کو بیان حلفی جبکہ صحافی اور دیگرکو جوابی بیان حلفی جمع کرانے کا کہا جائے۔ یہ کیس فرد جرم کا بنتا ہے،عدالت فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کرے، بطور پراسیکیوٹر پیش ہوں گا۔ چیف جسٹس نے عدالتی معاون ریما عمر کو معاونت کی ہدا یت کرتے ہوئے سماعت 20 دسمبر تک ملتوی کر دی۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY