شبیر کا ماتم نہ رُکا ہے نہ رُکے گا

0
1463

شبّیر کا ماتم۔۔۔

شبیر کا ماتم نہ رُکا ہے نہ رُکے گا
معصوم کا رُتبہ نہ گھٹا ہے نہ گھٹے گا
ہم لوگ حسینی ہیں خبردار خبردار
سَر ظلم کے آگے نہ جھکا ہے نہ جھکے گا
جس کے لیے عباس نے کٹوائے تھے بازو
اسلام کا پرچم، نہ جھکا ہے نہ جھکے گا
ہر دشمنِ شبیر ہے اسلام کا دشمن
دشمن کبھی لعنت سے بچا ہے نہ بچے گا
اس نور کو محشر کا بھی کچھ خوف نہیں ہے
شبّیر کا سورج، نہ ڈھلا ہے نہ ڈھلے گا
تہذیب سبیلوں کی ہے اصغر کا تبسم
پانی پَہ کوئی ایسے ہنسا ہے نہ ہنسے گا
تھوکیں بھی نہ دولت پَہ غلامانِ حسینی
ہم لوگوں میں کوئی نہ بِکا ہے نہ بکے گا
اِن اشکوں میں ہم سارے زمانے کو ڈبو دیں
آنسو غمِ شہ میں نہ رُکا ہے نہ رُکے گا
یہ غم تو عزا داروں کے سینے سے لگا ہے
یہ غم ہے شہیدوں کا، مِٹا ہے نہ مٹے گا
خونِ شہِ مظلوم میں یوں ڈوب چکا ہے
اِک ہاتھ بھی بیعَت کا، اٹھا ہے نہ اٹھے گا
نیزوں پَہ لہو روتی رہی شامِ غریباں
سَروَر کی طرح کوئی لُٹا ہے نہ لُٹے گا
فرعون کی طاقت یا وصیؔ ! ، زورِ حکومت
باطل سے کبھی حق، نہ دَبا ہے نہ دَبے گا
شاعر: قاضی وصی احمد
آوارہ سلطان پوری
وفات:19 نومبر1987 ع۔
مُمبرا)نواحِ ممبئی۔انڈیا)

SHARE

LEAVE A REPLY