آج ایک طویل عرصے کے بعد پھر محترم تنقید شاہ جی کا نزول ہوا آتے ہی ایک فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے طنز کے تیر برسانے لگے ہاں بھی یہ تم صحافی قسم کے لوگ ہمیں عید کرنے دو گے یا نہیں؟ ڈرتے ڈرتے پوچھا کیوں شاہ جی ایسی کیا گستاخی سرزد ہو گئی ہم ناچیز صحافیوں سے؟ بولے اس کا مطلب ہے آج کل تم ٹی وی نہیں دیکھ رہے جب ٹی وی آن کرو کشمیر میں یہ ہو گیا کشمیر میں وہ ہو گیا ارے بابا کوئی نصیبو لال کا گانا لگاو ، کوئی میگا کا ڈانس دکھاو ، کوئی دھوم دھڑکا کرو عید کا تہوار ہے اوپر سے پیارے وطن کا یوم آزادی، ناچو، گاو، خوشیاں مناو مگر سارے کا سارا میڈیا رونی صورتیں بنائے کشمیر کشمیر کیئے جا رہا ہے دوبارہ عرض کیا شاہ جی کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی بھی تو بہت ہوئی ہے شاہ جی نے حیرت سے پوچھا اچھا کیا ہوا ؟ میں نے کہا شاہ جی مکار دشمن مودی نے اچانک اپنے آئین سے آرٹیکل 370 اور 35A کو نکال کر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے یہ نہ صرف کشمیریوں کے ساتھ کیئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی صریحا خلاف ہے اس طرح بھارت کشمیری عوام کو ان کے استصواب رائے کے حق سے محروم رکھنا چاہتا ہے شاہ جی نے اپنی مکاری کو معصومیت میں بدلتے ہوئے پوچھا یہ اقوام متحدہ نے قراردادیں کب منظور کی تھیں ؟ عرض کیا 1948 میں ، شاہ جی فورا بولے اس کا مطلب ہے 71 سال ہو گئے اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل نہیں کروا سکا بھولے بادشاہو جو 71 سالوں میں کچھ نہیں کر سکا اب کیا کر لے گا اس لئے چھوڑو رونے دھونے کو کم از کم ہمیں تو عید کرنے دو-
سچی بات تو یہ ہے کہ تنقید شاہ جی کی دلیل سننے کے بعد دل تو میرا بھی یہی چاہ رہا تھا کہ عارف لوہار کا کوئی گانا لگاوں اور ڈیک کا پورا والیم کھول کر بھنگڑا ڈالوں اور بھرپور انداز میں عید کی خوشیاں مناوں مگر پھر کہیں اندر سے آواز آئی اے بے حس انسان کیا تم ان 22 کشمیری مسلمانوں کی لازوال قربانی کو بھول گئے جنہوں نے عبدالقدیر کے مقدمے کی سماعت کے دوران جیل کے باہر اللہ کے گھر کی طرف بلاوے کی آواز ( اذان ) کو مکمل کرنے کے لئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر جانوں کے نذرانے پیش کر دیئے مگر اذان مکمل کر کے چھوڑی جب یہ تاریخی واقعہ میں نے شاہ جی کے گوش گزار کیا تو بولے دیکھ لو انہوں نے بھی اللہ پاک کے احکامات کی تعمیل کی تھی ہم بھی تو اللہ پاک کے دیئے ہوئے انعام سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں اس لئے دلیلیں مت دو اور ہمیں عید منانے دو –
محترم شاہ جی کو کون بتائے کہ جنت نظیر ارض وطن کی غاصب بھارت سے آزادی کے لئے میرے کشمیری بہن بھائی ایک لاکھ سے زائد جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں اس طرح آج مقبوضہ کشمیر میں شائید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس کا کوئی ایک فرد مادر وطن پر قربان نہ ہو چکا ہو ہزاروں ماوں ، بہنوں اور بیٹیوں کے سروں کے آنچل تار تار ہو چکے ہیں ہزاروں بہنیں اور بیٹیاں بھارتی درندوں کے ہاتھوں اپنی روحوں کو داغ دار کروا چکی ہیں پیلٹ گنوں سے نکلنے والے چھرے ہزاروں معصوموں کو بینائی کی نعمت سے محروم کر چکے ہیں چھلنی جسم ہزاروں کی تعداد میں اسپتالوں میں کرب سے دوچار ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بابائے قوم حضرت قائد اعظم نے بھی کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ فرمایا تھا بھلا کوئی قوم شہہ رگ کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے جب ناچیز نے ہمت کر کے یہ تمام باتیں شاہ جی محترم کے سامنے رکھیں تو انتہائی ڈھٹھائی سے بولے بات تو ہم دونوں ایک ہی کر رہے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ تم شہہ رگ کو بچانا چاہتے ہو جب کہ میں بکرے کی شہہ رگ کاٹ کر اسے اللہ کے رستے میں قربان کرنا چاہتا ہوں اس لئے براہ مہربانی اپنا یہ لیکچر بند کرو اور نہ صرف ہمیں عید منانے دو بلکہ خود بھی ہماری خوشیوں میں شریک ہو جاو-
میں نے نیم رضامندی سے مردہ سی آواز میں کھوکھلا سا احتجاج کرتے ہوئے کہا شاہ جی آپ خود سوچیں کیسے خوشیاں منا سکتے ہیں جب ہمارے بہن بھائی ظلم و استبداد کی چکی میں پس رہے ہوں ان کے تمام حقوق غصب کر لئے گئے ہوں اب تو ان سے ان کی شناخت بھی چھین لینے کی جسارت کی جا رہی ہے ہزاروں لاکھوں ہندووں کو کشمیر میں آباد کر کے کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے گا یوں اس گھناؤنی سازش کے تحت مکار مودی کشمیر میں استصواب رائے کا فیصلہ بھی اپنے حق میں کروا لے گا کیا ایسے میں تمام امت مسلمہ کو اٹھ نہیں کھڑا ہونا چاہیے کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتی اور نا انصافی کے خلاف پوری دنیا میں آواز بلند کریں شاہ جی نے اپنے اندر کی تمام تلخی اپنے لہجے میں لاتے ہوئے انتہائی کڑوے انداز میں کہا بالکل ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم آواز بلند کریں بالکل ویسے ہی جیسے ہم گذشتہ 72 سال سے کشمیر، فلسطین، چیچنیا، بوسنیا اور دیگر ممالک کی حمایت میں آواز بلند کرتے چلے آ رہے ہیں کرتے رہو آواز بلند مگر یاد رکھنا نقارخانے میں طوطی کی کوئی نہیں سنے گا میری اور تمہاری دادرسی کے لئے کوئی آگے نہیں بڑھے گا کوئی ہماری آواز میں آواز نہیں ملائے گا ہر ایک کے اپنے اپنے مفادات ہیں اگر کوئی آواز اٹھے گی بھی تو کمزور سی بس خانہ پری کے لئے ، میری بات یاد رکھوصحافی تمہارے صفحے کالے کرنے سے کچھ بھی نہیں ہونے والا اس لئے چھوڑو اس مسئلہ کو اور ہمیں عید کرنے دو –
شاہ جی محترم کی گفتگو کے بعد میری چشم تصور نے وہ مناظر دیکھے کہ پاکستان کے ہر شہر کی مارکیٹوں میں خریداروں کا رش ہے رنگ برنگے لباس خریدے جا رہے ہیں قربانی کے لئے مہنگے سے مہنگا جانور خریدا جا رہا ہے ان جانوروں کے ساتھ مرد و زن سلفیاں بنا رہے ہیں اور یہ سلفیاں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے شو ماری جا رہی ہے فی الوقت تو ہمیں اپنی قربانی کی پڑی ہے جب اس قربانی سے فراغت پا لیں گے تو کشمیری بہن بھائیوں کی کشمیر بنے گا پاکستان کے لئے دی جانے والی قربانیوں کے حوالے سے سوچیں گے تنقید شاہ جی ٹھیک کہتے ہیں فی الحال تو ہمیں عید کرنے دیں…!

SHARE

LEAVE A REPLY