وائی فائی نیٹ ورکس میں سنگین سیکیورٹی خامی کا انکشاف

0
182

بیشتر افراد وائی فائی استعمال کرتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اس وقت بھی آپ اسی کی مدد سے یہ پڑھ رہے ہوں، مگر اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جس ڈیوائس کو استعمال کررہے ہیں، وہ ہیک ہونے کے سنگین خطرے کی زد میں ہے۔

یہ انتباہ انٹرنیٹ سیکیورٹی محققین نے کرتے ہوئے لگ بھگ ہر جدید وائی فائی ڈیوائس بشمول کمپیوٹرز، فونز اور راﺅٹرز وغیرہ کے سیکیورٹی پروٹوکول میں موجود ایک خامی کا انکشاف کیا ہے۔

WPA2 پروٹوکول، جو کہ وائرلیس نیٹ ورکس اور ڈیوائس کے تحفظ کے لیے ہوتا ہے، میں موجود بڑی خامی کو کمپیوٹر سیکیورٹی محقق میتی وانہیوف نے دریافت کیا جسے کی رینسٹالیشن اٹیک یا کریک کا نام دیا گیا۔

یہ بگ ہیکرز کو کسی بھی نیٹ ورک ٹریفک کی سن گن لینے کا موقع فراہم کرتا ہے اور یہ ان کے لیے بڑا خطرہ ہے جو وائی فائی کنکشن سے حساس یا نجی معلومات کسی کو بھیجتے ہیں۔

اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ آج کل ہر جگہ کاروباری اداروں سے لے کر گھروں تک، وائی فائی نیٹ ورک ہی عام طور پر انٹرنیٹ کے استعمال کا بڑا ذریعہ ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر کوئی بھی حساس معلومات جیسے کریڈٹ کارڈ کے نمبر، پاس ورڈ، چیٹ پیغامات، ای میلز، تصاویر اور بہت کچھ چرا سکتا ہے اور یہ آج کے تمام محفوظ سمجھے جانے والے وائی فائی نیٹ ورکس کو ہیک کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کل تمام کمپیوٹر، فون ، یہاں تک کہ فریج وغیرہ غرض وائی فائی سپورٹ کرنے والی تمام ڈیوائسز اس سے متاثر ہوسکتی ہیں۔

کسی بھی متاثرہ وائرلیس نیٹ ورک پر جو کچھ بھی بھیجا جائے گا، وہ ہیکر پڑھ سکتا ہے، تام کچھ ٹیکنالوجیز جیسے ایچ ٹی ٹی پی ایس سے بھیجے جانے والے ڈیٹا کو پڑھنا مشکل ضرور ہوسکتا ہے مگر پھر بھی حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں۔

محققین نے وائی فائی ڈیوائسز بنانے والی کمپنیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ سیکیورٹی پیچ ریلیز کرکے اس بگ پر ہر ممکن حد تک جلد قابو پائیں اور صارفین بھی دستیاب ہوتے ہی اسے انسٹال کریں۔

اس وائی فائی کمزوری سے سب سے زیادہ متاثر اینڈرائیڈ فونز ہورہے ہیں کیونکہ انہیں اپ ڈیٹس بہت تاخیر سے موصول ہوتی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY