سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک،یاسر رفیق) بھارت کے زیر انتظام کشمیر  ضلع بڈگام کے علاقوں میں ری پولنگ

کے دوران 2 فیصد ووٹ ڈالے گے۔وادئ کشمیر میں سری نگر کی پارلیمانی نشست کے لئے وسطی ضلع بڈگام کے 38 پولنگ اسٹیشنوں پر جمعرات کو سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان دوبارہ پولنگ (ری پولنگ) ہوئی جہاں سرکاری ذرائع کے مطابق 35 ہزار 169 رائے دہندگان میں سے صرف 709 رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ 38 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی شرح محض 2 فیصد رہی۔

ایک رپورٹ کے مطابق 38 میں سے 27 پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔کشمیر انتظامیہ نے ضلع بڈگام میں ری پولنگ کے دوران کسی بھی طرح کے ناخوشگوار واقعات کو ٹالنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری  تعینات کردی تھی جس کی وجہ سے پورا ضلع بڈگام ایک بڑی فوجی چھاونی کا منظر پیش کررہا تھا۔ہر پولنگ والے علاقوں کی سڑکیں سنسان نظر آرہی تھیں اور ان پر خال خال ہی کوئی راہگیر چلتا ہوا نظر آرہا تھا

kashmir badgam polling 2

تاہم سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود ضلع بڈگام میں چند ایک مقامات بشمول نصراللہ پورہ، بیروہ اور سویہ بگ میں   مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے آنسوں گیس کی شیلنگ اور پیلٹ گنوں سے فائرنگ کی۔شیلنگ اور فائرنگ سے متعدد لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY