یورپین پارلیمنٹ کے دس ممبران نے مودی حکومت کی جانب سے اپنے ہی ملک میں رہنے والے شہریوں کے خلاف پاس کردہ متنازع قوانین کے بارے میں قرارداد بحث کے لیے جمع کرادی۔ قرارداد پر بحث آئندہ ہفتے ہوگی۔
یہ قرارداد آبائی طور پر آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے برطانوی ایم ای پی شفق محمد نے دیگر ممبران پارلیمنٹ کے تعاون سے پیش کی ہے۔
قرارداد میں انسانی حقوق کے عالمی قوانین، یورپین قوانین، سماجی اور سیاسی حقوق کے بارے میں مختلف کنونشنز اور خود بھارتی آئین کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب سے اس پر بحث کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرارداد میں ان متنازع قوانین کا پس منظر بیان کرنے کے بعد ان کے خلاف بھارت بھر میں ہونے والے مظاہروں کا ذکر ہے، جس میں اب تک 27 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 175 زخمی اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
قرارداد میں ان متنازع قوانین کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس اور ریاستی اداروں کے بہیمانہ تشدد کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔












