تدفین سے انکاردیرسے سہی مگرجرات مندانہ فیصلہ۔ماہ پارہ صفدر

0
519

مانچسٹرکی سب سے بڑی جامع مسجد کی انتظامیہ نے صلاح مشورے کے بعد خودکش بمبار لیبیا کے سلمان ال عبیدی کی نماز جنازہ پڑھانے اور تجہز و تکفین کے انتظامات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ جبکہ مانچسٹر کی بلدیہ نے شہر کے کسی قبرستان میں دفنانے کی اجازت دینے سے منع کردیا ہے۔ عبیدی کی باقیات کو بھی حملے میں دوسرے ہلاک ہونے والوں سے بلکل الگ تھلگ مانچسٹر سے باہر کسی مردہ خانے میں رکھا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے مانچسٹر میں موسیقی کے ایک شو کے اختتام پر کیے جانے والے اس دہشت گرد حملے میں بائیس نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ ایک ہلاک ہونے والی بچی کی عمر صرف آٹھ برس تھی۔

شائد یہ پہلا موقع نہیں جب کسی مسلمان کی تجہز و تکفین کو منع کیا گیا ہو، اس سے پہلے سعودی عرب نے اپنے شہری القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی لاش لینے سے انکار کردیا تھا۔ جس کے بعد انکے لاش کو سمندر برد کردیا گیا تھا، نہ نماز جنازہ، نہ تد فین۔
وہ جو کہا جاتا ہے نا مر گئے مردود نہ کوئی فاتحہ نہ درود۔ دنیا سے جانے والے کسی شخص کے لیے یہ حقارت اور تذلیل کا انتہائی اظہار ہے۔

سعودی حکومت تو خیراسامہ بن لادن کی شہریت منسوخ کرچکی تھی، جوانسانی حقوق کے بنیادی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کا پورا خا ندان سعودی عرب کا شہری ہے اور اچھے تاجر خاندانوں میں سے ہے۔ انھوں نے اسامہ کی تجہیز و تکفین کو اپنا مذہبی فریضہ کیوں نہیں سمجھا، اگر وہ یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ اسامہ کا جنازہ اس لیے نہیں پڑھا گیا کہ وہ اسلام کے راستے سے ہٹ گئے تھے، تو یہ پیغام کہیں نہیں پہنچا کیونکہ اسے ایک سیاسی فیصلہ سمجھا گیا۔

عالم اسلام میں نہ صرف اس واقعے پر خاموشی رہی، بلکہ اسلامی ملکوں سمیت امریکہ اور یورپ بھر میں کوئی دوعشروں سے خودکش بمبار حملوں کا سلسلسہ جاری ہے۔ جس میں بے گناہ انسانوں کا خون بہایا جارہا ہے، اس پر بھی عالم اسلام کی جانب سے شدید رد عمل نہیں دیکھا گیا۔ البتہ ایسے کسی حملے کے بعد مقامی مسلمان میڈیا پرآکر زبانی کلامی مذ مت کردیتے ہیں اور بس۔ پا کستان میں جہاں برسوں سے دہشت گردی کے بڑے بڑے حملے ہوتے رہے ہیں، عمومی طور پر کہا جاتا ہے یہ کام کسی مسلمان کا نہیں ہو سکتا اور یہ کہ اسلام امن کا دین ہے، اسلام میں ایک بیگناہ کو ہلاک کرنا یوری انسانیت کا قتل ہے، خود کش حملے کرنے والے گمراہ افراد ہیں وغیرہ وغیرہ، اس مرتبہ مانچسٹر میں بھی مساجد کے اماموں نے سب کے سامنے کچھ اسی قسم کے الفاظ ادا کیے۔ ظاہر ہے کہ موجودہ منظر نامے میں اب ان الفاظ کی نہ کوئی اہمیت رہ گئی ہے اور نہ ہی مغربی دنیا کے امن پسند شہری محض لفاظی کو تسلیم کرنے کو تیار ہے۔

سوال یہ ہے کہ مساجد کی سطح پر امام، مسلم دانشوروں اور مسلم قائدین نے متحد ہوکر سر جوڑ کر بیٹھنے کی کوشش کیوں نہیں کی کہ خود کش بمبار جیسے انسانیت کے قاتلوں سے نفرت کے اظہار کے لیے کیا صرف مذمت کردینا کافی ہے یا اس سے آگے بڑھ کر سنجیدگی سے کپھ ایسے عملی اقدامات کیے جانے چائیں، جن سے یہ ظاہر ہوسکے کہ عام مسلمان واقعی ہی دہشت گردی کو اپنے مذہب کے منافی اور قابل نفرین سمجھتا ہے۔

مگر لگتا یوں ہے کہ جیسے اس موضوع پر بات کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ کہ کہیں یہ ذکر بھی نہ آجائے کہ خود کش بمباروں کی نرسریاں کہاں اگائی جارہی ہیں، کس کی مد د سے اور کیوں۔

مسلمانوں میں ایک عمومی سوچ یہ بھی ہے کہ مسلمان چاہے کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو اس کی تجہیز و تکفین ان کا مذہبی فریضہ ہے کہ مرنے کے بعد معاملہ بندے اور خدا کے درمیان ہوتا ہے، اب سزا و جزا اللہ کے ہاتھ ہے ۔

اس منظر نامے میں مانچسٹر کے خود کش حملے کے بعد امام مساجد کا سلمان عبیدی کی نماز جنازہ اور تد فین سے انکار کا فیصلہ دیر سے سہی، مگر جرات مندا نہ ہے، جس سے کم از کم مانچسٹر شہر میں مسلمانوں کی جانب سے یہ پیغام جائیگا کہ خودکش بمبار جیسا انسانیت کا دشمن مسلمان تو کجا انسان کہلانے کے بھی اہل نہیں۔

ماہ پارہ صفدر

SHARE

LEAVE A REPLY