نون سے بہت سے لفظ شروع ہوتے ہیں ۔عالم آرا

0
1353

ملک میں جو کچھ نظر آرہا ہے کبھی بہت اطمینان کا باعث لگتا ہے اور کبھی بہت خوفزدہ کر دیتا ہے ۔سوچ یہ آتی ہے کہ کیا ہم کبھی کسی وک پکڑ سکینگے غلط باتوں پر اُن کی سرزنش کر سکینگے ۔شاید نہیں جس کا جو دل چاہتا ہے پارلیمنٹ میں کہہ دیتا ہے سینیٹ میں کہہ دیتا ہے مذہبی جزبوت سے کھیلتا بھی ہے اور اُنہیں ابھارتا بھی ہے لیکن کسی کے منہ سے آواز نہیں نکلتی ۔کس نے انکی آوازوں کو گھونٹ دیا ہے کیا یہ خود اُس بڑی عدالت میں اپنے کردار کے جواب دہ نہیں ہونگے جو اس دنیا سے جاے کلے بعد لگے گی ۔یا اُسے ہم سب ہی من حیث القوم بھول چکے ہیں خدانخواستہ ۔ہمیں یہ سب کچھ لکھنا اچھا نہیں لگتا مگر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ کوئی ایسی بات ہی نہیں ہے جس پر خوشی سے قلم اُٹھا سکیں ۔جس طرح عدالتوں کے لتے لئے جارہے ہیں وہ بھی شاید ہی کہیں مثال ملے ۔مگر ہم مُنفرد ہیں ۔دیکھیں نئے صاحب کیا انصاف کی گنگا بہائیں گے ؟؟
آج کل ہمیں پرانے دور بہت یاد آرہے ہیں ۔ایک زمانہ تھا جب لڑکی رخصت ہوتے ہوئے بہت روتی تھی اور جب جب یہ گانا لگایا جاتا تھا گھر کی بڑی بوڑھیاں اورخواتین بھی رو رو کر ہلکان ہو جایا کرتی تھیں ۔ایسا ہی منظر ہمیں جب دیکھنے کو ملا تھا جب میاں نواز کو نا اہل کر دیا گیا تھا وہ روتے پیٹتے سڑکوں پر نکل کھڑے ہوئے تھے کہ مجھے سسرال نہیں جانا اور اُن کے ساتھ اُن کے باراتی جو ہر ایسے موقے کی تاک میں رہتے ہیں کہ کب بالکل پیچھے کھڑے ہونے کی جگہ ملے ، اور ہر فوٹو میں وہ سند کے لئے نظر اآئیں ۔
میاں صاحب کا میکہ لندن میں ہے کیونکہ وہ وہاں ہی زیادہ رہتے ہیں پاکستان تو ان کا سسرال ہے جہاں نہ ان کا دل لگتا ہے نئی بیاہتا دلھن کی طرح اور نہ ہی وہ یہاں کچھ دلچسپی رکھتے ہیں ۔ویسے ایک سسرال اور بھی ہے ؟جہاں جانے کی باتیں آج کل زیادہ ہو رہی ہیں ،مگر ہمیں یقین ہے کہ اُس وقت بھی میاں صاحب میکے میں ہونگے اور بھائی صاحب پاکستان سے پیلا جوڑا اور ہری ہری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لے کر جارہے ہونگے ۔۔۔
نون سے بہت سے لفظ شروع ہوتے ہیں جن میں سب سے پہلے ہے نا اہل ،ناکارہ ،ناعاقبت اندیش ،نا کام ،نکمے اور شاید بے شمار اسی مفہوم کے الفاظ ،ہم بہت دن تک اس خوش فہمی میں رہے کہ ہمارے لیڈر بد سےبدتر بھی ہونگے تو بھی اپنی اقدار اور اپنے کردار کا تحفظ کرینگے مگر ہمارے سارے احساسات مٹی کا گھروندہ ثابت ہوئے اور ہمیں میاں صاحب میں ایک کی بھی رمق نظر نہ اآئی ۔ہم سوچ رہے تھے وہ کہینگے مجھے ملک اور قوم عزیز ہے میں ایک طرف ہوتا ہوں میری تحقیق کرو ۔مگر وہاں تو ظلِ سُبحانی بننے کا ایسا شوق ہے کہ سارے قانون سارے قاعدے ان کے نیچے ڈھیر کر دئے گئے اور نئے نئے قانون اور قاعدے وضع کرنے اور ملک کو تماشہ بنانے کے درَ پےِ ہوگئے ۔ہم حیران ہوتے ہیں کہ سب کچھ ہو رہا ہے لیکن ادارے نہ معلوم کہاں ہیں ،ہیں بھی یا نہیں کیونکہ جب پانی سر سے گزر جائے تو ڈوبنے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا ۔
جس طرح کی حرکتیں کی جارہی ہیں وہ ملک کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہیں جسے کوئی بھی محسوس نہیں کر رہا ۔دنیا کی پالیسیاں خاموشی سے اثر انداز ہو رہی ہیں اوریہ محب وطن کہلانے والے لوگ ملک کی جڑیں کھود رہے ہیں کس ایجنڈے پر سمجھ میں نہیں اآتا ۔وزارتِ داخلہ نے گیدڑ بھبکی دے ڈالی لیکن استعفیٰ نہ دے سکے ۔کیونکہ انہیں نہ تو قانون پر عمل کرنے کی عادت ہے اور نہ ہی شاید اپنے سامنے قانون کو کچھ سمجھتے ہیں ۔جہاں میاں صاحب اور یہ وزراء ہر دوسرے دن جاتے ہیں، لندن ۔وہاں کا وزیرِ اعظم اپنے عہدے پر ہوتے ہوئے اپنے ایک دوست کو دیکھنے اسپتال گیا تو وہاں کے عملے نے اُسے باہر ہی روک دیا کیونکہ ملاقات کا وقت نہیں ہوا تھا ۔۔کیا یہآں کوئی یہ جرائت کر سکتا ہے یہ لوگ وہاں اپنا پیسہ ملک سے لے جا لے جاکر جمع کرتے ہیں جائیدادیں بناتے ہیں لیکن اُن سے یہ وہ اخلاق نہیں سیکھتے جو انہوں نے ہم سے ہی سیکھے ہیں ۔وہ ان پر عمل کر کے کہیں سے کہیں پہنچ گئے اور ہم اپنی اقدار کو چھوڑ کر ان کے غلام بن گئے ۔قعرِ مزلت میں گِر گئے ۔
کیسی عجیب بات ہے نئے وزیرِ اعظم بھی کرپشن کے الزامات کی لپیٹ میں ہیں ،وزیرِ داخلہ اقامے کی لپیٹ میں ہیں وزیرِ خارجہ اقامے کی لپیٹ میں ہیں ۔اور ایسے ہی بے شمار لوگ جو ہم پر حکومت بھی کر رہے ہیں اور بیرونَ ملک تجارت اور نوکری بھی کر رہے ہیں ۔جب کہ یہاں اس دور میں پارلیمنٹیرین کی تنخواہوں میں کہتے ہیں سو فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ سب کے منہ پر علیگڑھ کا تالہ لگا رہے ۔تالہ وہیں کا مشہور ہے اس لیےہم نے لکھ دیا ہمارے تالے تو سُنا ہے ہر چابی سے کھُل جاتے ہیں ۔بس بھاری ہونی چاہئے ؟؟چاہے بریف کیس میں ہو یا کام کرنے والے ملازم کے نام پر ۔ہم جب یہ باتیں سنتے ہیں تو دل بہت دکھتا ہے کہ ہم کس طرف نکل گئے ہیں ۔
آج کل کرپشن کے جو اما ؤنٹ بتائے جارہے ہیں انہیں سُن سُن کر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم غریت میں کیوں گرفتار ہو گئے ۔ہم جاہل کیوں رہ گئے ،ہم بیماری سے کیوں نمٹ نہیں سکے ۔ہم زراعت کو کیوں کھو بیٹھے ۔ہم صنعتیں کیوں نہ لگا سکے ۔ہم اندھیروں میں کیوں ڈوب گئے ۔۔
کل میڈیکل کالج میں داخلے کے لئے اینٹری ٹیسٹ پر ایک پروگرام دیکھا دل خون کے آنسو رویا کہ کس طرح ہم اپنے اُن بچوں کو توڑ رہے ہیں جو تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں طالبعلموں نے بتایا کہ ٹیوشن فیس دے کر کورس کرتے ہیں جو بلا جواز ہے پھر پرچہ آؤٹ کیا جاتا ہے دس لاکھ شاید اتنا ہی بتایا تھا گر ہمیں غلط یاد ہے تو معزرت چاہتے ہیں مگر کتنے بھی لاکھ ہو جو دینے کی سکت رکھتے ہیں وہ جب میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیتے ہیں تو کیا گارنٹی کہ وہ پڑھتے ہیں ؟ کیا وہ یہ ڈگری بھی پیسے ہی دے کر حاصل نہیں کر لیتے ہونگے ۔یہ سول ہے جو ہمارے ذہن میں آیا ۔ہم نے کرپشن ہر شعبے میں پھیلا دیا کیا واقعئی یہ اس حکومت اور اس سے پہلے کی حکومت کی کامیابی ہے ،جس پر یہ سب بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ پُل دیکھو میٹرو دیکھو ،ٹرین دیکھو کاش پہلے سچائی دے دیتے ،ایمانداری عام کر دیتے ،جھوٹ کو ختم کر دیتے ،ایک پیسہ بھی باہر نہ جانے دیتے ۔اسکول بناتے ،کالج کھولتے ،یونیورسٹیاں بناتے تاکہ امیر ہو جاتے کہ میرے ملک میں نوجوان طبقہ بہت جاندار ہے محنت کرنے والا ہے کسی سے بھی کم نہیں ہے مگر انہیں سیدھی راہ تو دو ۔
یہ سب جب ہی ہوگا جب انصاف جلدی اور سچا ملے گا ورنہ سالوں ایسے گزر جائینگے جیسے اب تک گزر گئے اور ہم کھوجتے ہی رہینگے کہ غلطی کہاں ہوئی ۔سب سے بڑی خطا ہے بے ایمانوں اور خائنوں کو چھوڑنا اور ڈھیل دینا ۔ہمیں تو حیرت ہے کہ نہ کوئی مذہبی جماعت اُٹھتی ہے اور نہ ہی کوئی ملک سے مُخلص جماعت کہ وقت بھاگا جا رہا ہے ۔اگر اب نہ سنبھلے تو روتے رہو گے ،کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا ۔کوئی آنسو نہیں پونچھے گا ۔
آج بارہ اکتوبر ہے پیچھے مُڑ کر دیکھیں تو لگتا ہے ہم نے کچھ نہیں سیکھا اُسی ڈگر پر چل رہے ہیں جہاں سامنے کنواں ہے اور پیچھے کھائی ِِِِِ
اللہ میرے ملک میں انصاف کا بول بالا کرے ،اور عوام پر رحم فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY