آنسووں کا منبر ایک تعارف۔روما رضوی

3
985

کتاب آنسووں کا منبر کچھ روز قبل محترم دوست جناب عامر کی جانب سے موصول ہوئی۔  عامر حسینی صاحب اپنی تحریروں میں ہمیشہ منفرد موضوعات کو زیر بحث لاتے ہیں ۔ انکی جو کتابیں اور مضامین اب تک میں نے پڑھے ہیں  وہ انکی تحقیق اور تاریخِ اسلامی کے مطالعہ پر ایک سند کی حثیت رکھتے ہیں۔  انکی ترجمہ کی ہوئی یہ کتاب  برصغیر میں مجالسِ حسین کے آغاز  اور طریق ِ کار میں بتدریج تبدیلی پر انگریز مصنف “ٹو بے ہورتھ کی کتاب ”

“The Twelve Shia’s Muslim Minority In India Pulpit of Tears ” کا ترجمہ ہے

بالفاظ دیگر اثناء عشری شیعہ مسلمانوں کا مرتب کیا ہوا آنسوؤں کا منبر جہاں سے مصائب حسین علیہ السلام و واقعات کربلا میں شامل شہدا ء کے فضائل و حالات شہادت کا بیان کیا جاتا ہے ۔۔

برصغیر پاک و ہند میں امراء نے ان نشستوں کو شان و شوکت عطا کی تو ادب کی مختلف اصناف  سے تعلق رکھنے والوں نے ان واقعات کو شاعری کے قالب میں ڈھالا ۔ خیالات کی ندرت اور ایجاد کی روایت کو تحریک دی ۔۔ شعرا اور نثر نگاروں نے سامعین کو ان واقعات سے نزدیک تر کرنے کے لئے مقامی روایات کو بھی ان عظیم ہستیوں سے منسوب کیا مثلا” یوں سمجھئے کہ کربلا کہ بن میں جہاں پانی میسر نہیں تھا میر انیس نے  جناب قاسم کی شادی و مہندی کا بیان رقم  کیا ہے۔ جسے سن کر سامعین کی نظروں میں واقعہ کربلا زندہ جاوید حقیقت کی طرح مجسم ہو جاتا ہے ۔ کربلا میں روز عاشور نوجوانوں کی شہادت غم و اندوہ میں مبتلا امام اور انکے اصحاب چشم تصور میں یہ شہادتیں نوحہ و مرثیہ یا خطیب و مقرر کی رقت آمیز گفتگو سے بیساختہ آنسووں کو جاری کردیتا ہے۔۔

آلِ رسول کے غم میں گریہ یا سوگواری کی کیفیت کو رسول  مقبول و ان کی آل سے نزدیک ہونے کا وسیلہ قرار دیا گیا ہے ۔ یہ حضرات شافعین محشر ہیں تو ان کے مصاحب اور عزادار بھی اس ذکر کے توسل سے شفاعت کے طلبگار ہوتے ہیں ۔

ساتھ ہی ان محافل کے اجتماعات میں شہر بھر سے پڑھنے والے شرکت کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں شب داریاں منعقد کی جاتی ہیں جہاں شعرا نئے کلام پیش کرتے ہیں ۔ صوتی فنون سے متعلق لوگ ایسے راگ منتخب کرتے ہیں ۔جن میں پڑھا جانے والا کلام سننے والوں پر براہ راست اثر کرتا ہے۔۔

خطیب حضرات اپنی تحقیق سے ایسے نکات پیش کرتے ہیں کہ کتابوں سے دور رہنے والے بھی بصد شوق مطالعہ پر آمادہ ہوجائیں غرض کہ یہ محافل علم و فنون کے حصول میں ہمیشہ سے مرکزی اہمیت رکھتی ہیں ۔

ایک ناظر کی حثیت سے کہ جو ان عقائد پر ایمان نہ رکھتا ہو ایک انگریز محقق کا مطالعاتی موضوع اور تحقیق عرصے تک طلبعلموں کے لئے رہنمائی کا باعث بنے گی۔

عامر حسینی صاحب نے اس کا انتہائی رواں اردو ترجمہ بہت عمدہ الفاظ میں کیا ہے کہ کہیں بھی پڑھنے والا کسی الجھن یا رکاوٹ میں مبتلا نہیں ہوتا ۔۔

مستقبلِ قریب میں ان سے مزید تراجم کی توقع کی جاسکتی ہے ۔۔

عامر حسینی مکتب تشیع سے تعلق نہیں رکھتے مگر انکی آل رسول سے محبت اور  احترام کسی صورت بھی کم نہیں ہے بلکہ اکثر و بیشتر وہ مختلف مواقع پر اہل تشيع سے بھی کہیں زیادہ بڑھ کر اظہار عقیدت کرتے ہیں

یہ اشعار جو کربلا کے واقعات اور دلی لگاؤ پر کسی شاعر نے کہے انکی نذر کرتی ہوں۔۔

مشرقی پکار ہو یا مغربی صدا

مظلومیت کے ساز پہ دونوں ہیں ہم نوا

محور بنا ہے ایک جنوب و شمال کا

تفریق رنگ و نسل پہ عالب ہے کربلا

تسکین روح، سایہ آہ و بکا میں ہے

ہر صاحب شعور کا دل کربلا میں ہے

شاعر کسی خیال کا ہو یا کوئی ادیب

واعظ کسی دیار کا ہو یا کوئی خطیب

تاریخ تولتا ہے جہاں کوئی خوش نصیب

اس طرح بات کرتا ہے احساس کا نقیب

دیکھو تو سلسلہ ادب مشرقین کا

دنیا کی ہر زباں پہ ہے قبضہ حسین کا

روما رضوی

SHARE

3 COMMENTS

  1. آپ کے انتہائی خوبصورت اور دلپذیر تبصرے سے کتاب کو چار چاند لگ گۓ ہیں۔۔۔عامر حسینی کی مودت آل رسول علیہم السلام قابل رشک ھے ہر محب اہل بیت کے لۓ سلامت رہیں حسین مظلوم علیہ السلام سے اظہار یکجہتی کرنے والے آمین

  2. یہ اشعار جو کربلا کے واقعات اور دلی لگاؤ پر کسی شاعر نے کہے انکی نذر کرتی ہوں۔۔
    وہمشرقی پکار ہو یا مغربی صدا
    مظلومیت کے ساز پہ دونوں ہیں ہم نوا
    محور بنا ہے ایک جنوب و شمال کا
    تفریق رنگ و نسل پہ عالب ہے کربلا
    تسکین روح، سایہ آہ و بکا میں ہے
    ہر صاحب شعور کا دل کربلا میں ہے
    شاعر کسی خیال کا ہو یا کوئی ادیب
    واعظ کسی دیار کا ہو یا کوئی خطیب
    تاریخ تولتا ہے جہاں کوئی خوش نصیب
    اس طرح بات کرتا ہے احساس کا نقیب
    دیکھو تو سلسلہ ادب مشرقین کا
    دنیا کی ہر زباں پہ ہے قبضہ حسین کا
    حضرت قیصر بارہوی مرحوم کے مرثیہ انسان اور کربلا سے اقتباس ہے
    سید اکمل

  3. عرصہ دراز کے بعد کسی کتاب پر تبصر پڑھنے کا موقع نصیب ہوا ایک اچھی کتاب زندگی کا ساتھی ہے اور وقت کے لئے کسی سنہری سفر سے کم نہیں مبارکباد کے قابل ہے رضوی صاحبہ زہے نصیب۔۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY