اسمبلی کی تحلیل میں تاخیر پر پی ٹی آئی نے پنجاب سے استعفوں کی تجویز پرغور شروع کردیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے اعتماد کے ووٹ پر تاخیری حربوں کے بعد اب ق لیگ اور تحریک انصاف میں عدم اعتماد پیدا ہوگیا ہے، اور دونوں جماعتوں میں تعاون کے فقدان کے بعد اسمبلی کی تحلیل اور اعتماد کے ووٹ کا معاملہ لٹک گیا ہے۔

وزیراعلی پنجاب پرویزالہیٰ کے اعتماد کے ووٹ سے راہ فرار، اسمبلی کی تحلیل میں تاخیر اور تحریک انصاف کے خلاف بیانات کے بعد تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی سے استعفے دینے کی تجویز پرغور شروع کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پرویزالہیٰ کی جانب سے اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ یا اسمبلی کی تحلیل میں تاخیر پر عمران نے نئی حکمت عملی بناتے ہوئے کہا کہ اگر اسمبلی کی تحلیل میں تاخیر ہوئی تو ہمارے ارکان استعفے دے کر پنجاب اسمبلی سے باہر آجائیں گے۔

عمران خان نے اپنے ارکان کو ہدایت جاری کی کہ وہ 11 جنوری سے پہلے وزیر اعلیٰ کے اعتماد کے ووٹ کا عمل یقینی بنائیں، کیوں کہ ہمارے ارکان اب اسمبلی میں مزید نہیں رہنا چاہتے، اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہمارے تمام ایم پی ایز اسمبلی سے استعفے دے دیں گے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعلی پرویزالہیٰ کے بیانات پر پی ٹی آئی کی صفوں میں کھلبی مچ گئی ہے، اور پی ٹی آئی کے ارکان نے عمران خان کو تجویز دی ہے کہ اتحادی جماعت اسمبلی کی تحلیل میں جان بوجھ کر تاخیر کررہی ہے، کسی کا انتظار کئے بغیر بہتر ہے ہم سب استعفی دے دیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY