دس بارہ ماہ کی عمر میں بچہ جو آوازیں نکالتا ہے، انہیں ماہرین بول چال نہیں کہتے بلکہ قبل از بول چال کی آوازیں قرار دیتے ہیں۔ اس دور کی ابتدا میں یعنی پہلے ماہ میں بچہ صرف رونے کی آوازیں نکالتا ہے۔ چونکہ بچہ رونے کی مختلف آوازیں نکال لیتا ہے اس لیے کئی والدین مخصوص آوازوں سے بچے کی مخصوص ضروریات کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ مثلاً بھوکے بچے کی آواز، پیشاب میں گیلے بچے کی آواز وغیرہ، لیکن ایک ماہ کی عمر میں بچہ رونے کے علاوہ کچھ اور آوازیں بھی نکالتا ہے۔ تقریباً چھ ماہ کی عمر تک بچہ بہت ہی مختلف آوازیں نکالنا شروع کر دیتا ہے۔ ان میں ’’ک‘‘ اور ’’گ‘‘ کی آوازیں نمایاں ہوتی ہیں۔ اکثر بچے ایک حرف علت (واوَل) اور ایک حرف صحیح (کونسوننٹ) ملا کر ایک رکن تہجی بنا لیتے ہیں۔ مثلاً با، گا وغیرہ۔ اگلے مرحلے میں بچہ ان آوازوں کو دہراتا ہے مثلاً بابا گاگا۔ یعنی بچہ اپنی ہی آوازیں سن کر ان کی گونج خود ہی پیدا کرتا ہے۔ اب بچہ بہت سی آوازیں نکالتا ہے اور اس میں اس قسم کا اتار چڑھاؤ بھی پایا جاتا ہے جو بڑوں کی گفتگو میں ہوتا ہے۔ بچہ سونے سے پہلے یا اٹھنے کے بعد اکیلے میں اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے۔
ماہرین کے خیال میں آوازیں نکالنے کا یہ مرحلہ زبان سیکھنے کا ایک لازمی اور اہم مرحلہ ہے۔ تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اگر چھوٹے بچوں سے باتیں کی جائیں تو اس کا بچے کی ذہنی نشوونما پر مثبت اثر ہوتا ہے۔ تاہم یہ ثابت نہیں کہ ایسا کرنے سے بچہ جلد بولنا سیکھتا ہے۔ تقریباً ایک سال کی عمر میں بچہ باقاعدہ طور پر مخصوص چیزوں، لوگوں یا واقعات کے لیے مخصوص آوازیں استعمال کرنا شروع کرتا ہے۔ یعنی پہلی مرتبہ وہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جو دوسروں کو سمجھ آئیں۔ اب وہ زبان کو اپنے اصل مقصد یعنی رابطے کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پچھلے مرحلے کی آوازیں بھی جاری رہتی ہیں۔ بچے کی آوازیں دور سے بالکل بالغانہ گفتگو لگتی ہیں کیونکہ بچہ بڑوں کی گفتگو سے متاثر ہو کر اس قسم کے اتار چڑھاؤ پیدا کرتا ہے۔
ابتدا میں بچے کے الفاظ کے ذخیرے کی نشوونما آہستہ آہستہ ہوتی ہے اور عموماً بچے اپنے پہلے دس الفاظ 15 یا 16 ماہ کی عمر میں سیکھتے ہیں۔ لیکن اس دوران بچے کے الفاظ کا پوشیدہ ذخیرہ (Passive Vocabulary ) کافی بڑھ جاتی ہے۔ یعنی وہ الفاظ سیکھتا ہے لیکن انہیں ادا نہیں کر سکتا۔ اس وجہ سے چند ماہ بعد بچے کے ذخیرہ الفاظ میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اور تقریباً 20 ماہ تک بچے 50 الفاظ, ڈھائی سال تک تقریباً سات سو الفاظ، چار سال تک تقریباً دو ہزار الفاظ اور چھ سال تک چار یا پانچ ہزار الفاظ سیکھ لیتے ہیں۔ ڈیڑھ سال کی عمر میں بچہ وہ آوازیں سیکھتا ہے جو اس کے اردگرد بولی جانے والی زبان میں موجود ہوتی ہیں۔ اس وقت تک بچے کو تقریباً بیس الفاظ بولنے آتے ہیں جو تمام اسم ہوتے ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ سال کی عمر میں بچہ دو الفاظ کے جملے (بلی دودھ، ابا گاڑی) بولنے لگتا ہے۔ تقریباً ڈھائی سال کی عمر میں بچہ گرامر سیکھنا شروع کرتا ہے اور چار سال کی عمر تک اپنی زبان کی تمام آوازیں سیکھ لیتا ہے۔ تقریباً چھ سال کی عمر تک بچہ بڑوں کی طرح زبان استعمال کر لیتا ہے یعنی صحیح گرامر اور جملے بول لیتا ہے۔ اس کے بعد بچے کی زبان میں ترقی کا زیادہ تر انحصار الفاظ کے ذخیرے میں اضافے پر ہوتا ہے۔
(بشکریہ۔ روزنامہ دنیا )













