خدائےسخن شبیرحسن خاں المعروف جوش ملیح آبادی کےکیا کہنے۔
انہوں نےاپنی زندگی ہی میں خودکومرحوم لکھناشروع کردیا تھا۔اب تو زمانہ انہیں جوش مرحوم لکھ رہاہے۔
میں نے ان کی شخصیت اور فن پر قلم اٹھانے کاسوچاہی ہے تو ان کی یادوں کی برات میرے ساتھ ساتھ چل پڑی ہے۔ان کی شاعری کے بہت سے مجموعے میری نظرسے گزرے،جو میرے والد بزرگوار سید فخرالدین بَلے کی الماریوں کی زینت تھے۔کچھ کامیں نے بطور خاص کئی کئی بار مطالعہ کیا۔ان کے بیشتر شعری مجموعوں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان کے عنوانات دوالفاظ پر مبنی ہیں۔آپ تین کہہ لیجئے،اس لئے کہ دوالفاظ کوجوڑنے کے لئے واؤ کابھی استعمال کیا گیا ہے۔عرش و فرش،فکرونشاط،آیات و نغمات،الہام و افکار،حرف و حکایات،جنون و حکمت ( رباعیات)نقش و نگار،سموم و صبا،نوادرِ جوش،رامش و رنگ،شعلہ و شبنم ،موجدو مفکر،محراب و مضراب ۔بہت سے مجموعے ایسے بھی ہیں جن کےعنوانات اس ڈگر سے ہٹ کرہیں ،مثلاً انتخابِ کلیاتِ جوش،جوش ملیح آبادی کےمرثیے،آزادی کی نظمیں ۔اشارات وغیرہ۔یہ پورا کلام الفاظ کی گھن گرج کے ساتھ ساتھ مفاہیم و مطالب کےجہانوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔
میں نے اپنے بچپن میں جوش مرحوم کو قریب سے دیکھاہے ،ان کی محفلوں میں اپنے بزرگوں کے ساتھ شرکت کابھی مجھے اعزاز حاصل ہوا،ان کی گرج دار آواز کی گونج اب بھی مجھے فضاؤں میں سنائی دیتی ہے۔وہ اردو ادب کی آبرو ہیں۔ بہت بڑے شاعرہیں اورجتنےمعروف ہیں، اس سےکہیں زیادہ ممتا ز۔ جوش صا حب کا شمار متنازع شخصیا ت میں بھی کیاجاتاہے۔اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جوش صاحب کی شخصیت اورشاعری کے حوالے سے جتنی متوازن تنقید ہوئی، کم و بیش اتنی ہی غیر متوازن بھی۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو ش صاحب کی شخصیت اورفن کی بنیادپر جتنا کچھ حمایت یا توصیف میں لکھا گیا ہے، تقریباً اتنا ہی خلاف بھی لکھاگیا ۔ ایک دور ایسا بھی آیا کہ جب جیدعلماء اور جوش صاحب کے اختلافات حدسےتجاوز کر گئےاورموضوعِ بحث جوش بنے رہے۔
بزعمِ خود صدربننے والے جنرل ضیاٗالحق نے کسی بات پر ناراض ہوکرجوش ملیح آبادی کا وہ اعزازیہ بند کردیاتھاجو حکومت پاکستان کی طرف سے ان کی امداد نہیں،بلکہ ادبی خدمات کےاعتراف میں انہیں ماہانہ بنیادپراداکیاجاتاتھا۔جس پر مولاناکوثرنیازی نےایک قومی اخبار میں اپنا کالم لکھا، ۔۔کافر شاعر کی مومنانہ شاعری۔۔۔اس میں انہوں نے سورہ رحمان کے منظوم ترجمے کاحوالہ دیاتھا،یہ حوالہ کام کرگیااور ان کا ماہانہ مشاہرہ بحال کردیاگیاتھا۔
جوش صاحب فرمایا کرتےتھے کہ سورج غروب ہوتاہےتوجوش طلوع ہوتا ہے اورجب سورج طلوع ہوتا ہے تووہ جوش کو بیدارکرپاتا ہے ۔مگر22فروری 1982کاسورج جب طلوع ہوا توجوش صاحب بیدارتو تھے مگر ہوش میں نہ تھے اور غنودگی شدیدتھی۔ مجھےاچھی طرح یاد ہےکہ فروری کے تو پہلے اوردوسرےعشرے میں جوش صاحب کی علالت شدت اختیا رکر چکی تھی ۔غالباً یکم فروری ہی تھی کہ صبح سا ت بجے کے قر یب سجاد انکل (سجادحیدر خروش صا حب ) کا فون آیا “السلا م علیکم!کیا بلےبھائی صاحب سےبات ہوسکے گی ؟ میں ٹھیک سےسن نہیں پایا تھا کیونکہ فون کی گھنٹی پرہی میری آنکھ کھلی تھی ۔میں نے عرض کیاجی فرمائیے کون صاحب با ت کر رہے ہیں ۔”میں سجا د ۔سجادحیدر،فخرالدین بلےصاحب سےبات ہوسکے گی ۔جواباً میں نے پہچان کربہت مودبانہ اندارمیں سلا م کیا اوربتایا کہ ابّوتودوسرے کمرے میں ہیں،میں انھیں بلواتا ہو ں ۔بعدمیں ان کی ابوسے فون پرتفصیلی با ت ہوئی ۔اور بات مکمل ہونے پرمیں نےابو کےچہرےپرپریشانی کےآ ثاردیکھے۔ پو چھا ابّوسب خیریت توہے ۔ابونے کہا بیٹے جوش صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں اور ہمیں فوراًوہاں پہنچنا ہوگا۔ہم لوگ گھنٹہ بھرمیں جوش صاحب کی رہائش گا ہ پرپہنچ گئے۔سجا دحیدرخروش صا حب سےجوش صاحب کی کیفیت معلوم کی ۔پھر دیگر اہل خانہ سے ملا قا ت ہو ئی۔ پھُپی جا ن(دختر جو ش )فواد(فرزند سجا دحید ر ) اور دختران سجاد حیدرخروش سب ہی اپنےبلےانکل کے گردجمع ہوگئے۔ باباکی علالت نےتمام اہل خانہ کوفکرمند کررکھاتھا ۔مگرابوسےبات کرکےاورانھیں اپنےدرمیان پاکرسب ہی گھروالو ں کی پریشانی کم ہوتی نظرآرہی تھی ۔اورپھربیماری کی نوعیت کومدنظررکھتےہوئےعلا ج کےسلسلےمیں پیش رفت کیلئےباہمی مشورےہوئے ۔پرانےاورنئےمعالجین سےرابطے تیزہوگئے۔
بائیس فروری 1982۔۔ وہ المناک دن ہے کہ جب شبیرحسن خان المعروف جوش کی زندگی کاسورج غروب ہواتوجیسے دنیا ئے ادب میں اندھیراہوگیا۔
شاعرآخرالزماں ہوں اےجوش ۔۔۔۔کہنےوالےجوش ملیح آبادی اب نہیں رہےتھے۔ان کی زندگی کے آخری ایاّ م میں ابّو مسلسل ان کی عیادت و مزاج پر سی کی غرض سے ان کے ساتھ ساتھ رہے۔ سجا دانکل کہتے تھے۔” بلے بھائی صاحب آپ کی موجو دگی سے بچوں کو،بہن کو اور مجھے بہت تقو یت رہتی ہے وگرنہ ہما رے ہا تھ پاؤں پھولنے لگتے ہیں اورجب بابا بھی آپ کو دیکھتے ہیں۔تومطمئن ہو جاتےہیں اورآپ جب انھیں نظر نہیں آتےتو فرماتےہیں بلےصاحب کو بلوابھیجئے۔
