خواب کا مجسمہ چھناکے سے ٹوٹ گیا۔تسنیم عابدی

0
691

خواب کامجسمہ
کل سقراط صاحب خواب میں آئے ان کے ہمراہ ان کے شاگردوں کا ایک ہجوم تھا سوال جواب کا دور شروع ہوا تو میں نے ان سے جان کی امان پاتے ہوئے پوچھ لیا (مجھے شاہ سے زیادہ اس کے مصاحبین سے خطرہ تھا) بھائی سقراط یہ جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے ؟ سقراط نے میری جانب مشکوک نظروں سے دیکھا پھر سر سے پاؤں تک دیکھنے کے بعد بولے عوام کی حکومت جسے خواص چلائیں ۔۔مجھے ذرا حوصلہ ہوا تو اگلا سوال داغ دیا بھائی ہم ذرا کُڑ مغز ہیں اس لئے یہ بتائیں کہ اگر عوام کسی بادشاہ سے خوش ہوں ، یا کسی ملکہ کے وفادار ہوں یا کسی فوجی جنرل کو سلیوٹ کرتے ہوں تو وہ بھی جمہوری نظام ہوا؟ سقراط نے اپنی تیل میں ڈوبی لٹوں کو
ما تھے سے جھٹکا دے کر ہٹایا اور ذرا تنک مزاجی سے کہا کہ جن نظام ہائے عالم کا ذکر تم کر رہی ہو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم جمہوریت سے نابلد ہو اب یقیننا تم مشرق وسطی کے نام نہاد بادشاہوں یا برطانیہ کی ملکہ معظمہ یا سلطان صلاح الدین کا نام لے کر نقلی دانشوری سے کام لو گی
میں نے ڈرتے ڈرتے کہا ہاں سقراط بھیا دانشوری سورج مکھی کا پھول ہے اسی لئے موقع کی مناسبت سے ہم راگ الاپتے ہیں ۔۔اب سقراط کی باری تھی اس نے بھی ہم پر بھرپور وار کیا کہنے لگا گمنام شاعرہ تیری نگاہ میں جمہوریت کیا ہے ہم نے کہا ہم شاعر ایہام گو ہوتے ہیں اسی لئے مثبت اور منفی خیالات کی وجہ سے صفر کی طرح ڈولتے ہیں عدد سے پہلے ہماری کوئی وقعت نہیں ہوتی مگر عدد کے بعد ہم بادشاہ گر بن جاتے ہیں اسی لئے تو ہر دربار سرکار میں ضرور بلائے جاتے ہیں اس نے ہم کو حقارت سے دیکھا اور زیر لب بڑبڑاہٹ سے کہا اسی لئے مجھے شاعروں سے پرخاش ہے ۔۔اس طویل تمہید کے بعد ہم جواب کی طرف آئے ۔بھئی جمہوریت کامطلب حق رائے دہی کا اظہار ہے ۔اس نے زچ ہوکر لقمہ دیا مطلب سو گدھے مل کر ایک گدھے کو گھوڑا ثابت کر سکتے ہیں مطلب بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
ہمیں سقراط ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا کیونکہ اس کی دانشوری سے ڈکٹیٹر شپ کی بساند آرہی تھی ۔۔ابھی ہم عدلیہ اور مقننہ جیسے ثقیل الفاظ کے ہجے دہرا رہے تھے کہ اسے ہماری لکنت سے اندازہ ہوگیا کہ ہم توہین عدالت کے مرتکب نہ ہوجائیں کہنے لگا رہنے دیں آپا فردوس اعوان اوہ سوری آپا شاعرہ ۔۔۔ابھی ہم سقراط سے محو تکرار ہی تھے کہ ہماری آنکھ میں خواب کا مجسمہ چھناکے سے ٹوٹ گیا ہر طرف دانشوری کی ریت بکھری ہوئی تھی ۔۔۔
تسنیم عابدی

SHARE

LEAVE A REPLY