کویت میں 28 جون کو الزھرا جمیعہ میں پاکستان بزنس کونسل اور سفارت خانہ پاکستان کے اشتراک سے ایک خوبصورت یادگار مینگو فیسٹیول آل میلہ کا انعقاد کیا گیا

پاکستان سے معروف ادبی شخصیت اور پی ٹی وی کی اینکر افشاں ملک خصوصی دعوت پر کویت تشریف لایئں ۔ مختلف ممالک کے سفیر اور کویت میں مقیم پاکستانی اور غیر ملکی خواتین۔ و حضرات کی کثیر تعداد نے پاکستان سے پھلوں کے بادشاہ آم کی خریداری میں بہت دلچسپی لی

زھرا جمیعہ کے منیجر جو پاکستان سے بہت محبت کرتے ھیں اور جب بھی پاکستانی پروڈکٹ کی نمایش کا اھتمام کیا جاتا ھے وہ ذاتی دلچسپی سے اس کو یادگار بنا دیتے ھیں دو سال قبل بھی پاکستان بزنس کونسل کے روح رواں جناب حافظ شبیر نے پاکستانی مصنوعات کو متعارف کرایا جس کو کویتی اور دیگر عرب قومیت کے لوگوں نے بہت پسند کیا تھا

کویت میں پاکستان کے سفیر عزت ماب جناب غلام دستگیر صاحب نے اس خوبصورت نمائش کا افتتاح کیا اور پاکستان بزنس کونسل کی جذبہ حب الوطنی کو بہت سراھا اور اس اقدام کو بہت خوش آئند بات قرار دیا

پاکستان میں مختلف اقسام کے آم پائے جاتے ہیں جو اپنے ذائقے کی بدولت دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ دسہری، چونسا، سندھڑی، فجری، دیسی اور الماس مارکیٹوں میں آنے کو ہیں۔ پاکستان میں پھلوں کے بادشاہ آم کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔

پہلا نمبر آتا ہے “دُسہری” لمبوتر، چِھلکا خوبانی کی رنگت جیسا باریک اور گودے کے ساتھ چِمٹا ہوتا ہے۔ گودا گہرا زرد، نرم، ذائقےدار اور شیریں ہوتا ہے۔

جب کہ “سِندھڑی” کا سائز بڑا، چِھلکا زرد، چکنا باریک گودے کیساتھ ہوتا ہے، گودا شیریں، رس دار اور گُٹھلی لمبی اور موٹی ہوتی ہے۔

دوسری جانب “چونسے” کا ذائقہ تو اپنی مثال آپ ہے یہ آم کی لاجواب قسم ہے جو دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے چونسا کا چھلکا درمیانی موٹائی والا مُلائم اور رنگت پیلی ہوتی ہے۔ اس کا گودا گہرا زرد، نہایت خوشبو دار اور شیریں ہوتا ہے۔ اِس کی گُٹھلی پتلی لمبوتری، سائز بڑا اور ریشہ کم ہوتا ہے۔

سب سے مقبول “انور رٹول” کا سائز درمیانہ ہوتا ہے۔ چِھلکا چِکنا اور سبزی مائل زرد ہوتا ہے، گودا بے ریشہ، ٹھوس، سُرخی مائل زرد، نہایت شیریں، خوشبودار اور رَس درمیانہ ہوتا ہے۔

اور یہ “لنگڑا” نہ جانے کیوں اسے لنگڑا آم کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ لنگڑا مختلف سائز کا ہوتا ہے، اس کا چِھلکا چِکنا، بے حد پتلا اور نفیس گودے کے ساتھ چِمٹا ہوتا ہے، گودا سُرخی مائل زرد، مُلائم، شیریں، رَس دار ہوتا ہے۔،

اور یہ ہیں جی “الماس” جس کی شکل گول ہوتی ہے اور سائز درمیانہ، چِھلکا زردی مائل سُرخ، گودا خوبانی کے رنگ جیسا مُلائم، شیریں اور ریشہ برائے نام ہوتا ہے، گولا شکل و صورت میں بھی گول ہوتا ہے۔ سائز درمیانہ، چِھلکا گہرا نارنجی اور پتلا ہوتا ہے۔ گودا پیلا ہلکا ریشے دار اور رسیلا ہوتا ہے۔

مالدا سائز میں بہت بڑا ہوتا ہے، مگر گُٹھلی انتہائی چھوٹی ہوتی ہے۔ سہارنی سائز میں درمیانہ اور ذائقہ قدرے میٹھا ہوتا ہے

شاہین اشرف علی

SHARE

LEAVE A REPLY