جب جنازگاہ میں جوش صاحب کی نماز پڑھی جا چکی تھی اور تھوڑے ہی وقفے کےبعددوسرے فرقےکےاحباب نےایک مرتبہ پھرنمازپڑھوائی توفیض احمد فیض بھی اس میں شرکت کرپائے تھے اور نمازجنازہ ادا کر نےکےبعدفیض صاحب نےاپنا سر جو ش صاحب کےقدموں پردھردیا اوردہا ڑیں مارمارکرروتےرہے اورکہتےرہے کہ” آ ج اردو یتیم ہوگئی” ۔یہ بہت ہی رقت آمیز منظرتھا۔فیض صاحب بھی تو والدگرامی سیدفخرالد ین بلے کی طرح عارضہءقلب میں مبتلاتھےاوران دونوں کی حالت بگڑتی چلی جارہی تھی ۔سجادانکل یتیمی کا گھاؤ برداشت کرنے کی کو شش میں مصروف تھے ۔تدفین کےمراحل سے گزرکر تینو ں بزرگو ں کوایمرجنسی میں لےجایاگیا ۔
یہا ں یہ امرقابل ذکر ہےکہ فیض صاحب نےجوش صاحب کی تدفین سےقبل ہی ابّواورسجادانکل کےقریب آکرفرمایامیں تھوڑی دیرکیلئےاجازت چاہوںگا۔ابّو کےاس استفسار پرکہ تدفین ہونےکو ہے۔فیض صاحب نےفرمایا “بلےصاحب میں اردو کو دفن ہوتے ہوئےنہیں دیکھ سکتا “۔اور واقعی فیض صاحب اس مرحلےپروہاں موجودنہ تھے ۔جوش صاحب کےحو الےسےیوں
توبہت سی با تیں ہیں کہ جوان گنت نشستو ں میں سننےکوملیں گی مگرایک بات ذراہٹ کرہےاورمختلف بھی۔غالباً یہ مارچ 1982ء کا واقعہ ہے کہ جوش صاحب کےبلاوے پر ہم ان سے ملنےان کی رہائش گاہ پہنچے۔ چند ایک دیگراحباب بھی تھے ۔انہو ں نےسجادانکل کومخاطب کیا “آج کی نشست میں پہلےآپ پڑھیں گے،پھرآنس معین،اورپھرمحمدعلی(اداکار)اپنےکسی پسندیدہ شاعرکاکلام پڑھیں گےاورپھرہم بلےصاحب سےملتمس ہونگے۔مختصر یہ کہ اسی ترتیب سےشعراء نےاپنااپنا کلام سنایا۔ پھر جوش صاحب نےابّو سےفرمائش کرکےچند غزلیں سنیں اور آخر میں برفباری کے حوالے سےان کی نظم سن کردوبارہ فرما ئش کرکےسنی اورآخر میں ابو کی فرمائش نہیں،بلکہ ان کےاصرار پرجوش صاحب نےاپنا کلا م سنایا ۔محفلِ شعروسخن کےاختتام پرگفتگوکاآغازہوا اور ہوتے ہوتےگفتگوکاموضوع پروردگارِعالم ہوگیا۔اسکی رحمت اوربخشش پربات ہونےلگی اور پھرجوش صاحب نےابّو کومخاطب کیا۔بلےصاحب اللہ ایک کام نہیں کرسکتا اوروہ ہےظلم اورپھراپنا شعرپڑھا ۔
شبیرحسن خا ں نہیں لیتے بد لہ۔۔۔
شبیرحسن خاں سےبھی چھوٹاہےخدا
ابّو نے کہا بےشک پروردگارِعالم ارحم الراحمین ہے ۔ اوراس کے بعد ابّو کچھ کہنے کوتھے کہ جوش صاحب نےفرمایا بلے صاحب وہ جوابھی غزل سنائی تھی ۔کیاتھا وہ شعر، دوبا رہ عطا فر مائیے۔ کیا؟ اسی کےرحم وکرم پر۔۔ہاں
اسی کےرحم وکرم پرہےعاقبت میری
نہ جس نے پہلی خطا کو مِری معاف کیا
فیض احمد فیض نےجوش صاحب کےحوالے سےایک جگہ اپنی رائےکا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا کہ “جوش کےکلام کی قدروقیمت میں کوئی شبہ نہیں،کسی نظام کےخلاف آوازاٹھانا ،ہمیشہ جرات اوردلیری چاہتاہے۔جوش نےنوجوان لکھنےوالوں کاحوصلہ بڑھایا اورانھیں فکرونظرکےنئےراستےدکھائے ۔جبکہ معتبرنقادڈاکٹرمحمدعلی صدیقی کاخیال ہےجوش نےمحض علماء سوکی منافقت اورنام نہادعلماءکےجہل کےخلاف اسقدرجذباتی اندازمیں قلم اٹھایا کہ ان کی اکثرنظمیں ان کےخیالات کی منظوم شکلیں نظرآتی ہیں۔ ” بابائےاردوڈاکٹرمولوی عبدالحق کوبھی اعتراف کرناپڑاکہ جوش کےکلام کوپڑھ کرلطف وسرورمحسوس ہوتاہے۔جوش صاحب بےشک ایک قادرالکلام شاعرتھےاوراس حوالےسےجائزہ لیاجا ئےتومنکرینِ جوش کی تعداد نہ ہونے کے برابرہے ۔جبکہ معترفین اورمعتقدین ِجوش کوشمارمیں لانابہت دشوارہے ۔ اورماننےوالےتوانہیں شاعرانقلاب مانتےہیں۔جوش صاحب تمام مظاہرومناظرِفطرت وکائنات میں سےطلوع آفتا ب کے منظر کو حسین ترین سمجھتےتھے۔اس حوالےسے جوش صاحب کایہ شعرملاحظہ ہو۔
ہم ایسے اہلِ نظر کو ثبوتِ حق کے لیے۔۔۔۔
۔۔اگر رسول ؐ نہ آتے تو صبح کا فی تھی
قطع نظر اس کےاہلِ بیتِ اطہارسےانہیں خاص نسبت وعقیدت تھی ۔قرآن مجیدوفرقان حمید پربھی ان کی گہری نظرتھی۔وہ قرآن پاک کا منظوم ترجمہ کرنےکےخواہش مندتھےاورسورۃ رحمٰن کامنظوم ترجمہ اسی سلسلےکی کڑی تھی ۔
اے فنا انجام انسا ں کب تجھے ہوش آئے گا ۔۔۔
۔۔۔تیر گی میں ٹھوکریں آخرکہاں تک کھائے گا
اس تمرد کی روش سےبھی کبھی شرمائےگا ؟۔۔
۔۔۔۔کیا کرےگا سامنے سے جب حجاب اٹھ جائے گا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائےگا
سجا د انکل جب ایک مرتبہ ملتان تشریف لا ئےہوئے تھے تو امّی جا ن نےاُن سے پوچھا “بھائی صاحب آپ کایاآپا کاکوئی پرہیزہوتوبتادیں اورکوئی ایسی چیزجوآپ کوناپسندہوتووہ بھی “۔سجادانکل نےکہا”بھابی جان بچپن میں ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ہماری اماں چندروزکیلئےکہیں گئیں۔
توہم نےکیادیکھاکہ پانچ سات بڑےبڑےمرتبان اچارسےبھرے رکھےتھےاورہمیں توگلےآنےکی بیماری لاحق تھی ہی۔بس ہم نے اماں کی غیرموجودگی کاپوراپورافائدہ اٹھایا اورچندہی روز میں اچارسےبھرےمرتبان صاف کرڈالے۔۔بس یہ نہ پوچھیئےگاکہ اماں نےہماراکیاحال کیامگروہ دن اورآج کا دن ہمیں کبھی گلےآنے کی کو ئی تکلیف نہیں ہوئی ۔
سجادانکل نےجتنےروزبھی ہمارےہاں قیام کیا ،وہ مسلسل ماضی قریب کےاس دور کویاداوربیان کرتےرہے،جوابّو کی راولپنڈ ی /اسلا م آبا د میں تعینا تی کاتھا اوراس دوران کی ہو نے والی بیشتر نشستوں کا احوال بھی انہی کی زبانی معلوم ہوا۔۔راولپنڈ ی آرٹس کونسل میں منعقد ہونےوالی تقریبات میں اپنی اوراہل خانہ کی شرکت کےحوالےسےبھی بہت سےواقعا ت کاکم ازکم مجھے توانہی کےتوسط سےعلم ہوا۔انہو ں نے تبسم بہنا کاخاص طو ر پرذکرکیا کہ اپنےبلےانکل سےمجھ سےزیادہ تبسم کارابطہ رہتا اورمیں کیابابا (حضرت جوش)بھی جب یہ سمجھ لیتےکہ یہ بچے آج پھر (آئے دن)کسی تقریب میں شرکت کےمتمنی ہیں اوربلے بھا ئی صاحب سےگٹھ جوڑکیےبیٹھےہیں توگنجائش باقی نہ رہتی اوربس خاموش ہی نہ ہورہتےبلکہ خوش دلی سےاجازت بھی دیدیتے۔محض یہ جان کرکہ ان کاپلڑابھاری ہےاوران کےساتھ تو بلےبھائی صاحب ہیں کہ جو بابا کو پل بھرمیں قائل کرلینےکافن جانتےہیں توبھلامجھ جیسےکوقائل ہونےمیں کتنی دیرلگےگی ۔
سجادانکل کاکہناتھابلےبھائی صاحب نےتووہاں ادبی اورثقافتی سرگرمیوں کےحوالےسےتہلکہ مچارکھاتھا۔ایک ایک دن میں کئی کئی تقریبات معمول تھا ۔ خودمیں متعدد بارکئی کئی پہر مسلسل تقریبات میں شرکت کرنے میں گزارتا تھا ۔ان کےقیا م کے دوران ہی ایک شام اچانک بیٹھےبیٹھےسجادانکل نےہما رے پیارےباباسائیں(ابّو)سے فرمائش کی بھائی صاحب آج تودل مچل رہا ہے، بابا بہت یاد آرہے ہیں۔ آج میں آپ سےایک ایک کر کے وہ تما م کلام سنا نے کی گزارش کروں گا کہ جن کی فرمائش بابا آپ سےکیا کرتےتھے۔بس پہلےتوآپ “رقص میں ہے”والی نظم ۔پھر قول ” من کنت مو لا”پھرِ “ہے قیدِ عصر سےوالعصر ما ورا بھی علی “والی منقبت اور پھر حسین ہی کی ضرورت تھی کر بلا کے لیے۔ اس کے بعدغزلیں اورنظمیں مگر نظم “با رانِ کرم”ضرور سنائیےگا ۔ہم سب کےسب ڈرائنگ روم میں ابّواور سجادانکل کےگردجمع ہوگئےاوراچانک سجادانکل نےکہابلےبھا ئی صاحب ذرا ٹھہرئیےگا۔پہلےمیں اپناکلام پیش کروں گا کیونکہ آپ نے بعد میں فرمائش کردی تو،،، آپ کےبعد، یہ ممکن نہ ہوگا ۔ابھی سجادانکل نےکلام سناناہی شروع کیاتھا کہ عرش صدیقی صاحب،حسن رضاگردیزی صاحب،جناب حیدرگردیزی،جناب مقصود زاہدی سمیت کئی اہل قلم تشریف لےآئے۔یہ محفل بہت یادگاررہی ۔سب نےاپنااپنا کلا م سنایا اورآنس معین سےتوسجاد انکل نےیہ کہہ کرکلام سنانےکی فرمائش کی کہ آپ توہمارےبابا کےکمسن سقراط ہیں۔کیسےممکن ہےکہ آپ کےکلام کےبنامحفل مکمل ہوسکے۔
جوش صاحب کےبعد خروش صاحب بھی اللہ کوپیارے ہوچکے ہیں۔عرش صدیقی بھی نہیں رہے۔فخرالدین بلے بھی اتنی دور چلے گئے ہیں کہ جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا،لیکن اتنی حسین یادیں چھوڑگئے ہیں کہ کبھی کبھی توایسالگتا ہے کہ یہ سب ہم میں موجود ہیں،
اس میں شک بھی نہیں کہ جوش ملیح آبادی اورسیدفخرالدین بلے آج بھی اہلِ ادب کے دلوں میں زندہ ہیں اور فضاؤں میں مجھے سید فخرالدین بلےکےاس شعرکی گونج سنائی دے رہی ہے۔
الفاظ و صوت و رنگ و تصور کے روپ میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنےکےباوجود













