دروو شریف کی فضیلت۔۔۔ شمس جیلانی

0
2298

ہماری ایک بہت ہی عزیز بہن نے جو اکثر ہمارے کالم پڑھتی رہتی ہیں نے فرمائش کی ہے کہ ہم مختلف عنوانات پر تولکھتے رہتے ہیں مگر ابھی تک ہم نے درود شریف کی فضیلت کے بارے میں کچھ نہیں لکھا لہذا اس پر کچھ ضرور لکھیں۔مسئلہ یہ ہے کہ اب ہم اور ہمارے تمام قارئین یہ بھول چکے ہیں کہ ہم کبھی روز مرہ کے حالات حاضرہ پر سیاسی کالم لکھا کرتے تھے؟مگر بہت عرصہ ہوا کہ جب سے ہمیں یہ احساس ہوا کہ مسلمان یہ بھولتے جارہے ہیں کہ دنیا میں ہمارا ہر فعل اسلام کے تابع ہونا چاہیئے تھا جواب نہیں ہے تو ہم نے بھی مجبوراً اس کو روز مرہ کے کالموں میں جگہ دینا شروع کردی ہے کہ اپنے بھائیوں اور بہنوں کویہ بتائیں کہ اس صورت حال میں اسلام ہم کو کیا حکم دیتا جب کوئی برائی سے روکنے والا نہ ہو؟۔ اس کے بعد سے قارئین کی رائے بدل گئی اور سب یہ سمجھنے لگے کہ ہم مذہبی کالم نگار ہیں اور ہم مذہبی کالم لکھنے پر مامور ہیں، چونکہ عالمی اخبار میں ہم مذہبی امور کے مدیر بھی ہیں۔ چلیں یہ بھی سہی؟
تو بہن عرض یہ ہے کہ جہاں بہت سے چیزیں اور امتیوں کے مقابلے میں ا للہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمیں بطور امتِ وسطہ اور ہما رے نبیﷺ کو بطورِ نبی ِ آخر الزماں ﷺ عطا فرما ئیں ان ہی میں سے ا یک یہ بھی عطیہ خداوندی ہے جو کہ حضور ﷺ کو سورہ الاحزاب کی آیت کے ذریعہ عطا فرمایا گیا کہ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے “اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتہ اس نبی ﷺ پردرود شریف بھیجتے ہیں لہذا تم ان پر درود بھیجو اور خوب اچھی طرح سلام بھیجو؟ ؟ سورہ الاحزاب آیت نمبر(56) اس آیت کے نزول کے بعد ہر ا یک نے اپنے طور پر اس کی طاویل اور تفسیر کرنا چاہی؟ مگر بات چونکہ نئی تھی اس سے پہلے کسی بھی نبی پر دور وسلام نہیں اتری تھی اس لیئے زیادہ تر صحابہ کرام ؒ اس سے واقف نہ تھے؟ اس لیئے سب اپنے اپنے ذہن میں پیدا شدہ مختلف سوالات لیکر حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے۔ ان میں سے ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابیؓ بھی شامل تھے؟ وہ وہ واحد صحابی تھے جو اس سے پہلے سے بھی واقف تھے؟ جو ان اس سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ “ میں آپ ﷺ پرسب سے زیادہ درود شریف پڑھتا ہوں وہ دن میں کتنا پڑھنا کافی ہوگا جو کہ ان کے ارشادات کے مطابق وہ دن کا ایک چوتھیائی حصہ تھا؟ انہوں نے معلوم کیا کہ اس میں اور کتنا اضافہ کرو ں جو میرے لیئے کافی ہو جا ئے؟ ان کے ہر سوال پر حضورﷺ وقت بڑھاتے چلے گئے اور یہاں جاکر بات ختم ہوئی کہ پھر میں اپنا پورا وقت درورد شریف پڑھتے پر صرف کروں تو بہتر ہے لوگ میرے اس اندازے پر مجھ سے سوال کرسکتے ہیں کہ آپ نے یہ اندازہ اتنے یقینی طور پر کیسے قائم کرلیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ اگر اپنے صحابہ ؓ کی کرامات سے واقف تھے تو ہمارے حضور ﷺ تو ان سے کہیں زیادہ صاحب ِ مرتبہ تھے جبکہ اس پر میں اپنے ایک کالم میں پچھلے دنو ں کالم لکھ کر ثابت بھی کر چکا ہوں کہ بہت سے صحابہ کرامؓ سے اکثر کرامات سرزد ہوتی رہی ہیں ؟چونکہ کلیہ یہ ہے کہ آفتاب کے سامنے ستارے ماند پڑ جاتے ہیں۔ یہ ہی معاملہ حضور ﷺ کے دور میں صحابہ کرامؓ کے ساتھ بھی تھا ۔ لہذا جب انہوں نے پوچھا کہ پھر زیادہ بہتر یہ ہی ہے کہ سارا وقت میں درود خوانی پر خرچ کردوں تو حضور ﷺ نے فرمایاکہ پھر اللہ تعالیٰ تجھے تمام وہم اور غم سے بچا لے گا(یہ ترمذی کی حدیث نمبر 904 السلسلہ الصحیہ میں ہے) اور اللہ تیرے تمام گناہ معاف کردیگا؟ انہوں ﷺ نے اس دن تمام اور بھی صحابہ ؓ کو جوابات عطافر مائے ؟ جو اتنے سوالات اور جوابات پر مشتمل تھے کہ لوگو ں نے کتابیں بھر دی ہیں اسی طرح اس سلسلہ میں اختلافات بھی بے انتہا سامنےآئے۔ آپ چونکہ خاتون ہیں امور خانہ د اری بھی انجام دینے ہوتے ہیں؟ آپ اپنی وسعت کے مطابق جتنا وقت درورد خوانی کے لیئے نکا ل سکیں اتنا ہی صرف فرما ئیں؟ کیونکہ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے؟ اور تمام خواتین کے لئیے شروع سے آسانیا ں رکھی گئی آپ کی بیعیت بھی مردوں سے الگ تھی چونکہ آپ اپنے معاملات میں کبھی خود مختار بھی نہیں رہیں جوکہ اس سے ظاہر ہے کے حضوﷺ کو آخری وقت تک خطرہ تھا کہ آپ کی صنف ساتھ انصاف ہوگا اسی وجہ سے خطبہ وداع میں حضور ﷺ نےآپ کی صنف کو لونڈیوں اور غلاموں کوکمزور قرار دیا اور اپنے بعد خیال رکھنے کا حکم بھی فرمایا تھا۔ لہذا آپ اسی پر اکتفا کریں توبہتر ہے کیونکہ اللہ کے سواکسی کو بھی کسی کی وسعت کا اندازہ نہیں ہوتا اور وہ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف بھی نہیں دیتا تاوقتیکہ وہ اپنے اوپر خودمسلط کرلے؟۔ البتہ آپ کو پڑھنے کو شوق ہے تویہ میدان بہت بڑا ہے لوگوں نے اس پر کتابوں کی کتا بیں لکھی ہیں۔ جتنی چا ہیں پڑھ سکتی ہیں؟ مجھ جیسے کم علم کو اکثر تفسیر اطمینان قلب کے لیئے ابن ِکثیر ؒ کے یہاں کافی مواد مل جاتا وہاں جا کر دیکھ لیجئے۔ انہوں اس آیت کی تفسیر میں صرف14 صفحات تحریر کیئے ہیں جوکہ میرے خیالمیں ایک عام مسلمان کی معلومات کے لیئے بہت کافی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY