معروف براڈکاسٹر ثریا شہاب جمعہ کی صبح انتقال کرگئیں، اُنہیں سہ پہر میں اسلام آباد کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
ان کے لواحقین میں دوبیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
ثریا شہاب نے اپنے براڈکاسٹنگ کیریئر کا آغاز ریڈیو تہران کے ایک میگزین پروگرام سے کیا تھا، یہی پروگرام اُن کی کامیابی کا سبب بنا۔ ان کا یہ پروگرام عوام بالخصوص نوجوانوں میں بہت مقبول تھا۔
نوجوان اس پروگرام کا بے چینی سے انتظار کیا کرتے تھے۔ اس پروگرام کا آغاز کچھ یوں ہوا کرتا تھا، آواز کی دنیا کے دوستوں یہ ریڈیو ایران، زاہدان ہے۔
بعدازاں ثریا شہاب نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور نیوز ریڈر ملازمت کا آغاز کیا، انہوں نے اس شعبے میں بہت اعلیٰ مقام حاصل کیا اور اپنے عہد کی سلیبریٹی بن گئیں۔
1980ء کی دہائی کے وسط میں ثریا شہاب نے بی بی سی اردو سروس میں شمولیت اختیار کی اور لندن منتقل ہوگئی تھیں۔
سینئر براڈکاسٹر رضی احمد رضوی نے بتایا کہ ثریا شہاب کا پی ٹی وی پر آڈیشن انھوں نے لیا تھا۔ ایک دن آغا ناصر کا فون آیا کہ وہ ایک خاتون کو بھیج رہے ہیں جو ریڈیو زاہدان میں کام کر چکی ہیں۔ رضی رضوی ان دنوں پی ٹی وی کے نیوز ایڈیٹر تھے۔ انھوں نے آڈیشن لیا اور ثریا شہاب کو پاس کر دیا۔ چند دن بعد وہ پی ٹی وی کا خبرنامہ پڑھنے لگیں۔ یہ 1973 کا ذکر ہے۔
اس سے پہلے آغا ناصر ہی نے ثریا شہاب کو ریڈیو پر موقع دیا تھا۔ وہ ریڈیو کو خط لکھ کر پروگراموں پر تبصرے کرتی تھیں۔ آغا ناصر نے انھیں بلایا اور آڈیشن لیا۔ انھوں نے ڈرامے میں صداکاری کی تو پورے ملک میں دھوم مچ گئی۔ اس وقت ان کی عمر چودہ پندرہ سال تھی۔ ایک سال بعد ثریا شہاب کو ریڈیو زاہدان میں ملازمت مل گئی اور وہ وہاں چلی گئیں اور دس سال کام کیا۔ ان کے پروگرام کا آغاز آج بھی سننے والوں کو یاد ہے: آواز کی دنیا کے دوستو! یہ ریڈیو زاہدان ہے۔
ملتان کی ادب دوست شخصیت شاکر حسین شاکر کو بتایا تھا کہ انھیں بچپن میں خط اور کہانیاں لکھنے اور نظمیں کہنے کا شوق تھا۔ ان کی کئی کتابیں شائع ہوئیں جن میں شاعری کی ایک کتاب، افسانوں کا ایک مجموعہ اور دو ناول شامل ہیں۔
بی بی سی لندن کے بعد ثریا شہاب نے کچھ عرصہ جرمنی میں گزارا۔ پاکستان آنے کے بعد انھوں نے لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔ انھیں الزائمر کا مرض لاحق ہوا اور ان کی یادداشت ختم ہو گئی۔ آخری عمر میں وہ اپنے بچوں کو بھی نہیں پہچان پاتی تھیں۔












