بتاؤ تو سہی تم کو کمی محسوس ہوتی ہے
مری تصویر آنکھوں میں تھمی محسوس ہوتی ہے
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ چاہت روٹھ جاتی ہو
کبھی دل میں تمہارے برہمی محسوس ہوتی ہے
مری تصویر جب دیکھتی ہو تو کبھی تم کو
کوئی خواہش نگاہوں میں جمی محسوس ہوتی ہے
کبھی جب بے ارادہ میں تخیّل میں چلا آؤں
تو تنہائی حیاتِ باہمی محسوس ہوتی ہے
کبھی پلکوں کے ساے میں تپش محسوس ہوتی ہو
کبھی پھر اس تپش میں اک نمی محسوس ہوتی ہے
پرندہ بین کرتا ہے کبھی جو خشک ڈالی پر
تو اس کی آنکھ تم کو شبنمی محسوس ہوتی ہے
کبھی جب ٹوٹ کر بادل برستے ہیں شبِ غم میں
تمھیں آواز چھت پر ماتمی محسوس ہوتی ہے
نقاش عابدی













