کہتے ہیں کہ فیصلے کو کچھ دن موئخر کر دیا جائے ،ہم نے فورا` ساری دنیا کی عدالتوں کا ایلیکٹرانک چکر لگا لیا کہ کن کن ممالک میں ایسا ہوا ہے لیکن ہمیں کہیں کوئی ایسی بات نہیں ملی کہ ملزم کہے کہ جب میں کہوں جب فیصلہ سنانا ہمیں تو ترازو کا باٹ والا پلڑہ ہچکولے لیتا نظر آرہا ہے ،کاش ہم غلط ہوں بلکہ ہماری خواہش ہےکہ ہم غلط ہوں ۔کیونکہ نواز صاحب خود اپنے ہاتھوں اپنے فیصلوں سے یہاں تک پہنچے ہیں اگر شروع ہی میں استعفیٰ دے کر مقدمے کاسامنا کرتے تو شاید نہ اتنی خفت اُٹھانی پڑتی اور نہ ہی یہ دن دیکھنے پڑتے ۔لیکن ہمارے ترازو بردار کب کیا تول دینگے ہمیں نہیں پتہ ۔کیونکہ جب وہ ایلیکشن سے پہلے کسی بھی چھینٹے زدہ کو پکڑنے کو تیار نہیں تو ہم کیا کہیں ۔
ہماری پاک کتاب میں ناپ اور تول میں کمی پر بڑی سخت وعید دی گئی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ناپ تول صرف چیزوں کا نہیں ہے بلکہ انصاف کا بھی ہے کہ جہاں کمی ہوگی وہاں پکڑ بھی ہوگی ۔نیب نے کہا ہے کہ ایلیکشن سے پہلے گرفتاریاں نہ کی جائیں کیوں ؟؟ یہ کہاں کا فیصلہ ہے ۔ کیا اآپ خود نہیں چاہتے کہ ملک میں بے ایمانی اور دھوکے کا خاتمہ ہو ۔جب یہ ادارے جن سے ہمیں امید ہے کہ ناپ میں کمی کرینگے نہ ہی کم تولینگے ۔ جب انکی طرف سے ایہسے بیانات آتے ہیں تو ہمیں کہیں اندر بہت سخت تکلیف ہوتی ہے ۔بلا شک کسی بھی معصوم پر کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہئے لیکن جن کے مقدمے اتنے صاف اور کھلے ہیں جو پیشیاں بھگت رہے ہیں انہیں تو کم از کم ایلیکشن سے دور رکھا جانا چاہئے، تاکہ صاف ستھرے لوگ اآگے اآسکیں یا ہم سارے ہی اس نظام کی خامیوں کو بڑھاوا دینے میں شامل ہونا چاہتے ہیں ہمیں اس بیان پر سخت ندامت ہوئی ۔ نیب کو چاہئے کہ اُن اینکرز سے ہی ثبوت مانگ لے جو دِن رات اپنے پروگراموں خواجہ،چودہری،رانا اور شُرفاء کے خلاف کاغزات دکھاتے ثبوت دیتے نظر آتے ہیں ۔تاکہ ان کا ہی پول کھُل جائے کہ انکی خبریں کتنی مستند ہیں ۔تاکہ ہم جو ہر ایک کو وطن سے پیار کرنے والا وطن کا بہی خواہ سمجھتے ہیں ہماری سوچ کے غبارے سے تو ہوا نکلے ۔
ہمارے ترازو کے پلڑے کبھی ایک طرف جھکتے ہیں کبھی دوسری طرف کبھی باٹ زیادہ ہو جاتے ہیں کبھی تولی جانے والی جنِس زیادہ ہو جاتی ہے ۔جیساکہ ہم نیب میں دیکھ رہے ہیں کہ کتنی نرمی اور چھوٹ ہے کہ نہ ای سی ایل ۔ہے نہ اشتہاریوں کی پکڑ ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ خادموں کے لئے بہت ساری سہولتیں ہیں جیساکہ انہیں ایلکیشن سے پہلے پکڑنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم سب کو یہ تماشے اچھے لگتے ہیں ہم کبھی نہ سنجیدہ تھے نہ ہیں اور نہ ہی شاید ہونگے ۔کیونکہ اونچی اونچی کرسیوں پر بیٹھ کر بھی لوگ جس غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ ہمیں کہیں سے بھی قابلِ د َر گزر نہیں لگ رہا ۔یا شاید ہم بہت جلدی ہر ایک سے اچھی اچھی اُمیدیں باندھ لیتے ہیں جیسے نیب سے باندھیں یہ سوچے بغیر کہ ہیں تو سارے اُسی نظام کی پیداوار جس میں کبھی بھی بہتری لانے کی کوئی کوشش کارگر ہوئی نہ ہی کسی نے یہ کوشش کی ۔
کسی ایک کے کرنے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک ہم ساری قوم مل کر ان برائیوں اور نا انصافیوں کا مقابلہ نہیں کرینگے ہم نہ ٹھیک ہونگے نہ ہمارے پلڑے وزن اور جنس میں ایک ہونگے ۔ہمیشہ جنس بھاری رہے گی باٹ کم ہونگے جب تک اآپ باٹ کو مظبوط نہیں کرینگے جب تک بہت جھکتا تولینگے ۔لیکن جب باٹ ،مظبوط ہونگے تو اآپ زیادہ جھکتا نہیں تولینگے اس لئے خدا را سوچئے کہاں کمی ہورہی ہے کہاں نا انصافی جنم لے رہی ہے ۔اگر ٹھیک کرنا ہے تو کان ،آنکھیں اور دماغ کھلا رکھیں بغیر یہ سوچے کہ مافیا طاقتور ہے مافیا ڈھیر ہو جاتا ہے جب تولنے والے طاقتور ہوتے ہیں ۔ہم تو کہینگے خود کو عذت دو چاہے کسی ادارے میں ہو یا دفتر میں ،کسی شاہراہ پر ہو یا دوکان میں ،کسی کے حق میں ہو یا مخالف خود کو عذت دو باقی سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا جب خود بِکو گے تو قیمت بہت کَم لگے گی ایسے بنو کہ انمول ہو ۔کوئی خریدنے کی جرائت بھی نہ کر سکے ۔
ویسے تو ہماری قسمت ہی شاید یہ ہے کہ ہم ایسے ہی بیانات سُنیں اور شرمندہ ہوں کیونکہ جنہیں ہم کچھ مختلف سمجھتے ہیں کچھ عرصے بعد وہ سب ہی ایک ہی صف میں نظر اآنے لگتے ہیں اب بھلا قسمت سے کون لڑ سکتا ہے ۔شاید وہ ہی جو خود کو عزت دے ۔اپنی قوم کو عزت دے اپنے کاز کو عزت دے اپنے ملک کو عزت دے ۔لیکن وہ لوگ شاید عُنقا تو نہیں لیکن کہیں چھپے ہوئے ضرور ہیں کب باہر نکلینگے پتہ نہیں ۔کیونکہ میرا ایمان ہے کہ ملک مخلص اور مُحبِ وطن لوگوں سے بھرا پڑا ہے مگر ہمارے ایسے ہی فیصلوں نے انہیں چھپا دیا ہے ۔کہ وہ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔لیکن کبھی کبھی دل کہتا ہے کہ نکلینگے وہ سارے ضرور نکلینگے ملک اور قوم کی تقدیر کو بدلنے ۔
میاں صاحب نے کہا ہے کہ فیصلہ خود سننا چاہتا ہوں تو کیا رکاوٹ ہے تشریف لے اآئیں ۔یہ کوئی میڈل ہے کیا ؟جو اآپ اپنے ہاتھوں سے لینا چاپتے ہیں ۔دل نے کہا چُپ رہو ہو سکتا ہے میڈل ہی ہو اور تم اس بات کی پاداش میں پکڑی جاؤ ۔ہم نے جواب دیا کوئی بات نہیں اگر حق بات پر پکڑے گئے تو کچھ تو اآخرت کا توشہ ہو ہی جائیگا ۔
آج ہم نے کالم بھی اسی لئے لکھ لیا کہ کل کی کسے خبر کہ کیا خبریں ہمارے سامنے ہوں ۔کیونکہ زلزلے اور مون سون کی کسی کو خبر نہیں ہوتی جیسی کہ لاہور میں بارش نے سب کے ہوش اُڑا دئے لیکن ہمارے پاس ہر بات کا جواب ہے اور شافی جواب ہے ،،کہتے ہیں یہ بارش لندن یا امریکہ میں ہو جائے تو وہاں بھی یہ ہی حشر ہو گا اور ہم سب ہی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں کہ کاش ہم پاکستان کو پاکستان بنائیں اس کے ہر صوبے کو اس کا صوبہ بنائیں لندن یا امریکہ کا نہیں ۔
یہ ملک تو بس آپ جیسوں کو پناہ دیتے ہیں کہ اپنے ملک میں کرپشن کرو ہمارے ملک میں آجاؤ ہم تمہیں کہیں نہیں جانے دینگے ۔یہ وہ ممالک ہیں جو اپنے ملک میں کرپشن کو زرا برابر بھی پسند نہیں کرتے اور سخت محاسبہ کرتے ہیں لیکن ہمارے لوگوں کے لئے جنت ہیں ۔ایک لیڈر پہلے ہی سالوں سے لندن کے مزے لوٹ رہے ہیں پاکستان کو اسکے اداروں کو برا بھلا کہتے ہیں ۔لیکن کوئی محاسبہ نہیں ہے ہم نے نہیں دیکھا کہ کوئی برٹشئیر ہمارے ملک میں اآجائے اپنا ملک چھوڑ کر اور یہاں بیٹھ کر اپنے ملک کو کچھ کہے ،یہ بھی ہمارا ہی وطیرہ ہے کیونکہ ہم میں سے بہت سے زہن ابھی تک غلام ہی نہیں حد درجہ غلام ہیں ۔
ہم تو یہ ہی دعا کر سکتے ہیں کہ کلثوم محترمہ کو مزید تکلیف سے نجات ملے وہ مکمل صحت یاب ہوں ۔اور اُنکی کوئی ٹھیک خبر ہم تک پہنچے ۔
ملک کو بچانا ہے تو بہت سے ناپسندیدہ اور انصاف پر مبنی فیصلے لازمی کرنے پڑینگے نہیں تو گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا ،
اللہ میرے ملک اور اس میں بسنے والوں کا محافظ ہو آمین

SHARE

LEAVE A REPLY