ڈومور کا آجکل پاکستان میں بڑا استعمال ہے ۔۔ شمس جیلانی

0
369

شمس جیلانی

ڈومور

ان دو انگریزی الفاظ  کا آجکل پاکستان میں بڑا استعمال ہے حالانکہ تھا تویہ پہلے بھی استعمال میں مگر کبھی شاذہی استعمال ہوتا تھا رواج یہاں سے پایا کہ اباما امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تو معلوم نہیں انہوں نے کہا بھی یا نہیں، مگر ان کے ترجمانوں نے پاکستانی حکومت سے کہنا شروع کردیا، بس پھر کیا تھا، ہر ایک راگ کی شکل میں الاپتا نظر آیا ؟ آپ کہیں بھی ہوں اور اپنے خیال میں کتنا ہی کام کرلیں؟ بلا تفریقِ رتبہ چآہیں مالک ہوں یا انکے ماتحت ہو ں بیوی،بچے ہوں، راجہ اور پرجا ہو، اہلِ قلم ہو ں یا ٹی وی کے اینکر ہوں ۔ انکے پڑھنے، دیکھنے اور سننے والے ہوں ،اب کو سبھی با جماعت گاتے ہوئے نظر آئیں گے ً ڈو ،مور ، ڈومور ً فرق یہ ہے کہ اس میں ہر ایک کی توضیحات اور تر جیحات، مختلف ہیں؟اگر بزرگوں سے پوچھیں تو کہیں گے میاں! قناعت اٹھ گئی ہے؟اگر بیوی کی فرمائش کو رد کریں تو وہ فوراً کہدیں گی کہ تمہاری لمبی والی ٹیبل پر جو ساتھی کلرک بیٹھا ہے اسکی بیوی کے کپڑے دیکھو! وہ کیسے مہنگے جوڑے فلانں مشہورفیشن ہاؤس سے، وہاں سے لاکر پہنتی ہے؟ اگر وہ نیک بخت ہے اور جواب میں کہتاہے کہ مجھے تو اللہ کو منہ دکھانا ہے؟ تو جواب ترکی بہ ترکی ملتا ہے، کیا اسے اللہ کو منہ نہیں دکھانا ہے؟ بچوں کی فرمائش پر کوئی باپ کہے کہ میری اتنی ہستی ہی نہیں ہے کہ یہ میں تمہیں دلا سکوں ! تو بچہ کہتا ہے کہ آپ کے پاس تو بہت مال ہے مگر آپ خرچ نہیں کرتے ، فلاں کے بچے کہہ رہے تھے کہ جس ٹیبل پر آپ کے ابو ہیں اگر ہمارے ابو اس پرہوتے تو ہم تو عیش کرتے؟ یہاں ہم نے اراکان حکومت اور افسروں کا ذکر اس لیے نہیں کیا ان کو تو سجے سجائے محلات ٹھیکیدار تحفے میں دیدیتے ہیں، ان کی بیگمات اور بابا لوگوں کو مانگنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی سب کچھ بغیر مانگے مل جاتا ہے۔اگر ہم ان کا بھی ذکر کریں گے توبات طویل ہوجا ئیگی ؟ مختصر یہ کہ کوئی آجکل اپنی جگہ مطمعن نہیں ہے؟اس کا حل تو ہم آخر میں بتائیں گے ۔مگر آج ہم اس ذکرکو کیوں لے بیٹھے ،پہلے وہ وجہ بتا تے ہیں؟

