مردان یونیورسٹی میں قتل ہونے والے مشعال خان کے کیس میں اہم پیشرفت،واقعے کے مرکزی ملزم وجاہت نےاعتراف جرم کرلیا،ملزم وجاہت نے تمام واقعے کی ذمے داری یونیورسٹی انتظامیہ پر ڈال دی۔
اپنےبیان میں وجاہت نےانکشاف کیا ہے کہ مجھے یہ کام کرنے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا تھا،انتظامیہ نے13 اپریل کو چیرمین آفس بلایا، لیکچرار ضیاءاللہ ، اسفندیار،انیس، سپرنٹنڈنٹ ارشد، کلرک سعید،ادریس بھی موجود تھے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے کہاکہ مشعال اورساتھیوں نے توہین رسالت کی ہے،مشعال اور ساتھیوں کے خلاف تقریر کی۔سازش کا پتا ہوتا تو میں یونیورسٹی میں نہ آتا۔
سیکیورٹی انچارج بلال نے کہا کہ میں مشعال کوخودماروں گا، اگر کسی نے اسکی طرف داری کی تواس کے خلاف سخت ایکشن لوں گا۔وجاہت کا کہنا ہے کہ مشعال خان سے متعلق غلط بیانی پرشرمندہ ہوں۔
اور زبیر کو توہین کرتے سنا ، فہیم عالم نے میرے بیان کی لوگوں کے سامنے فوری گواہی دے دی۔
ملزم کا بیان میں کہنا ہے کہ سیکیورٹی انچارج بلال نے کہا کہ جس نے مشعال کی طرفداری کی ان سے بھی سختی سے نمٹا جائے، سیکیورٹی انچارج نے کہا کہ وہ خود مشعال کو مارے گا۔
ملزم وجاہت کے مطابق اگر میں اس وقت بیان نہ دیتا تو جمع ہونے والے طلباء واپس چلے جاتے، میرے بیان کے بعد طلباء مشتعل ہوگئے اور انہوں نے بلوہ کردیا، میں مشعال خان کے متعلق غلط بیانی کرنے پر شرمندہ ہوں، یہ اجلاس بلانا ایڈمنسٹریشن کا مینڈیٹ نہیں تھا














knew that