سنیر سٹیزن/پنشنرز کیلے ڈرایونگ لایسنس تاحیات ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا۔ (ملک اسلم اعوان، نمایندہ عالمی اخبار، اسلام آباد، پاکستان)
پاکستان گورنمنٹ ایمپلائز کنفیڈریشن کا ایک اجلاس گزشتہ روز اسلام آباد کے سیکٹر I-10/1 میں منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت جناب ریاض خان، چیئرمین آل میونسپل یونینز، کے پی نے کی۔ جناب عبدالمناف، چیئرمین آل پاکستان ایمپلائز کنفیڈریشن نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیے۔
اجلاس میں پاکستان بھر سے سرکاری، نیم سرکاری، پنشنرز اور لیبر تنظیموں کے 22 نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد سرکاری، نیم سرکاری، پنشنرز، لیبر اور مختلف نجی اداروں کے ملازمین کو درپیش مسائل پر گفتگو کرنا تھا۔
اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت صوفی محمد رمضان انقلابی نے کی۔ مختار علی خان، چیرمین پنشنرز ویلفیئر ایسوسی ایشن پاکستان نے فضل ودود کو بطور اپنا نمایندہ اجلاس میں شرکت کی اجازت دی۔ چیئرمین آل پاکستان گورنمنٹ ایمپلائز کنفیڈریشن کی طرف سے فضل ودود کو ایکشن کمیٹی کا ممبر نامزد کیا گیا۔
اجلاس میں خوشگوار ماحول میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کمیٹی کے چیئرمین نے حکومت کو دیے گئے مطالبات کا چارٹر اف ڈیمانڈ پیش کیا جس میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کمیونٹی کے مختلف مسائل کی توجہ دلائی۔
ملک اسلم اعوان، صدر پنشنرز ویلفیئر ایسوسی ایشن پاکستان پنجاب نے پنشنرز کے دو بڑے مسائل اجاگر کیے:
گروپ انشورنس کا کیس گزشتہ دوسالوں سے قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی میں زیر التوا ہے اس میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ حکومت سے درخواست ہے کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور اسے مطالبات کے چارٹر میں شامل کیا جائے۔
ای او بی ای کا ادارہ چونکہ وفاقی حکومت کے زیراہتمام ہے۔ اس طرح وفاقی ملازمین کے برابر ان کی پنشن میں بھی اضافہ کیا جائے۔
تمام اراکین نے ان مطالبات کو چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل کرنے پر اتفاق کیا۔
فضل ودود، سیکرٹری جنرل پنشنرز ویلفیئر ایسوسی ایشن پاکستان نے پنشنرز کے حل نہ ہونے والے مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی اور اپنی تقریر میں درج ذیل نکات پر زور دیا:
پنشن میں کم از کم 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔ بجٹ 2026-27 میں حکومت کی طرف سے اعلان کردہ 7 فیصد اضافےکو نا کافی قرار دیا۔
ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر میڈیکل الاؤنس میں 300 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا۔
وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بیوگان کی پنشن کو 70 فیصد کے بجائے 100 فیصد کیا جائے، جیسا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے کیا ہے۔
سینئر سٹیزنز / پنشنرز کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کو CNIC کی طرز پر تاحیات کر دیا جائے اور ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
تمام بینکوں، اکاؤنٹس دفاتر، اے جی پی ار اور دیگر عوامی مقامات پر سینئر سٹیزنز / پنشنرز کے لیے سہولت مراکز / ڈیسک / کاؤنٹرز ترجیحی بنیادوں پر قائم کیے جائیں۔
سینئر سٹیزنز ایکٹ جو پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے، اس پر حرف بہ حرف عملدرآمد کیا جائے تاکہ بزرگ پنشنرز کی مشکلات کم کی جا سکیں۔
سیکرٹری جنرل نے تجویز پیش کی کہ ہر صوبے بشمول آزاد کشمیر اور ICT میں کوآرڈینیشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔
متفقہ طور پر جناب عبدالمناف کو چیئرمین مرکزی کوآرڈینیشن ایکشن کمیٹی، اور جناب ایم۔ رمضان انقلابی کو چیئرمین پنجاب کوآرڈینیشن کمیٹی منتخب کیا گیا۔
ویمن ونگ کی چیئرپرسن محترمہ سیما خان اور جناب شفیق بھلوالیہ کو پریس سیکرٹری منتخب کیا گیا۔
یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اگلا اجلاس 8 اگست 2026 بروز ہفتہ ایبٹ آباد میں منعقد ہوگا۔ تمام کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے چیئرمینوں سے درخواست کی گئی کہ وہ 8 اگست کے اجلاس کے لیے اپنی رپورٹس جمع کرائیں تاکہ مزید کارروائی لاحہ عمل اختیار کیا جا سکے۔
آخر میں دعا کے ساتھ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ چیئرمین نے تمام شرکاء کی نتیجہ خیز گفتگو اور ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا

SHARE

LEAVE A REPLY