پاکستان کو جو حالات درپیش ہیں ، اس پر ہم سے ہرایک شاکی ہے اور کہہ رہا “ ڈو مور“ان کو شکایت یہ ہے کہ ہم تمام با تیں پہلیوں میں کہہ رہے ہیں، پہلے کی طرح صاف صاف کہیں؟ انہیں کیا معلوم کہ میڈیا آجکل کس عذاب سے گزر رہا ہے ؟ حالانکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہر آمر کے دور میں پہلے بھی ایسا ہوتا رہا کہ جب وہ تھک جاتا ہے تو جھنجلا ہٹ میں ، اسے سب سے زیادہ جو شعبہ برا نظر آتا ہے وہ میڈیا ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے کارنامے منظر عام پر لاتا ہے۔ آمر ان پر پابندیاں لگا دیتا ہے؟ جب بولنے والے منہ بند ہو جاتے ہیں تو اور چلنے والے قلم رک جاتے ہیں تو پھر افواہیں جنم لیتی ہیں جو اس کے اقتدار کو جلدی ہی سمیٹ دیتی ہیں ۔اس سلسلہ میں ایوب خان کے دور کا ایک لطیفہ بڑا مشہور ہوا وہ سناتا ہوں کہ جس سے آپ کو تھوڑا سا اندازہ ہو جا ئیگا ؟پاکستان کی پنجاب والی سرحد تو پاکستان بنتے ہی بند ہو گئی تھی کہ وہاں فسادات پھوٹ پڑے تھے اور اس کو بند کرنا ضروری تھا چونکہ یہ اس وقت کی سرکاری توضیح تھی! لہذا یقین نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ نہ تھی۔ پھر بھی بھائی لوگوں نے اپنی سوچ کے مطابق اس کی توضیحات پیش کیں ؟ جس کی بناپر لطیفہ بنتے اورافواہیں اڑتی رہیں ۔ جبکہ 1958 تک سندھ میں کھو کھرا پار کی سرحد انسانوں کے لیے کھلی رہی اس کے بعد بند ہو ئی۔مگر حیوانوں کے لیے اس کے بعد بھی کھلی رہی انہیں دنو ں کا ایک لطیفہ ہے جو عوامیں بہت مقبول ہوا کہ “ کھوکرا پار کی سرحد پر دو کتوں کا آمنا سامنا ہوا، پہلے اپنی عادت مطابق ایک دوسرے پر بھونکے جب ذرا انکا غصہ ٹھنڈا ہوا تو حال احوال پوچھنا چاہا کیونکہ ایک پاکستان کی طرف بھارت سے آرہا تھا جو بہت بہت ہی دبلا پتلاتھا، دوسرا بھارت کی طرف جارہا تھاجو بہت ہی موٹا تازہ تھا۔ کہ بھائی تو یہاں کیوں آرہا ہے اس نے کہا کہ ہندوستان میں بھوک بہت ہے پیٹ نہیں بھرتا، دیکھ میری ہڈیاں ہی ہڈیاں رہ گئیں ہیں انہیں بچانے آیا ہوں؟ مگر تو ،تو کافی فر بہ دکھائی دے رہا تو کیوں جا رہا ہے؟ تو اس نے جواب میں کہ کہاکہ کھانے کو تو یہاں بہت کچھ ہے مگر “ بھونکنے نہیں دیتے“

اس زمانے میں ایسی بہت سی افواہیں پھلیتی رہیں، مگر افواہیں پھیلانے والوں میں سے کوئی جیل نہیں گیا اس لیے کہ وہ بعد میں زیادہ تر سچ ثابت ہوئیں؟ جبکہ جو انہیں اخبار وں میں چھاپتے رہے ان کو یہ شرف بار بار حاصل ہوا کہ ان پر غداری کہ کے مقدمات قائم ہوئے اور سیفٹی ایکٹ کے تحت انہیں حفاظت میں لے لیا جاتا رہا۔ ابتدا جناب ابراہیم جلیس مرحوم سے شروع ہوئی پھر مشق ستم چلتی رہی۔اس زمانے میں بھی لوگ طنز ومزاح میں بہت کچھ کہتے رہے ،مگر اس پر کسی گردن اس لیے نہیں ناپی گئی کہ دنیا طنز مزاح کوقابلِ گردن زدنی نہیں مانتی ہے؟ دوسرے جو وہ لکھتے تھے اس میں نام تو ہوتانہیں تھا اس لیے اس کو کوئی اپنانے کو اس لیے تیار نہیں ہوتا تھاکہ لوگ اس وقت برائی کو برائی سمجھتے تھے اور خود کو برا ماننے میں بھی برا ہوتے ہونے کے باوجود تکلف سے کام لیتے تھے۔ مگراب حالات الٹ گئے ہیں ،اگر اب کسی سےکہیں کہ تم بے ایمان ہوتو وہ یہ نہیں کہتا کہ میں ایسا نہیں ہوں؟ بلکہ جواب میں کہتا ہے کہ تم مجھ سے بھی بڑے بے ایمان ہو، تم نے یہ کیا وہ کیا؟ یہ ہماری تہذیب کاایسا نیا موڑ ہے کہ اب اشاروں کنا یہ میں بھی کچھ کہنا حکومت کو مشکل کر نا پڑا اور اس کے باوجود جو کچھ کہہ رہے ہیں یا لکھ رہے ہیں وہ خود کو بہت بڑے خطرے میں ڈال کر لکھ رہے ہیں ؟ جبکہ حکمراں اور ان کے صلاحکار بھی تجربہ کار ہوگئے؟ وہ سزا بھی زباں پر پابندی لگا کر دے رہے ہیں؟ اوراس میں تائب ہونے کی گنجا ئش رکھتے ہیں جیسے اتنے دن کی زبان بندی !وہ بھی کسی جرم پر نہیں ۔کیوں کہ یہ تو پرانے زمانے کی ریت تھی کہ بارِ ثبوت الزام عاید کرنے والے کے ذمہ ہو تا تھا صرف ثابت ہونے پر ہی حد جاری ہو تی تھی، اب وقت بڑا مشکل ہے سزا سوچوں پر ہے اور شک کافائدہ بھی بجائے ملزم کے الزام عاید کرنے والوں کو حاصل ہے ،یعنی سزا معافی الضمیر پر ملی رہی ہے جرم کرنے پر نہیں؟

جبکہ قارئین اور سامعین کا مطالبہ یہ ہے کہ جیسے پہلے لکھتے یا بولتے تھے ویسے ہی بے دھڑک لکھو اور بولو؟ ان میں ہمارے قدر دان بھی شامل ہیں اور کہہ رہے ہیں“ ڈو مور“ ہم نے انہیں سمجھایا بھی کہ مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب ب نہ مانگ؟ مگر ان کا مطالبہ وہی ہے کہ آپ سے تو بہت زیادہ کی امید تھی ؟ کھل کر لکھیے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔بھائیوں جہاں مماثلت پر قد غن لگ رہی ہو ۔ ان بیچاروں پر رحم کرو! اگر انہیں مزید بولتادیکھنا چاہتے ہو تو “ ڈومور“ کی فر مائش مت کرو ؟ اشاروں کنایوں میں ہی ان کی بات سمجھ لیاکرو؟ اگر ایک کی طرح کسی اور کا، یا سب کے منہ یا قلم بند کردیے تو؟

مگر ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے بشرطِ آپ بھی تعاون کریں؟ آگے آپ کے سوالات کے جوابات ہم پیش کررہے ہیں؟ پہلا سوال جو ہم سے بہت سے لوگوں نے پوچھا ہے کہ “یہ ہو کیا رہا ہے جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہا ہے؟ً جواب یہ ہے کہ اب فریقین میں مقابلہ بڑا مشکل اس لیے ہوگیاہے کہ دونوں طرف ستر سالہ تجربہ ہےِ۔ جسےدونوں کام میں لا رہے ہیں ۔ ہوا یہ ہے کہً ایک بھینس بڑی تجربہ کار تھی وہ کچھ بیمار ہوئی تو اسے ڈاکٹر ڈھور یعنی حیوانوں کے ڈاکٹر کے پاس لے گئے؟ ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کیا اور دوا ایک بانس کی نلکی میں بھر کے ایک سرا اپنے منہ رکھا اور دوسرا بھینس کہ منہ دیدیا کہ بچاری بھینس ہے کریگی کیا ؟ اس عمل میں انہوں نے پہلے جیسی پھرتی نہیں دکھائی، جبکہ بھینس اپنے ہم چشموں کے تجربہ سے فائدہ اٹھا گئی اور ڈاکٹر صاحب سے پہلے پھونک ماردی، نتیجہ یہ ہوا کہ بجا ئے بھینس کے ڈکٹر صاحب کے پیٹ میں پوری دوا اتر گئی۔یہ تھا اس سوال کا جواب کہ کیا ہو رہا ہے؟ اب آپ پوچھیں گے کہ نتیجہ کیا نکلے گا؟ اس کے لیے کچھ دن انتظار فرمائیے۔

اب اسکا جواب دیتے ہیں کہ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس سلسلہ میں ہم بزرگو ں کے خیال سے متفق ہیں کہ معاشرے میں تمام خرابیاں اس لیے آئیں کہ قناعت ختم ہو گئی ؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فلاح رکھی ہی قناعت میں ہے، جس کو حضور (ص)نے اس طرح بیان فرما یا ہے کہ “ وہ فلاح پاگیا ؟ صحابہ کرام نے پوچھا کو ن؟ ارشاد ہو ا کہ وہ جس کو اللہ نے علم دیا وہ اس نے لوگوں میں تقسیم کیا“ پھر فرمایا “ جس کو اللہ نے مال دیا وہ اس نے اس کی راہ میں خرچ کیا اور وہ جس کو اللہ نے قناعت عطا فرمائی “اب صورتِ حال یہ ہے کہ علم لوگ بیچتے ہیں بانٹتے نہیں۔ مال راہ خدا میں اول تو خرچ کرتے ہی نہیں اس پر سانپ بنے بیٹھے ہیں؟ اگر کچھ دیتے بھی ہیں تو صرف دکھاوے اور نام و نمود کے لیے وہ بھی اکثر حلال نہیں ہو تا؟ رہی قناعت وہ ہر ایک ڈو مور میں لگا ہوا جو قناعت کا قطعی الٹ ہے۔ نتیجہ کیا ہوگا اسی سے اخذ کر لیجئے؟

SHARE

LEAVE A REPLY