امریکہ کو کرونا کی وجہ سے ملک میں اسکول کھولنے میں مشکلات

0
650

امریکہ کو کرونا وبا کی وجہ سے ملک بھر میں اسکول کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم بائیڈن انتظامیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اپریل تک زیادہ تر اسکولوں میں کلاس رومز کے اندر پڑھائی شروع ہو جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے اتوار کو نشریاتی ادارے ‘اے بی سی’ کے پروگرام ‘دِس ویک’ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں تدریسی عمل کی بحالی ہمارا ہدف، ہمارا مقصد اور ہمارا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکول کھولنے کے منصوبے کا انحصار کانگریس کی جانب سے صدر جو بائیڈن کے 19 کھرب ڈالر کے کرونا وائرس ریلیف بل کی منظوری پر ہے جس میں 130 ارب ڈالر اسکولوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔

امریکہ کا ایوان نمائندگان رواں ہفتے بائیڈن کے کرونا ریلیف پیکیج پر رائے شماری کا ارادہ رکھتا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ مارچ کے وسط تک اس پیکیج کے لیے کانگریس کی منظوری مل جائے گی۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بہت سے اسکولوں کے پاس وسائل نہیں کہ وہ سہولیات کی بہتری پر صرف کر سکیں۔ اُن کے بقول کلاسز میں طلبہ کی تعداد کو ایک وقت میں کم رکھنے کے لیے کئی اسکول عارضی طور پر مزید اساتذہ اور مزید بس ڈرائیور بھرتی نہیں کر سکتے۔

اس وقت امریکہ میں پہلی سے آٹھویں جماعت کے امریکی طالب علموں میں سے 47 فی صد اور نویں سے بارہویں جماعت کے 33 فی صد بچے کلاس میں جا رہے ہیں جب کہ باقی سب انٹرنیٹ پر ورچوئل کلاسز میں شامل ہو رہے ہیں یا پھر کبھی گھر اور کبھی اسکول سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

امریکہ میں بیماریوں سے بچاو اور ان پر قابو پانے کے نگران ادارے ‘سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن’ (سی ڈی سی) نے سائنسی بنیادوں پر اسکولوں کے لیے واضح ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ اسکولوں کو محفوظ بنانے کے لیے وسیع تر اقدامات کی ضرورت ہے۔

جین ساکی نے کہا کہ اس ضمن میں وفاقی حکومت کو مسئلے کا حل نکالنے کی ضرورت ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY