سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کو الوداع کہہ دیا۔ کہتے ہیں کہ 9 مئی کے حملوں کی تحقیقات اور ملزمان کو سزا ملنی چاہئے۔
کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت سے سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کو بڑا ریلیف مل گیا، پولیس نے عدم شواہد کی بناء پر بے قصور قرار دے دیا، جس کے بعد انہیں سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا۔
پولیس نے عمران اسماعیل کو بے گناہ قرار دے دیا۔ عمران اسماعیل کے خلاف شواہد نہیں ملے تفتیشی افسر نے رپورٹ عدالت میں جمع کرادی ہے۔
یاد رہے کہ جلاؤ گھیراؤ کیس میں عمران اسماعیل کو گرفتار کیا گیا تھا، پولیس نے اے کلاس کے تحت مقدمہ ختم کرنے کی سفارش کردی، جس کے بعد انہیں سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا۔
اس سے قبل 22 مئی کو کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
عمران اسماعیل کے خلاف درج مقدمے میں پولیس نے سابق گورنر سندھ کو عدالت میں پیش کیا اور ان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران اسماعیل نے بھی پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا، آج شام ان کی جانب سے بھی پریس کانفرنس کا امکان ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی گرفتاری پر احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما و سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
تحریک انصاف کے رہنما اور سابق گورنرسندھ عمران اسماعیل کو دو دورزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد انسداد دہشت گردی منتظم عدالت میں پیش کیا گیا۔
پولیس کی جانب سےعمران اسماعیل کے ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کی استدعا کی گئی، تاہم عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست کو مسترد کر دیا اور عمران اسماعیل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر کو مقدمے کا چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔
خیال رہے کہ عمران اسماعیل کے خلاف ٹیپو سلطان پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا ، عمران اسماعیل پرالزام ہےکہ 9 مئی کو شاہراہ فیصل پرعمران خان کی گرفتاری کیخلاف ہنگامہ آرائی کی ۔
عدالت کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ مجھے پر پارٹی چھوڑنے کیلئے کوئی دباؤ نہیں ہے، پی ٹی آئی کراچی کے صدر آفتاب صدیقی اپنی مرضی کے مالک ہیں، اور اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔












