نمائیندہ عالمی اخبار، اسلام آباد
ریڈیو پاکستان کے ساڑھے چار ہزار پنشنرز رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں ریڈیو کی نااہل انتظامیہ اور صورت حال کو سنجیدگی سے نہ لینے والی وزارت اطلاعات کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں فاقہ کشی کے قریب ہیں۔ ذرائع ان مجبور لوگوں کو دن میں کئی کئی بار پنشن کی ادائیگی کی نئی سے نئی تاریخ دیتے ہیں اور پھر کچھ دیر بعد ایک اور نئی تاریخ مل جاتی ہے
ملک کے طاقتور ادارے بھی اس انسانی بحران سے یا تو بے خبر ہیں یا ان کے نزدیک یہ کوئی بہت بڑا مسلہ نہیں۔ حکومت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اسے ان مظلوموں سے فی الحال کوئی تعلق نظر نہیں آتا، ملک میں سیاسی اپوزیشن کی ساری مساعی کسی نہ کسی طرح اقتدار حاصل کرنے کی طرف مرکوز ہیں اور انہیں بھی ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے علاوہ ملک کے دیگر محکموں کے پینشنرز سے کوئی سروکار نہیں
وزارت اطلاعات میں سیکرٹری کی تبدیلی سے حالات میں کوئی فوری تبدیلی آتی نظر نہیں آ رہی
ریڈیو پاکستان کے سربراہ جنہیں بقول انکے وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب کی اشیرباد حاصل ہے اور انکے تمام اقدامات وزیراطلاعات کی اجازت سے رو بہ عمل ہیں
وزارت اطلاعات میں ڈی جی طاہر حسن کے بارے میں انکے رفقائے کار جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں یہاں انکو تحریر کرنا ،مناسب نہیں۔
نئے قائم مقام سیکرٹری اطلاعات کا مختلف حلقوں کو یہ کہنا سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایسے حالات ہیں کہ کوئی بھی ریڈیو پاکستان کا ڈی جی بننے کو تیار نہیں۔
ڈی جی طاہر حسن کے بارے میں وسیع پیمانے پر یہ کہا جاتا ہے کہ انکا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے اور وہ فواد چوہدری کے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کر رہے ہیں
ریڈیو پاکستان کے معزز سینئر سٹیزنز اور پنشنرز میں سے بڑی تعداد یہ سوال کر رہی ہے کہ موجودہ ڈی جی طاہر حسن ریڈیو کی آمدن بڑھانے کے ایجنڈے کے ساتھ متعین ہوئے تھے ایسے میں کیا کوئی ادارہ ایسا ہے جو دیکھے کہ وہ اب تک ریڈیو کے لیئے کتنا پیسہ لائے ہیں؟ جبکہ سچ تو ہے کہ وہ ریڈیو کا پیسہ مسلسل ایسے منصوبوں میں برباد کر رہے ہیں جنکا نہ کوئی تعلق نشریات کی بہتری سے ہے اور نہ ہی ملازمین، جزوقتی ملازمین اور پنشنرز کی بہتری سے۔
ایسے ہی منصوبوں میں سے ایک منصوبہ کرکٹ ٹورنامنٹ کا ہے جو اسلام آباد میں کروایا جا رہا ہے
ڈی جی طاہر حسن نے اب تک نوے فیصد کام تعمیراتی شعبے میں کیئے ہیں جو غور طلب ہیں اور ان میں تازہ ترین منصوبہ ریڈیو اکیڈمی کے چند کمروں کی لاکھوں روپے کی لاگت سے تزئین و آرائش اور تعمیرنو کا کام ہے، ان ہی کمروں میں سے ایک کمرہ سلمیٰ عزیز نامی خاتون کو دیا گیا ہے جو چار پانچ ماہ سے یہاں مقیم ہیں اور انکو پوڈکاسٹ ماہر قرار دیا جا رہا ہے
ہمارے ذرائع نے ان سلمیٰ عزیز کے بارے میں جو معلومات جمع کی ہیں انکے مطابق یہ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں جنکے بارے میں ڈی جی طاہر حسن کا کہنا ہے کہ انکو وزیر اطلاعات نے بھیجا ہے جبکہ ہماری تحقیق کے مطابق یہ قطعی غلط ہے
کیا نئے سیکرٹری اطلاعات سہیل علی خان اس معاملے کی کوئی تفتیش کرنے کی کوشش کریں گے تا کہ یہ تاثر بھی زائل ہو کہ چند حلقوں کے مطابق سہیل علی خان بھی تحریک انصاف کے ہمدرد ہیں
ان حالات میں کیا یہ تاثر درست نہیں لگتا کہ تحریک انصاف نے ڈی جی طاہر حسن کے ذریعے ریڈیو میں پنجے گاڑھ لیئے ہیں














ڈی جی ریڈیو پاکستان طاہر حسن مارِ آستین نکلا
کرکٹ میچز، پوڈ کاسٹ، کمروں کی آرائش تیسرے فلور کی زیبائش کے لئے پیسے ہیں۔ بس پینشنرز کے لئے نہیں ہیں