بتاؤ تو سہی تم کو کمی محسوس ہوتی ہے ۔نقاش عابدی

0
201

بتاؤ تو سہی تم کو کمی محسوس ہوتی ہے
مری تصویر آنکھوں میں تھمی محسوس ہوتی ہے

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ چاہت روٹھ جاتی ہو
کبھی دل میں تمہارے برہمی محسوس ہوتی ہے

مری تصویر جب دیکھتی ہو تو کبھی تم کو
کوئی خواہش نگاہوں میں جمی محسوس ہوتی ہے

کبھی جب بے ارادہ میں تخیّل میں چلا آؤں
تو تنہائی حیاتِ باہمی محسوس ہوتی ہے

کبھی پلکوں کے ساے میں تپش محسوس ہوتی ہو
کبھی پھر اس تپش میں اک نمی محسوس ہوتی ہے

پرندہ بین کرتا ہے کبھی جو خشک ڈالی پر
تو اس کی آنکھ تم کو شبنمی محسوس ہوتی ہے

کبھی جب ٹوٹ کر بادل برستے ہیں شبِ غم میں
تمھیں آواز چھت پر ماتمی محسوس ہوتی ہے

نقاش عابدی

SHARE

LEAVE A REPLY