تمنائے فاطمہ سقائے سکینہ اَسَدُالْحُسَیْن سیدنا اَبَاالْفَضْلِ الْعَبَّاسْ

0
158

عباس فاطمہ کی تمنا کا نام ہے عباس کا جہان میں اعلیٰ مقام ہے
بارہ امام مذہبِ اسلام کے ہوئے یہ مذہب ِوفا کا اکیلا امام ہے

3شعبان المعظم۲۶ھ ،۱۸ مئی ۶۴۷ء بروز منگل صبح نو بجکراٹھائیس منٹ پر گلستانِابوطالب میں منفرد خوشبو لیے ایک پھول مہکا ۔نویدمسرت سنتے ہی سیدنا علی مرتضٰی شیر خدا نے سجدۂ شکر بجالاکر منعم حقیقی کا شکریہ ادا کیا ۔ امام عالیمقام سیدنا امام حسین ؑنے آپ کودستِاقدس میں اٹھا کر اذان واقامت فرمائی جسے سن کر سیدنا عباس نے آنکھیں کھولیں اور دنیائے فانی میں سب سے پہلے امام حسین کے چہرۂ انور کی زیارت کا شرف حاصل کیا ۔لعابِرسالت چوسنے والے امام حسین نے اپنی زبانِامامت حضرت عباس کے دہنِاقدس میں ڈالی جو آپ کی پہلی غذائے جسمانی ہے ۔

عَبَّاسْ

علمائے لغت نے لفظ عباس کے متعدد معانی رقم کیے ہیں جو سب کے سب جوانمردی ،شجاعت ،تہور وبہادری سے عبارت ہیں ۔لفظِعباس ،ترش رُو،شیر درندہ ،پہلوان ،شہ زور اور شیر نر کے معنی رکھتا ہے ۔اسد اللہِالغالب نے اسی باعث اسد الحسین کو عباس کے نام سے موسوم فرمایا ۔حضرت فاطمہ زہرا دنیائے فانی سے عالم جاودانی کو تشریف لے جانے لگیں تو آخری لمحات میںآپ نے امیر المومنین کو کچھ خاص وصیتیں کرتے فرمایا،’’دین کی بنیاد پر جتنا خرچ میرے والد کا ہوا اس سے کہیں زیادہ خرچ اسے بچانے کے لیے میرے مظلوم بیٹے کا ہو گا ۔میرے والد کے مقابل اگر کفار مکہ تھے تو ان کی مدد کے لیے شیر خدا بھی موجود تھے ۔میری خواہش ہے کہ جس طرح آپ میرے والد کے ساتھ ان کے محافظ بن کے رہے تھے اسی طرح آپ کا ایک فرزند ایسا بھی ہو جو میرے مظلوم لختِجگر کی قدم قدم پر نصرت کرتا رہے ۔چونکہ میرا بیٹاشبیہ نبی ہے اس لیے ان کے ساتھ شبیہ علی کا ہونا بھی لازم ہے ۔حسنین ،رسول اللہ کے بیٹے ہیں ہمارا بیٹا کردگارِوفا ہو گا ۔اس گوہرشجاعت کے لیے صدفِوفا کی پہچان یہ ہے کہ وہ میری ہمنام ہوں گی ۔وہ کلابیہ خاندان کے شجاع ترین گھرانے کی شہزادی ہوں گی ۔ ان کا لختِجگر میرا بیٹا ہو گا ۔میں چاہتی ہوں کہ جس طرح میرے والد کے ناصر اسد اللہ تھے اسی طرح میرے مظلوم بیٹے کے ناصر بھی اسد الحسین ہوں ۔جب وہ دنیا میں آئیں تو ان کا نام شیر ببر یعنی عباس رکھنا ‘‘۔
یہ فرما کر آپ نے صاحبزادیوں سے فرمایا ،’’جب آپ کے پردے کے محافظ بھائی کی دنیا میں آمد ہو تو سب سے پہلے انہیں میرے ہاتھوں کے سلے کپڑے پہناناپھر میری طرف سے ان کی پیشانی چوم کر کہنا کہ تمہاری حقیقی ماں تمہیں بہت بہت سلام دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ مظلوم بھائی کا خیال رکھنا ۔پاک بہنوں کے پردے کی حفاظت کرنا ‘‘۔ صاحبزادیوں نے عرض کی ،’’امی جان !ہمارے اس بھائی کی کیا پہچان ہو گی ؟مخدومۂ عالم نے فرمایا ،’’ان کے ایک شانے پر مشک کا نشان ہو گا اور دوسرے شانے پر علم کا نشان ہو گا ۔ میری یہ وصیت بھی یاد رکھنا کہ جب کبھی میری اولاد میں سے کسی کو فدک مل جائے تو اس میں سے چوتھا حصہ میرے اس فرزند کا ہو گا ‘‘۔
اُمُّ الْعَبَّاسْ
سیدنا عباس بن علی کی والدۂ معظمہ سیدہ فاطمہ بنت حِزام بن خالد بن ربیعہ ہیں جو بنی ہوازن کے کلابیہ خاندان کی نورِنظر تھیں ۔اُن کی والدہ لیلیٰ بنت شہید بن ابی بن عامر تھیں ۔سیدہ فاطمہ بنت حِزام کے متعلق علمائے انساب لکھتے ہیں،فَھِیَ کَریْمَۃُالْاَصْل طَیّبَۃُالْولاَدَۃْ ،آپ شریف خانوادہ سے پاک وپاکیزہ اور بے عیب تھیں ۔آپ کی والدین نے نیک شگون کے طور پر آپ کو اُمُّ الْبَنِیْن ،بیٹوں کی ماں کنیت سے پکارا جوباسمیٰ ثابت ہوئی ۔آپ عرب میں اسی کنیت سے معروف تھیں۔۲۳ھ ،دامادِرسول ،زوجِ بتول کو سیدہ فاطمہ کلابیہ سے عقد کا مشورہ دیتے عالم الانساب ،سیدنا عقیل بن ابی طالب نے فرمایا،’’یا علی !آپ ام البنین کلابیہ سے عقد کرلیں جن کے آباء واجداد سے عرب میں بہادر وشجاع کوئی نہیں ۔ لبید(شاعر،ان کے خاندان کی نسبی بلندی کی طرف اشارہ کرتے )کہتا ہے ،’’ہم ہی خاندانِعامر بن صعصہ ہیں ۔بڑی عزت ومنزلت کے مالک ہیں جس سے عرب کا کوئی باشندہ انکار نہیں کر سکتا ‘‘۔ برادر علی !انہی کے خاندان سے مُلاَعِبُ الْاَسْنَۃْ (نیزوں سے کھیلنے والے )ابوالبراء بھی تھے جن سے بڑا شجاع سرزمینِعرب نے آج تک پیدا نہیں کیا۔انہی ابوالبراء کی نواسی جناب حِزام بن خالد بن ربیع کی نواسی موجود ہیں ۔ان سے زیادہ عالی نسب اور کون ہو سکتا ہے ؟صرف وہ پاک مستور ہیں جو نورِآلِمحمد کے ساتھ پیوندِنور ہو سکتی ہیں ‘‘۔ مولائے کائنات سے اجازت لے کر حضرت عقیل جنابِ حِزام کے گھر گئے اور خواستگاری فرمائی ۔جنابِ حِزام نے آپ کی گفتگو سن کرسیدہ فاطمہ سے مشاورت فرمائی اور اُن کا اقرار واظہار دیکھ کرسیدنا عقیل سے کہا ،’’ جَعَلْتَ فِدَاکَ ،میں آپ کے قربان ۔علی سے رشتہ قائم کرنا عین سعادت ہے ۔اس سلسلہ میں علی کو فروغ نہ ہوگا بلکہ میرے شرف وافتخار کا باعث ہے ۔ عقیل! جب دن تاریخ درست سمجھو میری نورِنظر ،لختِجگر کو علی کی خدمت گزاری کے لیے لے جاؤ‘‘۔
حضرت عقیل نے واپس آکر تمام صورتِ حال سیدنا علی مرتضٰی سے بیان فرمائی جسے سن کر آپ مسرور ہوئے اور جناب ام البنین سے عقد کر لیا ۔پھر آپ نے چند مستورات خانۂ حِزام کو روانہ کیں جوحضرت ام البنین کو آراستہ وپیراستہ کر کے لے آئیں اور بارگاہِشاہِاولیاء میں پیش کیا ۔آپ فرماتی ہیں ،’’میں مستوراتِدنیا پر اس بارے میں فخر کیا کرتی کہ میں کنیزِزہرا اور تاجدارِعالم کی زوجہ ہوں ‘‘۔بیت الشرف کے شرف سے شرفیاب ہونے کے ایک سال بعد آغوشِ ام البنین میں قمر بنی ہاشم طلوع ہوئے جن کے دس برس بعد سیدنا عبداللہ بن علی (اسم گرامی بیاد سیدنا عبداللہ پدرِرسول اللہ )،اُن سے دو برس بعد سیدنا عثمان بن علی (بیادِعثمان بن مطعون صحابی الجلیل )اور اُن سے دو سال بعد سیدنا جعفر بن علی (بیادِجعفر طیار شہیدِموتہ )کی آمد ہوئی ۔

طینتِ عباس

علامہ سید مہدی قزوینی المعروف سید مہدی بحر العلوم لکھتے ہیں ،’’ لَمْ تَکُنْ ھٰذِہِ الْبَصَائِرُاِکْتِسَابِیَۃٌبَلْ مُجْتَبِِلٌفِیْ طِیْنَۃِالْقُدْسِیَۃِ الَّتِیْ کَانَ مُذِیْجُھَا الْنُّوْرُالْاِلٰھیَّۃْحَتّٰی تَکُوْنً فِیْ صُلْبٍمَنْ ھُوَمِثَالٌلِّلْحَقِّوَقَائِلٌلَوْکُشِفَ الْغَطَاء لَمْ اِزْدَدْتُ یَقِیْناً ‘‘،(سیدنا اباالفضل العباس کے فضائل )اکتسابی نہیں (کسی سے سیکھے نہیں،بلکہ تمام کمالات ،خصائل وخصائص )ان کی طینتِقدسیہ جبلت میں گوندھے ہوئے ہیں جو نورِایزدی سے خمیر ہوئی ہے (اس طینت قدسیہ کو) اُس پشت میں رکھا گیا جو مثلِ
حق ہیںاور فرماتے ہیں کہ اگر تمام پردے ہٹا دیئے جائیں تو بھی میرے یقین میں اضافہ نہ ہو گا ۔
علامہ احمد عارف الزین مصری رقمطراز ہیں ،’’ اَلْعَبَّاسُ تِلْکَ الْنَّفْسِ الْمُشْتَعِلَۃْحَمِیَّۃٌوَِنَخْوَۃْوَالْمَلْتَھبَۃٌحَمَاسَۃُوَبَطُوْلَۃْوَلَیْسَ کَالْعَبَّاسُ مِقْدَاماً مِقْحَاماْذُوْوَدَّاعَن الْشَّرْف ‘‘،عباس ایسے نفس کے مالک تھے جو حمیت وغیرت ،نخوت وشجاعت اور شہادت کے موقع پر شعلہ بار ہوکر بہادری وجانفشانی کے موقع پر بھڑک اٹھتا تھا ۔ عباس سا بہادر ،میدانِجنگ میںپیشقدم اور چہرۂ شرافت سے دشمن کو گردوغبار کی طرح پاک کرنے والا آغوشِ مادرِگیتی میں کوئی نہ تھا ۔
علامہ حکیم میر غلام ا لحسنین کَنْتُوْرِیْ لکھتے ہیں ،’’حضرت عباس اللہ کی طرف سے ان لوگوں کو سزادینے کی قدرت رکھتے تھے جو آپ کے ساتھ یا امام حسین علیہ السلام کی بے ادبی کریں ۔نیز آپ کو یہ بھی قدرت دی گئی تھی کہ آپ اپنے قاتل کو اس کی زندگی بھر روزانہ عذاب میںمبتلا رکھیں جیسا کہ آپ نے اپنے قاتل ابان بن دارم وغیرہ کے ساتھ کیا ۔وہ زندگی بھر روزانہ عذاب جہنم میں مبتلا ہوتا رہا جس کے سبب سے رات بھر چیختا چلاتا رہتا تھا ۔بالآخر روسیاہ ہو کر مر گیا ۔ھِیَ کَرَامَۃٌخَاصَۃُلاَیَدَانِیْ الْعَبَّاسُ اَحَدٌمِّنْ ھولائِ الْشُّہَدَاء،یہ وہ خاص کرامت ہے جہاںتمام شہدا ء میں سے کوئی شہید عباس سے مساوی نہیں ہو سکتا ۔
علامہ دربندی لکھتے ہیں ،’’اَنَّ بَعْضَ الْفِقْرَاتُ مِنْ بَعْضِالْزَّیَارَاتِ الْمَاثُوْرَہْ یُقِیْدُاَنَّہُ کَانَ مِنْ اَھْلِ الْعِصْمَۃُوَمِنْ عُلُوْمِہِ مِنَ الْعُلُوْم الْلَدُنْیَۃْ‘‘،’’ائمہ طاہرین سے ماثور کچھ زیارات کے بعض فقرے آگاہ کرتے ہیں کہ آپ اہل عصمت میں سے تھے اورعلم لدنی رکھتے تھے ‘‘۔
اہلِعرب میں معروف تھا،’’اِنَّ الْعَبَّاسَ کَثِیْرُالْبَطْشِ قَوِیْ الْنُقْمَۃِلاَیَغَادِرُمَنْ اَسَائَ اِلَیْہِ اَوْاِلیٰ اَخِیْہِ اِلاَّیَنْتَقِمُ مِنْہُ ‘‘عباس رعب ودبدبہ،مضبوط گرفت اورپکڑ رکھتے ہیں ،ان کی سزا سے بچنا محال ہے جو ان کے یا ان کے بھائی سے متعلق گستاخی کا ارادہ رکھے اسے انتقام لیے بغیر نہیں چھوڑتے ۔تما م تر شجاعت وجلال کے باوجود آپ خلق عظیم کی تصویر اور جمیع اخلاق حسنہ کا مرقع تھے ۔

بشارتِمصطفٰی

سیدنا عباس کی آمد اور عدیم المثال شجاعت وبسالت مخبر صادق کی لسانِوَمَایَنْطِقْ سے بیان ہوئی ۔علامہکَنْتُوْرِیْ، مِائَتَیْن فِیْ مَقْتَل الْحُسَیْن میں لکھتے ہیں ، ’’اَمّاشُجَاعَتُہُ فَقَدْرُویَ بَعْضَ عُلَمَائِ الْاَنْسَابُ مِنْ اَھْل الْسُّنَّۃْاَنَّھَاکَانَتْ مُبَشِّرَۃُعَلیٰ لِسَانُ الْمُخْبَِرُصَادِقُ الْاَمِیْن، لاَسیْمَائَ اَنَّہُ مُبَشِّرُ بالْشُّجَاعَۃِقَبَلَ مِیْلاَدُہْ، وَلَمْ یَکُنْ اَحَدٌمِّنَ الْشُّھَدَاء اَلَّذِیْنَ اسْتَشْھَدُوْافِیْ الْطَّفِّ فَائِزاًاِلیٰ تِلْکَ الْدَّرَجَۃْ ‘‘،’’آپ کی شجاعت کے بارے میں اہلسنت کے کچھ علمائے علم الانساب لکھتے ہیں کہ اُن کی شجاعت کی مدح سرائی زبانِرسالت مآب پر جاری ہو چکی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی شجاعت کی بشارت ولادت سے پہلے دی گئی ہے ۔اس عظیم درجہ پر شہدائے طف (کربلا)میں سے کوئی بھی فائز نہ تھا ۔
کنیت والقاب
آپ کی کنیت اباالفضل ہے جو ذومعنی ہے ایک تو آپ کے صاحبزادے سیدنا فضل کی مناسبت اور دوسرے آپ کا جملہ فضائل وکمالات کا مالک ہونا اس کنیت کا باعث ہے ۔ سیرت مبارکہ اورخصائل وخصائص کے باعث آپ متعددالقاب سے یاد کیے جاتے ہیں جن میں سقا،ابو القربہ،قمر الہاشمیہ،سلطان الوفا،سید الفرسان،رئیس الشجعان،اشجع العالمین ، افضل الشہداء،باب الحوائج ، علمدارِکربلازباں زدِعام ہیں۔
اِنَّ عَبَّاسْ بِنْ عَلِیْ کَانً رَجُلاًوَسِیْماًجَمِیْلاًیُقَالُ لَہُ قَمَرُبَنیْ ھَاشَمْ لِحُسْنِہِ وَبہَائِہِ، کَانَ اَوْفیٰ وَاُبِرُّمِنْ اَھْلَبَیْتِ الْحُسَیْن
حضرت عباس حسن وجمال اورکمال خوش روئی کے باعث قمر بنی ہاشم کہے جاتے تھے ، وہ خانوادۂ حسین میںسب سے زیادہ وفادار اور نیکی کرنے والے تھے
کَانَ رَئِیْسُ الْشُّجَعَانْ،کَانَ سَیِّدُالْفَرَسَانْ، یَرْکَبُ الْفَرْسُ الْمُطْھمُ وَرَجُلاَہُ یَخُطَّانَ فِیْ الْاَرْض
آپ شجاعان عالم کے سردار تھے ،شہسواروں کے سالار تھے،دورکابہ گھوڑے پر سوار ہوتے تو آ پ کے قدم زمین پہ خط دیتے جاتے تھے
کَانَ بَیْنَ عَیْنَیْہِ اَثَرُالْسَّجُوْدلِکَثْرَۃِعِبَادَۃِالْمَلِکِ الْعَلاَمْ
آپ کی پیشانی پرکثرتِسجود کے باعث نشانِسجدہ نمایاں تھا
قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدْ
خانوادۂ توحیدکے ہر فرد کی ہر سانس توحید ورسالت کی پاسدارہے ۔آلِ ابو طالب ،گود سے گور تک درس وحدت کی مبلغ ہے ۔عقیدۂ توحید ان نفوس قدسیہ کی جبلت وطینت ہے جس کا اقرار واظہار نطق وبیاں سے لے کر نوکِسناں تک ہوتا ہے ۔ایام کمسنی میں سیدنا عباس ،اپنے والدِبزرگوار کے زانوئے اقدس پر جلوہ فرما تھے ۔دستورِزمانہ کے تحت بابِ مَدِیْنَۃُالْعُلُوْم نے فرزندِگرامی قدر سے بسلسلۂ تعلیم فرمایا ،’’نورِنظر کہیے ایک ‘‘۔سیدنا عباس نے فرمایا ،’’ایک ‘‘۔پھر حضرت علی نے کہا ،’’دو ‘‘۔عر ض کی ،’’جسارت معاف ،باباجان ! میں ایک کا قائل ہوں کبھی دو نہ کہوں گا ۔مجھے شرم آتی ہے کہ جس زبان سے وحدتِباری کا اقرار کر چکا ہوں اسی زبان سے دو کیونکر کہوں ‘‘۔ مولائے کائنات نے یہ پر ا ز معرفت جواب سن کر آپ کے لبِاقدس چوم لیے ۔سیدنا امام جعفر صادق حضرت عباس کو نَافِذُالْبَصِیْرَۃْصُلْبَ الْاِیْمَانْ کہہ کریاد کرتے اور فرماتے ’’ہمارے چچا عباس بن علی بڑے دیندار اور کامل الایمان تھے ۔آپ نے حسین بن علی کاساتھ دیتے ہوئے معرکۂ کربلا میں کارہائے نمایاں انجام دیے اور آخر درجۂ شہادت پر فائز ہوئے ‘‘۔معصومین فرماتے ہیں ،’’اِنَّ الْعَبَّاس بْنُ عَلِیٍزَقَّ الْعِلْمُ زَقّاً‘‘،’’عباس بن علی علوم سے لبریز تھے ‘‘۔’’قَدْکَانَ مِنْ فُقَہَائُ اَوْلاَدِالْاَئِمَّۃْ ‘‘،’’وہ ائمہ طاہرین کی اولاد کے فقہاء میں ایک جید فقیہ تھے ‘‘۔آپ علوم حیدرِکرار وحسنین کریمین سے بہرہ ور تھے ۔
حضرت عباس کی صغر سنی ،بچپن اور نوجوانی علم ومعرفت ،عبادت وریاضت ،شجاعت وبسالت اور جاہ وتمکنت میں گزری جس کانمایاں وصف آپ کا سیدنا امام حسین سے والہانہ عشق اور اما م عالیمقام کا آپ کو بے انتہا پیار کرنا اور عزیز ازجان رکھنا ہے ۔آپ بچپن ہی سے شمع امامت کے پروانے تھے ۔فرطِ محبت سے امام حسین کے پائے اقدس کی خاک مبارک اپنی پرنور آنکھوں سے لگا یاکرتے اور اُن کی خدمت پر کمر بستہ رہتے تھے ۔سیدنا علی کریم آپ کے لبِانور،سر اقدس بالخصوص آستینیں سمیٹ کر کلائیوں اور بازوؤںکوبوسے دیتے اور زارزار روتے تھے ۔آپ سے ان بوسوں کی توجیہ سن کر خانۂ حیدرِکرار میں کہرام مچ جاتا ۔دینِاسلام کی حفاظت وسربلندی کا جذبہ ،عشق رسول اور مودت فی القربیٰ کے اوصاف اس نہج کو تھے کہ ،
عباس کبریاکا عجب انتخاب تھے بچپن میں ہی علی کا مکمل شباب تھے
کارزارِصِفِّیْن
۳۶ ھ،ما ہِ ذوالحجہ میں شروع ہونے والی جنگِصفین کے وقت سیدنا عباس حیاتِطیبہ کی گیارہویںبہار دیکھ رہے تھے ۔دریائے فرات کے مغربی جانب رقہ اور بالس کے درمیان واقع میدان صفین امیر المومنین سیدنا علی ابن ابی طالب اور پسر ہندہ اَکِلَۃُالْاَکْبَادْ معاویہ بن ابوسفیان کے درمیان ہونے والے خونریز تصادم کے باعث معروف ہے ۔لشکر شام ایک لاکھ ساٹھ ہزار جبکہ اہل ایمان فقط نوے ہزار جانبازوں پر مشتمل تھے ۔ماہ محرم الحرام کے تقدس کے پیش نظر جنگ بندی کی گئی ۔یکم صفر المظفر،۱۸جولائی ۶۵۷ء بروز منگل سے لے کر تیرہ صفر تک شب وروز نوے مرتبہ معرکۂ کارزار گرم ہوا جس میں نوے ہزار شامی فی النار ہوئے جبکہ شاہِ اولیاء کے بیس ہزار جانبازوں نے جام شہادت نوش کیا ۔
جنگ صفین میں سیدنا عباس کے جواہر شمشیر بیان کرتے مالک اشتر فرماتے ہیں ،’’ہم نے دیکھا کہ ہمارے دائیں جانب برق کوندی اور بجلی کی چمک کی مانند ایک نوجوان نے لشکر اسلام کے سامنے سے گھوڑا دوڑاتے ہوئے ایک سیکنڈ سے بھی پہلے قلبِلشکر پر حملہ کر دیا ۔ہم نے صرف یہ دیکھا کہ دشمن کی نوے صفوں کے پرچم آنِواحد میں اپنے پرچم برداروں سمیت فضا میں اڑتے نظر آئے ۔عباس ابن علی نے اپنے نیزہ کے ساتھ نوے پرچم بردار اس انداز میں اچھالے کہ جس وقت آخری لعین آسمان کی جانب جا رہا تھا تو پہلا واپس نیچے آرہا تھا ۔اس مختصر مدت میں آپ نے یکے بعد دیگر ے نوے شامی سپردِسقر کر دیے ‘‘۔
شیر خدا کا شیر
دورانِجنگ شام کا شہ زورپہلوان ابنِشعثاء اپنے سات جنگجوبیٹوں کے ساتھ مبارز طلب ہوا۔وہ گرانڈیل دس ہزار پہلوانوں پر حاوی سمجھا جاتا تھا اور اس کا ہر بیٹا اسی کا پرتو تھا۔وہ میدان میں آکر مخاطب ہوا،’’آج فیصلہ ہو گا ۔اپنے سالارسے کہو کہ میرے سات بیٹے ہیں ۔ان کے بھی سات ہی فرزند ہیں ۔باری باری حسن وحسین ،محمد حنفیہ ،جعفر ویحییٰ،عون وعباس کو بھیجیں ۔میں اپنے ایک ایک بیٹے کو بھیجوں گا ۔جنگ کا فیصلہ یہیں ہو جائے گا ‘‘۔اس کے ساتھ ہی اُس نے اپنے بیٹے قطار میں کھڑے کر دیے ۔ادھر شیر خدا نے سیدنا عباس کو یاد فرمایا اور سامان حرب سے آراستہ کرتے فرمایا ،’’میں آ پ کا رجز وتکبیر ،جوہر شمشیر اوریمین ویسار پر حملہ دیکھنا چاہتا ہوں ‘‘۔امیر المومنین نے آپ کو اپنا لباس ،زرہ ،تلوار ،فولادی خود پہنا کر گھوڑے پہ سوار کیا ۔سیدنا امام حسین نے آپ کو اپنا نیزہ مرحمت فرمایا جسے جنابِعباس نے دستِشبیر پہ ایک بوسے کے ساتھ قبول فرمایا۔
ابن شعثاء اپنے سات بیٹوں کے ہمراہ میدان میں آکر لاف زنی کر رہا تھا کہ اسدِکردگار کے نوخیز شیر نے رجز کے دو شعر پڑھ کر حملہ کر دیا ۔اس حملہ میں نہ تو تلوار استعمال ہوئی نہ نیزہ بلکہ آپ نے بائیں ہاتھ سے ابن شعثاء کے بیٹوں کو کمر بند سے پکڑ کر ہو امیں اچھالنا شروع کر دیا ۔یکے بعد دیگرے سات بیٹے اچھال کر آپ نے ابن شعثاء کے کمر بند میں ہاتھ ڈالا اور جھٹکا دے کر اسے آسمان کی طرف اچھالا ۔عین اسی وقت اس کا پہلا بیٹا زمین کی طرف واپس آرہا تھا ۔جس وقت وہ گھوڑے کے بالکل سامنے آیا تو آپ نے رکابوں پہ زور دے کر گھوڑے کی باگیں چھوڑ دیں اور دونوں ہاتھوں سے قبضۂ تلوار کی گرفت مضبوط کر کے زین سے اٹھے ۔نعرۂ تکبیر کی صدا دے کر تلوار کا بھرپور وار کیا۔برقِسوزاں کی مانند تلوار چلی اور مدمقابل کاٹ کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا ۔یکے بعد دیگرے سات تکبیریں سنائی دیں جن کی گونج میں ابن شعثاء کے سات بیٹے فی السقر ہو چکے تھے ۔ہر تکبیر کے ساتھ مولائے کائنات اللہ اکبر کی صدا بلند کرتے فرماتے اَشْھَدُاَنَّکَ اِبْنِیْ،بخدا آپ میرے لختِجگر ہیں ۔آٹھویں صدائے تکبیر کی گونج میں ابن شعثاء سر سے پیر تک دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا ۔کمال جراء ت وشجاعت دیکھ کر اہل شام سمجھے کہ یہ حیدرِکرار ہیں ۔سیدنا اسد اللہ گھوڑا دوڑاتے میدان میں آئے اور اپنے شیر کے رخ انور سے فولادی خود ہٹا یا تو لوگوں نے دیکھا آپ عباس بن علی ہیں ۔انفرادی جنگ کے بعد آپ نے اجتماعی جنگ فرمائی اور لشکر شام کو اپنی جگہ سے واپس پلٹنے پر مجبور کر دیا ۔

شجاعتِ عباس

حدیثِنبوی ؐہے ،’’اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْشَّجَاعَۃِ‘‘،’’بے شک اللہ تعالیٰ شجاعت کو پسند فرماتا ہے ‘‘۔شجاعت قوتِقلب اور جرات وہمت سے عبارت ہے جو انسان کو اُس مقام ومنزل پر جانے اورثابت قدم رہنے میں مدد دے جن کی طرف عام لوگ قدم نہ بڑھا سکیں ۔اہل عرفان کے نزدیک موت سے نہ ڈرنے والااور پروردگارِعالم کی کامل معرفت رکھنے والا بہادر وشجاع ہے ۔شجاع عارف باللہ ہوتا ہے ۔علامہ عبدالرزاق لاہجی لکھتے ہیں ،’’ اَلْعَارفُ شُجَاعٌ وَکَیْفَ لاَوَھُوَبمُعْزلُ مِنْ تَقْیَّۃِالْمَوْت ‘‘،’’معرفتِالٰہی میں کامل زبردست شجاع ہے کہ وہ موت سے فرار نہیں چاہتا ‘‘۔علامہ کمال الدین طلحہ بن شافعی کے مطابق ،’’شجاعت اس قوتِقلبی کانا م ہے جو انسان کو انتہائی خطرناک اور خوفناک امور کے کر گزرنے پر ابھار دے ۔جس کے قلب میں یہ قوت پائی جائے اسے بہادر کہتے ہیں ‘‘۔علامہ ابو منصور ثعلبی شجاعت کو انسانیت کا جزوِاعظم قرار دیتے ہیں ۔شجاعت کی گیارہ اقسام ہیں ،
۱۔ ’’اِذَاکَانَ شَدِیْدُالْقَلْب رَابطُ الْجَیْش فَھُوَمُزَیْرٌ ‘‘،’’جو بہادر میدان جنگ میں بے جگری سے لڑنے والا اورپہلو میں قوی ومضبوط دل رکھتا ہو اسے مزیر کہتے ہیں ۔
۲۔’’وَاِذَاکَانَ لُزُوْماًلِلْفُرْقَان لاَیُفَارقُہُ فَھُوَحُلْبَِسٌ ‘‘،’’دشمن سے مقابلے میں اس کے قصۂ وجود کو پاک کیے بغیر جو چین نے لے اُسے حلبس کہتے ہیں ۔
۳۔’’وَاِذَاکَانَ شَدِیْدُالْقِتَال لزُوْماًلِّمَنْ طَالِبُہُ فَھُوَغُلَّثٍ ‘‘،’’دشمن سے مڈبھیڑ کی شدت میں قتل کیے بغیر نہ چھوڑنے والے کو غلث کہتے ہیں ۔
۴۔ ’’وَاِذَاکَانَ جَریْئاًعَلیٰ الْلَیْل فَھُوَمُخْشٍوَّمُخْشِفْ ‘‘،’’شب خون مارنے والے کو مخش ومخشف کہا جاتا ہے ۔
۵۔’’وَاِذَاکَانَ مِقْدَاماًعَلیٰ الْحَرْبِعَالِماًباَحْوَالِھَافَھُوْمُحَرّبْ ‘‘،’’فنونِحرب سے واقف اور بڑھ چڑھ کر حملہ کرنے والے کو محرب کہتے ہیں ۔
۶۔’’وَاِذَاکَانَ مَنْکِراًشَدِیْداًفَھُوَزَمَرْ ‘‘،’’گرانڈیل پہلوانوں کے دانت کھٹے کردینے والا زمر کہلاتا ہے ۔
۷۔’’وَاِذَاکَانَ بہِ عَبُوْسَ الْشُّجَاعَۃِوَالْغَضَب فَھُوَبَاسِلٌ ‘‘،’’شجاعت جبیں اور رگوں میں بہادری کے غصے کا خون رکھنے والے کو باسل کہا جاتا ہے ۔
۸۔’’وَاِذَاکَانَ لاَیَدْریْ مِنْ اَیْنَ یُوْتِیْ لِشِدَّۃَ بَاسِہِ فَھُوَبِھمَّۃٌ ‘‘،’’جس بہادر کے متعلق سمجھ نہ آئے کہ کس جانب سے حملہ کرکے اسے زیر کیا جاسکتا ہے اسے بہمہ کہتے ہیں ۔
۹۔’’وَاِذَاکَانَ یُبْطِلُ الْاَشِدَّائِ وَالْدِّمَائِ فَلاَیُدْرَک عِنْدَہُ ثَارٌفَھُوَبَطْلٌ ‘‘،’’بڑے خوانخواروں کے چھکے چھڑا دینے والا اور خون بہا کا موقع نہ دینے والا بطل کہلاتا ہے ۔
۱۰۔’’وَاِذَاکَانَ یَرْکَبُ رَاسِہِ لاَیَثْنَیْہِ شَیْئٌعَمَّایُریْدُفَھُوَغَشَمْشَمْ ‘‘،’’سر ہتھیلی پہ رکھ کر اس طرح جنگ آزما ہونے والا کہ کوئی طاقت حصولِمقصد سے روک نہ سکے غشمشم کہلاتا ہے ۔
۱۱۔’’وَاِذَاکَانَ لاَیَخَاشُ لِشَیْئٍ فَھُوَاَیْھمْ ‘‘،’’جو بہادر نبرد آزمائی کے موقع پر کسی چیز کی پرواہ نہ کرتا ہو اسے ایہم کہا جاتا ہے ۔
سیدنا عباس جملہ اقسام شجاعت کے تاجدار تھے اور یہ باوقارصفات آپ کی ذاتِعالیہ میں بدرجہ اتم جامع تھیں ۔سیدالشہداء کا آپ پہ حددرجہ اعتماد اور فرما ن کہ اے اسد اللہ کے شیر! آپ کے وجود اور بقا پر ہمارے لشکر کا وجود ہے حضرت عباس کے مزیر ہونے کا ثبوت ہے ۔روزِعاشور مارد ابنِصدیف سے بے مثل مبارزہ حلبس،غلّث اور محرب ہونے کا پتہ دیتا ہے۔آپ کا تیس سوار اور بیس پیادے لے کر سوئے فرات جانا اور قیامت خیز جنگ کے بعد پانی لانا آپ کے مخش ومخشف ہونے کی دلیل ہے ۔میدانِکربلا میں عاشورہ کے روز بے جگری سے لڑنا ،ہزاروں دشمنوں کو فی النار کرتے دست وبازو کٹوا دینا آپ کے زمر اور باسل ہونے پر شاہد ہیں ۔آپ کا بیشتر مواقع پر اعزا وانصار کی مدد کو جانا اور بے پناہ جنگ کرنا آپ کے بہمہ ہونے کا گواہ ہے ۔سینکڑوں دشمنوں کو جام فنا سے سیراب کرتے نہر فرات پر قبضہ کرنا ،پانی بھرنا اور کسی دشمن کی پرواہ نہ کرتے خیمہ کی جانب برابر بڑھتے چلے آنا آپ کے بطل ، غشمشم اور ایہم ہونے کی بین دلیل ہے ۔علامہ قاسم علی بحرانی رقمطراز ہیں ،’’ اَنَّہُ کَانَ فَارساًوَبَطْلاًضَرْغَاماًوَکَانَ جَسُوْراًعَلَی الْطَّعْن وَالْضَّرْبِفِیْ مَیْدَان الْکَفَاحْ‘‘،’’حضرت عباس بڑے باہمت شہسوار اورشیر دل بہادر تھے ۔اور میدانِکارزار میں نیزہ بازی اور شمشیر زنی میں بڑے جری اور دلیر تھے ‘‘۔ پھر لکھتے ہیں ،’’حضرت عباس کی وہ ہیبت اور سطوت تھی کہ جس نے دشمنوں کے قلوب کو تاریک کرکے دلوں کو زندہ جلا ڈالا تھا وَاَعَمَّتْ عَیُوْنُھُمْ اور انہیں اندھا کردیا تھا ‘‘۔ شجاعانِعرب کہتے تھے،
ھَذَاالْشُّجَاعُ ھُوَالْذِیْ مِنْ بَاسِہِ فَرَّ الْکُفَّاۃُ فَرَّا کُلَّ جبَانٌ
یہ وہ بہادر تھے جن کے زورِشجاعت سے بڑے بڑے بہادر میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے
بیعت
امیر المومنین سیدنا علی ابن ابی طالب دنیائے فانی سے منہ موڑ کر عازم فردوسِبریںہوئے تو آپ نے اپنی تمام اولاد کو دستِامام حسن مجتبیٰ پر بیعت کروایا جبکہ سیدنا عباس کو امام عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام کے دست اقدس پہ بیعت کا لازوال شرفِعظیم عطا فرمایا ۔
عقد واولاد
۴۱ھ ،۶۶۱ء عقیلۂ بنی ہاشم سیدہ زینب بنت علی کے مشورہ سے آپ کا عقدسیدنا امام حسن مجتبیٰ نے حبر الامہ حضرت عبد اللہ بن عباس بن عبدالمطلب کی دختر جنابہ لبابہ ؓسے فرمایا۔سیدہ ام البنین کی بہوبھی ام البنین تھیں جن سے ۴۲ھ میں سیدنا محمد ، ۴۴ھ میں سیدنا قاسم ،۴۶ ھ میں سیدنا فضل ؑ،۵۱ ھ میں سیدنا عبید اللہ کی آمد ہوئی ۔بوقت عقد آپ حیاتِفانی کے سولہویں برس میں تھے ۔سیدنا عباس کی نسل اقدس حضرت عبید اللہ بن عباس سے چلی جن کی اولاد میں نامور فقہاء ،علماء اور دینی پیشوا سیرتِعباس کے مقلد تھے ۔باقی صاحبزادے شہداء کرب وبلا ہیں ۔

رفیقِ حسن
۲۱رمضان المبارک ۴۰ ھ شہادتِامیر المومنین علی ابن ابی طالب بعد آپ دوسرے خلیفۂ راشد سیدنا امام حسن کی معیت میں رہے ۔ہر مقام وموقع پر آپ نے امام حسن مجتبیٰ کی رفاقت کا حق ادا کیا اور اُن کی جانب اٹھنے والی نگاہوں کے تیور دیکھتے رہے ۔ قیام موصل کے دوران ایک بدبخت نے اپنے عصا کی زہر آلود آہنی نوک فرزندرسول کے پائے اقدس میں چبھو دی جس سے آپ کو سخت اذیت پہنچی ۔ کریم زہرا کے لطف وعنایات کے باعث وہ شخص گرفت سے بچ نکلا ۔ایک دن وہی ملعون اسی عصا کے ساتھ موصل سے نکلا کہ نگاہِعباس کی زد میں آگیا ۔آپ نے جلالِ حیدر کے ساتھ وہی عصا چھین کر اس کے نجس سر پہ دے مارا جس سے اس کا سر شگافتہ ہو گیا ۔یوسفِزہرا کی حیاتِطیبہ میں آپ اُن کے رفیق وغمگسار رہے ۔
صَاحِبُ لِوَائِ الْحُسَیْن
کَانَ الْعَبَّاسُ یَھْویْ الْحُسَیْنَ مِنْ بَدْئِ عُمُرہِ لِاَنَّہُ الْسَّعِیْدُالَّذِیْ سُعِدَفِیْ بَطْن اُمِّہِ

عباس ابتدائے سن ہی سے امام عالیمقام پہ نثار تھے کیوں کہ آپ بطن مادر ہی سے صفت سعادت سے متصف پیدا ہوئے تھے
۱۰ محرم الحرام ۶۱ ھ بروز جمعہ رونما ہونے والے سانحۂ کربلا میںصبحِعاشور امام عالیمقام نے اپنی مختصر سی فوج کو ترتیب دے کے میمنہ کے بیس سواروں کا رایت حضرت زُہیر بن قین کو دیا اور میسرہ کے بیس سواروں پر حضرت حبیب ابن مظاہر کے دستِاقد س میں رَایَۃُالْحُسَیْن دیا ۔قلبِلشکر میں بنی ہاشم کے جوان کھڑے فرما کرسیدنا عباس کو اسلامی لشکر کا کمانڈر انچیف مقرر کرتے بنی ہاشم کے مخصوص سبز رنگ کا پرچم ’’لِوَائِ الْحُسَیْن ‘‘آپ کے دستِشجاعت میں عطا فرمایا ۔اُس دور کی اجتماعی جنگ کے دوران سالارِِلشکر اپنی فوج علم کے ساتھ کنٹرول کرتا تھا ۔فوج کی نگاہ اور مکمل توجہ علم پر مرتکز رہتی ،جس جانب علم کا اشارہ ہوتا فوج ادھر حملہ کر دیتی ۔میمنہ ،میسرہ اورقلبِلشکر کے پرچم رَایَۃْ کہلاتے جبکہ پوری فوج کے جھنڈے کولِوَ اء کہا جاتا تھا ۔فتح وشکست کا فیصلہ اسی علم کے لہرائے جانے پر ہوتا تھا ۔اہل اسلام میں علم سیدنا ابراہیم خلیل اللہ کی یاد ہے ،’’ اَلْعَلَمُ ھِیَ لِوَائٌوَضَعُھَاخَلِیْلُ الْرَّحْمٰن فِیْ الْعَالَمْ‘‘۔اس یاد کو پیغمبر اسلام نے پھر تازہ کیا اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء راشدین سیدنا علی کریم اور امامین حسنینِکریمین نے قائم رکھا ۔پرچم کی قدامت واہمیت ، زمانۂ جاہلیت کے معروف شاعر زہیر بن حباب کلبی (جو ۵۰۰ء میں ۱۵۰ برس کی عمر میں فوت ہوا ) کے اس شعر میں بیان کی گئی ہے ،
فَاِنَّاحَیْثٌلاَیُخْفٰی عَلَیْکُمْ لَیُوْثٌحِیْنَ یَحْتَضَرُالْلِوَائْ
پس ہم وہ ہیں کہ ہماری حیثیت تم پہ پوشیدہ نہیں کہ ہم میدانِکارزار میں اپنے قبیلے کاجھنڈا دیکھ کر غضبناک شیر کی طرح حملہ آور ہوتے ہیں
صبحِ عاشور سے شروع ہونے والی قیامت خیزجنگ میں آپ نے کئی مرتبہ جوہر شجاعت سرفراز فرمائے ۔آپ خیام حسینی کی حفاظت پر مامور تھے ۔یزیدی فوج کا ریلہ میمنہ کی جانب بڑھتا تو آپ پرچم ایمان لہراتے حملہ آور ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتے ۔میسرہ پہ دباؤ آتا تو اُن کی کمک فرماتے ۔اصحابِحسین میں سے کوئی جانباز نرغۂ اعدا میں آتا تو اسے نکالنے کی کامیاب سعی فرماتے ۔ابلیسی لشکر متعدد مرتبہ خیام تطہیر کو بڑھا تو آپ نے اسے کاٹ کر رکھ دیا ۔آپ سیدنا علی اکبر کے ہمراہ سائے کی طرح امام حسین کے ہمرکاب رہے ۔دامادِ حسین ،نوشۂ کربلا سیدنا قاسم ابنِامام حسن کی بہیمانہ شہادت کے بعد آپ بارگاہِسپہ سالارِاعظم میں حاضر ہوئے اور سلامی پیش کرکے دست بستہ عرض کی ،’’اے شہنشاہِمملکتِتقدس وطہارت !غلام موجود ہے ۔خیموں کی حفاظت کا فریضہ ادا ہو چکا ہے ۔ ھَلْ مِنْ رُخْصَۃٍ،اب مجھے فدا ہونے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے‘‘،
پسِقاسم شہنشاہِوفا عباس آتے ہیں علم تھامے امام دوجہاں کے پاس آتے ہیں
وہی عباس جن کو سب علم بردار کہتے ہیں انہی کو ہم شبیہِحیدرِکرار کہتے ہیں
امام عالی مقام نے سن کر فرمایا ،’’اَنْتَ صَاحِبُ لِوَائِیْ وَاِذَامَضَیْتَ تَفْرقُ عَسْکَریْ ‘‘،’’عباس آپ ہمارے علم بردار اور جانِلشکر ہیں۔آپ چلے گئے تو تمام جمعیت ٹوٹ کر بکھر جائے گی ‘‘،
ہمارا دم قدم ہر دم تمہارے ساتھ ہے بھائی کہ جھنڈا دینِفطرت کا تمہارے ہاتھ ہے بھائی
تمہارے دوش پر ہے صبر واستقلا ل کا پرچم تمہارے دم سے اونچا ہے نبی کی آل کا پرچم
حضرت عباس کی التجا پر انہیں اجازت مرحمت فرما دی گئی ۔مصری تلوار ،مکی ڈھال اور رومی خود سجائے امام عالی مقام کا پیغام لے کر آخری حجت کے طور پہ لشکر یزید کے سامنے آئے ،
لیے گرزِ خطابت کاسر الاصنام آتے ہیں پئے اتمامِحجت حجۃ الاسلام آتے ہیں
غرض میدانِظلمت میں علی کے نور عین آئے یزید ی کرگسو !ہشیار شہبازِحسین آئے
پیام حسین سن کر بھی لشکر یزید کے سالار نہ مانے اور اپنے موقف پر قائم رہے ۔سیدنا عباس نے تمام صورتِ حال امام حسین کے گوش گزار فرمائی جسے سن کر آپ نے سر مبارک جھکا لیا اور امت کی بدنصیبی پہ رو دیے ۔ناگاہ خیام حسینی سے العطش العطش کی صدا بلند ہوئی ۔اس صدا کا کچھ ایسا اثر تھا کہ امام عالی مقام اور سیدنا عباس دونوں ایک ساتھ نہر فرات کی جانب دوڑپڑے ۔حضرت عباس آگے اور سیدنا امام حسین آپ کے پیچھے تھے ۔یہ دیکھ کر لشکر ابنِسعد نے اُن کا رستہ روکا اور تیر برسائے جو سیدنا امام حسین کے گلوئے مبارک پہ لگے ۔ آپ نے تیر نکال کر دست مبارک سے خون کو روکا اور آسمان کی جانب دیکھ کر فرمایا ،’’پروردگار شاہد رہنا کہ میرے ساتھ کیا کیا ہوا ‘‘۔تیر لگنے اور بے تحاشا خون بہنے کے باعث امام حسین خیمہ کو واپس تشریف لے آئے جب کہ حضرت عباس آگے بڑھتے چلے گئے ۔دشمن کے گھیرے کے باوجود آپ کشتوں کے پشتے لگاتے اور یہ فرماتے کافی دور نکل گئے ،
نَحْنُ الْفَوَاضِلُ نَسْلُ الْہَاشَمِیَّات نُسْفِکُ دِمَائکُمْ لِحَدِّالْمَشْرَقِیّات
ہم نسل ہاشم کے وہ جلیل القدر لوگ ہیں جوتیز چمک دار تلواروں سے خون بہانے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں
یٰاآلَ الْلِثَام وَاَبْنَائُ الْرَّاعِیَات یٰا جَدُّنَا لَوْ تَریٰ ھٰذَی الْزَّرِیَّات
اے کمینے رذیلو !اور بکریاں چرانے والوں کی اولادو ،خدا تمہیں غارت کرے ۔ اے ہمارے جد نامدار !کاش آپ ہم پر نازل ہونے والے مصائب دیکھتے
یٰا خَیْرَ عُصْبَۃٍ قَدْ جَادَتْ باَنْفُسِھَا حَتّٰی نَمُوْتُ فِیْ اَرْض الْغَاضَریَّات
اے بہترین گروہ جو مقام غاضریہ میں اپنی عزیزجانوں پر کھیل گئے
اَلْمَوْتُ تَحْتَ ذِبَابُ الْسَّیْف مُکَرَّمَۃْ اِذَا کَانَ مِنْ بَعْدِہِ اِیْقَانَ جَنَّات
تلوار کے سائے میں موت کا آنا بڑی کرامت ہے جب کہ جنت میں جانے کا یقین کامل ہو
لاَ سَاَسْفُنَّ عَلیٰ الْدُّنْیَا وَلَذَّتِھَا وَذَاکَ جَدِّیْ یُغْفِرُ ذَلاّت
دنیا اور اس کی لذتوںپر افسوس نہ کرنا ۔ ہمارے جد شافع محشر ہیں
اسی اثنا میں لشکر مخالف آپ پہ ٹوٹ پڑا ۔آپ نے بے مثل بہادری اور شانِحیدری کے جوہر دکھلاتے نامی گرامی بہادر کاٹ کر رکھ دیے ۔مارد ابنِصدیف تغلبی سپاہِیزید کا نامور شمشیر زن اورنیزہ باز تھا ۔ہزار سپاہیوں کے ساتھ اکیلا لڑنے والا مارد ابن صدیف خود کو نیزہ کے استعمال کا استاد سمجھتا تھا ۔اس کے تن وتوش ،جوش وخروش اور فنونِحرب کا چرچا تمام عالم عرب وعجم میں تھا ۔عراق وشام کا کوئی سورمااس کے مقابل نہ آتا تھا ۔اشقری گھوڑے پہ سوار دور سے دیکھنے پر یوں محسوس ہوتا کہ زین پہ کوئی پہاڑ دھرا ہے ۔اُس نے یہ عالم دیکھا تو جھنجھلا کر کہنے لگا ،’’تمہیں کیا ہو گیا ہے اور تم لوگ کیا کر رہے ہو ۔ایک جنگجو سارا لشکر قتل کیے جا رہا ہے ۔اگر تم اس پر ایک ایک مٹھی خاک ڈالو تو یہ اس میں دب کر اسی وقت مر جائے۔مگر افسوس کہ تمہاری کچھ بنائے نہیں بنتی ‘‘۔یہ کہہ کر بلند آواز میں چیختے ہوئے بولا ،’’لوگو !جس کے گلے میں یزید کی بیعت کا طوق ہے وہ فورا ًاس لشکر سے الگ ہو جائے کیوں کہ میں تنِتنہا اس نوجوان کے لیے کافی ہوں جس نے بڑے بڑے نامورانِلشکر کو فنا کر ڈالا ہے ‘‘۔شمر وعمر بن سعدنے یہ سن کر تمام لشکر کو ہٹنے کا حکم دیا ،
نہ تھا دریا کی جانب اب کوئی اُن کا حریف آگے اکیلا بڑھ رہا تھا ماردِابنِصدیف آگے
خود اپنے قد سے دگنی ہاتھ میں لمبی سناں تھامے یہ سرکش بڑھ رہا تھا اسپِاشقر کی عناں تھامے

مارد ابنِصدیف سے مبارزہ

مارد ابنِصدیف فیل مست کی طرح جھومتا سیدنا عباس کی جانب بڑھا ۔اس کے نجس بدن پر آہنی ذرہ اور سر پہ فولادی خود تھا ۔وہ ایک لمبا نیزہ ہاتھ میں لیے غصہ سے تھرتھراتا میدان میں آیا۔سیدنا عباس ابنِعلی اس کی جانب بڑھے اور سامنے آکر کھڑے ہو گئے ۔وہ غرایا،’’نوجوان !خیر اسی میں ہے کہ تو اپنے ہاتھ سے تلوار پھینک دے اور فنِسپہ گری ظاہر کر ۔ جو پہلے تم سے لڑنے آئے وہ سب نہایت سست اور رحم کرنے والے تھے لیکن میں ایسا شخص ہوں کہ خداوندِعالم نے میری خلقت سے نرمی وخدا ترسی کو نکال دیا ہے اور اس کے عوض شقاو ت وعداوت میرے اندر کوٹ کر بھری ہے ۔نوجوان !یاد رکھ کہ میں وہ ہوں کہ جس پر حملہ آور ہوا اسے ذلیل کر چھوڑا اور جس پہ تلوار چلائی اسے فنا کر ڈالا ۔تیری جوانی وملاحت پہ نظر کرتا ہوں تو طبیعت میں نرمی دوڑ جاتی ہے ۔میں نہیں چاہتا کہ تجھے تہ تیغ کر دوں لہٰذا میں تجھ سے کہتا ہوں کہ تو رزم گاہ کی زمین کو دم بھر میں چھوڑ دے ،یہاں سے چلا جا اور اپنے اچھے خاصے نفس کو ضائع وبرباد نہ کر ۔دیکھ عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہے آج سے پہلے میں نے کبھی رحم نہیں کیا ،
نَصَحْتُکَ اِنْ قَبِلْتَ نَصِیْحَتِیْ خَوْفاًعَلَیْکَ مِنَ الْحُسَّام الْقَاطِع
میں تمیں کاٹنے والی تلوار کی ضرب سے ڈرا کر نصیحت کرتا ہوں اگر تم میری نصیحت قبول کر لو گے (تو سودمند رہو گے )
مَا رقُّ قَلْبِیْ فِیْ الْزَّمَان عَلیٰ فَتیً اِلاّ عَلَیْکَ فَکُنْ بقَرْلِیْ سَامِع
ابتدائے زمانہ سے آج تک تمہارے علاوہ کسی نوجوان پر میرا قلب نرم نہیں ہوا میرا یہ قول کان دھر کے سنو
وَاعِظٌ انْقیَادَ اُوْغَدُ عَیْش اِلاّ اَذُوْقَکُ مِنْ عَذَابٍوَاقِع
میں تمہیں اطاعت کی نصیحت کرتا ہوں کہ طوقِاطاعت گلے میں ڈال لوگے تو عیش کرو گے وگرنہ میں تمہیں سخت غذ اکا مزہ چکھاؤں گا
کہا اے نوجواں اے تیغ زن عباس !رُک جاؤ ہمارے روبرو تم ڈال دو ہتھیار! رُک جاؤ
ڈراتے ہیں تجھے ہم ضربتِشمشیرِبُرّاں سے ڈراتے ہیں تجھے ہم سطوتِ سلطانِدوراں سے
نہ زحمت دو میری تلوار کو تم سر اٹھانے کی جہاں تک ہو سکے جلدی کرو اب سر جھکانے کی
اِدھر یہ سر جھکا رن میں اُدھر نصرت تمہاری ہے یہ اِک پانی تو کیا دنیا کی ہر نعمت تمہاری ہے
سیدنا عباس نے ان خرافات کے جواب میں خطبہ ارشاد فرمایا اور اسی کے ردیف وقافیہ میں اس کے اشعار کا جواب دیا ،
صَبْراً عَلیٰ جَرَرِالْزَّمَان الْقَاطِعْ وَمَنْیَۃُ مَا اِنْ لَھَا مِنْ دَافِعْ
ہم مخالف زمانے کے ظلم پر صبر کر رہے ہیں اور موت کو کوئی نہیں روک سکتا
لاَ تَجُزْ عَنَّ فَکُلَّ شَیْئٍ ھَالِکٌ حَاشاً لِمِثْلِیْ اَنْ یَّکُوْنَ بجَازِعْ
تو مت گھبرا ،ہر چیز فنا ہونے والی ہے اور مجھ جیسا بہادر کبھی گھبراتا نہیں
فَلَئِنْ رَمَانِیْ الْدَّھْر مِنْہُ بَاسَھُمْ وَتُفَرَّقُ مِنْ بَعْدِ شَمْل جَامِعْ
اگر زمانے نے ہم پر تیر چلائے اور ہماری جماعت کو منتشر کر دیا
فَکَمْ لَنَا مِنْ وُقْعَۃٍ شَابَتْ لَنَا قُم الْاَصَاغِرُ مِنْ ضَرَابٍقَاطِعْ
اور زمانہ میں ایسے واقعات بہت ہوئے ہیں کہ نوجوانوں نے تجربہ کاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا
حجازی نوجواں مردِجری نے لب کشائی کی گلستانِولایت کی کلی نے لب کشائی کی
کہا اے روزِروشن میں اندھیرا ڈھونڈنے والے دلِمومن میں ظلمت کا بسیرا ڈھونڈنے والے
کبھی پایا ہے تو نے خوفِباطل حق پسندوں میں کبھی دیکھی ہے دنیا کی ہو س اللہ کے بندوں میں
وفا کی مرگِاحمر زندگی سے مجھ کو پیاری ہے تو اپنا وار کر غافل کہ پہلے تیری باری ہے
مارد یہ سن کر آپ کی جانب لپکا اور آپ کو آسان ہدف سمجھتے حملہ آور ہوا ۔آپ نے اس کے آنے سے کوئی ہراس نہ کیا ۔اُس نے نیزہ لہرایا ۔سیدنا عباس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر نیزہ کی انی تھام لی اور زور سے جھٹکا دیا کہ وہ منہ کے بل گرنے لگا اور نیزہ اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔جنابِعباس ابنِعلی نے وہ نیزہ ہاتھ میں اٹھا لیا اور اس کے گھوڑے کو گرا دیا ۔وہ ملعون زمیں بوس ہو گیا اور خوف کے مارے کانپنے لگا ۔شمر نے فورا کمک کے لیے عظیم الجثہ صارفہ نامی حبشی غلام کے ہاتھ طاویہ (حاکم رے کی سواری کا خاص گھوڑا جو امیر المومنین نے سیدنا امام حسن کو تحفہ دیا تھا ۔مدائن کی بغاوت میں مارد ابن صدیف یہ گھوڑا لوٹ کر فرار ہو گیا ۔عاشورہ کے دن یہ اس کے غلام صارفہ کے پاس تھا )نامی گھوڑا روانہ کیا ۔حضرت عباس نے راستہ ہی میں صارفہ غلام کی گردن پر نیزے کا پرزور وار کیا اور اسے واصل جہنم کر کے طاویہ کی لگام تھام کر اس پر سواری کر تے امام حسین کی خدمت میں پہنچا دیا ۔طاویہ امام عالیمقام کی خدمت میں پہنچ کر آپ کی قدم بوسی کرنے لگا ۔سپاہِیزید مارد ابنِصدیف کو بچانے کے لیے آگے بڑھی ۔سیدنا عباس نہایت تیزی سے ابنِصدیف کے قریب پہنچے اور تلوار کا وار کر کے اس کے دونوں ہاتھ بے کار کر دیے ۔پھر نیزے کا ایک بھرپور وار اس کے کان میں کیا جو اس کی کھوپڑی چیرتا دوسری جانب نکل گیا ۔مار د ابن صدیف کو فی النار کرنے کے بعد آپ نے لشکر یزید کی خبر لی اور اڑھائی سو سوا ر تہ تیغ کر دیے جس سے قبل آپ پانچ سو بیس سورما فنا کے گھاٹ اتار چکے تھے ۔

سقائے سکینہ

یہ عظمت کا نگینہ ہیں یہ الفت کا خزینہ ہیں یہ جرات کا سفینہ ہیں یہ سقائے سکینہ ہیں
یہی دریائے صبر واستقامت کا کنارہ ہیں یہی اس دم غریبانِمدینہ کا سہارا ہیں
مارد ابن صدیف کو پچھاڑنے کے بعد آپ یہ داستان امام حسین سے بیان کر رہے تھے کہ چھبیس کے قریب کم سن بچے العطش العطش کی جگر سوز صدا بلند کرتے آپ کے گرد جمع ہو گئے ۔آپ مضطرب ہوئے اور امام حسین کی بارگاہ میں التجا فرمائی ۔امام نے فرمایا ،’’فرات کو جایئے اور پانی کی صورت پیدا کیجیے ‘‘۔ پھر فرمایا،’’خیمہ میں جاکر رخصت لیں کہ پھر ملاقات نہ ہوگی ‘‘۔حضرت عباس خیام میں داخل ہوئے ہی تھے کہ دشمنانِدین نے امام حسین پر حملہ کردیا ۔حضرت عباس فوراًخیمہ سے آئے اور انہیں مار بھگایا۔اس کے بعد آپ علم اور مشک لے کر روانہ ہوئے ۔کچھ دیر بعد محسوس کیا کہ پشت کی جانب سے رونے آواز آتی ہے اور کوئی پکارتا ہے ۔جونہی آپ نے مڑ کر نگاہ کی تو دیکھا کہ شاہِکربلا باآہِسوزاں وچشم گریاں آہستہ آہستہ یہ کہتے کہ عباس ذرا ٹھہرو ہم آپ کو ایک نظر اورجی بھر کے دیکھ لیں ،چلے آتے ہیں ۔شاہِمرداں کے شیر یہ دیکھ کر بے اختیار رونے لگے ۔اس مقام پہ دونوں بھائی بغلگیر ہوئے اور اس قدر روئے کہ غشی کے آثار نمایاں ہوئے ۔امام حسین سے رخصت ہو کر آپ آگے بڑھے اور دشمن کی یلغار دیکھ کر فرمایا،’’اے انسانی صورت رکھنے والو!تم کافر ہو یا مسلمان ۔کیا تمہارے دین میں یہ جائز ہے کہ فرزندِرسول اور اُن کے چھوٹے چھوٹے بچوں پہ پانی بند کر دو ۔حالانکہ اس نہر سے جس پر تمہارا پہرہ ہے کتے اور سور پانی پی رہے ہیں اور امام حسین اور ان کی آل پیاس سے جاں بہ لب ہیں ۔ کیا تم قیامت کی پیاس کو بھول گئے ہو ؟‘‘،
خدا کا نام لیتے ہو خدا کا گھر جلاتے ہو نبی کو مان کر آلِنبی پہ ظلم ڈھاتے ہو
نمازوں میں درود اُن پر ،دعاؤں میں سلام اُن پر مگر جب روبرو آئیں تو پانی تک حرام اُن پر
یہ سن کر دشمنوں نے تیروں کی بارش کر دی ۔حفاظت پہ مامور چار ہزار سپاہیوں کی پانچ سو کمانوں سے نکلے تیرسیدنا عباس ابن علی کی جانب بڑھے جنہیں ڈھال پہ لے کر آپ نے حملہ کر دیا اور چار سو مسلح خونخوار فی النار کر تے فرمایا ،
اُقَاتِلُ الْقَوْم بقَلْبٍمُہْتَدْ اُذْبُ عَنْ سِبْطِ الْنَّبِیْ اَحْمَدْ
میں ایک ہدایت یافتہ دل کے ساتھ ان لوگوں سے لڑتا ہوں اور نبی احمد کے فرزند سے دشمنوں کو ہٹا رہا ہوں
اُضْربُکُمْ بالْصَّارم الْمُھْنَدْ حَتّٰی تُحِیْدُوْا عَنْ قِتَالَ سَیَّدْ
میں تمہیں تیغِ براںسے اُس وقت تک مارتا رہوں گا جب تک کہ تم میرے سردار کے ساتھ لڑائی سے باز نہ آؤ گے
اِنِّیْ اَنَا الْعَبَّاسُ ذُوْالْتَّوَدَّدْ نَجلُ عَلِیْ الْمُرْتَضٰی اَلْمَوَیَّدْ
میں محبت کرنے والا عباس اور علی المرتضٰی کا فرزند ہوں جنہوں نے اللہ کی جانب سے زو ر پایا تھا
اس کے بعد آپ نے اپنے رہوار کوایڑ دی اور گروہِمنافقین پراگندہ کرکے بہت سے سورمازمیں بوس کرتے نہر کا کنارہ خالی کروا لیا ۔دشمن بھگا کر آپ نے اپنا گھوڑا نہر میں داخل کرتے فرمایا کہ اے رہوار سیراب ہو جا ۔اسی اثنا میں ایک بار پھر حملہ ہوا جس کے جواب میں سیدنا عباس کنارے پہ تشریف لائے اور ان ملاعین کو سپردِسقر فرما کر دوبارہ نہر میں تشریف لے ہی گئے تھے کہ ایک ہزار سپاہی پھر حملہ آور ہوئے جس کے جواب کے لیے آپ کو واپس آنا پڑا ۔انہیں مار بھگایا تو دس ہزار کا لشکر آپ پہ ٹوٹ پڑا اور پوری کوشش کی نہر سے دور کر دیں ۔دشمن کا یہ حملہ نہایت شدید تھا ۔زبردست مقابلہ ہوا جس میں آپ نے نیزے کی انی سے سب کو ٹھنڈا کرتے فرمایا ’’اَنَاعَبَّاس اِبْنِ عَلِیْ ‘‘۔اتنی مرتبہ پانی میں پہنچ کر نہ تو آپ نے پانی پیا اور نہ آپ کے رہوار ’’ اَثْہَلْ‘‘نے نوشِ جاں کیا بلکہ سیدنا عباس کے لبِاقدس سے سنا گیا ،
یَانَفْسُ مِنْ بَعْدِالْحُسَیْنَ ھُوْنِیْ فَبَعْدُہُ لاَکُنْتَ اَنْ تَکُوْنِیْ
اے نفس !حسین کے بعد تیرے لیے ذلت ہے ۔اگر تو زندہ رہنا چاہتا ہے تو حسین کے بعد نہ رہنا
ھٰذَاالْحُسَیْنُ شَاربُ الْمَئُوْ نِیْ وَتُشَرَّبِیْنَ الْمَائِ الْبَاردِالْمَعِیْن
یہ حسین تو موت کے گھونٹ پئیں اور تو ٹھنڈا صاف پانی پیئے
ھَیْھَاتَ مَاھٰذَا فَعَالُ دِیْنِیْ وَلاَ فَعَالَ صَادِقَ الْیَقِیْن
صد افسوس !یہ میرے مذہب کا شیوہ نہیں اور نہ سچا یقین رکھنے والوں کے یہ کام ہوتے ہیں
یہ فرما کر آپ نے چلو میں پانی لے کر دشمن کو دکھایا کہ اتنے شدید پہرے کے باوجود پانی ہماری مٹھی میں ہے ۔پھر آپ نے وہ پانی پھینک کر سیدہ سکینہ کی سوکھی ہوئی مشک مبارک پانی میں تادیر بھگوئی اور بھرنے کے بعد دائیں کندھے پہ لٹکا کر نہر سے باہر تشریف لائے ۔آپ کا باہر آنا تھا کہ بھاگی ہوئی فوج واپس پلٹ آئی اور راہ میں حائل ہو کر آپ پہ حملہ آور ہوکر تیر بارانی شروع کر دی ۔آپ تیروں کا جواب نیزے سے دیتے آگے بڑھتے رہے اور پوری کوشش کی کہ پانی خیام تک پہنچ سکے ۔دورانِجنگ آپ فرماتے تھے ،
لاَ ارْھَب الْمَوْتَ اَذَا الْمَوْتُ رقّاً حَتَّی اَوَاریْ مَیِّتاًعِنْدَ الْلِقَا
جب موت بلند ہو کر سروں پہ آجائے تو میں موت سے نہیں ڈرتا جب تک کہ بوقتِجنگ مردہ بن کر تہ خاک نہ پہنچ جاؤں
اِنِّیْ صَبُوْرٌ شَاکِرٌ لِّلْمَلْتَقٰی وَلاَ اُخَافُ طَارقاً اَنْ طِرْقَا
بوقت جنگ میں صبر وشکر کرنے والا ہوں اور کوئی مصیبت آجائے تو میں اس سے نہیں گھبراتا
بَلْ اَضْربُ الْھَامَ وَاُفْریْ الْمُفْرَقاً اِنِّیْ اَنَا الْعَبَّاسُ صَعْبٌ بالْلِقَا
بلکہ سروں پہ وار لگاتا اور مانگ کی جگہ چاک چاک کرتا ہوں ۔میں ہی وہ عباس ہوں جس تک پہنچنا دشوار تر ہے
اس عالم میں آپ کی ذرہ پہ جا بجا تیر پیوست تھے ۔آپ انتہائی سرعت سے خیمہ گاہ کو جارہے تھے کہ شیطانی گماشتوں نے چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا ۔شیر خدا کے شیر نے کفر کی پدیاں منتشر کر کے انہیں تتر بتر کر دیا ۔آپ کی بھرپور کوشش تھی کہ پانی خیام میں پہنچ جائے اور دشمن کی ضد تھی کہ ایک قطرہ بھی نہ جانے پائے ،
خیامِ اہلِحیدر تک یہ مشکیزہ نہ جانے دو بھلے تم مرمٹو عبّاس کو زندہ نہ جانے دو
غرض تھی بحرِ استبداد کی ہر موج حرکت میں کہ اِک عباس کی خاطر تھی پوری فوج حرکت میں
اسی کشمکش کے عالم میں اسلام کے اس بطلِ جری نے گھوڑے کو مہمیز کیا اور خیمہ کی راہ لی۔ چند گام نہ چلے تھے کہ اشقیاء نے تیروں کا مینہ برسا دیا ۔اسد اللہ کا شیر بپھر گیا ، فَحَارَبَھُمْ مُحَاربَۃٌعَظِیْمَۃْ ،گھمسان کی جنگ ہوئی کہ زمین دہلنے لگی ،
نظر آنے لگے ہر سو ہزاروں خونچکاں تیغے اِدھر تیغے ،اُدھر تیغے ،یہاں تیغے ،وہاں تیغے
کھلے ترکش کمانوں پر کمانیں آگئی رن میں کہ پھر سے بزدلی کی داستانیں آگئی رن میں
حسینی شیر پر چاروں طرف سے دَل کے دَل لپکے ہزاروں برچھیاں تانے ستمگر بے بدل لپکے
مشکیزہ سینے سے لگائے آپ نے دم کے دم میں سینکڑوں دشمنانِ دین موت کے گھاٹ اتار دیے اور میدان صاف نظر آنے لگا ۔اشقیا نے یہ ہمت وشجاعت دیکھی تو سب کے سب یکبارگی ٹوٹ پڑے اور اس زور کی تیر اندازی کی کہ میدان سیاہ نظر آتا تھا ،
فضا میں ہر طرف اب کڑکڑاہٹ سنسناہٹ تھی ہوا کا ساز اس دم ناوکوں کی زنزناہٹ تھی
کمانوں کی کڑک سے زلزلہ سا آگیا رن میں وہ تیروں نے گھٹا باندھی اندھیرا چھا گیا رن میں
آتشِحرب بھڑک رہی تھی ۔بدن تیروں سے چھلنی مگر اس عالم میں بھی آپ نے معین ومددگار کی تلاش کو نگاہیں نہ دوڑائیں اور نہ ہی اپنی جان بچانے کی سعی کی بلکہ تمام تر توجہ پانی کے مشکیزے کی حفاظت پہ مرتکز تھی ۔

شہادتِ اَیْدَیْن

تیر اندازوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ۔باقی کمان داروں کے علاوہ عمرابنِسعد بن ابی وقاص کے مرکزی لشکر نے گھیرے میں لے لیا ،
غرض عباس کے چاروں طرف فوجیں ہی فوجیں تھیں وفا کا اِ ک جزیرہ تھا جفا کی لاکھ موجیں تھیں
شیر بیشۂ شجاعت نے ا س عالم میں بھی دلیرانہ حملے کیے کہ کسی کو سامنے آنے کی ہمت نہ ہوئی ۔اس موقع پر آپ نے ساڑھے چار سو دشمن موت کے سپرد کر دیے ۔ناگاہ کھجور کی ٹہنیوں کے پیچھے چھپے زید بن ورقہ جہنی نے حکیم بن طفیل کی مدد سے دائیں بازو پر حملہ کیا ۔آپ کا دایاں ہاتھ کٹ کے گر گیا ۔نہایت عجلت سے مشکیزہ بائیں ہاتھ میں تھاما اور فرمایا ،

وَاللّٰہِ اِنْ قَطَعْتُمْ یَمِیْنِیْ اِنِّیْ اُحَامِیْ اَبْداً عَنْ دِیْنِیْ
ٍٍ بخدا اے دشمنانِدین !اگر تم نے میرا دایاں ہاتھ قلم کر دیا تو کچھ پرواہ نہیں ۔میں اسی حال میں اپنے دین کی حمایت کرتا رہوں گا
وَعَنْ اِمَامُ صَادِقُ الْیَقِیْن نَجْلُ نَبِیْ الْطَّاہرُ الْاَمِیْن
اور سچے امام ،فرزندِنبی طاہر الامین کی مدد کرتا رہوں گا جو نہایت صادق الیقین ہیں
نَبِیْ صِدْقٌ جَائَ نَا بالْدِّیْن مُصَدِّقاً بالْوَاحِدِ الْاَمِیْن

محمد مصطفٰی جو بالکل سچے نبی تھے اور ہمارے پاس دین لے کر آئے جو یکتا وامین کی تصدیق کرنے والے تھے اس رجز کے بعد آپ نے ایک عظیم حملہ کیا اور پچاس دشمن فی النار کر دیے ۔دایاں ہاتھ کٹنے کے بعد آپ نے مشک وعلم بائیں ہاتھ میں لے لیا اور اسی حال میں دشمن کا انبوہِکثیر موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ دایاں ہاتھ کٹنے سے کافی خون بہنے کے باعث آپ پرشدید ضعف کی کیفیات طاری ہوگئیں ۔حکیم ابن طفیل ،ابان بن دارم اور عبداللہ ابن شہاب کلبی نے چھپ کر ضرب لگائی جس سے آپ کا بایاں ہاتھ قلم ہو گیا ۔(سیدنا عباس کا دایاں ہاتھ کربلا کے بابِبغداد کے شمال مشرق ،قریب بابِصحن روضۂ اقدس اور بایاں ہاتھ روضہ کے چھوٹے دروازے کے جنوب مشرق میں دفن ہیں )،

کٹے رن میں شہنشاہِوفا عباس کے بازو جواں احساس کے بازو حرم کی آس کے بازو
کٹے بازو صداقت کے کٹے بازو نجابت کے کٹے بازومحبت کے کٹے بازو رفاقت کے
کٹے بازو ابوالقربہ کے سقّائے سکینہ کے کٹے بازو ابوالقاسم کے شہبازِمدینہ کے
کٹے بازو وفا کی سرفروشی جانبازی کے کٹے بازو بنی ہاشم کے عہدِسرفرازی کے
کٹے بازو حسین ابنِعلی کی شان وشوکت کے کٹے بازو جگر بندِابو طالب کی ہمت کے
یہ بازو کیا کٹے کٹ کٹ گیا ربطِمسلمانی عدو کی آنکھ سے شرم وحیا کا بہہ گیا پانی

دونوں ہاتھ کٹ جانے پر آپ نے مشکیزہ دانتوں میں دبا لیا اور گھوڑے کو ایڑ دیتے تھے کہ کسی صورت پانی پہنچا سکیں ۔علم کٹے ہوئے بازوؤں کی مدد سے سینے سے لگایا تو چشم فلک کو شہیدِموتہ جعفر طیار کی یاد آگئی۔اس عالم میں بھی آپ نے قدم کی ٹھوکر سے تین سو پچاس دشمن مار گرائے ۔عمر ابنِسعد چلایا ،’’اُرْشَقُوْاالْقُرْبَۃَ بِالْنَّبْل فَوَاللّٰہِ اَنْ شَرَبَ الْحُسَیْنُ الْمَائَ اِقَاکُمْ عَنْ اُخْرجَکُمْ اَمَّاھُوَالْفَارسُ بْنُ الْفَارسْ وَالْبَطْلُ الْمَدَاعِسْ ‘‘، ’’مشکیزے پر تیروں کی بوچھاڑ کر دو اور اس کے ٹکڑے اڑا دو ۔خدا کی قسم اگر حسین نے پانی پی لیا تو تم سب کو فنا کر کے چھوڑیں گے ۔کیا تم نہیں جانتے کہ وہ شہسوارِروزگار علی مرتضٰی کے بیٹے اور جری بہادر ہیں ‘‘۔ابن سعد کا یہ کہنا تھا کہ اشقیاء باؤلے کتوں کی مانند آپ پر ٹوٹ پڑے اور زبردست حملہ کیا ۔آپ نے فرمایا،

یَانَفْسَ لاَ تَخْشَ مِنَ الْکُفَّار وَالْبُشْریٰ برَحْمَۃِ الْجَبَّارْ
اے نفس!کافروں سے مت جھجھک اور خدائے جبار کی رحمت سے خوش ہو
مَعَ الْنَّبِیْ سَیّدَ الْاَبْرَار مَعَ جُمْلَۃِ الْسّادَاتِ وَالْاَطْہَار
جو تمام نیکوں کے سردار نبی مصطفٰی کے ساتھ اور تمام پاک وپاکیزہ نفوس اور سادات کے ساتھ ملے گی

قَدْ قُطِعُوْا بِبَغْیُھُمْ یَسَاریٰ فٰاصَلُھُمْ یَا رَبّ حَرَّ الْنَّار

انہوں نے اپنی بغاوت سے میرا بایاں ہاتھ قطع کیا ۔خدایا!انہیں آگ کی شدت میں جلا دینا
اس عالم میں بھی آپ کو خود سے زیادہ اما م عالی مقام اور آپ کی معصوم دختر سیدہ فاطمہ سکینہ ،سیدنا علی اصغر اور اہل بیتِاطہار کے کم سن بچوں کا خیال تھا ۔ آپ فرماتے تھے ، ’’اَللّٰھُمَّ اِنَّ اَطْفَالُ الْحُسَیْن عَطْشَانٌ ‘‘،’’پروردگار !سیدنا امام حسین کے نونہال پیاسے ہیں ‘‘۔آپ مشک سینہ سے لگائے ہر ممکن کوشش کرتے تھے کہ کسی نہ کسی صورت پانی خیمہ تک پہنچ جائے ۔ناگاہ حرملہ بن کاہل اسدی نے تیر ستم چلایا جو مشک میں پیوست ہو گیا ۔ مشک کا پانی سیدنا عباس کے خونِاقدس میں ممزوج ہو کر بہنے لگا ۔زخموں سے خون بہتا تھا تو آنکھوں سے آنسو۔تیر لگنے اور پانی بہہ جانے کے بعد آپ کی خیمہ تک جانے کی کوشش رُک گئی ۔اسی دوران ایک تیر آکر آپ کے سینہ میں لگا ۔آپ زینِرہوار پہ ڈگمگا رہے تھے کہ ایک اور تیر آکر آپ کی دائیں آنکھ میں پیوست ہو گیا ۔یکایک نوفلِارزق تمیمی نے آپ کے سر اقدس پر آہنی گرز دے مارا ۔سیدنا عباس کی صدا بلند ہوئی ،’’ یَاابَاعَبْدِاللّٰہْ عَلَیْکَ مِنِّیْ اَلْسَّلاَم‘‘، سلام اے وارثِتاجِامامت ظلِسبحانی سلام اے راکبِدوشِنبی محبوبِیزدانی
یہ صد اسن کر صابر کربلا دھاڑیں مار کے رو دیے ۔امام عالی مقام کی آہ وزاری سے زمین وآسماں تھرتھرا اٹھے ۔آپ نے فرمایا،’’اَلْاٰنْ اَنْکَسَرَظَہْریْ وَقَلَّتْ حِیْلَتِیْ‘‘، ’’میری کمر ٹوٹ گئی اور راہ مسدود ہو گئی ‘‘۔پھر آپ نے روتے ہوئے فرمایا ،

تَعْدَیْتُمْ یَا شَرَّ قَوْمٍ بفِعْلُکُمْ وَخَالَفْتُمْ قَوْلَ الْنَّبِیُّ مُحَمَّدْ
اے بدترین قوم !تم نے اپنے فعل سے ظلم کیا اور جناب محمد مصطفٰی کی مخالفت کی
اَمَا کَانَ خَیْرُالْرُّسَل وُصَّاکُمْ بنَا اَمَا نَحْنُ مِنْ نَسَل الْنَّبِی الْمُسَدَّدْ
کیا خیر الرسل نے ہمارے بارے میں وصیت نہ کی تھی ؟کیا ہم نبی برحق کی نسل سے نہیں ہیں ؟
اَمَا کَانَتِ الْزَّھْرَائُ اُمِّیْ دُوْنَکُمْ اَمَا کَانَ مِنْ خَیْر الْبَریَّۃِ اَحْمَدْ
کیا فاطمہ زہرا میری ماں نہ تھیں ؟ کیا وہ خیر البریہ احمد مجتبیٰ کی صاحبزادی نہ تھیں ؟
لَعَنْتُمْ وَ اَخْزَیْتُمْ بمَا قَدْ جَئَیْتُمْ فَسَوْفَ تَلاَقُوْا حَرَّ نَارٌ تُوْقَدْ

تم نے جو گناہ کیا اس پر لعنت ہوئی تم پر اور تم ذلیل ہوئے اور عنقریب دوزخ کی بھڑکتی آگ میں ڈال دیے جاؤ گے
آپ انتہائی سرعت سے سیدنا عباس کی جانب بڑھے اور راستے میں ستر دشمن فی النار کرتے حضرت عباس کے کٹے ہاتھ اٹھا کرآغوشِاطہرمیں لیے قریب پہنچے تو دیکھا کہ چشمانِمبارک میں سات تیر اجر موَدَّت ادا کر رہے ہیں ۔امام حسین نے تیر نکال کرآہ وفغاں کرتے فرمایا ،

کَسَرُوْا بقَتْلِکَ ظَھْرَ سِبْطِ مُحَمَّدْ وَبکَسْرہِ انْکَسَرَتْ قُوَّی الْاَسْلاَم
قَطَعُوْا بقَطْع یَدَیْکَ اَیْدِیْ الْسِّبْط وَالْقَطَعَتْ بہِ اَیْدِیْ الْنَّبِیْ الْسَّامِیْ

عباس!دشمنوں نے آپ کو قتل کر کے حسین کی کمر توڑ دی اور حسین کی کمر ٹوٹنے سے اسلام کی کمر شکستہ ہوئی
آپ کے ہاتھ کاٹ کر حسین کے ہاتھ کاٹ دیے گئے اور دست حسین قطع ہونے سے نبی اللہ (حضرت محمد مصطفٰی )کے ہاتھ کٹ گئے
امام حسین نے کوشش کی کہ آپ کا جسدِاقدس اٹھا کر خیام میں لے جائیں ۔حضرت عباس نے یہ محسوس کیا تو التجا کی ،’’ یَااَخِیْ بحَقّ جَدِّکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ عَلَیْکَ اَلاّ تَحْمِلَنِیْ وَدَعْنِیْ فِیْ مَکَانِیْ ھٰذَا لِاَنِّیْ مُسْتَحْیٍمِنْ اِبْنَتِکَ سَکِیْنَۃ‘‘،’’برادرِعزیز !آپ کو آپ کے جد رسول اللہ کا واسطہ مجھے خیمے میں نہ لے جائیں کہ مجھے آپ کی دختر سکینہ سے حیا آتی ہے ‘‘۔امام حسین نے یہ سن کر فریاد وفغاں کرتے فرمایا ،
اَخِیْ یَانُوْرُ عَیْنِیْ یَا شَقِیْقِِیْ فَلَیَّ قَدْ کُنْتَ کَاالْرُّکْن الْوَثِیْق
اے میرے بھائی !میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے چین ۔آپ میری زندگی کے لیے ایک مستحکم رکن کی حیثیت رکھتے ہیں
اَیَااِبْنُ اَبِیْ نُصَیْحَتُ اَخِیْکَ حَتّٰی سَقَاکَ اللّٰہ کَاساً مِّنْ رَّحِیْق
برادر !آپ نے اپنے بھائی کا ساتھ اس طرح دیا کہ اللہ نے آپ کو جام سے سیراب کر دیا
اَیَا قَمْراً مُنِیْراً کُنْتَ عَوْنِیْ عَلیٰ کُلّ الْنَّوَائِبِفِیْ الْمَضِیْق
اے ماہِمنیر !آپ نے ہر مصیبت وتنگی میں میری مدد کی ہے
فَبَعْدُکَ لاَتُطَیّبْ لَنَا حَیٰوۃٌ سَنَجْمَعُ فِیْ الْغَدَاۃْ عَلَی الْحَقِیْق
میں آپ کے بعد زندگی پسند نہیں کرتا ۔عنقریب ہم بارگاہِاحدیت میں جمع ہو جائیں گے
اِلیَ اللّٰہَ نَشْکُوْا وَصَبْریْ وَمَا الْلِقَائِ مِنْ ظِھَا وَضِیْق
ہماری صبر وشکیبائی کا مرکز اور تنگی وترشی کا ماویٰ ذاتِباری ہے ۔ہمیں اسی پہ بھروسہ کرنا ہے
اسی دوران سیدنا عباس کی مقدس روحِمبارک زندانِدنیا سے گلزارِعقبیٰ وملکوتِاعلیٰ کو پرواز کرتے عازم فردوسِبریں ہوئی کہ آپ کا سر انو ر نواسۂ رسول کے زانو پر تھا ،
نگاہیں محوِنظّا رہ رہیں اور سو گئے عباس دوائے دردِدل پا کر روانہ ہو گئے عباس
امام عالی مقام آستین کے ساتھ آنسو پونچھتے وصیت کے پیش نظر جسدِمقدس کو وہیں چھوڑ کر بعالم مایوسی ،انکساری ویاس تشریف لائے کہ رخسار آنسوؤں سے شرابور تھے اور آپ جسدِ بے روح نظر آتے تھے ۔

سیدہ ام البنین کا مرثیہ

اسد الحسین کی والدۂ معظمہ سیدتنا ام البنین ان رثائی اشعار میں اپنے لخت جگر کو یاد فرمایاکرتیں جنہیں سن کر فرعون خصلت مروان بن حکم جیسا شقی ،سنگدل شیطان بھی رودیا کرتا ،
یَامَنْ رَایَ الْعَبَّاسَ کَرَّعَلیٰ جَمَاھِیْرالْنَّقَدِ وَوَرَاہُ مِنْ اَبْنَائِ حَیْدَرَکُلُّ لَیْثٍ ذِیْ لَبَدٍ
اَنْبِئْتُ اَنَّ اِبْنِیْ اُصِیْبَ برَاسِہِ مَقْطُوْعَ یَدٍ وَیْلِیْ عَلیٰ شِبْلِیْ اَمَالَ برَاسِہِ ضَرْبُ الْعَمَدِ
لَوْکَانَ سَیْفُکَ فِیْ یَدَیْکَ لَمَادَنٰی مِنْہُ اَحْدٌ
اے وہ شخص جس نے عباس کو ٹڈی دل لشکروں پہ حملہ آور دیکھا اور ان کے علاوہ شیر خدا کے ایسے بیٹوں کو حملہ کرتے دیکھا جن میں سے ہر ایک شیر بیشۂ شجاعت ہے
مجھے بتلایا گیا کہ میری رگِجاں سے قریب تر فرزند کا سر دونوں ہاتھوں سمیت کاٹا گیا ۔صدافسوس !میرے شیر کا سر آہنی گرز کی ضرب سے مجروح ہو گیا
بخدا اگرآپ کے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو کوئی آپ کے قریب نہ پھٹکتا
لاَ تَدْعُوْنِیْ وَیْکِ اُمّ الْبَنِیْنَ تُذَکِّریْنِیْ بِلُیُوْثِ الْعَریْنَ
مجھے ام البنین کہہ کر نہ پکارو کہ اس ذکر سے مجھے شیر دل بچے یاد آجاتے ہیں
کَانَتْ بَنُوْنَ لِیْ اُدْعٰی بِھمْ وَالْیَوْمَ اَصْبَحْتُ وَلاَ مِنْ بَنِیْنَ
جب میرے بیٹے تھے تو میں اس نام سے پکارے جانے کی مستحق تھی مگر افسوس کہ آج میرا کوئی فرزند باقی نہیں
اَرْبَعَۃٌ مِثْلُ نُسُوْرِ الْرُّبٰی قَدْ وَاصَلُوْا الْمَوْتَ بقَطْع الْوَتِیْنَ
میرے چار جلیل الشان بیٹے جو رگِگردن کٹا کر موت سے واصل ہوئے
تَنَازَعَ الْخِرْصَانُ اَشْلاَئَھُمْ فَکُلُّھُمْ اَمْسٰی صَریْعاً طِعِیْنَ
ان بیٹوں کی اس طرح شہادت ہوئی کہ بھوک وپیاس سے ان کے جوڑ بند خشک ہو گئے تھے
یَالَیْتَ شِعْریْ اَکَمَا اَخْبَرُوْ باَنَّ عَبَّاساً قَطِیْعُ الْیَمِیْنَ
کاش کوئی مجھے صحیح صحیح بتا دیتا ۔کیا سچ مچ عباس کے ہاتھ شمشیر سے کاٹے گئے؟
شاہِ جنات کا استغاثہ
سیدنا ابالفضلِالعباس باب الحوائج ہیں ۔ آپ کی بارگاہ سے توسل اوراستمدادانتہائی سریع وقوی الاثر ہے ۔شہنشاہِجنات جناب زعفر بن راحیل امورِ سلطنت میں متحیر ہو جاتے تو ان الفاظ میں استغاثہ کیا کرتے ،
یَا وَالَیْنَا یَا وَلِیَ اللّٰہْ اَغِثْنِیْ یَا قُرَّۃَ عَیْنِاَسَدُاللّٰہْ اَغِثْنِیْ
قَدْجئْتُ اِلیٰ بَابِکَ لِلّٰہْ اَغِثْنِیْ اِرْحَمْ لِنَبِیْ لِیَدُاللّٰہْ اَغِثْنِیْ
مَنْ کَانَ سِوَاکَ مَلِکَ الْجِنَّۃَوَالْنَّاسْ لاَوَالِیْنَاغَیْرُکَ یَاحَضْرتِ عَبَّاسْ
اے ہمارے مولا اللہ کے ولی! میری مدد کیجیے ۔ اے اسد اللہ کے نورِچشم میری مدد کیجیے
آپ کے دروزے پہ آن گرا ہوں خدا کے لیے میری مدد کیجیے ۔ نبی اللہ کا واسطہ مجھ پہ رحم کیجیے ،ید اللہ کا واسطہ میری مدد کیجیے
آپ کے سوا جن وانس پہ کس کی حکمرانی ہے ؟ یاحضرتِ عباس !آپ کے سوا ہمارا کوئی یاورومددگار نہیں

ڈاکٹر مخدوم پیر سید علی عباس شاہ

SHARE

LEAVE A REPLY