پاکستان کی قومی اسمبلی میں گالیاں اور دھینگا مُشتی

0
179

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان اور وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی دست و گریباں ہوگئے جس کے بعد مجبوراً اسپیکر کو کارروائی معطل کرنی پڑی۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شہریار آفریدی اور پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی آپس میں لڑ پڑے جس کے بعد دیگر ارکان اسمبلی بھی اس جھگڑے میں کود پڑے اور ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا۔

اس کے بعد اسمبلی کے اندر اپوزیشن کے ارکان نے احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں ہنگامہ اس وقت بڑھا جب اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پانچ ارکان نے اسپیکر سے وزیراعظم کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرانے کی اجازت مانگی۔

اسمبلی میں شاہ محمود قریشی خطاب کررہے تھے کہ اس دوران مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے دیگر ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی اپنی نشست سے اٹھ کر شاہ محمود قریشی کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی پارٹی کے ارکان کو قابو میں رکھیں۔

جب پی ٹی آئی کے بینچز سے نعرے بازی کا سلسلہ نہ رکا تو شاہد خاقان عباسی دوبارہ شاہ محمود قریشی کے پاس گئے تاہم وہ ان سے بات نہ کرسکے کیوں کہ پی ٹی آئی کے ارکان بیچ میں آگئے۔

تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کا دعویٰ ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے پارٹی چیف عمران خان کے خلاف نازیبا جملے استعمال کیے جس پر معاملہ بگڑا۔

ارکان قابو سے باہر ہوئے تو اسپیکر نے سیکیورٹی گارڈز کو بلایا جبکہ ارکان اسمبلی نے ایک دوسرے پر مکے بھی برسائے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے ارکان کو پرامن رہنے کی اپیل کی تاہم نہ ماننے پر اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی 15 منٹ کے لیے معطل کردی گئی۔

بعد ازاں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آوٹ کردیا جبکہ اسمبلی کے باہر پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو بھی کی۔

شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کا ذمہ دار حکومتی وزیر کو قرار دیا اور ان پر تحریک انصاف کے ارکان پر حملے کا الزام عائد کیا جبکہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ذمہ داری پی ٹی آئی پر عائد کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘میں نے اسپیکر سے درخواست کی کہ وہ تحریک استحقاق پیش کرنے والے ہر رکن کو بولنے کے لیے دو دو منٹ دے دیں جس کے بعد حکومت اپنا موقف پیش کردے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے فلور پر اپنا بیان دیا تھا لیکن ان کے وکیل اس سے انحراف کررہے ہیں’۔

شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومتی ارکان کا رویہ پارلیمانی اقدار کے خلاف تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ دسمبر میں بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان جھڑپ ہوگئی تھی۔

اس وقت بھی جب اسپیکر کی جانب سے حکومتی بینچ سے وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کو بولنے کی اجازت دی گئی تو اپوزیشن بینچوں میں موجود پی ٹی آئی کے ارکان نے ہنگامہ آرائی شروع کردی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY