سید فخر الدین بلے۔ مایہ ء ناز ماہر تعلقات عامہ۔یہ کسی ایک مضمون
کا نہیں بلکہ ایک باب کاعنوان ہے،جو سید تابش الوری کی تالیف
سیدفخرالدین بلے ۔ایک داستان ۔ ایک دبستان میں شامل ہے۔بڑے بڑے
بیوروکریٹس ،قومی اخبارات کےکالم نگاروں ، نامورادیبوں اورشاعروں
نے اپنے مشاہدات کی بنیاد پر سیدفخرالدین بلے کی شخصیت اور
ابلاغیات کی دنیا میں ان کی استادانہ مہارت کی تصویرکشی کی ہے۔ان
نگارشات کوپڑھ کرپتا چلتا ہےکہ سیدفخرالدین بلے ادب و ثقافت،
اورتصوف وتاریخ کی مینارقامت شخصیت ہونے کےساتھ ساتھ تعلقات
عامہ کی ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی بھی تھے۔انہیں اپنی دنیاکی بڑی
بڑی ہستیوں نے تعلقات عامہ کےاستادوں کااستاد اور ابلاغیات کامایہ ء
نازماہرماناہے۔سابق چیف سیکریٹری پنجاب اور معروف شاعر و کالم
نگار جاوید قریشی نےسیدفخرالدین بلے کوادب و ثقافت کی ایک ہنگامہ
خیز شخصیت اورمحکمہ تعلقات عامہ پنجاب کاچہرہ قراردیا اور لکھا
ہے کہ ساری زندگی میری نظرسے سیدفخرالدین بلے کےپائے
کاماہرتعلقات عامہ نہیں گزرا۔ دبنگ لہجے کے خوبصورت شاعر
مرتضیٰ برلاس نے سیدفخرالدین بلے کےساتھ نصف صدی کی رفاقت
کی داستان بڑے موثرانداز میں لکھی ہے۔اپنے طویل مضمون میں یادوں
کے دریچے بھی واکئے ہیں اور انہیں اپنے عہد کا مایہء نازماہرتعلقات
عامہ قراردیا ہے۔کہتے ہیں بلے صاحب ایک چلتی پھرتی انسائیکلو پیڈیا
اورتعلقات عامہ کاجیتا جاگتا ادارہ تھے۔ حافظہ بلا کا تھا۔ بڑے بڑے
لوگ آکر ان سے فیوض اپنے دامن میں سمیٹ کررخصت ہوا
کرتےتھے۔ سابق ڈی جی پی آر پنجاب ،ریٹائرڈ سیکریٹری اطلاعات
پنجاب اور جدید لہجے کے مقبول شاعر شعیب بن عزیز نےلکھا
سیدفخرالدین بلے ایک باکمال اور نادر شخصیت تھے۔ان سے کئی
عشروں کا ساتھ رہا۔من آنم کہ من دانم۔ پھر بھی جو کچھ آج ہم ہیں،
سیدفخرالدین بلے صاحب مرحوم جیسے بزرگوں کی تربیت کے بغیر
شاید نہ ہو سکتے۔ اورینٹل کالج لاہور کی آن بان اور شان ڈاکٹرآغا سہیل
بھی سید فخرالدین بلے کوتعلقات عامہ کی ایک تہذیبی یونیورسٹی ہی
سمجھتے تھے۔ معروف کالم نگار جمیل الدین عالی نے نقارخانے میں
کچھ یادداشتوں کو ذکرکرتے ہوئے لکھا بھارت کے نامور ادیب رام
لعل پاکستان آئے تولاہور میں مدیر نقوش محترم محمد طفیل کے
صاحبزادے اور ادب دوست جاوید طفیل نے ادیبوں اور شاعروں کو
اپنے گھر مدعو کیا۔ اس تقریب بہر ملاقات میں سید فخرالدین بلے سے
گلے ملتے ہوئے رام لعل نے کہا بہت سے اہل علم و ادب آپ کو بہت
یاد کرتے ہیں۔ آ پ کی ذہانت کے نقوش ان کے دل و دماغ پر آج بھی
موجود ہیں۔اس پر شریک محفل ڈاکٹر آغا سہیل نے برجستہ کہا
فخرالدین بلے ایک شخصیت نہیں ،ایک قافلہ ہیں۔جہاں پڑا ءو ڈال
دیں،محفل سج جاتی ہے۔اگر انہیں بھارت کے ادیب اور شاعر یاد کرتے
ہیں تو اس میں اچھنبے کی کوئی بات نہیں ،یہ ادب کی آبرو اور
صحافت کا وقار ہیں۔کسی کے دل میں گھر بنانا تو کوئی ان سے
سیکھے۔ اردوادب کی جان اوردبستان ملتان کی روح و رواں ہستی
ڈاکٹراسد اریب نے حال ہی میں ایک وڈیو انٹرویودیتے ہوئے کہا کہ
سیدفخرالدین بلے ابلاغیات کےماہرتھے۔ انہیں اردواورانگریزی زبانوں
پر غیرمعمولی قدرت حاصل تھی ۔یہ واقعہ بھی سنایاکہ غلام حیدروائیں
وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور سید فخرالدین بلے ان کے کمرے میں بیٹھے
ہوئے تھے۔ اسی اثناء میں ایک صوبائی سیکریٹری ان کے پاس آئے
اور ان کے کان میں آہستہ سے کچھ کہا۔ جس پر وائیں صاحب نے بلے
صاحب سے کہاکہ اس نوعیت کا اسکرپٹ انگریزی زبان میں آپ لکھ
دیں ۔بلے صاحب کی انکساری دیکھئے کہ انہوں نے جواب دیا، اس
حوالے سے میری معلومات نہ ہونے کےبرابر ہیں ۔وائیں صاحب
کےاصرار پرانہوں نے اسکرپٹ لکھ دیا۔ جسے دیکھ کرصوبائی
سیکریٹری نے کہا حالانکہ میں اس محکمےکاسیکریٹری ہوں ، لیکن
میرے پاس بھی یہ معلومات نہیں ۔اسکرپٹ کی تعریف کرتے ہوئے
بولے کہ ایسااسکرپٹ تو میں لکھ ہی نہیں سکتاتھا ۔ حکمرانوں سے
قریبی مراسم ہونے کےباوجود سیدفخرالدین بلے ہمیشہ سراٹھاکرچلے
اور کسی کے سامنے وقتی مفادات کیلئے نہیں جھکے ۔انا اور خودداری
ان میں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی ۔ڈاکٹراسداریب نے موقع کی
مناسبت سے سیدفخرالدین بلے کایہ شعر بھی پڑھا۔
سراٹھاکرزمیں پہ چلتاہوں
سرچھپانےکوگھرنہیں ، نہ سہی
اردوادب میں مجید ا مجد کونئی ادبی اورفنی زندگی عطاکرنےوالی
شخصیت ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا بھی تعلقات عامہ کےشعبےمیں سیّد
فخر الدین بَلّے کی مہارت کےمعترف نظرآتے ہیں ۔لکھتےہیں
سیدفخرالدین بلے محکمہ اطلاعات حکومتِ پنجاب میں اعلیٰ افسر تھے۔
ایک مستعد اور فرض شناس افسر ہونے کی وجہ سے اہلِ اقتدار سے ان
کا قریبی رابطہ رہتا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ پنجاب کے درویش صفت
وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں ان کا بہت احترام کرتے اور ان کے
مشوروں پر عمل کرتے۔ وائیں صاحب جب بھی کسی تقریب میں مدعو
کئے جاتے توسیدفخرالدین بلے ہی ان کی تقریرکی تیاری کراتے ۔اتنی
قربت ہونے کے باوجود اپنی طبعی شرافت اور وضع داری کے باعث
انہوں نے ذاتی فوائد حاصل کرنے سے احتراز کیا۔اپنے محکمے کے
کاموں میں انہیں مہارت حاصل تھی اور جب وہ ریٹائر ہو گئے، اس
وقت بھی حسبِ ضرورت محکمے کے لوگ ان سے رہنمائی حاصل
کرنے ان کے ہاں آتے رہتے تھے۔ ہوسکتا ہے میں بھی بَلّے مرحوم کی
شخصیت دل آرا و دلکش سے نا آشناہی رہتا مگر حسنِ اتفاق سے
بیسویں صدی کی آخری دہائی کے چند برس میں نے ان کی ہمسائیگی
میں گزارے ۔اس وجہ سے ان سے قرب کے مواقع میسر آئے اور ان
کی وضع داری، شرافت، خوش مزاجی اور انسان دوستی کی
خصوصیات کو قدرے قریب سے دیکھا۔ سیّد فخرالدین بَلّے جی او آر
تھری میں میرے کوارٹر کے عین سامنے سکونت پذیر رہے۔ مجھے
بلّے صاحب کے ہاں درجنوں ادبی محفلوں میں شرکت کی سعادت
حاصل ہوئی۔ شہر کے ممتاز شعراءاور ادباءباقاعدگی سے شریک ہوتے
تھے۔ شرکاءمیں حکومت پنجاب کے بڑے بڑے اہم بیورو کریٹ بھی
شامل ہوتے لیکن وہ اپنی ادبی اور شعری حیثیت کی بناءپر شرکت
کرتے اور آدابِ محفل کا پوری طرح خیال رکھتے۔ ہرادب دوست اس
بات سے شناسا ہے کہ بد قسمی سے ادب میں بھی دیگر سماجی اداروں
کی طرح گروہ بندیاں موجود ہیں۔ بعض اوقات نوبت مخالفانہ تحریروں
تک پہنچ جاتی ہے اور ایسی تلخیاں جنم لیتی ہیں کہ باہمی روابط منقطع
ہو جاتے ہیں اور یہ حضرات کسی محفل میں یکجا بیٹھنا بھی گوارا
نہیں کرتے۔ فخرالدین بَلّے کی محفلوں میں ہر مزاج اورہر خیال کے
ادیبوں کو بلایا جاتا تھا اور مختلف الخیال اصحاب علم و ادب شریک
ہوتے تھے اور وقتی طور پر تلخیاں بھلا دیتے تھے۔ بَلّے صاحب تمام
ادیبوں کا یکساں احترام کرتے تھے۔ ان کے دروازے سب کےلئے
کھلے تھے اور سب کو برابر اہمیت دیتے اور جس کسی نے بھی ادب
کی خدمت کی ہے،اسکےوقاراورعزت کا پوراخیال رکھتے۔سید
منصورعاقل مدیراعلیٰ الاقرباء،اسلام آباد نے اپنی نصف صدی کی
یادوں کی بنیاد پرلکھا مجھے خود بھی اندازہ نہ تھا کہ سیدفخرالدین بلے
کا شعری سفر اتنا تاریخ ساز ہوگا کہ فکرونظر کے چراغوں سے
راستوں کے سنگ ہائے میل کو روشن کرتا چلاجائے گا ۔ حسنِ اتفاق
کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے انہیں جو تہذیبی ورثہ عطا کیا، وہ
بھی ان کے شعور ولاشعور میں خوشبو بن کر رچ بس گیا۔ ڈاکٹر اجمل
نیازی ممتاز کالم نگار اوردانشورہیں ،انہوں نے لکھا جو لوگ ایک
دوسرے کی شکلیں دیکھنے کے روادار نہیں تھے،وہ بھی سیدفخرالدین
بلے کی محفلوں میں اکٹھے نظر آئے ۔ ان کی شفقت میں شا ئستگی کا
ایسا انداز تھا ۔جس میں عزت مندی نمایاں تھی۔ انہوں نے رشتے اور
رابطے کو ایک جذبہ بنا دیا تھا۔ وہ بڑی حیثیتوں کے مالک تھے، وہ
جامع آدمی تھے۔تعلقات عامہ کے صرف ماہر نہیں حقیقی معنوں میں
اس کے استاد تھے۔دانشور اور اسکالر تھے۔بڑے بڑے ادیب اوردانشور
ان کی ادبی حیثیت کے معترف تھے۔ بیش بہا شخصیت تھے۔ دوستوں
کو اکٹھا کرنے اور انہیں اکٹھا رکھنے کاعجب ہنر ان کے پاس تھا، وہ
ہنر مند بھی تھے اور درد مند بھی۔صف اول کے جدید افسانہ نگار
،سینئرصحافی اورکالم نگار مسعود اشعر،سابق ڈائریکٹرتعلقات عامہ
پنجاب سیداظہرامام زیدی، سابق ڈائریکٹرتعلقات عامہ پنجاب خالد
نذیر،معروف ڈراما نگار اصغر ندیم سید،نوائےوقت کے کالم نگار بیدار
سرمدی اور دیگر لکھاریوں کے مضامین پڑھ کر سیدفخرالدین بلے
ایک دبنگ افسر، ایک کثیرالوصف شخصیت ،ایک بہترین منتظم، ایک
عدیم النظیر ماہرتعلقات عامہ ، نفاست پسند انسان ،اپنے ماتحتوں پر
مہربان، اور اہلِ قلم کے قدردان نظرآتے ہیں ۔ معروف سیاسی و ادبی
شخصیت سیدتابش الوری اپنی تالیف سیدفخرالدین بلے ۔ایک داستان ۔
ایک دبستان ۔ کے دیباچے میں لکھتے ہیں بَلّے صاحب پیدائشی طور
پرتعلقات عامہ کے خوبصورت سانچے میں ڈھلے ہوئے ایک سحرکار
آدمی تھے، جوصحافیوں کے دلوں میں اترکے ہر مشکل آسان کرنے
کاہنر بھی جانتے تھے اور انہیں ارباب بست و کشاد سے برابری کی
بنیاد پر دلائل کے ساتھ اپنا موقف منوانے کازبردست ملکہ بھی حاصل
تھا۔اسی حوالے سے دوران ملازمت کئی شہروں میں تعینات رہے اور
جہاں بھی رہے ،داستاں چھوڑ آئے۔بَلّے صاحب اپنی ذات میں ایک
کائنات تھے۔بوقلموں ،گوناگوں اوررنگارنگ۔ بیک وقت ایک کرشمہ
ساز افسر،ایک عظیم انسان،ایک پختہ کار شاعر،ایک برق رفتار
نثّار،ایک غیر جانب دار محقق،ایک ہمہ جہت دانشور،،ایک تیزطرار
صحافی،ایک جدت طراز موسیقی نواز اورایک فعال ادبی اور ثقافتی
سفیر۔ قدرت نے انہیں عجیب رنگ و آہنگ سے تراشا تھا اوران کے
رگ و پے میں بجلیاں سی بھر دی تھیں ۔ہردم کچھ نہ کچھ کرنے کے
لئے بے قرار! ہر لمحہ کوئی نیا فیصلہ،نیامنصوبہ، نیاراستہ، نئے
مرحلے،نئے اقدام ،نئے چیلنج ،نئی فکر،نئی مہم ،نئی منزل ۔خوش
اندامی،خوش اخلاقی ،خوش لباسی ،خوش دلی اور خوش فکری کاوہ
ایک دلکش پیکر تھے ۔سراپا خود دار۔سراپا انکسار۔جرات و جسارت
کے کوہسار ۔فراست و فطانت کی آبشار، رکیں تو لالہ زار اور چلیں تو
باد بہار۔میرے نزدیک بَلّے صاحب بنیادی طور پر شاعر تھے مگر ان
کی بیشتر تخلیقی توانائی تعلقاتِ عامہ اور ابلاغیات نے لوٹ لی۔ یہ تو
تھا مختصرسااقتباس جو سیدتابش الوری کی کتاب سیدفخرالدین بلے۔
ایک داستان ۔ ایک دبستان سےلیاگیا۔ اب آپ ملاحظہ فرمائیں اس کتاب
کےایک باب میں شامل چند بڑی علمی ادبی شخصیات کےمضامین
،جنہیں پڑھ کرسیدفخرالدین بلے ایک مایہء نازماہرتعلقات کی حیثیت
سے آپ کواپنی آنکھوں کے سامنے کھڑےنظرآئیں گے۔
[ ادارہ]
سیدفخرالدین بَلے۔ آسمان ادب کا ایک بڑا آدمی
تحریر: ڈاکٹراجمل نیازی
سَیّد فخرالدین بَلّے یاد آتے ہیں تودل میں ایک دنیا آباد ہوجاتی ہے۔
یہ دنیامیں نے سَیّد فخرالدین بَلّے کے گھر میں دیکھی تھی۔ان کے گھر
میں بڑی باقاعدگی کے ساتھ علمی اور ادبی محفلیں منعقدہواکرتی
تھیں۔جن کااہتمام وہ بڑے ذوق و شوق کے ساتھ کیاکرتے تھے۔ ۔مجھے
بھی بہت بار ان کے ہاںحاضر ہونے کاموقع ملا۔وہ زندہ دل آدمی
تھے۔ایسے لوگ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ وہ اب نہیں ہیں
لیکن ہم انہیں یاد کرتے ہیں تو ایسا لگتاہے وہ ہمارے درمیان موجود
ہیں۔
سَیّد فخرالدین بَلّے سر تا پا شاعر تھے۔زندگی اور شاعری میں فرق نہ
کرتے تھے۔ جب ان کے سراپے پر بڑھاپے کے اثرات ظاہر ہونے
لگے تھے تو بھی زندگی ان کے وجود میںوجد کرتی رہی۔ ان کے دل
میں دھڑکتی رہی ۔ ان کے لہو میں تڑپتی رہی۔وہ سرکاری افسرتھے
مگر کبھی افسری ان پر طاری نہیں ہوئی ۔ وہ ایک درویش انسان تھے۔
وہ عمر میں بھی مجھ سے بہت بڑے تھے، ویسے بھی وہ بہت بڑے
تھے ۔ادبی اور علمی دنیا کے بڑے آدمی تھے۔زندگی کے جس شعبے
میں قدم رکھا ،رحمت خد اوندی ان پر سایہ فگن رہی اور خداداد
صلاحیتوں کی بناءپر کامیابیوں نے بڑھ کران کے قدم چومے۔اسٹیج کی
ترقی کیلئے آگے بڑھے توان کے25 روزہ جشن تمثیل کی گونج
دوردور تک سنائی دی۔اسٹیج فن کاروں نے خدمات کے اعتراف میں
سید فخرالدین بلے ہی کو مین آف دا اسٹیج قراردیا۔سمعی اور بصری
فنون کی ترویج پر انہیں محسن فن کے خطاب سے نوازا گیا۔صحافت
کے میدان میں اترے تو فکرو قلم کے خوب جوہردکھائے۔حالات
حاضرہ پر کئی اخبارات و جرائد میں قطعات بھی لکھتے رہے۔بڑے
بڑے بیوروکریٹس کوبھی میں نے ان کاقدر دان پایا۔بڑا وہ ہوتاہے
،جسے کسی دنیاکے بڑے بڑامان لیں ۔سیدفخرالدین بلے
کوعلم،ادب،اسٹیج ،ثقافت اورتصوف کے بڑے لوگ بھی بڑا مانتے
تھے۔اشفاق احمد،این میری شمل، مخدوم طالب المولیٰ اور ڈاکٹروزیرآغا
انہیں تصوف پراہم اتھارٹی سمجھتے تھے ۔قافلے کے ایک پڑاﺅ میں
تصوف پر اشفاق احمد اورسید فخرالدین بلے کے مابین فکرانگیز مکالمہ
ہوا۔تمام شرکائے قافلہ نے خوب لطف اٹھایا اور بہت کچھ پایا۔قافلے کے
پڑاﺅ کی بازگشت آواز جرس میں بھی سنائی دیتی تھے۔اس مجلے کے
چیف ایڈیٹر بھی سید فخرالدین بلے ہی تھے۔وہ قلم کاروں کی حوصلہ
افزائی کے بہانے بڑی آسانی کے ساتھ ڈھونڈ لیاکرتے تھے۔احمد ندیم
قاسمی،ڈاکٹروزیر آغا،مرتضیٰ برلاس اور میرزاادیب سمیت بہت سے
ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ بھرپور شامیں منائی گئیں ۔جو لوگ ایک
دوسرے کی شکلیں دیکھنے کے روادار نہیں تھے،وہ بھی ان کی
محفلوں میں اکٹھے نظر آئے ۔ ان کی شفقت میں شا ئستگی کا ایسا انداز
تھا ۔جس میں عزت مندی نمایاں تھی۔مجھے ہمیشہ محسوس ہوا ،جیسے
میں ان کے گھر کا آدمی ہوں۔ ہم ان کے لئے چھوٹے بھائیوں کی طرح
تھے۔ وہ ہمیں بھائیوں جیسا اعزاز دیتے تھے۔ انہوں نے رشتے اور
رابطے کو ایک جذبہ بنا دیا تھا، ایک اچھا شاعر ہونے کے مقام نے ان
کے لئے احترام کاجذبہ پیدا کردیا تھا۔ وہ بڑی حیثیتوں کے مالک تھے،
وہ جامع آدمی تھے۔شاعر اور ادیبہی نہیں، درجنوں مطبوعات کے
مولف بھی تھے اور درجن بھر رسائل کے مدیر بھی۔تعلقات عامہ کے
صرف ماہر نہیں حقیقی معنوں میں اس کے استاد تھے۔دانشور اور
اسکالر تھے۔بڑے بڑے ادیب اوردانشور ان کی ادبی حیثیت کے معترف
تھے۔ بیش بہاشخصیت تھے۔ دوستوں کو اکٹھا کرنے اور انہیں
اکٹھارکھنے کاعجب ہنر ان کے پاس تھا، وہ ہنر مند بھی تھے اور
دردمند بھی ۔ اس روایت کو ان کے بیٹے ظفرمعین بَلّے نے بھولی ہوئی
حکایت نہیں بننے دیا۔ وہ اپنے عظیم والد کے ملنے والوں سے ملاقات
رکھتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ بَلّے صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد میں
ملتان میں ان کے گھر گیا تھا، وہ مجھ سے مل کے پہلی بار پھوٹ
پھوٹ کر روئے تھے۔ میں نے ان کے محبت بھرے آنسوﺅں کی روشنی
ظفرمعین بَلّے کی آنکھوں میں دیکھی ہے۔ یہ روشنیاں ان کے گھر
میںجگمگاتی رہتی ہیں۔ ظفرمعین بَلّے کی بیٹی کی نظمیں میں نے سنی
ہیں۔ ان میں بَلّے صاحب کی خوشبو کی ان دیکھی نسبت نظرآتی ہے۔
قافلے کاسفر نہیں تھما۔ فخرالدین بَلّے کاسفر بھی جاری ہے۔ ان کی
ہمسفری زندگی کے بعد بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ان کے گھر
والے جب تک انہیں یاد رکھیں گے توہمارے اندر بھی کو ئی یاد
دلاتارہے گا۔آدمی سب کچھ بھول جاتاہے مگر محبت کونہیں بھول سکتا۔
بَلّے بھائی تو محبت کے بنے ہوئے تھے۔ ان کی خوبصورت شاعری
بھی ان کی محبت کا عکس ہے اور جو اس کے برعکس ہے،وہ بھی
محبت ہے ۔ شاعری محبت کو زندہ رکھتی ہے اور محبت کو تقسیم
کرتی ہے۔ عظیم دانشور اشفاق احمدکہتے تھے کہ اے خدا ہمیں آسانیاں
عطاکر اور آسانیا ں تقسیم کرنے کی توفیق عطاکر۔ یہ دعا فخرالدین
بَلّے جیسے لوگوں کے لئے قبول ہوئی ہے۔وہ عمر بھر آسانیاں تقسیم
کرتے رہے۔محبتیں بانٹتے رہے۔ وہ بہت ہمدرد
تھے ۔کئی لوگوں کی اس طرح مدد کی کہ وہ دوسروں کی مددکرنے
کے قابل ہوگئے۔
میں ان دوستوں کاشکرگزار ہوں ،جنہوں نے بَلّے بھائی کی
یادوںپرمشتمل تحریروں کو ترتیب دینے کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔
ایسے لوگوں کی یادوں کومحفوظ کرنا ایک بڑاکام ہے۔جوہوگیاتو آنے
والی نسلوں تک یہ بات بھی پہنچا دے گاکہ ہم اپنے بڑے لوگوں کو
بھولتے نہیں۔
سیدفخرالدین بَلے۔ آسمان ادب کا ایک بڑا آدمی
تحریر: ڈاکٹر اجمل نیازی
اب ملاحظہ فرمائیں اسی باب میں ایک اور مضمون جو ان کے دیرینہ
دوست ،سابق بیوروکریٹ اورنامورشاعرو ادیب سید منصورعاقل
نےبڑی محبت کےساتھ لکھاہے۔
سیدفخرالدین بلے ۔ایک کثیرالوصف شخصیت
تحریر:سیدمنصورعاقل ، مدیراعلیٰ الاقرباء، اسلام آباد
یہ نصف صدی سے بھی زیادہ کا قصہ ہے کہ میں اور بلے مرحوم
(جنہیں اب مرحوم لکھتے ہوئے میرا ہاتھ کانپ گیا ہے)انیس سو تریپن
میں سابق ریاست بہاولپور کے محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ میں ایک
دوسرے کے رفیقِ کار کے طورپر متعارف ہوئے اور چند ہی دن میں
ذہنی قربت کے وہ فاصلے بھی طے کرلئے کہ جن سے گزرنے میں
برسوں لگ جاتے ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ دفتر میں ہماری نشست ایک ہی
کمرے میں تھی،جہاں جب چائے منگوائی جاتی تو بلے صاحب
اکثروبیشتر خود پہل کرتے اور مجھے میزبانی کا موقع بہت ہی کم ملتا۔
چائے کے ساتھ ”توشہ“ بھی ہوتا، جو ان کی مرغوب مٹھائی تھی۔ حسنِ
ا تفاق کہ دفتر میں ہمارے سینئر کیپٹن ممتازملک(مرحوم) تھے جو
انیس سو پچاس ، اکاون میں جب میں اپنے دور طالب علمی میں
روزنامہ ’زمیں دار‘ لاہور کے عملہ ادارت میں سب ایڈیٹر تھا تو وہاں
بھی میرے سینئر(نیوزایڈیٹر) تھے۔ چنانچہ بلے صاحب کی باغ وبہار
شخصیت کے اوصاف جہاں ان کی ہم نشینی میں مجھ پر منکشف
ہوئے، وہیں کیپٹن ممتاز ملک صاحب بھی ایک ایسی قدرِمشترک تھے
کہ ادب وصحافت دونوں شعبے ہی ہماری فکر وعمل کا ناگزیر حصہ
بن گئے۔ نور احمد میرٹھی مولف”تذکرہ شعرائے میرٹھ“ بلے صاحب
کے بارے میں لکھتے ہیں۔
''6 اپریل 1930 کو ہاپوڑ ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔1942 میں الہ آباد
بورڈ سے میٹرک کیا۔1948 میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے انٹر
اور انیس سو اکاون میں اسی یونیورسٹی سے سائنس میں گریجوایشن
(بی ایس سی)کیا۔ انیس سو باون میں علی گڑھ ہی سے ادیب کامل کا
امتحان پاس کرکے سترہ نومبر انیس سو باون کو وطن چھوڑ کر
پاکستان ہجرت کی۔
بلے صاحب کی تاریخ پیدائش کے حوالے سے ایک خفیف سا فرق یہ
ہے کہ ان کے ایک عزیز حیات میرٹھی نے جو ان سے کافی پہلے
ہجرت کرکے ریاست بہاولپور آگئے تھے ۔اپنی کتاب "بہاولپور کا
شعری ادب"شائع کردہ اردو اکیڈمی بہاولپور 1971 میں سن ولادت تو
1930 ہی لکھا ہے۔ البتہ تاریخ 6 اپریل نہیں بلکہ 15 دسمبر لکھی ہے
۔بہرحال کچھ نسبتیں ایسی ہیں جن کا فیضان بلے صاحب کی زندگی میں
نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کا آبائی وطن ہاپوڑ ضلع میرٹھ یوپی کا ایک
مردم خیز قصبہ اور تحصیل کا صدر مقام تھا۔ یہی قصبہ بابائے اردو
مولوی عبدالحق مرحوم کا بھی مولد ومنشاءتھا اور نامور شعراءکا
مسکن ،جن میں حضرت امیر مینائی کے شاگردِ خاص اطہر ہاپوڑی
تھے اورسلسلئہ داغ کے تلامذہ میں شمس ہاپوڑی اور لاڈلی لال لائق،
جنہیں داغ کے نورتن حضرت سید عبدالوحیدفدا سے شرفِ تلمذ حاصل
تھا ۔جو ہاپوڑ سے نومیل کے فاصلے پر قصبہ گلاءوٹھی ضلع بلند شہر
کے متوطن تھے۔ مشاعرے آئے دن کا معمول بن چکے تھے ۔چنانچہ
ایسے ماحول میں سید فخرالدین بلے نے ہوش سنبھالا اور ان کا شعری
وجدان بیدار ہوا ۔ دوسری اہم نسبت مسلم یونیورسٹی علی گڑھ تھی ،جس
کی روایات سرسید کا ورثہ بن کر بلے صاحب کی شخصیت میں منتقل
ہوچکی تھیں۔ان کی وضع قطع اور ان کے آدابِ معاشرت میں علی گڑھ
ان کی شناخت بن گیا تھا اور عہد طالب علمی کے سائنسی علوم کی
نسبت السنہ شرقیہ کی سند''ادیبِ کامل" ان کے ادیب ہی نہیں بلکہ شاعر
کامل ہونے کی سندِاعتبار بن گئی تھی۔ البتہ تخلص"بلے" ہر نو متعارف
شخص کے چہرے پر استفہامیہ لکیرکھینچ دیتا تھا۔ چنانچہ انہیں خود
بھی متعدد بار یہ وضاحت کرنا پڑی کہ حضرت خواجہ معین الدین
چشتی اجمیری نے اپنے صاحبزادے کا نام فخرالدین رکھا تھا اور پیار
سےانہیں "بلے" کہتے تھے۔ اسی مناسبت سے ان کے والد غلام معین
الدین چشتی نے ان کا یہ نام رکھا۔
بہاولپور میں 50 کی دہائی کے نصف اول کو بلے صاحب کی شاعری
کے حوالے سے طلوع آفتاب کا ہنگام کہا جاسکتا ہے اور ان کی حیاتِ
مستعار کے آخری برسوں میں قیام ملتان کو"دلیل آفتاب"۔ بعد کے اس
دور میں ان کے فکر وفن نقطہءعروج کو چھوتے نظر آتے ہیں، جس
کی بشارت ان کے ایک معاصر نقاد ماجد قریشی نے اپنی کتاب’دبستان
بہاولپور‘ میں ساٹھ کی دہائی میں درج ذیل جملے میں لکھ کر دے دی
تھی۔
"۔۔۔۔۔۔اس کے جسم میں ایک ایسی نامعلوم آگ سلگ رہی ہے، جس میں
سے کبھی دھواں اٹھتا ہے اورکبھی شعلے لو دینے لگتے ہیں۔ ۔ یوں
محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بلے میں کوئی دوسرا شخص بھی چھپا بیٹھا
ہے-"۔ چنانچہ جب بلے صوفیا ءواولیاء کی سرزمین ملتان پہنچے تو وہ
سلگتی آگ بھی شعلہء جوالہ بن گئی اور وہ ''دوسراشخص" بھی ظاہر
ہوگیا، جو چھپا بیٹھاتھا۔
یوں لگی مجُھ کو خنک تاب سحر کی تنویر
جیسے میرے لئے جبریل نے پر کھولے ہیں
دیکھی چمک جو سر پہ مرے آفتاب کی
پرچھائیں تک مری مرے قدموں میں آگری
ہے میرا سوچ سفر فلسفے کے صحرا میں
ہواکے دوش پہ جیسے کٹی پتنگ چلے
انسان اور حیات وکائنات ان کی فکر کا موضوع بنے اور متصوفانہ
مضامین نت نئے انداز میں اشعارمیں ڈھلنے لگے ۔ ان اسالیب میں
قدرت کی شاہکار تخلیق کی حیثیت سے انسان اورانسانی عظمت کا
شعور بلے کی فکری ترجیحات کے اولین نقطے ہیں۔
خداسے روزِ ازل کس نے اختلاف کیا
وہ آدمی تونہ تھا ،جس نے انحراف کیا
وہی تو ہوں میں کہ جس کے وجود سے پہلے
خود اپنے رب سے فرشتوں نے اختلاف کیا
اسی کے رحم و کرم پر ہے عاقبت میری
نہ جس نے پہلی خطا کو مِری معاف کیا
ازل سےعالم موجود تک سفر کرکے
تھکے تو جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا
رہیں گے قصرِعقائد نہ فلسفوں کے محل
جو میں نے اپنی حقیقت کا انکشاف کیا
اتنا بڑھا بشر کہ ستارے ہیں گردِ راہ
اتنا گھٹا کہ خاک پہ سایہ سا رہ گیا
ہنگامہ ہائے کار گہہِ روز و شب نہ پوچھ
اتنا ہجوم تھا کہ میں تنہا سا رہ گیا
ارتقا کاتیزتر عمل فخرالدین بلے کا نمایاں وصف ہے۔ وہ جدید وقدیم
کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شعر کی کلاسیکی اقدار
انہیں عزیز ہیں اور اسلوب میں جدت کا رحجان عزیز تر۔ وہ فطرت
کے مشاہدہ ومطالعہ میں اس طرح مصروف ہیں کہ پوشیدہ حقائق کی
جستجو انہیں ہرلحظہ مضطرب رکھتی ہے۔ سحر آفریں مناظر سے
مفاہیم ومعانی تراشنا ان کا مستقل مشغلہ ہے۔ ان کی باطن کی آنکھ
مظاہرِ فطرت کا تجزیہ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔
رنگِ صحن چمن اک معماسا ہے
روئی شبنم، کلی کو ہنسی آگئی
پیڑ نعمت بدست وسرخم ہیں
ہے تفاخر بھی انکسار کے ساتھ
میں کیا بتاءوں کہ قلب ونظر پہ کیا گزری
کرن نے قطرہء شبنم میں جب شگاف کیا
کھل کے گل بن گئی کلی چپ چاپ
اِک قیامت گزرگئی چپ چاپ
سوچ کے آسماں سے اتری ہے
دل کے آنگن میں چاندنی چپ چاپ
میں کس سے پوچھوں کہ پھولوں نے کس لئے آخر
بسنت رُت کو چُنا چاک دامنی کے لئے
معروضیت اور عصری معنویت بلے کے کلام میں غزل کی صنفی
حدود میں دیکھی جا سکتی ہے لیکن رمزیت واشاریت کے تمام لوازم
کے ساتھ، جو برملا بھی ہیں اور لباسِ حریر میں ملبوس بھی۔
رُتوں کی ریت یہی ہے ،یہی ہوا کی روش
تپش بڑھے گی تو بادل ضرور برسے گا
چمن کے دیدہ وروں سے سوال ہے میرا
بہار کا ہے یہ موسم توپھر گھٹن کیوں ہے
میں اس مقام پر تو نہیں آگیا کہیں
ہوگی نہ صبح رات گزرنے کے باوجود
یہی نہیں بلکہ بلے کی فکری معروضیت میں کہیں کہیں اساتذہ کے
اسلوب وآہنگ کا پر تو صاف جھلکتا ہے اوران کا انداز تنقید بھی تو
اردو مماثلت کی حدوں کو چھونے لگتا ہے۔1947 میں تقسیم برصغیر
کے انسانی سانحات نے جگرمرحوم جیسے غزل گو شاعر کو جھنجوڑ
کر رکھ دیا تھا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ
فکرِجمیل خوابِ پریشاں ہے آج کل
شاعر کہاں ہے وہ جو غزل خواں ہے آج کل
سازِ حیات ساز شکستہ ہے ان دنوں
بزمِ خیال جنتِ ویراں ہے آج کل
جمہوریت کا نام ہے جمہوریت کہاں
فسطائیت حقیقتِ عریاں ہے آج کل؟
چنانچہ فخرالدین بلے کے عہد میں تاریخ جب خود کو دہراتی ہے تو ان
کا لہجہ بھی اسی طرح تلخ و درشت ہو جاتا ہے۔
جنت خیال وفکر کی ویراں ہے آج بھی
آدم حقیقتوں سے گریزاں ہے آج بھی
جمہوریت کا نام ہے جمہوریت کہاں
پابندیاں ہیں ،قید ہے، زنداں ہے آج بھی
مجھے خودبھی اندازہ نہ تھا کہ سیدفخرالدین بلے کا شعری سفر اتنا
تاریخ ساز ہوگا کہ فکرونظر کے چراغوں سے راستوں کے سنگ ہائے
میل کو روشن کرتا چلاجائے گا۔ وہ جب بہاولپور میں بحیثیت شاعر
متعارف ہوئے تو محفلوں میں ”بلے بلے“ کی آوازوں سے انہیں
دادوتحسین سے نوازاگیا۔ یہاں تک کہ انہی دنوں حکیم راغب مراد آبادی
مرحوم نے جو اپنی بدیہہ گوئی کے باعث شہرت حاصل کرچکے تھے
اور بہاولپور آئے ہوئے تھے۔ ایک شعری نشست میں جو معروف مقامی
شخصیت اور صحافی عبدالحمید صحرائی کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی
،بلے صاحب کو برجستہ شعر کہہ کردعوتِ سخن دی کہ
قوافی اب نہیں ہیں میرے پلے
مدد فرمائیں فخرالدین بلے
اس شعر نے محفل کو زعفرانِ زار بنادیا اور رفتارِزمانہ نے سرکاری
ملازمت کے ہاتھوں انہیں ملک کے طول وعرض میں ایسے ایسے
مقامات تک پہنچایا،جنہیں تہذیب وثقافت اور علم وادب کے مراکز کہا
جاسکتا ہے۔ اس طرح انہیں جو پذیرائی میسر آئی ،اس نے انہیں اہلِ
فکرودانش میں مقبول بنادیا اورجب وہ سفر آخرت کی تیاری کے لئے
ملتان پہنچے تو ان کے فکر وفن بلندیوں کو چھونے لگے۔پروفیسر
ڈاکٹر عاصی کرنالی جیسے ثقہ ادیب وشاعر اورمتوازن الفکر نقاد نے
ان کی رحلت پر دل کھول کر داد دی۔
"فخرالدین بلے ایک شخص کا نہیں،ایک یونیورسٹی اور تہذیبی ادارے
کا نام تھا۔"
اس میں شک نہیں کہ وہ جس گنگا جمنی تہذیب کے نمائندہ تھے۔ اس کا
واضح عکس ان کے اشعار میں منجملہ ذاتی اوصاف یعنی خود داری
وخود آگہی اور دانش وحکمت میں اصل ونقاب کے امتیازی شعور کو
دیکھاجاسکتا ہے مثلاً
سر اٹھا کر زمیں پہ چلتا ہوں
سر چھپانے کو گھر نہیں نہ سہی
ہے فلسفوں کی گرد نگاہوں کے سامنے
ایسے میں خاک سوچ کو رستہ دکھائی دے
دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے
میرے تجزیئے کے مطابق ان کی ادبی وشعری عمارت کو جوبلند
وبالادکھائی دیتی ہے۔ خشت اول "ادیب کامل"کے نصابی مطالعہ نے
مہیا کی، ورنہ ابتداً تو وہ سائنس کے طالب تھے۔اس کے ساتھ ساتھ
شخصیتوں اور ماحول کا فیضان بھی ان کی خوش بختی بن گیا۔ حسنِ
اتفاق کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے انہیں جو تہذیبی ورثہ عطا کیا،
وہ بھی ان کے شعور ولاشعور میں خوشبو بن کر رچ بس گیا۔ غزل کی
صنف میں ان کا سنِ فکر خوب جولانیاں دکھاتا ہے۔ تغزل جو کلاسیکی
فکر کا عطیہ ہے، بلے مرحوم کے کلام میں پوری طرح جلوے
دکھارہاہے۔اس پرمستزاد ان کا فکری اچھوتا پن اور لطیف ودلپذیر لب
ولہجہ ہے۔ ملاحظہ ہو۔
کیا چاہتا تھا اور یہ کیا دے گیا مجھے
قاتل بھی زندگی کی دعا دے گیا مجھے
ہیں مجھ کو پسند آپ کی بکھری ہوئی زلفیں
بکھری ہوئی زلفوں کو سنوارا نہ کریں آپ
میں جانتا ہوں مگر تو بھی آئینہ لے کر
مجھے بتا کہ مرا انتخاب کیسا ہے
پڑا ہوا ہے بہت سے چہروں پہ مستقل جو غبار کیا ہے
ذرا کبھی آئینوں سے پوچھو نگاہ کا اعتبار کیا ہے
پلے ہیں جو دل کی دھڑکنوں میں لہوہے،جن کی رگوں میں جاری
بھلا انہیں کوئی کیا بتائے؟ سکون کیاہے؟ قرارکیا ہے
ہے پیار کا کھیل مصلحت اور خیالِ سود و زیاں سے بالا
لگا ہی لی ہے جو دل کی بازی تو جیت کیا اورہار کیا ہے
سیدفخرالدین بلے نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ تصوف
تو ان کا غالب رحجان تھا ہی۔ اس لئے نعت اور سلام ومنقبت میں
محتاط ومودب اسلوب اپنے اندر خاص دلکشی رکھتا ہے۔ مثلاً نعت کے
یہ شعر۔
ہے خوفِ خدا اُن کو خدا کہہ نہیں سکتے
کچھ اور مگر اس کے سوا کہہ نہیں سکتے
الفاظ جھجکتے ہیں لرزتے ہیں معانی
کچھ اور بجز صل علیٰ کہہ نہیں سکتے
اورآخرمیں غیرملکی صنف سخن "ہائیکو" میں ایک شہ پارہ ملاحظہ
فرمائیں
اُس نے پوچھا علوم کتنے ہیں
میں نے بھی اس سے یہ سوال کیا
آسماں پر نجوم کتنے ہیں
سیدفخرالدین بلے۔ ایک کثیرالوصف شخصیت
تحریر:سید منصورعاقل،مدیراعلیٰ الاقرباء ،اسلام آباد
اب آپ روزنامہ دنیا کےمعروف کالم نگاراورصف اول کے جدید
افسانہ نگار مسعود اشعر کامضمون ملاحظہ فرمائیں ،جو غالباً انہوں
نے اس وقت لکھا تھا ،جب وہ رونامہ جنگ میں کالم" آئینہ" لکھاکرتے
تھے۔مسعود اشعر نے اپنی یادوں کے حوالے سے سید فخرالدین بلے
کی افسری ،انکساری، مروت اور رواداری کو بڑی خوبصورتی
کےساتھ پینٹ کیاہے ۔
سیدفخرالدین بَلّے،تن اجلا تو من اجلا
کالم نگار:مسعوداشعر
کہتے ہیں انسان سفر میں پہچاناجاتا ہے یا اس وقت جب اس کے ساتھ
کوئی واسطہ پڑے۔ اسی طرح آدمی آدمی کے درمیان قربت اس وقت
پیدا ہوتی ہے، جب وہ اکٹھے کوئی کام کریں یا کسی تحریک میں شامل
ہوں۔ کریم خان سے تو قربت ایک تحریک میں شمولیت کی وجہ سے
پیدا ہوئی لیکن محکمہ اطلاعات کے دو افسر ایسے بھی تھے ،جن کے
ساتھ قربت کسی تحریک یا کسی مقصد کے بغیر ہی پیدا ہوئی۔ اور ایسی
قربت پیدا ہوئی کہ اب تک وہ دلوں میں بس رہے ہیں۔ان میں ایک تو
علی احمد بروہی تھے اور دوسرے فخرالدین بلے ۔ بروہی صاحب تو
قلندروں کے قلندرتھے، دل کھول کے قہقہے لگانے والے۔ اور اپنے
قہقہوں میں دوسروں کو شامل کرنے والے۔ اندر باہرایک۔ انگریزوں کی
بحری فو ج میں بھی رہے تھے اور 1946ءمیں انگریزبحریہ کی
بغاوت میں حصہ لیا تھا۔ دنیا دیکھی تھی۔ اس لئے ان کے پاس کہانیاں
ہی کہانیاں تھیں سنانے کے لئے۔ بلے صاحب دوسری طرح کے انسان
تھے۔ شکل و صورت سے بھی نستعلیق اور ملنے جلنے میں بھی
نستعلیق۔ نہایت شائستہ اور شستہ۔ شکل سے بھی خوبصورت اور مزاج
میں بھی خوبصورت۔ وہ ان انسانوں میں تھے، جن کے اندر کی
خوبصورتی ان کے چہرے سے ٹپکتی ہے۔ ہمیں بچپن میں
پڑھایاجاتاتھا۔"تن میلاتومن میلا"لیکن بلے صاحب کے بارے میں یہ
کہاوت الٹی ہوگئی تھی۔ان کے بار ے میں کہاجاسکتاتھا"تن اجلا تو من
اجلا"، ان کا تن بھی اجلا تھا اورمن بھی اجلا۔ ان کے من کا اجلا پن ان
کے لباس سے بھی ظاہر ہوتاتھا۔ کسی بھی انسان کے ذوق کا اندازہ اس
کے لباس سے لگایاجا سکتا ہے۔ بلے صاحب کا لباس ان کے ذوق کا
آئینہ دار ہوتا تھا۔ نک سک سے درست، صاف ستھرا، یہی صاف
ستھراپن ان کی بول چال میں بھی تھا۔ کسی سے ناراض ہوتے تو لگتا
ہی نہیں تھاکہ غصے میں ہیں۔ نہیں معلوم اپنے ماتحتوں کے ساتھ ان کا
رویہ کیسا تھا؟لیکن اخبار نویسوں کے ساتھ ان کا رویہ اتنا نرم اور اتنا
بھل منساہٹ والا ہوتا تھاکہ چھوٹے سے چھوٹے اخباروالا اور چھوٹے
موٹے گاوں کا اخباری نمایندہ بھی ان سے ایسی سخت باتیں کر دیتا تھا،
جو کسی معمولی انسان کے ساتھ بھی نہیں کی جا سکتیں۔ وہ یہ باتیں
سنتے اور بیٹھے مسکراتے رہتے یا اس شخص کو پیار سے سمجھاتے۔
اطلاعات کے محکمے کا تعلق اخباروالوں کے ساتھ ہی رہتا ہے۔
سرکارکی خبریں اخباروں میں چھپوانا اور سرکاری پالیسی کی
وضاحت کرنا اور کرانا اطلاعات کے محکمے کاہی کام ہے۔ یا پھر
اگر سرکارکے بارے میں کسی اخبار میں کوئی ایسی خبر چھپ گئی جو
سرکار کو پسند نہیں، اس کی وضاحت یا اس کی تردید چھپوانا بھی اسی
محکمے کا کام ہے۔ ظاہر ہے یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ہر
اخباراورہراخباروالے کا اپنا مزاج اوراپنامفاد ہوتاہے۔ محکمہ اطلاعات
کے کسی بھی افسر کیلئے بہت مشکل ہوتا ہے کہ اخبار والے کی
مرضی کے خلاف سرکار کی مرضی کی خبر چھوائے۔لیکن اس سے
بھی زیادہ مشکل کام سرکاری اشتہاروں کی تقسیم کا ہوتاہے۔ یوں تو
بڑے شہروں میں بھی اس مسئلے پر اکثر جھگڑے رہتے ہیں کہ میرے
اخبار کو اشتہارکیو ں کم ملے،اور دوسرے کو زیادہ کیوں مل گئے۔
لیکن چھوٹے شہروں اور مضافات میں یہ جھگڑے کچھ زیادہ ہی ہوتے
ہیں۔ وہاں اخبار اس لئے نہیں چھپتے کہ ان سے لوگوں کو اس علاقے
کے یا دنیابھرکے واقعات سے آگاہ کیا جائے بلکہ اس کا مقصد علاقے
میں اپنا اثرورسوخ بنانا اور اچھے یا برے طور پر مالی فوائد حاصل
کرنا ہوتاہے۔ان اخباروں کی سرکولیشن تو برائے نام ہی ہوتی ہے مگر
اس اخبار کا مالک توقع کرتا ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ سرکاری
اشتہار ملیں۔ چونکہ یہ علاقائی اخبار اور ان کے مالک مقامی سیاست
دانوں کو بھی کسی نہ کسی طرح اپنے ساتھ ملائے رکھتے ہیں ۔اس
لئے وہ سیاست داں بھی ان سے ڈر کریا اُن سے خوش ہو کر ان
اخباروں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ اب محکمہ اطلاعات والوں کی شامت
آ جاتی ہے۔ وہ کسے اشتہار دیں، کسے نہ دیں ؟ یہیں سے جھگڑے
شروع ہوتے ہیں اور اسی بنا پر ان علاقوں کے اکثر اخبار والے
محکمہ اطلاعات سے ناراض رہتے ہیں۔ لیکن بلے صاحب سے کوئی
ناراض نہیں رہتا تھا۔ وہ ہر چھوٹے بڑے اخبار والے کے ساتھ برابری
کی دوستی رکھتے تھے۔ اس لئے میرا خیال ہے کہ انہیں اس کام میں
مشکل بھی پیش نہیں آتی تھی۔ ان کا مزاج ہی ایسا تھا کہ وہ سب کو ہی
خوش رکھتے تھے۔
یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آگیا، ہم فورٹ منروجاتے ہوئے ڈیرہ غازی
خان ٹھہرے تھے۔ یہ ہمارا ایک قسم کا نجی دورہ یا سفر تھا۔لیکن کسی
طرح اخباروالوں کو معلوم ہوگیا کہ ڈائریکٹر انفارمیشن وہاں آئے ہوئے
ہیں۔ چنانچہ اخباروالے ریسٹ ہاوس پہنچ گئے۔ باقی تو صرف ملنے
آئے تھے لیکن ایک صاحب جو کوئی ایسا اخبار نکالتے تھے ،جس کا
کم سے کم میں نے نام نہیں سناتھا،شکایت کرنے آئے تھے۔ انہوں نے
آتے ہی بلے صاحب کے ساتھ نہایت ہی ترش لہجے میں بات شروع
کردی۔ بلکہ کہنا یہ چاہئے کہ وہ باتوں باتوں میں بدتمیزی پر اترآئے۔ وہ
تلخ ترش باتیں کررہے تھے اور بلے صاحب مسکرامسکرا کر ان کی
باتیں سن رہے تھے۔ میں حیرت سے بلے صاحب کو دیکھ رہاتھا۔ یہ
کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں؟کس قسم کے انسان ہیں یہ؟ انہیں غصہ
کیوں نہیں آتا۔ وہ بہت ہی میٹھے انداز میں انہیں سمجھا رہے تھے کہ
اس علاقے کے کوٹے کے مطابق اور اخبار کی سرکولیشن کے حساب
سے ہی اشتہارمل سکتے ہیں۔ مگر وہ صاحب سر پر ہی چڑھے جا
رہے تھے ۔آخرمجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے ان صاحب کو
جھاڑناشروع کردیا کہ تمیز سے بات کرو۔ کیا تم ؟کیا تمہارا اخبار؟ ہم
نے تو تمہارے اخبارکانام تک نہیں سنا اور تم سرکاری اشتہاروں پر
ایسے حق جتا رہے ہو، جیسے پاکستان کا سب سے بڑا اخبار نکالتے
ہو۔ میرا خیال تھا کہ بلے صاحب میرا ساتھ دیں گے۔ مگر انہوں نے
الٹامجھے خاموش کرادیا ۔بعد میں مجھ سے کہاکہ جب نرمی سے کسی
کو سمجھایاجاسکتا ہے تو غصہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہوگا وہی
جو اصول کہتا ہے۔ وہ ناراض ہوتا ہے تو ہونے دو۔ اس دن مجھے
اندازہ ہوا کہ بلے صاحب تمام اخباروالوں میں جو مقبول ہیں ،وہ ان کا
تحمل ،بردباری اور خوش مزاجی ہے۔ سب سے پیار۔ کسی سے بیر
نہیں۔
بلے صاحب کھڑے ہوکر لکھتے تھے۔ لوگ بیٹھ کر لکھتے ہیں مگر
بلے صاحب نے اپنے لکھنے کیلئے ایک پوڈیم سابنایاہواتھا، جس پر
کاغذ رکھے ہوتے تھے۔ بلے صاحب کو جب بھی لکھنا ہوتا ،وہ پوڈیم
کے پاس جاکر کھڑے ہوجاتے اورلکھنا شروع کردیتے۔ کھڑے ہوکر
لکھنے والوں سے میں واقف ہوں۔ ان میں ایک تو پولیس افسر تھے اور
ایک ناول نگار۔پولیس افسر ملتان میں ڈی آئی جی تھے۔ ان کا تعلق
حیدرآباد دکن سے تھا۔ انہیں میں نے کھڑے ہوکر لکھتے دیکھا۔دوسرے
جرمن نوبیل انعام یافتہ ناول نگار گنٹرگراس ہیں ،جن کے بارے میں،
میں نے پڑھا ہے کہ وہ کھڑے ہوکر لکھتے ہیں۔ چند اور غیرملکی
لکھنے والوں کے بارے میں ،میں نے ایسا ہی پڑھا ہے۔ لیکن پاکستان
اور ہندوستان میں کبھی کسی ایسے لکھنے والے کے بارے میں نہ
سنانہ پڑھا۔اب یہ کسی نفسیات داں سے ہی معلوم کرنا پڑے گا کہ
کھڑے ہوکر لکھنے میں کون سے نفسیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
یعنی جو لوگ کھڑے ہوکر لکھتے ہیں ان کی کیا نفسیات ہوتی ہے؟
لیکن اگر غور کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ کھڑے ہوکر لکھنے والے
وقت کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا یہ وہ لوگ ہوتے ہیں۔
جن کے دماغ بیک وقت کئی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کر رہے
ہوتے ہیں۔ اب سیدفخرالدین بلے کو ہی لے لیجئے۔ اصل میں تو وہ
شاعر تھے اور شاعر بھی صوفیانہ مزاج والے۔ سب کا بھلااور سب کی
خیرچاہنے والے۔ لیکن آگئے تھے سرکارکے محکمہ اطلاعات میں۔ وہ
بھی اس محکمے کے بڑے افسر کے عہدے پر۔ یہاں انہیں بھانت بھانت
کے لوگوں سے واسطہ پڑتا تھا۔چاہے کسی سے مزاج ملے نہ ملے،
اسے خوش رکھنا اور اس کی اچھی بری سننا ان کا پیشہ تھا۔ اس
صورت میں ان کے اندر کا شاعر ہمیشہ بغاوت پر آمادہ ہوتا ہوگا۔ یہ
کشمکش انہیں آرام سے نہیں بیٹھنے دیتی ہوگی۔خیر، میں کون ہوتا ہوں
ان کا نفسیاتی تجزیہ کرنے والا۔ اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ دنیا میں
دوسرے ایسے لکھنے والے جو ہیں۔ ماہرین نفسیات ان کے بارے میں
کیا کہتے ہیں۔ میں نے تو جودیکھا، وہ بیان کردیا۔
بلے صاحب کا تعلق چونکہ خواجہ اجمیرمعین الدین چشتی سے تھا۔ اس
لئے تصو ف کے ساتھ بھی ان کا رشتہ بہت گہراتھا۔ ان کی وساطت
سے ہی ہم نے عزیز میاں جیسے قوالوں کو سنا۔تصوف پر نہایت عمیق
گفتگو بھی ہم نے بلے صاحب سے ہی سنی۔ امروز کے ایڈیٹر سید
سلطان احمد جو بعد میں اسی اخبارکے ریذیڈنٹ ایڈیٹربھی رہے، کے
ساتھ ان کی دوستی بھی شاید اسی تصوف کے حوالے سے تھی۔ لیکن
اس دوستی کی ایک وجہ شطرنج بھی تھی۔ شطرنج گہری فکر اور
غوروخوض کا تقاضہ کرتی ہے ۔یعنی شطرنج کھیلنے کے لئے
استغراق چاہئے۔ اور صوفیا میں جتنا استغراق ہوتا ہے اور کسی میں
نہیں ہوتا۔ تو گویا اس اعتبارسے فخرالدین بلے صوفی تھے۔ اورعام
طورپر دیکھاگیا ہے کہ جتنے بھی صوفی ہوتے ہیں ،وہ شاعر بھی
ہوتے ہیں۔ اس لئے بلّے صاحب بھی شاعر تھے۔ ان کے صوفی صافی
ہونے کی گواہی ہم دیتے ہیں۔
اس وقت جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں ،فخرالدین بلے کا
ہنستامسکراتا چہرے میری آنکھوں کے سامنے آ رہا ہے۔ اور یہی چہرہ
میں ہمیشہ اپنے دماغ میں محفوظ رکھناچاہتا ہوں۔
سیدفخرالدین بَلّے،تن اجلا تو من اجلا
کالم نگار:مسعوداشعر
اب آپ ملاحظہ فرمائیے جاویداحمد قریشی کامضمون جوسیدفخرالدین
بلے کوتعلقات عامہ پنجاب کاچہرہ کہتے تھےاور انہوں نے لکھاہے کہ
سیدفخرالدین بلے کےپائے کاماہرتعلقات عامہ زندگی بھرمیری نظرسے
نہیں گزرا۔
سَید فخرالدین بَلّے۔ادب کی ہنگامہ خیز شخصیت
تحریر: جاویداحمد قریشی،سابق چیف سیکریٹری ، پنجاب
سَید فخرالدین بلّے میرے دوست بھی تھے اور رفیق کار بھی۔ ہماری
رفاقت نصف صدی کا قصہ ہے۔ وہ کوئٹہ، قلات اور خضدار گئے، تو
وہاں بھی ادبی ہنگامہ خیزیاں جاری رکھیں۔ سرگودھا، ملتان اور بہاول
پور میں بھی ان کے جنوں نے انہیں فارغ نہیں بیٹھنے دیا۔ لاہور اور
راولپنڈی میں بھی ادبی اور ثقافتی ہلچل مچائے رکھی۔ وہ ماحول
کواپنے رنگ میں رنگنا جانتے تھے۔ اب دنیا میں نہیں رہے، لیکن اپنے
احباب کے دلوں میں تابندہ ہیں۔ ایسی مرنجاں مرنج شخصیات کم کم ہی
ہوتی ہیں۔
تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال اس شخصیت میں دست قدرت نے بہت
سی شخصیات کو یک جا کر دیا تھا۔
ادیب، شاعر، دانش وَر، مقرر اور ماہرتعلقات عامہ ہی نہیں، وہ بہت
کچھ تھے۔ وسیع العلمی اور قادرالکلامی ان کا طرہّ امتیاز۔ جس رستے
پر چلے، اپنی ذہانت اور علمیت کے گہرے نقوش چھوڑے۔ انسانیت ان
کے انگ انگ میں تھی۔ مٹی کا قرض چکانااپنا فرض سمجھتے تھے۔
سَیّد فخرالدین بَلے کے ہاں مزاحمت کا رنگ بھی ہے اور تصوف کا
رنگ بھی۔ دراصل ان کی شاعری کے کئی ادوار ہیں، ہر دور میں
سوچنے کے انداز مختلف ہوسکتے ہیں اور ہیں بھی۔ اسی لیے ہمیں ان
کی شاعری میں بہت سے رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ اسے آپ ارتقائی سفر
کا نام بھی دے سکتے ہیں۔
وہ قادرالکلام شاعر تھے۔ نظم اور غزل دونوں میں کمالات دکھائے۔
خود نمائی سے بچتے رہے۔ اخبارات و جرائد میں بھی ان کی نگارشات
ان کے نام سے بہت کم چھپیں۔ البتہ اکابرین ادب کی نظر میں وہ ایک
دراز قامت علمی شخصیت تھے، اسی لیے وہ ان کی تخلیقی اور فکری
توانائیوں کے معترف دکھائی دیتے ہیں۔ مولوی عبدالحق کہا کرتے تھے
سید فخر الدین بَلّے کی نظم ہو یا نثر اس میں کوئی نقص نکالنا محال
ہے۔ ان کے زیرسایہ بہت سے پودے پروان چڑھے اور ہم نے انہیں تن
آور پیڑ بنتے دیکھا۔ ساری زندگی سر اٹھاکر جینے کی کوشش کی اور
سراٹھا کے ہمیشہ جئے بھی۔ ان کا اپنا ایک شعر اس حوالے سے میرے
تاثرات کو بیان کرنے کیلئے کافی ہے۔
سر اٹھاکر زمیں پہ چلتا ہوں
سرچھپانے کو گھر نہیں نہ سہی
چند حکم رانوں کے ساتھ بھی ان کے قریبی تعلقات رہے، لیکن انہوں
نے اس کا کبھی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے نوازنے کی
پیش کش بھی کی تو انہوں نے اسے قبول نہ کیا، کیوں کہ یہ تو سر
اٹھاکر جینے والوں میں سے تھے۔ ذاتی منفعت اٹھاتے تو آنکھوں میں
آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے فائدہ ہی نہیں اٹھایا۔
وہ ذوالفقار بھٹو کے وزارت خارجہ کے دور میں وفد کے ساتھ نئی
دہلی گئے تھے، وہاں ان کی ’پی آر‘ دیکھ کر بھٹو صاحب نے
ریمارکس دئیے۔
The performance of Mr. Fakhruddin Balley at New
Delhi was excellently excellent. [written by Zulfiqar
Ali Bhutto ]
اشفاق احمد زندگی میں آسانیاں بانٹنے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ یہی
چلن ساری زندگی سید فخرالدین بلے کا رہا۔ وہ اپنے رفقائے کار کی
غلطیوں کواپنے سر لے کر انہیں بچا لیا کرتے۔ برائی کا بدلہ بھلائی
سے دینا ان کا شیوہ تھا۔ دوسروں کے کام آکر دلی خوشی محسوس
کرتے۔ اپنے اثرورسوخ کو کام میں لاکر بہت سے قلم کاروں کو پلاٹ
بھی دلوائے، مگر اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے کوئی امید نہیں
رکھی۔ اسی لیے وہ بڑے لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کیا
کرتے۔ انکساری کے ساتھ خودداری بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری
ہوئی تھی۔ ہر چھوٹے بڑے کے ساتھ عزت سے پیش آتے اور اہل علم
وادب ہی نہیں بیوروکریٹس بھی انہیں قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے
تھے۔ وہ بلاشبہ اپنے حلقۂ یاراں میں مقبول اور ہردل عزیز تھے۔
انہوں نے صدور، وزرائے اعظم، گورنروں، وزرائے اعلیٰ سمیت
مقتدر شخصیات کے لیے ہزاروں تقریریں لکھیں، بیسیوں بروشرز،
سووینئیرز، کتابیں اور کتابچے شایع کرائے۔ لاہور میں ادبی تنظیم قافلہ
بنائی، جس کے تحت بڑی خوب صورت محفلیں سجایا کرتے تھے۔
مجھے بھی ان کے قافلے کی بہت سی محفلوں میں پڑاؤ ڈالنے کا اعزاز
ملا۔ ان محفلوں کی رپورٹوں کو یک جا کر دیا جائے، تولاہور کی ادبی
تاریخ کے بہت سے اوراق ہم محفوظ کرسکتے ہیں۔ راولپنڈی آرٹس
کونسل اور ملتا ن آرٹس کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے
ان دونوں ثقافتی اداروں کو نئی زندگی بخشی۔ ڈوبتے ہوئے اداروں کو
بچانا نئے ادارے بنانے سے زیادہ مشکل کام ہے، لیکن ان کے لیے یہ
سب کچھ بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ اسی لیے تو انہوں نے بہ آسانی یہ
معرکہ سر کرلیا۔
اسلام اور فنون لطیفہ کے حوالے سے بھی انہوں نے قرآن واحادیث
کی روشنی میں بڑا تحقیقی کام کیا، اس کا مسودہ میری نظر سے گزر
چکا ہے۔ واقعی قابل ستائش کارنامہ ہے۔ سَید فخرالدین بَلّے کو اپنی
زندگی میں جو میدان ملا، وہ اس سے باہر نکل کر بھی بڑی کام یابی
کے ساتھ کھیلتے نظر آئے۔
یہ 1970ء کی دہائی کی بات ہے۔ وہ محکمہ تعلقات عامہ ملتان ڈویژن
کے سربراہ کی حیثیت سے سرکاری دورے پر ساہی وال آئے تو وارث
شاہ کی یادگار ملکہ ہانس کی خستہ حالی دیکھ کر سیدھے میرے دفتر
پہنچ گئے۔ میں ان دنوں ساہی وال میں ڈپٹی کمشنر تھا۔ کہنے لگے آپ
کے ہوتے ہوئے آپ کے ضلع میں یہ سب ہورہا ہے، یقین نہیں آتا۔ میں
نے پوچھا کیا ہوا تو کہنے لگے بات بتانے کی نہیں، دکھانے کی ہے۔
وہ مجھے ملکہ ہانس لے آئے، اس کی خستہ حالی کی طرف توجہ
دلائی۔ انہی کی تحریک پر ملکہ ہانس کی تزئین نو کا اہتمام کیا گیا۔
انہوں نے اس موقع پر ایک خوب صورت بروشر بھی شایع کیا تھا۔ ان
کا اپنا شعر اس کے سرِ ورق کی زینت تھا۔ ہر مشکل وقت میں ان کی
پیشہ ورانہ مہارت وطن عزیز کے کام آئی۔ وہ محکمہ تعلقات عامہ
پنجاب کا چہرہ تھے۔ ان کی عظمت یہ بھی ہے کہ اس محکمے میں ان
کے ساتھ بہت سی ناانصافیاں بھی ہوئیں مگر انہوں نے اپنے کام سے
ہمیشہ انصاف کیا۔ کام کو ہمیشہ عبادت سمجھا۔ لوگ ساری زندگی دولت
سمیٹتے رہتے ہیں اور پھر خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، لیکن
سَید فخرالدین بِلّے نے صرف عزت اور نیک نامی کمائی اور دنیا کو
بہت کچھ دے گئے۔
سَید فخرالدین بَلّے۔ادب کی ہنگامہ خیز شخصیت
تحریر: جاویداحمد قریشی،سابق چیف سیکریٹری ، پنجاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدفخرالدین بلے ۔ایک باکمال اورنادرشخصیت تھے۔ شعیب بن عزیز
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں ،جیسے ضرب المثل
مصرعوں کےخالق ، سابق ڈی جی پی آر پنجاب ،ریٹائرڈ سیکریٹری
اطلاعات پنجاب اور مایہ ء ناز شاعر شعیب بن عزیز نے لکھا کہ
سیدفخرالدین بلے ایک باکمال اور نادر شخصیت تھے۔ جانے والوں
کوکہاں روک سکا ہے کوئی ؟ ان سے کئی عشروں کا ساتھ رہا۔من آنم
کہ من دانم۔ پھر بھی جو کچھ آج ہم ہیں، سیدفخرالدین بلے صاحب
مرحوم جیسے بزرگوں کی تربیت کے بغیر شاید نہ ہو سکتے۔ اس خاک
نشیں پہ تو انکی شفقتِ خاص تھی۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں
نے یہ رشتہ برقرار رکھا۔ اللہ ان کی روح کو شاد اور متعلقین کو ہر بلا
سے محفوظ رکھے۔ {آمین }
سیدفخرالدین بَلّے۔ ایک کرشماتی شخصیت
تحریر: سید اظہر امام زیدی،ریٹائرڈ ڈائریکٹر تعلقات عامہ ،پنجاب
میں نے اپنی پوری زندگی میں سید فخرالدین بلے سے زیادہ ہمہ
گیر خوبیوں، صلاحیتوں اور توانائیوں کی حامل شخصیت نہیں دیکھی۔
قدرت نے انہیں بے پناہ علمی،فکری،ادبی،روحانی،اخلاقی اور تخلیقی
قوتوں سے خصوصی طورپرنوازاتھا۔ وہ پہلی ملاقات میں ہی کسی بھی
ملنے والے کوخوش اخلاقی،خوش مزاجی،خوش گفتاری،شائستگی اور
وضع داری سے اپنا گرویدہ بنا لیتےتھے۔ بلاشبہ ان کی دلاویزاورہمہ
گیر شخصیت،علم وفن،عقل ودانش،فہم وادراک، تہذیب وتمدن، خلوص
محبت اور جذبہ اخوت وایثارکے سحر سے کسی بھی شخص کا نکلنا
محال تھا۔ وہ یقیناً اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ شرافت،شائستگی،
اعلیٰ ظرفی اور انسان دوستی کا پیکر اور کرشماتی اوصاف کا نادرنمو
نہ تھے۔ ان کے علمی تبحر اور ادبی،صحافتی، فنی، تخلیقی،تنقیدی اور
فکری صلاحیتوں کا اندازہ ان کی مرتب کردہ 150 سے زیادہ تالیفات
سے لگایا جاسکتاہے۔ انہوں نے ہندوپاک کے ایک درجن سے زیادہ
معیاری اخبارات ورسائل میں بطور بانی چیف ایڈیٹر و ایڈیٹرفرائض
سرانجام دیئے۔ ان رسائل میں علی گڑھ (بھارت) کے فلمی و ادبی
میگزین اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی طلباء تنظیم کا مجلہ بھی
شامل ہے۔ ان کی مطبوعات ملاحظہ ہوں۔1 ۔ ولایت پناہ (حضرت علی
علیہ السلام کی سیرت و شخصیت پرایک بصیرت افروزکتاب)۔ 2
۔درولایت پردستک (سماع کاروحانی نصاب) 3 ۔ اسلام اور فنون لطیفہ
(فنون لطیفہ کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ)4۔ سوچ
سفر(شعری مجموعہ) ۔5 سوچ رنگ (مجموعہ غزلیات) علاوہ ازیں ان
کی ایک نادرکتاب کا مسودہ "خواجہ ناظم الدین سے نوازشریف تک
"ایک چورکی نذرہوگیا۔ اس کتاب میں ارباب حکومت کی 46 سالو ں پر
محیط سرگذشت اور سرکاری ایوانوں کی بعض سربستہ کہانیاں شامل
تھیں۔ جوہما ری قومی تاریخ کا حصہ نہ بن سکیں۔ سیدفخرالدین بلے کی
شاعری میں نعت، منقبت،سلام،غزل،آزاد نظم،ہائیکو،رباعی۔ غرض یہ
کہ کم وبیش تمام اصناف پائی جاتی تھیں۔ ان کی ایک نعت کے چند
اشعارملاحظہ ہوں۔
ہے خوفِ خدا ن کو خد اکہہ نہیں سکتے
کچھ اور مگر اس کے سو اکہہ نہیں سکتے
اِلا کو اگر لا سے جداکہہ نہیں سکتے
حق بات بہ اندازِ ثنا کہہ نہیں سکتے
الفاظ جھجکتے ہیں لرزتے ہیں معنی
کچھ اور بجز صل علی کہہ نہیں سکتے
اسی طرح آپ نے حضرت فا طمة الزھرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں
ایمان افروزمنقبت لکھی۔ایک خوبصورت شعر ملاحظہ فرمائیے۔
واللہ بے مثال تھی شادی بتول کی
بیٹاخد اکے گھر کا تھا ، بیٹی رسول کی
سید فخرالدین بلے کو اردو،فارسی،عربی،انگریزی اور
ہندی زبانوں پر یکساں عبورحاصل تھا۔ جو ان کی مرتب کردہ
مطبوعات سے عیاں ہے۔ شعروادب، تاریخ وفلسفہ،صحافت وثقافت،
فنونِ لطیفہ واسٹیج ڈرامہ، تصوف وتعلقات عامہ کے میدان میں ان کی
گراں قدر خدمات ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوپاک
کے نامور ادباءاور شعرائے کرام جوش ملیح آبادی،مولوی
عبدالحق،مولاناحسرت موہانی،مولانا حسین احمدمدنی،ڈاکٹرذاکر
حسین،فراق گورکھپوری،جگرمرادآبادی،رشیداحمدصدیقی اور آل احمد
سرورجیسی بلند پایہ شخصیتوں نے انہیںاپنےاپنےاندازمیں زبردست
خراج تحسین پیش کیا ہے۔عالمی شہرت یافتہ مستشرقہ این میری شمل،
پیرحسام الدین راشدی اور ڈاکٹر وزیرآغا نے تصوف میں انہیں اتھارٹی
تسلیم کیاہے۔حقیقت میں انکی 73 سا لہ متحرک اور فعال زندگی علم
وادب ،حکمت ودانش، تصنیف وتالیف،صحافت وثقافت اور تحقیق
وتخلیق کی خدمت سے عبارت ہے۔
سیدفخرالدین بلےنے اوائل عمری میں طالبعلم کی حیثیت سے
بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح،قائدِملت لیاقت علی خان ،نواب
اسماعیل خان ،چوہدری خلیق الزمان،سردارعبدالرب نشتر اور حسین
شہید سہروردی کے عوامی جلسوں میں خطاب کرنے کی سعادت حا
صل کی۔اور اپنی جرات، بے باکی اور دل کش انداز خطابت پر بھرپور
داد وتحسین وصول کی۔وہ 1946-47 ء میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے جوائنٹ سیکرٹری کےعہدے پر
فائزرہے۔ اور تحریک پاکستان کے دوران طالب علمی کے زمانے میں
قیدوبند کی صعوبتیں بھی جھیلیں۔سید فخرالدین بلے ملتان کی قدامت
وجلالت کے علمبردار تھے اور برملا اسے ملک کا ثقافتی دارالحکومت
کہتے تھے اور فرماتے تھے کہ قومی یافت و دریافت کی تحقیق کے
کام کےلئے ملتان سے بہتر کوئی اور شہر نہیں ہو سکتا۔تاریخ کے
حوالے سے وہ ملتان کو دنیا کا قدیم شہرسمجھتے تھے اور کہتے تھے
کہ بعض محققین کے مطابق اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ دمشق دنیا
کا قدیم ترین شہرہے۔ تب بھی ملتان کی حیثیت دوسرے نمبر پر ہے۔
ملتان کی عظمت و جلالت پر گفتگو کے دوران وہ ایک تاریخی جملے
کا اکثر حوالہ دیتے تھے۔کہتے تھے حضرت داتا گنج بخش ہجویری نے
اپنی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب میں لاہور کا تعارف' لاہورکہ
یکے ازمضافات ملتان است ، کہہ کرکرایا ہے۔وہ فرماتے تھے کہ رگ
وید جیسی مشہور کتاب بھی ملتان کی تہذیب پر نازاں ہے۔ وہ خود کو
اس دھرتی کا مقروض سمجھتے تھے اور اسکی مٹی کا قرض چکانا
اپنا فرض قرار دیتے تھے۔
بلے صاحب کی تحقیق کے مطابق تہذیب اور مدنیت کا آغاز
ملتان سے ہوا ۔اور نظر یہ پاکستان کی بنیاد بھی اسی سرزمین پر رکھی
گئی ۔وہ اس طرح کہ جب 1193 میں سلطان محمود غوری کا لشکر
ترائین کے میدان میں خمیہ زن تھا اور ہندو مہاراجاوں کے لشکر جنگ
کے لئے صف آرا ءہو رہے تھے تو سلطان محمد غوری نے جنگ سے
گریز کے لئے 15 مہاراجاﺅں کو ایک مراسلہ بھیجا۔جس میں اس نے
مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لئے تجویز پیش
کی اور لکھا کہ ہم تمہارے ساتھ اس بات پر صلح کرتے ہیں کہ پنجاب
اور ملتان کے علاقے ہمیں دے دئیے جائیں اور باقی ہندوستان تمہارے
پاس رہے (یاد رہے کہ ملتان اس وقت پاکستان سے بھی بڑے علاقے
پر مشتمل تھا )۔
میری پہلی ملاقات بلے صاحب سے اس وقت ہوئی، جب وہ محکمہ
سماجی بہبود پنجاب میں ڈیپوٹیشن پر پی آر او کے فرائض سرانجام دے
رہے تھے ۔میں ان دنوں گورنر پنجاب کا افسر تعلقات عامہ تھا۔ ملاقات
کے وقت وہ اپنے سٹینو گرافر کو ڈکٹیشن دے رہے تھے ۔جس سے ان
کے علم کی وسعت ،پیشہ ورانہ مہارت ،انگریزی زبان پر عبور اور
ذہنی صلاحیتوں کا اندازہہوتا تھا۔ بعد ازاں مجھے ان کی تحریر و تقریر
پڑھنے اور سننے کے بے شمار مواقع ملے اور میں نے یہ دیکھا کہ وہ
ان ہر دو امور میں ید طولی رکھتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ جب کسی
وفاقی یا صوبائی حکام بالا کو کسی اہم موقع پر تقریر کرنے کی
ضرورت پیش آتی تو وہ اپنے عملہ کے افسران کو نظر انداز کر کے یہ
ذمہ داری ان کے سپر د کردیا کرتے تھے ۔
میری بلے صاحب سے رفاقت تقریباً 40 سال پر محیط رہی
اور انکی ہمہ گیر اور پہلو دار شخصیت کے مختلف گوشے جب مجھ
پر وقتا فوقتا عیاں ہوئے تو مجھے وہ سراپا کرشماتی اور ناقابل ادراک
شخصیت نظر آنے لگے ۔ اس رفاقت کے دوران پیش آنے والے اور
کچھ انکی زبانی سنے ہوئے چند واقعات پیش خدمت ہیں۔ جن سے انکی
محیرالعقول کر شماتی اور غیر معمولی صفات اور صلاحیتوں کا اندازہ
لگایا جاسکتا ہے۔البتہ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ میرے پاس ان
کی یادوں کا ایک بڑاخزانہ ہے۔
ایک مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو جب سردار سورن سنگھ سابق
وزیر خارجہ بھارت سے بطور وزیر خارجہ پاکستان کشمیر پر
مذاکرات کے لئے نئی دہلی گئے تو انہوں نے فخرالدین بلے کو ا پنے
وفد میں شامل کر لیا ۔اس دورے کے دوران ایک دن پاکستان کے ہائی
کمشنر برائے بھارت آغا ہلالی بھٹو صاحب سے ملاقات کے لئے آئے
تو اس وقت فخرالدین بلے بھی اس کمرے میں موجود تھے۔ دوران
گفتگو آغا ہلالی نے بھٹو صاحب کو بتایا کہ اگلے روز بھارت کے ایک
قومی سطح کے روزنامے میں انکے خلاف ایک نہایت زہریلا مضمون
شائع ہو رہا ہے۔ یہ سن کر فخرالدین بلے صاحب چپکے سے کمرے
سے باہر آگئے اور تقریبا دو گھنٹے بعد واپس پہنچ کر بھٹو صاحب کو
مذکورہ مضمون کا مسودہ پیش کر دیا ۔جسے دیکھ کر بھٹو صاحب
حیران رہ گئے اور تعجب سے بلے صاحب سے دریافت کیا کہ کیا اب
یہ مضمون اخبار میں شائع نہیں ہوگا ۔بلے صاحب نے کہا کہ اس کی
اشاعت اب کیسے ممکن ہے؟۔ کیونکہ مضمون کا اصل مسودہ تو آپ
کے ہاتھ میں ہے (یاد رہے کہ اس وقت تک فوٹوسٹیٹ مشین دریافت
نہیں ہوئی تھی ) وطن واپس پہنچ کر ذوالفقار علی بھٹو نے بلے صاحب
کی اس حیران کن اور فقیدالمثال کارکردگی سے متاثر ہو کر ان کی
رپورٹ میں یہ درج ذیل ریمارکس لکھے
The performance of Mr. Fakhruddin Balley at New
Delhi was Excellently Excelent. Written ZULFIQAR
ALI BHUTTO.
ایک غیر ملک میں ایسا محیر العقول کارنامہ سرانجام دینا یقیناًتعلقات
عامہ کی تاریخ میں اپنی نظیر نہیں رکھتا ۔ اسی طرح ایک مرتبہ
ذوالفقار علی بھٹو بطور وزیر اعظم پاکستان ملتان تشریف لائے تو عین
اس وقت جب وہ ائیر پورٹ سے باہر آنے کے لئے گاڑی میں بیٹھ
چکے تھے تو مقامی اخبار کے ایک صحافی نے ان کا بازو پکڑ کر ان
سے کوئی سوال پوچھنا چاہا ۔بھٹو صاحب کو اس کی غیر مہذبانہ
حرکت پر بہت غصہ آیا اور ان کا موڈ سخت آف ہوگیا ۔اس واقعے سے
صوبائی حکومت کے ارباب بست وکشادتشویش میں مبتلا ہوگئے اور
وزیر اعلی پنجاب وزیر اعظم سے فارغ ہو کر محکمہ اطلاعات کے
افسران کے ہمراہ محکمہ اطلاعات ملتان کے دفتر آ پہنچے۔ جہاں ان
دنوں فخرالدین بلے ڈویژنل آفس کے انچارج تھے۔
حنیف رامے وزیر اعلی پنجاب نے افسران محکمہ اطلاعات کے ساتھ
ملکر وزیر اعظم کی ناراضگی کے ازالے کے سلسلے میںسوچ بچار
شروع کر دی۔ابھی گفتگو جاری تھی کہ بلے صاحب کمرے سے باہر
آگئے اور سیدھے وائٹ ہاوس نواب صادق حسین قریشی کی رہائش گاہ
پہنچے۔ جہاں وہ ان کے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہ بھٹو صاحب سے
فورا ملنا چاہتے تھے مگر یہ بظاہر ممکن نہ تھا کیونکہ بھٹو صاحب
اس وقت غسل فرما رہے تھے۔ تاہم بلے صاحب نے ہرصورت ان سے
ملنے کی ٹھان لی تھی۔ لہذا انہوں نے بھٹو صاحب کے ذاتی ملازم کو
کسی نہ کسی طرح اپنی مدد پر آمادہ کر لیا اور بلے صاحب غسل خانے
میں عین اس وقت جب بھٹو صاحب ٹب میں عسل فرمارہے تھے ، داخل
ہو گئے اور مذکورہ صحافی اسکے ادارے اور محکمہ اطلاعات کی
جانب سے واقعہ کے بارے میں غیر مشروط معافی مانگی۔ا ور انہیں
مطع کیا کہ اخبار کے مالکان نے اس صحافی کو اس کی غیر مہذبانہ
حرکت پر فارغ کر دیا ہے۔ جس پر بھٹو صاحب نے کہا کہ وہ ہر گز
اس کی روزی ختم کر نا نہیں چاہتے۔ بس اس صحافی کی اچھی طرح
جھاڑ پٹی کر دی جائے اور یہ کافی ہے ۔ یہ کارنامہ سرانجام دے کر
جب وہ ا پنے دفتر واپس پہنچے تو سیکرٹری اطلاعات شِیخ حفیظ
الرحمن بلے صاحب پر بہت برہم ہوئے کہ وہ بغیر بتائے دفتر سے
اچانک کیسے چلے گئے۔ جبکہ صوبے کا وزیر اعلیٰ اور ان کے
محکمے کے دیگر اعلی افسران ان کے دفتر میں موجود ہیں تاہم جب
بلے صاحب نے اپنی پر "اسرار گمشدگی" سے پردہ اٹھایا اور انہیں اور
وزیر اعلی کو واقعے کی تفصیل سے آگاہ کیا اور کہا کہ انہوں نے
وزیر اعظم صاحب کی ناراضگی دور کر دی ہے تو سب بہت خوش
ہوئے اور حنیف رامے نے اس خوشی میں اپنی جیب سے ان سب کو
مٹھائی کھلائی۔
سیدفخرالدین بلے صاحب نازک اور پیچیدہ حالات اور معاملات سے
نپٹنے کی کس قدر صلاحیت رکھتے تھے۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے
لگایا جاسکتا ہے۔ ایک مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو ملتان کے دورے پر
آرہے تھے کہ مقامی صحافیوں نے کسی معاملے پر احتجاج کی غرض
سے انکا کالی پٹیاں باندھ کر استقبال کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔بلے
صاحب نے نہایت دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھٹو صاحب کو
ملتان آمد سے قبل نہ صرف اس پروگرام سے آگاہ کیا بلکہ ان سے یہ
بھی کہا کہ جب وہ ملتان پہنچیں گے تو وہ ان کو (بلے صاحب کو) بھی
دیگر صحافیوں کے ہمرا ہ کالی پٹی باندھے ہوئے دیکھیں گے۔ یہ
سنکر بھٹو صاحب نے حیرت سے بلے صاحب سے پوچھا کہ اس کی
کیا وجہ ہے تو بلے صاحب نے کہا کہ جب تک صحافیوں کو اس امر
کا یقین نہیں ہوگا کہ" وہ (بلے صاحب) ان میں سے ہیں اور ان کے
معاملات اور مسائل سے لا تعلق نہیں "تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ
حکومت کی ہر قسم کی ہدایت اور پالیسی پر موثر طور پر عملدرآمد کر
ا سکیں۔ یہ سن کر بھٹو صاحب نے انہیں اپنے انداز میں دیگر
صحافیوں کے ہمرا ہ انکے استقبال کی اجازت دے دی ۔ بلے صاحب
اپنی بے پناہ صلاحیتوں، پیشہ وارانہ مہارت، فہم و فراست اورژرف
نگاہی کے سبب محکمہ کی پہچان تھے۔ اور سیاسی وسماجی حکومتی
شخصیات بھی ان کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی تھیں اور انکی
بے مثال کارکردگی اور غیر معمولی کارناموں کی معترف تھیں۔پاکستان
میں ایسی کوئی شخصیت اعلی عہدے پر فائز نہیں رہی ۔جس سے
فخرالدین بلے کے ذاتی مراسم نہ رہے ہوں۔ جن نامور شخصیتوں سے
اپنے تعلقات کے بارے وہ مختلف اوقات میں تذکرہ کر تے رہے ۔اور
بعض کا میں یا محکمے کے دیگر اعلیٰ افسران گواہ ہیں، ان میں صدر
پاکستان محمد ایوب خان،صدر جنرل محمدضیاءالحق، وزیر اعظم
ذوالفقار علی بھٹو ، وزیر اعظم نواز شریف ، وزیر اعظم بینظیر بھٹو،
گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان ، گورنر پنجاب سجاد حسین
قریشی، اور وزیر اعلی پنجاب غلام حیدر وائیں قابل ذکر ہیں ۔
اسی طرح زندگی کے دیگر شعبوں میں ان کے جن نامور
شخصیتوں سے ذاتی مراسم رہے۔ ان میں مولانا ابولکلام آزاد ، ڈاکٹر
ذاکر حسین ، مولانا حسرت موہانی، مولوی عبدالحق ،علامہ نیاز فتح
پوری، جگر مراد آبادی، سر شاہنواز بھٹو، سیماب اکبرآبادی، رشید احمد
صدیقی، شامل ہیں اور ا پنے ہم عصروں میں فیض احمد فیض، احمد
ندیم قاسمی، سعادت حسن منٹو، ڈاکٹر سید عبداللہ، احسان دانش، قدرت
اللہ شہاب، جگن ناتھ آزاد ، حفیظ جالندھری، اور صادقین کے نام آتے
ہیں۔ ممتاز صحافیوں میں حمید نظامی، میرخلیل الرحمن، زیڈ اے
سلہری، عبدالقادر حسن ، اور منو بھائی سے قریبی تعلقات رہے ۔
مختصر یہ کہ بلے صاحب کے تعلقات بڑے وسیع تھے اور ان کے
مہربانوں اور قدردانوں کی کمی نہیں تھی۔ گورنر پنجاب سجاد حسین
قریشی کا ایک دلچسپ واقعہ مجھے یاد آیا۔ وہ یہ کہ ایک نا مور
بیوروکریٹ نے بطور سیکرٹری محکمہ اطلاعات ابھی جارچ سنبھالا
ہی تھا اور وہ گورنر پنجاب سے اپنی پہلی رسمی ملاقات کر رہے تھے
کہ دوران گفتگو گورنر صاحب نے ان سے محکمہ کے معاملات اور
مسائل کے بارے میں دریافت کیا ۔جس پر انہوں نے گورنر صاحب سے
کہا کہ باقی تو سب ٹھیک ہے مگر ایک افسر جن کا نام سید فخرالدین
بلے ہے، بعض اوقات درد سر بن جاتا ہے ۔جس پر گورنر صاحب نے
بے ساختہ ان کو ہاتھ اٹھانے کو کہا اور خود بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھا
لئے اور یو ں گو یا ہوئے کہ یااللہ ہماری آل اولاد کو بھی سید فحرالدین
بلے جیسا لائق فائق اور سعادت مند بنادے۔ یہ سن کر سیکرٹری صاحب
نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا کہ دراصل ان کا بلے صاحب کے بارے
میں اب تک کوئی ذاتی تجربہ نہیں ہوا ہے۔ اور انہوں نے ان کے
ساتھیوں کی یہ بات بغیر تحقیق کے ان سے کہہ دی ہے ۔
بلے صاحب پر حکام بالا کس قدر اعتماد کرتے تھے۔ اس کا
اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ وہ یہ کہ ایک مرتبہ غلام
مصطفےٰ کھر جو ان دنوں گورنر پنجاب تھے، نے اپنے ملتان کے
دورے کے دوران صحافیوں کی ایک فہرست انتظامیہ کے ایک اعلیٰ
افسر کو دیتے ہوئے کہا کہ فہرست میں درج صحافی ان کے ہمراہ
دورے پر جائیں گے اور انہیں اس سلسلے میں ضروری کارروائی کی
تاکید کی۔ جب یہ فہرست مطلوبہ کارروائی کیلئے بلے صاحب کے پاس
پہنچی تو انہوں نے فہرست میں سے ایک نام حذف کردیا ۔جس پر
مذکورہ افسر نے گورنر کو شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی مرتب
کردہ فہرست میں سے ایک صحافی کا نام بلے صاحب نے حذف کردیا
ہے۔ باقی تمام صحافیوں کا انتظام فہرست کے مطابق کردیا گیا ہے۔
گورنر پنجاب نے یہ سن کر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا کہ اگر
بلے نے ایسا کیا ہے تو پھر ٹھیک ہی کیا ہوگا۔
سید فخرالدین بلے کے بے نظیر اور عظیم کارناموں میں ایک کارنامہ
ملتان آرٹس کونسل کی اسٹیج سے 25ڈراموں کا انعقاد ہے۔ انہوں نے
ان ڈراموں کا انعقاد جن کا نام جشن تمثیل رکھا گیا۔ بطور ڈائریکٹر
آرٹس کونسل ملتان سرانجام دیا۔ ان ڈراموں کی انفرادیت اور خصوصیت
یہ تھی کہ ایک ہی اسٹیج سے روزانہ ایک نئی کہانی اور نئے فنکاروں
کی ٹیم کے ساتھ ایک نیا ڈرامہ پیش کیا گیا ۔ ان ڈراموں نے صاحبان فن
اور اسٹیج سے وابستہ لوگوں اور عوام کو حیران اور ششدر کردیا۔ ان
ڈراموں کی ملکی اور غیرملکی سطح پر بڑی پذیرائی ہوئی اور
انگلستان جیسے ملک نے جہاں اسٹیج ڈراموں کی روایات بہت قدیم ہیں
کے اخبارات میں اس کاوش کو سراہا گیا۔ بلے صاحب کو اس جشن
تمثیل کے انعقاد پر مین آف دی اسٹیج کا گولڈ میڈل اور محسن فن کا
خطاب دیا گیا۔ان ڈراموں کا انعقاد جن حالات اور جس انداز میں عمل
میں آیا، وہ بھی نہایت دلچسپ ہیں۔ دراصل وسائل نہ ہونے کے برابر
تھے اور مختلف اداروں اور شخصیات کے تعاون سے صرف پینتالیس
ہزار روپے اکٹھے کئے جا سکے۔ جس سے 25ڈراموں کے لئے ہر
روز نئی اسٹیج کا سازو سامان کا خرچہ و دیگر متفرق اخراجات پورے
کئے جا سکیں ۔ اس پر مستزادیہ کہ جشن تمثیل کی تیاری شروع ہو
چکی تھی۔ جب بلے صاحب نے کمشنر ملتان جو کہ آرٹس کونسل کے
چیئر مین بھی تھے ،سے ڈراموں کے انعقاد کی اجازت طلب کی تو
چیئر مین نے اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔مگر اس کے باوجود بلے
صاحب نے جشن تمثیل کی تیاریوں کا سلسلہجاری رکھا اور جب
ڈراموں کی نمائش شروع ہو ئی تو انہوں نے شہر میں ایک تہلکہ مچا
دیا ۔ چیئر مین آرٹس کونسل نے خود بلے صاحب کو فون کیا اور ان
سے کہا کہ کیا وہ ان کو (چیئر مین صاحب کو) ڈرامے کے لئے مدعو
نہیں کریں گے ۔بلے صاحب نے اس پر جوابا کہا کہ بطور چیئر مین
آرٹس کونسل آپ جشن تمثیل کے میزبان ہیں۔ آپ کو تو روز اول ہی
سے جشن تمثیل کو رونق بخشنی چاہیئے تھی۔
سید فخرالدین بلے سماع اور قوالی سے بھی بڑا شغف
رکھتے تھے۔ ان کا ایک منفرد اور عظیم کار نامہ یہ بھی ہے کہ انہوں
نے حضرت امیر خسرو کے سات سو برس بعد قول( یعنی قول رسول
مقبول ﷺ)"من کنت مولافھٰذا علیؑ مولا" کی نئی تصریحی تہذیب کی۔
اور صاحبان ذوق کو ایک۔ نیا رنگ۔بھی عطا کیا۔ ان کی اس غیر
معمولی اور عظیم کاوش کو ارباب علم وفن نے بے حد سراہا اور اسے
قوالی کے باب میں ایک خوبصورت اضافہ قرار دیا ۔
بلے صاحب جیسا جرات مند ،خوددار، انتھک، لوگوں کا
معین و مدد گار اور برائی کا بدلہ نیکی سے دینے والا اور ماتحتوں
کی غلطیاں اپنے سر لینے والا افسر میں نے اپنی پوری ملازمت کے
دوران نہیں دیکھا۔ اپنا ہو یا غیر ،کسی بھی کام کی غرض سے جب
کوئی ان سے ملتا تھا تو وہ اسکی مدد کےلئے ہمیشہ تیار ہو جاتے۔ ان
کے احباب کو انکی ذات پر بے حد بھروسہ تھا اور وہ یہ سمجھتے
تھے کہ بلے صاحب مشکل سے مشکل کام کا کوئی نہ کوئی حل
ضرور نکال لیتے ہیں۔ اور وہ اکثر ایسا کر نے میں کامیاب بھی ہو
جاتے تھے۔ بلے صاحب کا یہ معمول تھا کہ وہ رات بھر مطالعہ، غور
وخوض اور تصنیف و تالیف کے کاموں میں مصروف رہتے اور
سورج کے طلوع ہونے سے قبل کبھی بستر پر نہ لیٹتے تھے۔ وہ
مسلسل محنت، مصروفیت اور بیماری کے باوجود ہمیشہ ترو تازہ،
ہشاش بشاش اور شگفتہ نظر آتے تھے ۔ اگر چہ ان کو دوران ملازمت
ہی دل کا عارضہ لا حق ہو گیا تھا مگر ان کے معمولات زندگی میں
کبھی کوئی فرق نہیں آیا ۔ ڈاکٹروں نے انہیں تین منٹ سے زیادہ پیدل
چلنے اور سیگریٹ نوشی سے سخت منع کیا ہوا تھا۔ مگر اس کے
باوجود انہوں نے سگریٹ نوشی ترک نہ کی اور نہ ہی اپنی فعال زندگی
میں کوئی فرق آنے دیا۔ بعض اوقات ان کو اپنے گھر میں ہی بیس بیس
گھنٹے آکسیجن کا سلنڈر استعمال کرنا پڑتا تھا ۔مگر مروت و مہمان
نوازی کا یہ عالم تھا کہ اس حالت میں بھی جب کوئی ان سے ملنے آتا
تو بستر سے اٹھ بیٹھتے تھے۔ بعض اوقات ان کی نبض اور بلڈ پریشر
حد سے زیادہ نیچے آ جا تا تھا مگر وہ معجزانہ طور پر کچھ گھنٹوں
بعد ہی بستر سے اٹھ کر روز مرہ کے معمولات میں مصروف ہو جاتے
تھے۔
دوران ملازمت اپنے مخصوص انداز اور اپنی مرضی کے
مطابق سرکاری فرائض انجام دینے کے سبب انہیں دو مرتبہ سخت
پریشانی کا سامنا بھی کر نا پڑا ۔ایک مرتبہ جبکہ انکی ترقی اس مزاج
اور روش کے سبب روک دی گئی۔ اور دوسری مرتبہ جب انہی
وجوہات کی بناءپر انکو 25سال مکمل ہونے پر جبری طور پر ریٹائر
کر دیا گیا ۔مگر انکی کرشماتی شخصیت اور حکام بالا کے دلوں میں
انکی قدرومنزلت انکے کام آئی اور نہ صرف کچھ عرصہ بعد انہیں
ترقی دے دی گئی بلکہ جبری ریٹائر منٹ کے ایک سال بعد انہیں
دوبارہ انکے عہدے پر بحال کر دیا گیا۔ ہوا یوں کہ انکی ملاقات کسی
تقریب میں جنرل محمد ضیاءالحق صدر پاکستان سے ہوئی۔ جب انہوں
نے بلے صاحب سے ان کا حال دریافت کیا تو بلے صاحب نے انہیں
بتایا کہ وہ حکومت پنجاب کی خصوصی مہربانیوں کی وجہ سے جبری
طور پر ریٹائر کر دیئے گئے ہیں۔ یہ سن کر جنرل صاحبخاموش
ہوگئے ۔ مگر چند ہی دنوں بعد پنجاب حکومت کے افسران بالا نے ان
سے رابطہ کر کے انہیں اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کیہدایت کی
اور انہیں بتایا کہ گزشتہ ایک سال کی مدت کو رخصت استحقاقیہ میں
تبدیل کر دیا گیا ہے۔
سچ بات تو یہ ہے کہ سید فخر الدین بلے جیسی کرشماتی اور
طلسماتی شخصیت کے انتقال کی خبر جب مجھے ملی تو مجھے یقین
ہی نہیں آیا۔ کیونکہ وہ اپنی بے پناہ قوت ارادی اور مولائے کائنات سے
والہانہ وابستگی کے طفیل بارہا انتہائی خطر ناک اور نازک ترین
صورتحال سے دو چار ہو نے کے باوجود صحت یاب ہو جاتے۔ اور
انکے ڈاکٹر بھی انکی زندگی کی بقا پر حیران ہو تے تھے۔ لہذا میں نے
بھی یہی سوچا کہ بلے صاحب اس مرتبہ بھی موت کو شکست دینے
میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بہر حال اب جبکہ وہ واقعی ہم سب کا ساتھ
چھوڑ گئے ہیں تو میں ان کے مندجہ ذیل شعر کی روشنی میں انہیں
ایک نئے روپ میں زندہ دیکھ رہاہوں
الفاظ وصوت و رنگ و تصور کے روپ میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
سیدفخرالدین بلے ۔ ایک کرشماتی شخصیت
تحریر:سیداظہرامام زیدی، ریٹائرڈڈائریکٹر انفارمیشن ، پنجاب
فخرالدین بلے صحافت کا وقار ہیں۔کسی کے دل میں گھر بنانا تو کوئی
ان سے سیکھے۔ڈاکٹرآغاسہیل
اورینٹل کالج لاہور کی آن بان، شان اورپہچان ڈاکٹرآغا سہیل بھی سید
فخرالدین بلے کوتعلقات عامہ کی ایک تہذیبی یونیورسٹی ہی سمجھتے
تھے۔ معروف کالم نگار جمیل الدین عالی نے نقارخانے میں کچھ
یادداشتوں کو ذکرکرتے ہوئے لکھا " بھارت کے نامور ادیب رام لعل
پاکستان آئے تولاہور میں مدیر نقوش محترم محمد طفیل کے صاحبزادے
اور ادب دوست جاوید طفیل نے ادیبوں اور شاعروں کو اپنے گھر مدعو
کیا۔ اس تقریب بہر ملاقات میں ادب کے بہت سے موضوعات پر گفتگو
ہوئی۔سید فخرالدین بلے سے گلے ملتے ہوئے رام لعل نے کہا بہت سے
اہل علم و ادب آپ کو بہت یاد کرتے ہیں۔چند روز پہلے بھی دلی میں
کچھ احباب سے ملاقات ہوئی ۔اور میں نے انہیں بتایا کہ میں پاکستان
جارہاہوں تو آپ کا ذکر چھڑ گیا۔ان میں آپ کے علی گڑھ یونیورسٹی
کے ساتھی بھی تھے۔آ پ کی ذہانت کے نقوش ان کے دل و دماغ پر آج
بھی موجود ہیں۔اس پر شریک محفل ڈاکٹرآغا سہیل نے برجستہ کہا کہ
فخرالدین بلے ایک شخصیت نہیں ،ایک قافلہ ہیں۔جہاں پڑا ءو ڈال
دیں،محفل سج جاتی ہے۔اگر انہیں بھارت کے ادیب اور شاعر یاد کرتے
ہیں تو اس میں اچھنبے کی کوئی بات نہیں ،یہ ادب کی آبرو اور
صحافت کا وقار ہیں۔کسی کے دل میں گھر بنانا تو کوئی ان سے
سیکھے"۔
سید فخر الدین بلے ۔ایک دبنگ افسر۔ایک طلسماتی شخصیت
تحریر : نذیرخالد،ریٹائرڈ ڈائریکٹر تعلقات عامہ ،پنجاب ،بہاولپورڈویژن
یہ 1977ءکی بات ہے، جب جنرل ضیاءالحق نے مارشل
لاءلگایا تو پورا ملک خوف کی شدید لپیٹ میں تھا۔کوڑے مارنے ،جیل
میں ڈالنے اور شاہی قلعے کے عقوبت خانے کے چرچے عام تھے۔
مارشل لاء حکومت اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے سوچے
سمجھے منصوبے کے تحت عوام کو دہشت زدہ کر رہی تھی ۔ اخبارات
پر پری سنسر شپ عائد تھی ۔سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بنیادی
شہری حقوق بھی معطل تھے اور اعلیٰ عدالتیں اپنی سابقہ روایت کو
برقرار رکھتے ہوئے نظریہء ضرورت کو اپنے فیصلے کی دلیل بنائے
بیٹھی تھیں اور کسی شخص کی جرا ت نہ تھی کہ مارشل لاء حکام کے
سامنے زبان کھولے۔
ان دنوں میری ملازمت کاا بھی آغاز تھا او ر میں سرگودھا (جو میرا
آبائی شہر تھا) میں ڈویثرنل انفرمیشن آفس میں تعنیات تھا ۔ہمارے مقامی
اخبار نویس دوست جو مختلف قومی اخبارات اور خبر رساں اداروں کی
نمائندگی کر رہے تھے ۔مارشل لاءحکام کے ہاتھوں آئے روز ذلت و
رسوائی کا سامنا کرتے تھے۔ نو عمر کیپٹن اور میجرز جو بے پناہ
اختیارات کے مالک اور کسی کے سامنے جوابدہ نہ تھے، صحافیوں کو
اپنے دفاتر کے باہر بنچوں پر بٹھا کر گھنٹوں انتظار کرواتے اور جب
ان کو اند ر بلاتے تو سخت اور نامناسب زبان استعمال کرتے ۔انہیں اس
امر پر بھی زجرو توبیخ کرتے کہ فلاںخبر اور تصویر آج کیوں چھپی
ہے ؟یہ واقعہ تو دو دن پہلے کا ہے اور اس کے ساتھ آج کا لفظ کیوں
لکھا ہوا ہے….وغیرہ وغیرہ – ہمارا محکمہ اور مقامی دفتر جسے
صحافی دوستوں کی عزت و توقیر کیلئے "آگے" آنا چاہیے تھا، بوجوہ
یہ جراتِ رندانہ نہ دکھا سکا- عین انہی دنوں سید فخرالدین بلے صاحب
بطور ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن (انچارج ڈویژنل آفس) ملتان سے
ٹرانسفر ہو کر سرگودھا آئے۔ چونکہ فوری طور پر بلے صاحب کے
پیشرو سرکاری رہائش گاہ خالی نہیں کر سکتے تھے، اس لئے بلے
صاحب عارضی طورپر ایک سرکاری ریسٹ ہاءو¶س میں مقیم ہو
گئے۔سرگودھا آمد کے بعد انہیں جب صحافیوں کے مسائل اور ان کے
ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کا علم ہوا تو وہ اگلی صبح
بغیر کسی تیاری یا ڈریس اپ ہوئے، شلوار قمیض میں ملبوس ڈپٹی
مارشل لاءایڈمنسٹریٹر (ڈی ایم ایل اے جو مارشل لاءدور میں ڈویژن
کے انچارج تھے) کے آفس پہنچ گئے اور کچھ دیر بعدوہ ڈی ایم ایل ا
ے صاحب کے سامنے ٹیبل پر بیٹھے تھے ، بلے صاحب نے کہا کہ
میں نے کل ہی یہاں چارج سنبھالا ہے مگر یہ معلوم کرکے مجھے بے
حد افسوس ہوا ہے کہ جو کام میرے کرنے کا ہے، وہ آپ کے کیپٹن
اور میجروں نے سنبھالا ہوا ہے – حضور مجھے یہاں رہنے کا کوئی
شوق نہیں ہے، اگر یہ کام ان لوگوں نے ہی کرنے ہیں تو یہ پڑی ہیں
آفس کی چابیاں (بلے صاحب کے ہاتھ میں چابیوں کا گچھا تھا، وہ
انہوںنے ڈی ایم ایل اے صاحب کی طرف میز پر پھینک دیا) وہ آفس
بھی آپ سنبھالئے ۔میں واپس چلا جاتا ہوں، ڈی ایم ایل اے صاحب نے
پوچھا کہ معاملہ کیا ہے؟ بلے صاحب نے چند ایک واقعات سنانے کے
بعد کہا کہ دیکھئے میں صحافیوں کی اور وہ میری زبان سمجھتے ہیں،
آپ کو جو کچھ چاہیئے آپ مجھے کہیں ۔کوا کوے کی زبان سمجھتا ہے
، آپ کیوں برے بنتے ہیں، صحافیوں کے ساتھ مجھے معاملات کرنے
دیجئے- چونکہ بلے صاحب کے اندر انتہا کی خود اعتمادی، حوصلہ
اور نڈرپن تھا، اس لئے ان کی یہ گفتگو ڈی ایم ایل اے صاحب پر کام
کر گئی اور انہوںنے کہا کہ بلے صاحب آپ مکمل آزادی سے اپنا کام
کیجئے۔ میرے آفس کی جانب سے کوئی مداخلت نہیں ہو گی- وہ دن
گیا….اس کے بعد مارشل لاءحکام نے کبھی صحافیوں کو اپنے آفس
"طلب" نہیں کیا اور بعد میں جتنی دیر بھی بلے صاحب وہاں رہے،
ہمارے آفس مارشل لاءحکام اور صحافی دوستوں کے درمیان بڑے
مثالی تعلقات رہے۔ یہ سب بلے صاحب کی وجہ سے تھا-
پبلک ریلیشننگ یا تعلقات عامہ کا نظریہ ترقی یافتہ ممالک سے
یہاں آیا ہے۔ جب یہ شعبہ یہاں قائم ہوا تو اس کو صحیح طریقے سے
اپنایا نہیں گیا اور اس پودے کو درست طور پر جڑیں ہی نہیں پکڑنے
دی گئیں- اس شعبے سے متعلق لوگوں کی باقاعدہ تربیت
یاریفریشرکورس کا اہتمام ہی نہیں کیا گیا -نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں
پبلک ریلیشننگ کا ہر آفیسر اپنی سوجھ بوجھ اور مرضی کے مطابق
کام کرتا اور خود ہی اپنے دائرہ ءکار کا تعین کرتاہے۔اور اکثر یہ دیکھا
گیا ہے کہ کسی ادارے کے پی آر او اس ادارے کے امیج کو بہتر
کرنے کے بجائے اپنے باس کو خوش کرنے کے لئے چٹکلے اور
لطیفے سنا کر محظوظ کرنے اور ان کے نجی کامو ںمیں معاونت کو
ہی اپنا فرض عین سمجھتے ہیں لیکن بلے صاحب اس کے بالکل
برعکس تھے – اس محکمہ کے جس آفیسر نے ایک تربیتی ادارہ کا
کردار ادا کیا، وہ سید فخر الدین بلے صاحب تھے۔اس محکمہ کے
بیشمار لوگوں نے بلے صاحب سے سیکھا اور ان کی پیروی کر کے
کامیاب ہوئے۔ میں بلے صاحب کے بیٹوں انجم معین بلے اور عارف
معین بلے کا ہم عمر تھا اور بلے صاحب کی شفقت اور کشادہ دلی کا یہ
حال تھا کہ میں ان کا سب آرڈینیٹ کم تھا اوراس سے کہیں زیادہ ان
کے بچوں میں شمار تھا-
وہ غلطیوں سے پاک نہایت معیاری اردو اور انگریزی لکھنے پر قادر
تھے، اورروانی کے ساتھ ڈکٹیشن دیتے تھے لیکن یہ بات بھی تھی کہ
وہ اپنے ہی لکھائے ہو ئے ڈرافٹ کو ہر بار سامنے آنے پرمزید درست
کر دیتے تھے۔ اکثر سٹینو گرافرکو ہدایت ہوتی تھی کہ وہ ایک دفعہ
چیک کروانے کے بعد دوبارہ ان کے سامنے نہ رکھے، ورنہ وہ ہر بار
اسے بدل دیں گے۔بلے صاحب اردو زبان میں شاعری کرتے تھے اور
خوبصورت نثر لکھتے تھے ، بہت عمدہ مقرر اور انکا حافظہ بھی
کمال کا تھا- میں نے بلے صاحب کے ساتھ کئی سال گزارے، ہر
اجلاس ، ہر تقریب حتی کہ ان کی نجی محفلوں میں بھی شریک ہوتا
رہا، میں نے اس شخص کو :
i) کبھی گھبرایا ہوا نہیں دیکھا، وقت جیسا بھی آیا اور جو معاملہ بھی
ہوا، وہ بالکل نارمل نظر آئے۔
ii) میں نے انہیں کبھی ایک دفعہ بھی غصے میں نہیں دیکھا۔
iii) وہ ایک بہترین منتظم تھے، پنجاب کے کم و بیش تمام ڈویژنوں میں
اور بیشتر اضلاع میں تعینات رہے۔ وہ جہاں بھی رہے، وہاں کے آفس
کو انہوںنے بنایا سنوارا، اس وقت جن اضلاع میں بہترین انفارمیشن
دفاتر قائم ہیں ۔سمجھ لیجئے کہ وہاں بلے صاحب کبھی تعینات رہے
ہونگے۔ وہ جہاں تعینات ہوتے، اپنے محکمہ کا وقار بلند کردیتے۔ پریس
کلب کو خوبصورت اور اسکی کارکردگی کو بہتر بناتے۔ ان کے بعد
آنے والے کو یہ آسانی تو ضرور حاصل ہوجاتی کہ ایک بنا بنایا تمام
ضروری سامان سے مزین دفتر اور ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ کے ساتھ
عمدہ تعلقات ورثے میں مل جاتے مگر اس دقت کا سامنا بھی ضرور
کرنا پڑتا کہ تعلقات عامہ کا جو کڑا معیار وہ قائم کر گئے ہوتے تھے،
اس کو برقرار رکھنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوتا تھا۔
iv) بلے صاحب معذرت خواہانہ انداز یا Low profile میں کام کرنے
کے عادی نہ تھے، وہ پرو ایکٹو رہ کر کام کرتے تھے، نتیجہ یہ نکلتا
کہ کیا کمشنر اور کیا ڈی آئی جی اور دیگر افسران ، بلے صاحب کی
شان میں رطب اللسان نظر آتے تھے۔
میں نے بلے صاحب کو کہیں کسی بڑے سے بڑے آفیسرکی بھی
خوشامد یا چاپلوسی کرتے نہیں دیکھا ، وہ ساری عزت اپنے کام کی
وجہ سے کماتے تھے۔وہ کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوتے تھے اور
کمال حوصلے اور جرات کے ساتھ بات کرتے تھے۔ پبلک ریلشننگ
کے حوالے سے وہ کہا کرتے تھے کہ اگر ایک تانگے بان، رکشے
والے اور عام دکاندار کو معلوم نہیں کہ انفرمیشن آفس کہاں واقع ہے؟
وہاں کون تعینات ہے؟ تو پھر آپ تعلقات عامہ کے کام میں کامیاب نہیں
ہوئے ۔
بلے صاحب اہل قلم اور اہل علم کے بہت بڑے قدردان تھے۔ ان
کی تعظیم اور تکریم میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے، اعلیٰ سرکاری
افسران اور وزراءکے سامنے بھی وہ اہل علم کو ہی اولیت دیتے اور ان
کے سامنے بھی ان کا ہی وقار بناتے۔ ذوالفقار علی بھٹو بلے صاحب کو
ذاتی طور پر جانتے اور پہچانتے تھے – ان کے بعد ضیاءالحق آئے وہ
بھی ان سے ذاتی واقفیت رکھتے تھے، جونیجو اور نواز شریف بھی
انہیں اچھی طرح جانتے تھے ۔جبکہ غلام حیدر وائیں (سابق وزیر اعلی
پنجاب) کی تو ان سے بہت بے تکلفی تھی، منظور احمد وٹو (وزیر
اعلی پنجاب) بھی بلے صاحب کو جانتے تھے- بلے صاحب نے مذکورہ
بالا اور دیگر اعلی حکام کے ساتھ واقفیت ہونے کے باوجود ان سے
کوئی ذاتی مفاد نہیں اٹھایا، انہوںنے مختلف شہروں میں اپنی تعنیاتی کے
دوران متعدد اخبار نویسوں، اہل قلم اور اہل ہنر کو حکام سے رہائشی
پلاٹ یا مالی امداد لیکر دی مگر وہ خود اور ان کے اہل خانہ ہمیشہ
کرائے کے مکانوں میں رہے۔ پاکستان میں ان کا اپنا کوئی ذاتی مکان نہ
تھا۔ افسوس کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کا خاندان چھت سے محروم
ہی رہا ہے –
بلے صاحب نے زندگی میں سیکرٹ بہت کم پالے ہیں ۔ان کی
زندگی کھلی کتاب کی طرح تھی، ان کا کوئی راز،راز نہیں تھا ۔کوئی
چیز پوشیدہ نہیں تھی، آفس میں بھی کوئی چیز وہ تالے میں نہیں
رکھتے تھے، دوسروں پر اعتماد کرنے کے عادی تھے۔ درحقیقت انہیں
اپنے آپ پر اعتماد تھا، وہ غریب پرورتھے، لوگوں کے ساتھ مہربانی
سے پیش آتے تھے، آنے والے کی عزت افزائی کرتے تھے اور جو
بھی اہلِ علم ان سے ملتا، وہ یہ تاثر لیکر جاتا کہ اس سے بڑا اہل علم
یہاں موجود ہے، زبردست منصوبہ ساز تھے اورجیب میں پیسہ نہ ہونا
ان کے لئے نہ تو وجہ پریشانی تھا اور نہ ہی ان کے ارادوں میں
رکاوٹ کا باعث بنتا تھا بلکہ انہوںنے تو اپنی ذاتی زندگی پیسے کے
بغیر ہی گزاری، مہمان نوازی میں اتنے فراخ دل تھے کہ ان کا دستر
خوان بہت کشادہ اور پرتکلف ہوتا تھا –
ایک بات انوکھی دیکھی ان میں ۔ وہ شطرنج کے بہت رسیا تھے
پر میں نے انہیں ایک بھی شطرنج کی بازی جیتتے ہوئے نہیں دیکھا
مگر وہ اس کے باوجود بڑے چائو ¶ اور شوق کے ساتھ ہر روز
شطرنج کھیلتے تھے۔ شاید دوسروں کی جیت میں وہ زیادہ خوشی
محسوس کرتے تھے-
بلے صاحب دین کا بہت گہرا علم رکھتے تھے لیکن ان کا ظاہر
ایک ملامتی فرقہ کے درویش کا سا تھا- آرٹس کونسل کے انچارج کی
حیثیت سے ایک دفعہ انہوںنے ہفتہ تقریبات کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر
ایک سیمینار میں قوالی اور موسیقی زیر بحث لائے گئے- اس موقع پر
بلے صاحب نے ایک مختصر کتابچہ شائع کیا ،جس میں احادیث اور
تاریخ اسلام میں سے کچھ واقعات درج کئے گئے اور یہ ثابت کیا گیا کہ
موسیقی حرام نہیں ہے…. یہ کتابچہ راولپنڈی میں پہنچا تو وہاں کے
کچھ علماءنے اسے خلافِ اسلام قرار دیتے ہوئے اسے اپنے خطبہ
جمعہ کا موصوغ بنایا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کتابچے کے
مصنف (بلے صاحب) کو راولپنڈی کے چوک میں سرعام پھانسی دی
جائے ۔راولپنڈی کے ایک وکیل جو اس قسم کے مقدمات دائر کرنے میں
ملکی شہرت رکھتے تھے، جناب وہاب الخیری نے بلے صاحب کے
خلاف عدالت میں کیس دائر کر دیا، وارنٹ آتے رہے ۔بلے صاحب نے
تعمیل نہ کی۔ آخر میں بلا ضمانت گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو گئے،
بلے صاحب راولپنڈی کی عدالت میں حاضر ہو گئے۔ اگلی بات خود ان
کی زبانی سنئیے۔" میں نے عدالت سے کہا کہ میں اپنا کیس خود لڑوں
گا، میں نے پوچھا کہ "مدعی کی میرے اس کتابچے سے کیا دل آزاری
ہوئی ہے؟ اس میں توہین کا کون سا پہلو ہے"۔ مخالف وکیل نے اپنے
اعتراضات پڑھ کر سنائے تو میں نے عدالت سے کہا کہ میں آپ کے
سامنے کلمہ پڑھ کر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور یہ کہ
میں یہ حلفا کہنا چاہتا ہوں کہ میں رسول پاکﷺ کے زمانے میں نہیں
تھا نہ ہی میں نے ان ہستیوں کو خود دیکھا ہے، جن کا ذکر میرے اس
کتابچے میں ہے ، میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے جن اسلامی کتب سے
یہ حوالہ جات لئے ہیں ،وہ مسلمانوں کے ہاں معتبر مانی جاتی ہیں اور
ان میں سے کوئی کتاب بھی ضبط شدہ نہیں ہے ۔ میں نے اپنے کتابچہ
میں ان کتب سے حوالہ جات دیئے ہیں ۔اگر ا س میں کوئی غلطی ہوئی
ہے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو میں نے اپنے پاس
سے کچھ نہیں لکھا ہے ، اس بیان پر عدالت نے مجھے بری کر دیا اور
کیس ختم ہو گیا"۔
بلے صاحب بلا کے ذہین آدمی تھے، آگے آگ اور پیچھے دیوار
میں پھنسے ہوئے راہ نکالنا بھی کوئی ان سے سیکھے- انکو نیچا
دکھانے کی کوشش کرنے والا منہ کے بل گرتا تھا۔ اس طرح کا ایک
واقعہ جس میں ایک آفیسر نے سمارٹ بننے کی کوشش کی ۔ہوا یہ کہ
چنیوٹ پریس کلب کے نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف وفاداری
تھی۔ جس میں بلے صاحب مہمان خصوصی تھے اور ڈپٹی کمشنر
جھنگ صدارت کر رہے تھے، کسی اخبار نویس نے دوران تقریر
چنیوٹ شہر کے مسائل بیان کر دیئے۔ جن میں سڑکوں نالیوں کی تعمیر
، پینے کے پانی اور نکاسی آب و غیرہ جیسے مسائل شامل تھے ۔بلے
صاحب نے اپنے خطاب میں جہاں اور باتیں کیں، وہاں یہ بھی کہا کہ
آج اہل قلم کی تقریب حلف وفاداری تھی مجھے اچھا نہیں لگا کہ "آپ
چھوٹے چھوٹے مسائل لیکر کھڑے ہو گئے ہیں۔ اگر یہ مسائل ہیں بھی
تو بہتر ہوتا آپ یہ میرے انفرمیشن آفیسر صاحب کے نوٹس میں لے
آتے ،وہ ڈپٹی کمشنر صاحب سے بات کر لیتے یا پھر آپ مجھے بتا
دیتے ۔میں وہاں ڈپٹی مارشل لاءایڈمنسٹریٹر صاحب سے کہتا، کمشنر
صاحب کے علم میں لے آتا"……..تقریب کے صاحب صدر یعنی ڈپٹی
کمشنر صاحب نے اس بات کو محسوس کیا اور اپنے صدارتی خطاب
میں کہا کہ "مجھے بہت اچھا لگا کہ آپ لوگوں نے یہاں کے مسائل
مجھے بتائے ہیں۔ آخر اس طرح کے ملنے کا اور کیا فائدہ ہے کہ ہم
اپنے مسائل بھی زیر بحث نہ لائیں ۔پتہ نہیں بلے صاحب کو یہ کیوں
اچھا نہیں لگا"۔ جونہی ڈپٹی کمشنر صاحب سٹیج سے اترے ، بلے
صاحب نے انہیں کہا کہ "بھائی آپ نے یہ کیا کر دیا؟12 جولائی کا
گورنر پنجاب کا ڈائریکٹو آپ تک نہیں پہنچا ،جس میں انہوںنے سختی
سے کہا ہے کہ پریس کلبوں کے فورم کو مطالبات کا فورم نہ بننے
دیں، میںحکومت کی ایک واضح ہدایت کے حق میں بات کر رہا ہوں
اور آپ اس کے الٹ بول رہے ہیں"-ڈپٹی کمشنر صاحب گھبرا گئے
(دراصل ایسا کوئی لیٹر تھا ہی نہیں۔ اس لئے ڈپٹی کمشنر صاحب کے
علم میں بھی نہیں تھا)- انہوںنے کہا کہ بلے صاحب یہ تو بہت غلط ہو
گیا۔ اب آپ ہی اسے سنبھالئے ، بلے صاحب نے کہا کہ یہ سالے تو اس
خبر کو خوب اچھا لیں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ آپ کا کہا ہوا ان
کے لئے کس قدر اہم اور کتنی بڑی خبر ہے۔بہر حال میں کھانے کے
بعد انہیں لیکر بیٹھوں گا – کوا کوے کی زبان سمجھتا ہے ، میں انہیں
اپنی زبان میں سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ڈپٹی کمشنرصاحب بلے
صاحب کا شکریہ ادا کرتے رہے اور جتنی دیر وہاں رہے ،بلے صاحب
کے ممنون رہے۔
بلے صاحب گہرا دینی علم رکھتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ
پاپولر عقائد نہیں رکھتے تھے۔ انکی بیماری اور بڑھاپے کا ضعف
کبھی انکی راہ کی رکاوٹ نہیں بنے۔دوستوں کے ساتھ انکا بہت کھلا
مذاق تھا ۔ممکن ہے پڑھنے والوں میں سے کوئی یہ جاننا چاہیں کہ لفظ
بلے کہاں سے آیا اور اس کے کیا معنی ہوئے ؟ یہ وہی لفظ ہے ،جسے
ہم دوبار ملا کر بولتے ہیں بلے بلے یعنی شاباش ۔
بلے صاحب نے اپنی ساری زندگی جوانی میں گزاری ۔ ستر سال
کی عمر میں بھی وہ جوان ہی تھے۔انکی اولاد میں سے آنس معین بہت
کمال کے شاعر تھے۔ افسوس وہ نوعمری میں ہی راہی ملک عدم ہو
گئے ۔عارف معین بلے اور ظفر معین بلے بھی بہت اچھے شاعر ہیں ۔
سید فخرالدین بلے صاحب جہاں جہاں بھی تعنیات رہے، ان کی رہائش
گاہ ادبی ڈیرہ بنی رہی ۔انہوں نے قافلے کے نام سے ایک ادبی تنظیم
بنائی اور ہر ماہ باقا عدگی سے اس قافلے کا "پڑاﺅ ان کے گھر پر ہو تا
تھا۔ جس میں ہر مکتب فکر کے شاعر ،ادیب اور اہل علم شریک ہوتے
تھے اور آنے والے مہمانوں کی بھر پور تواضع کی جاتی تھی۔ میں
ذاتی طور پر سرگودھا اور لاہور میں منعقد ہونے والے پڑاﺅ میں
شرکت کر تا رہا ہوں۔ جب وہ ملازمت سے ریٹائر ہو گئے تو بہاولپور
میں جناب سید تابش الوری سے ملاقات میں بلے صاحب نے انہیں کہا
کہ وہ عرصہ درراز سے ادبی قافلے کے پڑاﺅ کا سلسلہ جاری رکھے
ہوئے ہیںلیکن اب ان کے لئے اسے مزید چلانا ممکن نہیں رہا۔اس پر
تابش صاحب نے کہا کہ اب یہ کام آپ میرے سپرد کر دیجئے۔ اس کے
بعد سے اب تک اس ادبی قافلے کاماہانہ پڑاﺅ ہر ماہ کی سولہ تاریخ کو
باقاعدگی کے ساتھ تابش الوری صاحب کے گھر پر ہوتا ہے ۔جس میں
بزرگ اور نوجوان ،ادیب او رشعراءاپنی اردو اور سرائیکی زبان میں
کہی گئی تخلیقات پیش کرتے ہیں۔اس ادبی پڑاﺅ کی ایک خوبصورتی یہ
بھی ہے کہ تابش صاحب بہاولپور ہوں یا نہ ہوں،پڑاﺅ ہر حال میں ہونا
ہے۔ یہاں بھی آنے والے مہمانوں کی بہت تواضع کی جاتی ہے۔ تخلیقات
پر صحت مند تنقید اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اوردوسرے شہروں
سے آنے والے اہل قلم کو بھی یہاں مدعو کیا جاتا ہے۔ میں خود بھی
تابش صاحب کے دولت خانے پر متعدد بارپڑاﺅ میں شریک ہوا ہوں۔
بلے صاحب کا بہت سا کلام نہ سنبھالے جانے کی وجہ سے ضائع ہوگیا
ہے۔ بلے صاحب کاایک ایسا ہی شعر جو ریکارڈ پر نہیں ہے اورانہوں
نے ذائقہ بدلنے کیلئے کہاتھا،وہ میر ے ذہن میں محفوظ ہے، قارئین کی
دلچسپی کے لیے پیش ہے۔
گھرسے مسجد کو چلوں ہوںتو خدا جانے کیوں
پاﺅں رک جاویں ہیں، جب تیری گلی آوے ہے
بلے صاحب اردو زبان کو ہمیشہ اولیت دیتے تھے اور اپنے
دستخط ہمیشہ اردو میں ہی کرتے تھے۔ چٹھی خواہ انگریزی کی ہو یا
اردو کی -ان کے دستخط بھی کوئی زیادہ مشکل نہ تھے ۔مجھے بھی
اجازت تھی کہ بوقت ضرورت ان کی جگہ ان کے دستخط کر دو ں۔ان
کے دستخط اگر پڑھے جائیں تو ایسے لگتا تھا ،جیسے حولدار لکھا
ہو۔جب وہ سرگودھا میں تھے تو وہاں جنرل ضیاءالحق دورے پر آئے
تو بلے صاحب نے ان سے سرگودھا پریس کلب کی نئی عمارت کی
تعمیر کے لئے قطعہ اراضی اور گرانٹ کا اعلان کروایااور وہا ں کے
مقامی مصور ایم اے لطیف کی لکھی ہوئی قرآنی آیات اور فن پارو ں
کو جنرل ضیاءالحق کے سامنے پیش کر کے فنکار کی حوصلہ افزائی
کروائی اور غالباٍ جنرل صاحب نے ان میں سے کچھ فن پارے ایوان
صدر کے لیے بھی خرید نے کی ہدایت کی تھی ۔بلے صاحب صحافیوں
کی کسی بھی تقریب میں اہل اقتدار کے بجائے ہمیشہ اہل قلم او ر اہل
علم کی صدارت کو ترجیح دیتے تھے-
بلے صاحب کے زیر سایہ کام کرتے ہوئے یوں تو مجھے بہت
کچھ سیکھنے کا موقع ملا لیکن دو ایک باتوں کا ذکر کرنا چاہوں
گا۔ایک روز کسی معمولی بات پر میں جذباتی ہو کر غصے میں آ
گیا۔جو، اَب سوچتا ہوں تواپنی سر اسر نادانی نظر آتی ہے۔ بلے صاحب
نے مجھے سامنے بٹھایا اور بڑی مروت کے ساتھ سمجھایا
کہ"بیٹازندگی میں معاملات اس طرح سے نہیں چلتے اور غصے سے
کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ۔انسان کو اس طرح رہنا چاہیے کہ پانی ہے
جو بظاہر آپس میں ملا ہوا ہے لیکن اسے جب اور جہاں سے چاہو اور
جتنے حصوں میں چاہو آسانی سے تقسیم ہو سکتا ہے، پیاز کو ہی
دیکھو اس کی پرتیں بظاہر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست
ہیںلیکن وہ ایک دوسرے سے آسانی سے جدا بھی ہو سکتی ہیں۔ لہذا
زندگی کو اس طرح سے بسر کرو کہ آس پاس کی چیزوں سے جڑے
بھی رہو اور جب الگ ہونا پڑے تو آسانی سے الگ بھی ہو جاﺅ۔غالبا ان
کا یہ سبق میرے جیسے کمزور نوجوان کے لئے تھا ،ورنہ وہ خود تو
اس طرح کی پسپائی کے قائل نہ تھے –
آخرمیں ان کے چنداشعار پیش خدمت ہیں۔
اپنی کتاب زیست پہ تنقید کے لئے
آخر میں چندسادہ ورق چھوڑ جاﺅں گا
چمن میں فصل بہاراں سہی، خزاں نہ سہی
مگر حضور یہ موسم ضرور بدلے گا
اپنی پاک دھرتی کااب خداہی حافظ ہے
مسندو ں پہ آ بیٹھے،سرحدوں کے رکھوالے
اُٹھائے پھرتاہوں سر اپنے تن کے نیزے پر
ہوئی ہے تنگ زمیں مجھ پہ کربلا کی طرح
نذیرخالد کاورق تمام ہوا مگر مدح باقی ہے ۔نوائےوقت کےکالم نگار
بیدار سرمدی نے ان کی شخصیت کے جتنے رنگ دیکھےہیں ،انہیں
کینوس پر منتقل کردیاہے ۔آپ بھی یہ تصویر دیکھئے
سید فخرالدین بلے کی ہفت رنگ شخصیت
کالم نگار: بیدارسرمدی
آج جب سیاست ہمیں ایسے ماحول میں لے آئی ہے کہ لوگ کردار کی
خوشبو کو ترسنے لگے ہیں۔کیوں نہ ایسے لوگوں کی بات کی جائے جو
سیاست، تعلقات عامہ،صحافت، ادب اور تصوف کے میدانوں میں سراپا
خوشبو ثابت ہوئے۔ برسوں پہلے پنجاب کے شعبہ اطلاعات میں‘ ڈی
جی پی آر کے منصب سے ریٹائر ہونےوالے ایسی ہی صاحب کردار
شخصیت کو آج بھی لوگ یاد کر رہے ہیں۔ سید فخرالدین بلے کو صرف
پاکستان میں ہی نہیں پاکستان سے باہر بھی محبت کے ساتھ یاد کیا جا
رہا ہے ۔گذشتہ دنوں یونیورسٹی آف تہران کے شعبہ اردو کی صدر
ڈاکٹر وفایزدان منش نے ’’سید فخرالدین بلے۔ ایک آدرش ایک انجمن‘‘
کے عنوان سے ضخیم کتاب کے کئی صفحات پر مبنی مقدمہ میں
پاکستان کے اس مایہء ناز سپوت کو خراج عقیدت پیش کیا اور کتاب
میں شامل مضامین اور لکھاریوں کے مقالوں کا اپنے انداز سے جائزہ
لیا تو محسوس ہوا کہ بلے صاحب کتنی مینا رقامت شخصیت تھے۔
1930ء میں بھارت کے شہرہاپوڑ میں پیدا ہونے والے سیدصاحب
نےمسلم یونیورسٹی علیگڑھ سے گریجویشن کے بعد ادیب کامل کی
ڈگری بھی لی ۔ سید غلام معین الدین چشتی کے فرزند ارجمند
سیدفخرالدین بلے نے تلوک چند محروم، جوش ملیح آباد،حسرت موہانی،
مولوی عبدالحق جیسے احباب کی صحبت سے بھی فیض حاصل کیا۔پھر
یہ بھی دیکھا کہ انکے والداپنے آبائی علاقے میں کس طرح 1946ء
میں قائداعظم اور لیاقت علی خان کی الیکشن مہم کے انچارج کے طور
پر تحریک پاکستان کیلئے مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ میرے جیسے
ان کے جونیئر دوست زیادہ تر انکے سرکاری منصب کی مصروفیات
تک ان کا جائزہ لیتے رہے جبکہ علم و ادب کی سرکرد شخصیات نے
اپنے اپنے زوایے سے ان کو دیکھا اور پھر اپنے مقالات کے ذریعے
گواہی دی۔ ڈاکٹر وفایزدان نے ان گواہیوں کا سرسری ساذ کر بھی کیا
ہے اور بتایا ہے کہ مختلف قد آور ادیبوں اور صاحبان قلم نے ان کیلئے
خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیسے کیسے عنوانات تجویز کئے۔ مثلاً
ابتظار حسین نے ’’یہ سید کام کرتا ہے‘‘، سید آل احمد سرور نے ’’بلند
پایہ کلام کا خالق‘‘، ڈاکٹر وزیر آغا نے سید فخرالدین بلے، تصوف پراہم
اتھارٹی، ڈاکٹر فوق کریمی علیگ نے''فخر ادب، علی گڑھ کا بلے''
پروفیسر منظر ایوبی نے ’’دیکھئے۔اس شخص میں کتنے جہان آباد
ہیں‘‘، ڈاکٹر خواجہ زکریا نے سید فخرالدین بلے، بڑے حلم اور آبرو
والے‘‘ پروفیر قیصر نجفی نے‘‘ ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں
جسے‘‘ طفیل ہوشیارپوری نے ’’کئی دنیاؤں کا ایک بڑا آدمی‘‘ جیسے
عنوان کے تحت انکی شخصیت کا احاطہ کیا۔ اسی طرح احمدندیم
قاسمی، ڈاکٹر انورسدید،اشفاق احمد، بانو قدسیہ، پروفیسر جاذب قریشی،
افتحارعارف، اصغر ندیم سید،کمال احمد رضوی ،شبنم رومانی،
پروفیسر خالد، پرویز اوردوسرے بہت سے احباب نے سید صاحب کو
تفصیلی خراج عقیدت پیش کیا۔ سچ یہ ہے کہ ان کی شخصیت ہفت رنگ
تھی۔ وہ ایک دلیر آفیسر بھی تھے، محمد علی بوگرہ، ذوالفقار علی
بھٹو،جنرل ضیاء الحق، محمد خان جونیجو، حنیف رامے،غلام مصطفی
کھر، مخدوم سجاد حسین قریشی سمیت اقتدار کی بڑی بڑی شخصیات
کے ساتھ اتنے اعتماد کے ساتھ کام کرنا اور میڈیا کے حوالے سے سچ
بات کرنا ان کی انفرادیت تھی۔ صحافیوں کے مسائل کے حوالے سے
بڑے بڑے حاکم کے سامنے ڈٹ جاتے تھے۔ تخلیقی سطح پر انہوں نے
تصوف کے میدان میں ’’قول ترانےاور رنگ‘‘ کے حوالے سے بھرپور
کام کیا کہ سید سعید احمد کاظمی جیسے صاحبان نظر کو کہنا پڑا کہ
امیر خسرو کے سات سو سال بعد کسی شخصیت نے قوالی کو اسکے
تاریخی حسن کے ساتھ تجزیاتی رنگ دیا ہے۔ سید صاحب نے 150
کے لگ بھگ چھوٹی بڑی کتابیں تالیف کیں۔ ثقافتی میدان میں انکے
بہت سے تاریخ ساز اقدامات میں سے ایک پچیس روزہ جشن تمشیل
ہے۔ جس میں حصہ لینے اور ابتدا کرنے والے آرٹسٹ بعد میں بڑے
بڑے اداکار بنے۔ اسی حوالے سے انہیں ’’محسن فن‘‘ اور ’’مین آف دی
سٹیج‘‘ جیسے خطابات سے نوازا گیا۔ ان کےگھر میں برسوں تک
باقاعدہ ادبی مجالس کا سلسلہ قافلہ کے ’’پڑاؤ‘‘ کے نام سےجاری
رہا۔جو اب بھی ادب کی بہترین یادوں کا حوالہ ہے۔ سید فخرالدین بلے
نے جس طرح اپنےعلمی، ادبی اورروحانی قائد اوروالد محترم سیدغلام
معین الدین چشتی کے نام کو اپنی سرگرمیوں سے تابندہ تر کیا۔اسی
طرح سید فخرالدین بلے کے فرزند ان اپنے والد کےنام کوزندہ رکھے
ہوئے ہیں ۔اوراپنے والد کی یادوں کی روشنی میں صحافت اور علم و
ادب میں اپنا اپنا بھرپور کردار اد کر رہے ہیں۔چنانچہ سید انجم معین
بلے، سید عارف معین بلےاور سید ظفر معین بلے اپنے اپنے میدان میں
مصروف کار ہیں۔ سید آنس معین لے مرحوم تو شاعری میں ایک حوالہ
بن چکے ہیں۔ ظفر معین بلے نے ادب لطیف کی کئی سال ادارت کی
۔ڈاکٹر وفایزدان منش نے اپنے طویل مقدمہ میں ایک اچھی بات لکھی
ہے کہ سرسید اور ان کے رفقا کی کوشش اور شفقت سے جو روح علی
گڑھ کے تعلیمی نظام میں پھونکی گئی، وہ ابھی تک وہاں کی فضاؤں
میں موجود اور محسوس کی جاتی ہے۔ یہ روح سید فخرالدین بلےمیں
بھی رچی بسی تھی۔ وہ اس روح کو ہجرت کے وقت اپنے ساتھ پاکستان
لائے اور گروہ بندیوں سے آزاد رہ کر صرف روشنی پھیلانے کا کام
کرتے رہے، تعلقات عامہ کے ماہرکی حیثیت سے بھی انہوں نےاپنی
عظمت کالوہا منوایا۔ وہ محض ایک انجمن نہیں بلکہ قافلہ تھے اور اپنے
شعر کی عملی تفسیر بھی۔
الفاظ و صوت و رنگ و نگارش کی شکل میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
سید فخرالدین بلے کی ہفت رنگ شخصیت
کالم نگار: بیدارسرمدی
ایس ۔ای کالج بہاولپورکے سابق پرنسپل اور محکمہ تعلیمات کالجز
پنجاب کے سابق ڈائریکٹر پروفیسرمنور علی خان نے بھی ابلاغیات کی
بنیاپر ہی اپنا مضمون لکھا ،اوران کی خدمات کواجاگرکیاہے۔ملاحظہ
فرمائیے۔
سَیّدفخرالدین بلے۔ادبی و صحافتی قدروں کے پاسبان
تحریر:پروفیسر منور علی خان ۔علیگ
سابق ڈائریکٹر تعلیمات کالجز،بہاولپورڈویژن
مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے بعد صحافت کو اپنی اہمیت اور ذریعہ
ابلاغ ہونے کے باوصف ہر مملکتی نظام میں ایک نمایاں مقام حاصل
ہوتا ہے۔ تینوں کلیدی شعبوں کی کارکردگی کو اجاگر کرنے کے لئے
صحافت، میڈیا یا ذرائع ابلاغ ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ با اصول
اصلاحی اور صحت مند صحافت ایک ایسا ذریعہ ابلاغ ہے ،جس کی
اہمیت ہر معاشرے میں واضح ہوتی ہے۔ صحافت اور ادب کا گہرا تعلق
ہے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ صحافی اگر
مشہور ادیب بھی ہو تو سونے پر سہاگے کا کام کرتا ہے۔
اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ سر سید علیہ الرحمتہ نے
صحافت کو علی گڑھ تحریک کے ابلاغ کے لئے استعمال کیا اور اپنے
اندازِ تحریر، بے لاگ تنقید اور روشن خیالی سے صحافت کو اعلیٰ مقام
عطا کیا۔ سر سید کی سیاست علم اور صحافت کا پیوند ہے۔ ان کی
صحافت میں اصلاح کا پہلو ہے، معقولیت ہے اور واقعات اور معاملات
پر بے لاگ اور صحت مند تبصرہ ہے۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ سے
لیکر تہذیب الاخلاق تک یہی پہلو کار فرما نظر آتے ہیں۔ سر سید سے
شروع کر کے مسلم صحافت بتدریج پہلے مسلمانوں میں شعور منزل
اور بعدہ حصول منزل کا جذبہ پیدا کرتی رہی ہے۔ مسلم صحافت کے
اس تعمیری دور میں بابائے صحافت مولانا ظفر علی خاں علیگ اور ان
کے اخبار زمیندار نے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی سے نجات
دلانے اور جذبہ آزادی کو فروزاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نوائے
وقت، احسان، انقلاب اور جنگ وغیرہ بھی اپنے اپنے طور پر تحریک
پاکستان میں نمایاں کردار ادا کرتے
رہے۔سر سید کے قائم کردہ ادارے سے جو بعد میں مسلم یونیورسٹی
علی گڑھ بن گیا، فارغ التحصیل ہو کر جو شخصیات صحافت کے
شعبے میں آئیں اور سر سید کے صحافیانہ اصولوں کا نقش ثانی بنیں،
ان میں ایک شخصیت سید فخر الدین بلّے مرحوم و مغفور کی تھی،سید
فخر الدین بلّے صاحب گو آج ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی شخصیت، ان
کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور ان کے اصول مشعلِ راہ ہیں، جنہیں
کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی قد آور شخصیت نے ادب اور
صحافت دونوں پر نہ صرف اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں بلکہ ان کی
عارفانہ سوچ اور ان کے مسلک نے ان کی شخصیت میں ایک پاکیزہ
کشش پیدا کر دی ہے اور اسے چار چاند لگا دیئے ہیں۔
سید فخر الدین بلّے مرحوم 15دسمبر 1930ءکو ہاپوڑ (ہاپڑ جہاں کے
پاپڑ مشہور ہیں) ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے ،جو بابائے اردو مولوی
عبدالحق کا وطن مالوف تھا۔ یو پی بورڈ سے میٹرک پاس کرنے کے
بعد وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخل ہوئے ،جہاں سے انہوں نے
بی۔اے، بی ایس سی کیا۔ وہیں سے انہوں نے ارضیات کے مضمون میں
ایم، ایس سی کیا، تحریک پاکستان کے جلسوں میں جہاں نوابزادہ لیاقت
علی خان، نواب اسماعیل خان، چودھری خلیق الزماں اور سردار
عبدالرب نشتر جیسے اکابر سیاستدان تقریر کرتے تھے، سید فخر الدین
بلّے بطور چائلڈاسپیکر حصہ لیتے تھے۔ یہ ان کے سیاسی شعور کا
آغاز تھا اور اسی سلسلے میں پاکستان منتقل ہونے سے پہلے ہندوستانی
مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کسی سیاسی تحریک میں حصہ
لیا تو گرفتار کر لئے گئے اور سات دن کی قید کاٹی۔ پاکستان منتقل
ہونے کے بعد صحافت کو انہوں نے ذریعہ معاش بنایا اور پھر پچپن
سال تک مختلف حیثیتوں میں مختلف مناصب پر فائز رہ کر اس شعبے
کی خدمت کرتے رہے۔1990ءمیں بحیثیت ڈائریکٹر تعلقات عامہ
حکومت پنجاب 20ویں گریڈ میں ریٹائر ہوئے اور آخر وقت تک ادب
اور صحافت کی خدمت میں مصروف رہے۔
میں اسے اپنی کم نصیبی ہی پر محمول کروں گا کہ میں اپنے ایک
ہمعصر نابغہ شخصیت سید فخر الدین بلّے صاحب سے شرف ملاقات
حاصل نہ کر سکا ،جس کے مداحوں میں بابائے اردو مولوی عبدالحق ،
فراق گور کھپوری، جوش ملیح آبادی، میرزا ادیب، جگن ناتھ آزاد اور
محمد طفیل جیسے ارباب علم و ادب شامل ہیں۔ میں جب اس محرومی کا
تجزیہ کرتا ہوں تو اتفاقات اس کے ذمہ دار قرار پاتے ہیں۔ میں
1949ءسے 1967ءتک ملتان میں تھا تو فخر الدین بلے صاحب
بہاولپور میں تھے۔ جب میں 1967میں لاہور پہنچا تو وہ 1966ءمیں
قلات چلے گئے۔ جب وہ 1970ءمیں لاہور واپس تشریف لائے تو
1971ءمیں ان کا تبادلہ ملتان ہوگیا اور میں 1972ءمیں بہاولپور منتقل
ہوگیا ۔جہاں میں 1989ءتک رہا۔ سرکاری ملازمتوں میں اسی طرح
تبادلے ہوتے رہتے ہیں۔ ان اتفاقات کی وجہ سے ان سے ملاقات سے
محروم رہا۔
بلّے صاحب کی شخصیت پر کچھ لکھنے کے لئے قلم اٹھایا ہے لیکن
اپنی علمی ادبی بے بضاعتی کی بنا پر ان ارشادات سے اقتباس تک
محدود رکھا ہے۔جو بلے صاحب کے ہمعصر ارباب علم و فضل کے
تاثرات ہیں:۔
فخر الدین بلّے ایک شخصیت کا نہیں ایک یونیورسٹی اور ایک تہذیبی
ادارے کا نام تھا۔ ڈاکٹرعاصی کرنالی
سید فخر الدین بلّے دبستان اردو کے روح و رواں ہیں۔ڈاکٹر وزیر آغا
بلے صاحب میں نہ کہتا تھا کہ اتنا اچھا ہونا اچھا نہیں ہوتا۔غلام جیلانی
اصغر
سید فخر الدین بلّے صاحب ایک پہلو دار شخصیت کے مالک تھے، وہ
شاعر بھی تھے ، ادیب بھی اور صحافی بھی۔طفیل ہوشیار پوری
سید فخر الدین بلّے ۔اِک شجر سایہ دار تھا نہ رہا،سید فخر الدین بلّے
ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک ادارے، ایک تنظیم، ایک انجمن اور ایک
جہان کا نام ہے۔جمیل الدین عالی
سید فخر الدین بلّے کی نظم ہو یا نثر اس میں نقص نکالنا محال
ہے۔بابائے اردو مولوی عبدالحق
سید فخر الدین بلّے کے کلام میں دریا کی روانی اور جذبوں کی فرادانی
ہے۔جوش ملیح آبادی
لاہور میں قافلہءفکر و ادب رواں دواں ہے بلکہ رکنے اور سستانے کا
نام ہی نہیں لیتا۔ لگتا ہے اس ”قافلے“ نے کہیں ”پڑاﺅ“ نہ ڈالنے کا تہیہ
کرلیا ہے، سید فخر الدین بلّے صاحب علم کا بحرِ ذخار تھے، آپ کی
بزرگی اور عظمت، پہلوداری اور وضعداری غیر معمولی تھی۔ آپ کی
ضیاءسے ادبستانوں کا چمنستان منور تھا، وہ پہلو دار شخصیت کے
مالک تھے، شاعر بھی تھے اور ادیب بھی، صحافی بھی تھے اور
مولف بھی، مقرر بھی تھے اور تخلیق کار بھی، دانشور بھی تھے اور
صوفی بھی ۔گویا وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔شاہد بخاریمحترم
سید فخر الدین بلّے بچپن ہی سے شعری اور علمی ذوق رکھتے تھے۔
آپ نے 1944ءمیں شعری سفر کا آغاز کیا اور آج خوش فکر اور
صاحب فن شاعر ہیں۔ حمد، نعت، منقبت، سلام، نظم، غزل، رباعی،
قطعہ، مرثیہ وثلاثی آپ کے فکر رسا کے محور ہیں۔ نور احمد میرٹھی
سید فخر الدین بلّے کا شمار ان بلند و بالا ادبی اور علمی شخصیتوں میں
ہوتا ہے، جو اپنی ذات میں خود ایک
انجمن یادبستان کہے جانے کے مستحق ہیں۔ ان کی شخصیت کے کئی
رخ تھے اور ہر رخ بڑا روشن، متنوع اور جامع تھا۔ وہ ایک اچھے نثر
نگار بھی تھے اور ایک اچھے شاعر بھی، تصوف میں بھی ان کو مقام
حاصل تھا۔ پروفیسر افتخار اجمل شاہین
شاعری میں نظم ان کی پسندیدہ صنف سخن ہے۔ ان کی نظم ایک خاص
رنگ رکھتی ہے۔ روایت سے اس کا رشتہ قائم ہونے کے ساتھ ساتھ اس
پر جدت اور ندرت کا اتنا گہرا رنگ نظر آتا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا
مشکل ہو جاتا ہے کہ انہیں کلاسیکی شاعر کہا جائے یا خالصتاً جدید
رویہ کا۔شازیہ عنبرین رانا
ہے عشق نبی میرا ایماں ،ہے حب علیؓ میرا مسلک
میں ایک قلندر زادہ ہوں دم مست دما دم آج بھی ہے
یہ شعر مدینتہ العلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے دروازے
حضرت علیؓ کے ساتھ سیدفخرالدین بلے کی گہری عقیدت کا ترجمان
ہے۔سید سعید احمدجعفری
میرے مکرم فخر الدین بلّے نے سات صدیوں کے بعد "رنگ" لکھ کر
نہ صرف رنگ کی روایات کا تحفظ کیا ہے بلکہ اسے آگے بھی بڑھایا
ہے۔ ڈاکٹراسلم انصاری
1982ءمیں ملتان میں ان کے سترہ روزہ جشن تمثیل کے انعقاد کو
فنکاروں کے جوہر قابل کو نکھارنے اور سٹیج کو نئی زندگی عطا
کرنے سے تعبیر کیا گیا۔ جس کے صلے میں انہیں ''مین آف دی سٹیج''
کا گولڈ میڈل دیا گیا اور مشہور ادیب اقبال ساغر صدیقی مرحوم نے اس
سترہ روزہ جشن تمثیل کو سید فخر الدین بلے کا ایک تاریخی کارنامہ
قرار دیتے ہوئے اسے محمود غزنوی کے سترہ حملوں سے تعبیر کیا۔
سید فخر الدین بلّے نامور ادیب، شاعر، دانشور، مقرر، فنون لطیفہ کے
دلدادہ اور کثیر الجہت شخصیت کا نام ہی نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں
ایک انجمن اور ایک ادارہ بھی تھے۔ ان کا شمار ان لوگوں میں کیا جاتا
ہے، جن کے متعلق فخرالدین بلے نےاپنے ایک مصرعےمیں کہا تھا
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود۔مسعود ملک۔
کسی شخص کا اس دنیائے فانی سے رخصت ہو جانا اس کے
پسماندگان، احباب، اعزا کے لئے ایک بہتبڑاصدمہ ہوتا ہے لیکن کسی
ایسے فرد کا انتقال کر جانا اس سے بڑا صدمہ ہوتا ہے جو گونا گوں
صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے اور جاتے ہوئے اپنے حلقہ احباب میں ایک
ایسا خلاءچھوڑ جاتا ہے، جسے سب محسوس کرتے ہیں۔ ایسی ہی نابغہ
روز گار شخصیتوں میں سید فخرالدین بلّے کا شمار کیا جاسکتا ہے۔ ان
کی ساری زندگی مصروفیت، مقصدیت اور حرکت سے عبارت تھی۔
انہوں نے اپنے وقت کا بھر پور اور صحیح استعمال کیا۔ وہ بلاشبہ
ملتان کی آبرو اور اس خطے کی پہچان تھے۔ وہ روا داری، ملنساری،
خلوص، محبت اور ایثار کا پیکر تھے۔ وہ ادیبوں، شاعروں، نقادوں اور
محققوں میں بلند قامت رکھتے تھے۔پروفیسر حمید رضاصدیقی
مذہب، ادب، ثقافت، سیاحت اور مختلف شخصیات کے حوالے سے ان
کی سو سے زیادہ مطبوعات منظر عام پر آئیں۔ ان کے ان گنت تحقیقی
کاموں میں سے "اسلام اور فنون لطیفہ" ان کا تاریخی کارنامہ ہے۔
ڈاکٹر فوق کریمی علیگ
یہ عجیب واقعہ ہے کہ سید فخر الدین بلّے نے بہت متحرک زندگی
گزاری، یار باش قسم کی شخصیت رکھتے تھے۔ کم و بیش تین چار
دہائی ادب کے منظر نامے میں موجود رہے، ادبا اور شعراءکے ساتھ
نشست و برخاست رہی۔ فنون لطیفہ کی ترویج میں مصروف رہے۔ کئی
تخلیقی محاذوں پر نبرد آزما رہے۔سائرہ غلام نبی۔
سید فخر الدین بلّے بین الاقوامی شہرت کے حامل"قافلہ" کے بانی ہونے
کے ساتھ ساتھ ممتاز و معروف شاعر، ادیب، صحافی، نقاد، محقق،
تجزیہ نگار اور عالم بھی تھے ۔ لیکن بنیادی طور پر وہ ایک انسان
تھے۔ شریف، مہذب، وضعدار، بامروت، مخلص، خیرخواہ اور سراپا
صداقت و محبت تھے، اسی لئے ان کی انسانی شخصیت پر اوصاف اور
صفات عالیہ کے تمام لباس خوبصورت لگتے تھے۔پروفیسرڈاکٹرعاصی
کرنالی
ملتان سے انہیں والہانہ عشق تھا۔ وہ ملتان کی عظمت کو اجاگر کرنا اپنا
مشن سمجھتے تھے۔ اسی لئے انہیں نقیب کہا گیا۔ انہوں نے یہ تحقیق
بھی کی کہ آٹھ صدی پہلےنظریہ ءپاکستان اسی دھرتی سے اجاگر ہوا ۔
انہوں نے ملتان کو اردو کی جنم بھومی بھی قرار دیا اور مصر رہے کہ
قائد اعظم کے اجداد نے ملتان کے قریب ہی اپنا ٹھکانہ بنایا تھا۔ سید
فخر الدین بلّے کسی ایک شخصیت کا نام نہیں۔ وہ بیک وقت بہت سی
شخصیات کا مرقع تھے، وہ جب ڈکٹیشن دیتے تو یوں محسوس ہوتا گویا
علم کا سمندر ابل پڑا ہے۔ تقریر کرتے تو فصاحت اور بلاغت کا دریا
بہتا نظر آتا۔ شعر کہتے تو تصوف، فلسفہ اور منطق کے بہت سے
اسرار کُھلتے۔نثر نگاری کے میدان میں قدم رکھتے تو الفاظ ان کے
سامنے ہاتھ باندھے ہوئے نظر آتے۔ وہ زندگی کے پامال رستوں کے
مسافر نہیں تھے۔ ان کے اندر کا تخلیق کار اظہار کے لئے انہیں نت
نئی راہیں
سُجھاتا۔ وہ انتہائی مرنجاں مرنج، اعلی ظرف، خوش اخلاق اور ملنسار
تھے۔ڈاکٹرزاہد علی واسطی
سید فخر الدین بلّے نے اپنے علمی ادبی شعور سے ملتان کی خوابیدہ
تہذیب کو جگا دیا۔ اس کی ثقافت کی
چنگاریوں کو ڈھونڈنکالا
جو صوفی دانشور حضرت امیر خسرو نے سلگائی تھیں۔ اس عہد کو
زندہ کیا جو محمد بن قاسم کے عہد میں ثقافت کا امین تھا ۔ وہ ایک
بہترین نثر نگار تھے۔ ہفت پہلو دانشور، محقق، نقاد، صحافی، صاحب
طرز کالم نگار، مقرر، سیاسی اور ادبی تجزیہ نگار، آثار شناس، فنون
لطیفہ کے امور میں ماہر ہونے کے علاوہ ایک قادر الکلام شاعر تھے۔
عارف الاسلام صدیقی
سید فخر الدین بلّے نے اپنی شاعری میں روایت کا احترام کیا۔ انہوں نے
حالات کی کلائی موڑنے کے بجائے اپنے احساسات، مشاہدات اور
تجربات کو اہمیت دی اور وہ رنگ جو خود ان کے اندر موجود تھا
،اسے خارج کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔چنانچہ ان کے ہاں
ایسے سوالات نے اہمیت اختیار کی جو تشکیک سے اٹھتے ہیں، ازلی
ابدی ہیں ۔وہ بالآخر جستجو کی راہ دکھاتے ہیں۔ ڈاکٹر انورسدید
سیدفخر الدین بلّے نے اپنی زندگی کو ہمیشہ سرگرم رکھا۔ ان کے ذہن
میں ہر وقت مختلف آئیڈیاز ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنے ذہن کو بہتر
انداز میں صرف کیا۔ ان کی گفتگو میں ایک سحر تھا ،جو ان کے قریب
آیا ،ان کا ہو کر رہ گیا۔ ان کے ارد گرد ہر وقت ان کے چاہنے والوں کا
ہجوم رہتا تھا۔ شاکر حسین شاکر
بہاولپور میں 1950ءکی دہائی کے نصف اول کو بلے صاحب کی
شاعری کے حوالے سے طلوع آفتاب کا ہنگام کہا جا سکتا ہے۔ ان کی
حیات مستعار کے آخری برسوں میں قیام ملتان کو دلیل آفتاب، بعد کے
دور میں ان کے فکروفن نقطہ ءعروج کو چھوتے نظر آتے ہیں ۔ کہا
گیا کہ ان کے جسم میں ایک ایسی نامعلوم آگ سلگ رہی ہے، جس سے
کبھی دھواں اٹھتا ہے اور کبھی شعلے لو دینے لگتے ہیں۔ ایسا محسوس
ہوتا ہے گویا بلے صاحب میں کوئی دوسرا شخص چھپا بیٹھا ہے۔
چنانچہ جب وہ ملتان پہنچے تو وہ سلگتی ہوئی آگ شعلہ جوالہ بن گئی
اور وہ دوسرا شخص بھی ظاہر ہوگیا، جو چھپا بیٹھا تھا۔ انسان اور
حیات و کائنات ان کی فکر کا موضوع بنے اور متوصفانہ مضامین نت
نئے انداز سے اشعار میں ڈھلنے لگے ۔سید منصور عاقل۔
سَیّدفخرالدین بلے۔ادبی و صحافتی قدروں کے پاسبان
تحریر:پروفیسر منور علی خان ۔علیگ
سابق ڈائریکٹر تعلیمات کالجز،بہاولپورڈویژن
اب دیکھئے ،وہ دیباچہ جو معروف سیاسی اور ادبی شخصیت سیدتابش
الوری تمغہء امتیازنے اپنی تالیف سیدفخرالدین بلے ۔ ایک داستان۔ ایک
دبستان کیلئے لکھا اور یادوں کو اپنے قلم کی روشنائی بناکراپنے
ممدوح سیدفخرالدین بلے کے ساتھ اپنی 60سالہ محبت اور رفاقت
کاحق اداکردیاہے۔
سیدفخرالدین بلے ۔۔ایک منفرد تخلیقی شخصیت
دیباچہ نگار:سید تابش الوری تمغہ امتیاز
کچھ لوگ بڑے پیدا ہوتے ہیں ۔کچھ لوگ اتفاقات سے بڑے ہوجاتے ہیں
اور کچھ لوگ اپنی محنت و ذہانت سے بڑے بنتے ہیں۔
ان میں سے کوئی ایک سبب ہی کسی کوبڑابنانے کےلئے کافی ہوتاہے
لیکن جہاں ان تینوں اسباب کاامتزاج ہوجائے ،وہاں بڑا آدمی کس کمال
کاہوگا؟اس کاایک عکس سید فخرالدین بلے کی شخصیت میں دیکھا
جاسکتاہے۔جوایک بڑے علمی اور تہذیبی خانوادے میں پیداہوئے۔حسن
اتفاقات نے پروان چڑھایااور محنت و ریاضت نے منزل تکمیل تک
پہنچادیا۔
انسانی شخصیت قدرت کاتخلیقی معجزہ ہے،جس میں امکانات و تنوعات
کے ایسے رنگ و آہنگ ،اتنے صفاتی زاوئیے اور اس قدر معنوی پہلو
سمودئیے گئے ہیں کہ ان کا تصور و ادراک ممکن نہیں۔کسی شخصیت
میں کسی ایک صفت کی تجلی ہی اسے کامرانی کاستارہ بناسکتی ہے
لیکن جہاں جہت در جہت اور پہلو بہ پہلوذات و صفات کی کہکشاں
سجی ہو،اس کی رنگارنگی لفظوں میں مصور نہیں کی جاسکتی۔
فخرالدین بَلّے بھی شخصیتوں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے،جن
کی خصوصیات و معمولات کی بوقلمونی ان کے شخصی خدوخال کا
ایک دلکش خاکہ ابھارتی ہے۔
بَلّے صاحب سے میری شناسائی چھے دہائیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔میں
نے اس ماہتاب کو طلوع ہوکر چودھویں کاچاند بنتے اور غروب ہوتے
دیکھاہے۔تقسیم ہند کی مہاجرت کے نتیجے میں بہاول پور ہماری پناہ
گاہ تھا،میں اپنی بیوہ والدہ کے ہمراہ ایک عزیز سے ملنے کے لئے
کراچی جاتے ہوئے یہاں رکااور اس
سرزمین نے پاو ں پکڑ لئے۔ اور بَلّے صاحب کاخاندان اپنے عزیزوں
کی وجہ سے یہاں آیا ،جو قیام
پاکستان سے بہت پہلے بہاول پور میں مقتدر تھا۔ہم نے جب اپنے کیرئیر
کاآغاز کیا تو میرا بچپن تھا اور بَلّے صاحب کی جوانی۔
اسسٹنٹ انفارمیشن افسر کے طور پر بہاول پور سے سرکاری ملازمت
کا آغازکیا اور ڈائریکٹر جنرل انفرمیشن و تعلقات عامہ کی حیثیت سے
ریٹائر ہوئے۔نیشنل سینٹر اور آرٹس کونسل کی اضافی ذمے داریاں بھی
اس کیرئیرکاحصہ رہیں،جن کی ادائیگی میں بلے صاحب کی ذات و
صفات کی مختلف پرتیں اور جہتیں اس بے پناہی سے سامنے آئیں کہ
وہ اس شعبے کی ایک مثالی شخصیت بن گئے۔
تعلقات عامہ ۔۔۔حکومت کا ایک بڑا اہم اور منفرد محکمہ ہے،جسے
سرکاری امور غیر سرکاری انداز میں انجام دینے ہوتے ہیں اور
حکومتی تشہیر کا مشکل فریضہ ، صحافیوں جیسے مشکل لوگوں سے
ادا کرانا ہوتا ہے۔تعلقات عامہ میں کامیابی کاانحصار اس معیار پر ہے
کہ کوئی افسر کس طرح اپنی صلاحیت سے اہل صحافت کو رام کرکے
اپنا سرکاری کام کس طرح نکلواسکتاہے۔۔
بَلّے صاحب پیدائشی طور پرتعلقات عامہ کے خوبصورت سانچے میں
ڈھلے ہوئے ایک سحرکار آدمی تھے، جوصحافیوں کے دلوں میں
اترکے ہر مشکل آسان کرنے کاہنر بھی جانتے تھے اور انہیں ارباب
بست و کشاد سے برابری کی بنیاد پر دلائل کے ساتھ اپنا موقف منوانے
کازبردست ملکہ بھی حاصل تھا۔اسی حوالے سے دوران ملازمت کئی
شہروں میں تعینات رہے اور جہاں بھی رہے ،داستاں چھوڑ آئے۔
بَلّے صاحب اپنی ذات میں ایک کائنات تھے۔بوقلموں ،گوناگوں
اوررنگارنگ۔
بیک وقت ایک کرشمہ ساز افسر،ایک عظیم انسان،ایک پختہ
کار شاعر،ایک برق رفتار نثّار،ایک غیر جانب دار محقق،ایک ہمہ جہت
دانشور،،ایک تیزطرار صحافی،ایک جدت طراز موسیقی نواز اورایک
فعال ادبی اور ثقافتی سفیر۔
قدرت نے انہیں عجیب رنگ و آہنگ سے تراشا تھااوران کے رگ و
پے میں بجلیاں سی بھر دی تھیں ۔ہردم کچھ نہ کچھ کرنے کے لئے بے
قرار! ہر لمحہ کوئی نیا فیصلہ،نیامنصوبہ، نیاراستہ، نئے مرحلے،نئے
اقدام ،نئے چیلنج ،نئی فکر،نئی مہم ،نئی منزل ۔
ایک چکر ہے مِرے پاوں میں زنجیر نہیں۔
تعلیم و تربیت،تہذیب و تمدن ،علم و فن ،تجربہ و مشاہدہ ،ذہانت و
مہارت اور ریاضت نے ان کے صفاتی خدوخال اور زندگی کے احوال
کوایسے دھنک رنگ سانچے میں ڈھالاتھا ،جس کی تصویر سب کی
جیسی بھی تھی اور سب سے الگ بھی ۔۔
خوش اندامی،خوش اخلاقی ،خوش لباسی ،خوش دلی اور خوش فکری
کاوہ ایک دلکش پیکر تھے ۔سراپا خود دار۔سراپا انکسار۔جرات و
جسارت کے کوہسار ۔فراست و فطانت کی آبشار۔ رکیں تو لالہ زار اور
چلیں تو باد بہار۔
میرے نزدیک بَلّے صاحب بنیادی طور پر شاعر تھے مگر ان کی بیشتر
تخلیقی توانائی تعلقاتِ عامہ اور ابلاغیات نے لوٹ لی۔اس کے باوجود
انہوں نے ایک قادرالکلام شاعر کے طور پرخود کومنوایا۔ان کی
شاعری روایت اور جدت کادلکش اتّصال تھی۔انہوں نے زندگی کو جس
جس زاوئیے اور جہت سے دیکھا اور تہذیب و ثقافت اور معاشرت و
انسانیت کاجو گہرا مطالعہ ،مشاہدہ اور تجربہ کیا،اسے اپنی شاعری کے
پیکر میں ڈھال دیا۔کہیں کہیں ان کے اشعار مشکل اور دقیق محسوس
ہوتے ہیں ،اس کی وجہ ان کاعلم و فن اور تحقیق و تدقیق ہے،جس سے
وہ اپنی نثرکے ساتھ اپنی شاعری کو بھی ثمرمند کرناچاہتے تھے۔ایک
چیز جوان کی شعری تخلیق کوندرت اور انفرادیت عطا کرتی ہے،وہ ان
کاعارفانہ اور متصوفانہ رنگ ہے، جوکہیں ظاہر اور کہیں بین السطور
اپنی چھب دکھلاتا ہے ۔پھران کے ہاں رومانویت روایتی دل کشی کے
ساتھ روحانی تجلی کاایک عجیب جگمگا رکھتی ہے، جو لطف بھی
دیتی ہے اور سکون و طمانیت بھی۔
ان کی ابلاغی شخصیت کاتفصیلی مطالعہ تو نظر آتاہے لیکن ان کی
شعری شخصیت کاتفصیلی مطالعہ ہم پرواجب ہے۔شاید ابھی ان کا پورا
کلام بھی دستیاب نہیں ہوسکا ،تاہم ریزہ ریزہ جو کچھ جمع کیا جاسکا
،اس سے ان کے کمال فن کی جہتوں ،زاویوں،وسعتوں اور جدتوں کا
بآسانی اندازہ ہوسکتاہے۔حاصل مطالعہ کے طور پر ان کے چند اشعار
یہاں پیش کر رہاہوں ،جو ان کے شاعرانہ جلال و جمال کے آئینہ دار
ہیں۔
خلا کی تسخیر ہو رہی ہے
زمیں پہ انسان مر رہا ہے
وہی تو ہوں میں کہ جس کے وجود سے پہلے
خود اپنے رب سے فرشتوں نے اختلاف کیا
ازل سے عالم موجود تک سفر کرکے
خود اپنے جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا
الفاظ و صوت و رنگ و تصور کے روپ میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
ہر سنگ بھاری ہوتا ہے اپنے مقام پر
انساں خلا میں پہنچا تو پاسنگ رہ گیا
میں نے گردوں پہ خون دیکھاہے
لوگ کہتے ہیں پو پھٹی چپ چاپ
میں جانتا ہوں مگر تو بھی آئینہ لے کر
مجھے بتا کہ مِرا انتخاب کیسا ہے
کھڑا ہوں جادہ ء حیرت پہ آج بھی تنہا
کبھی تو کوئی مسافر اِدھر سے گزرے گا
ہنگامہ ہائے کارگہِ روز و شب نہ پوچھ
اتنا ہجوم تھا کہ میں تنہا سا رہ گیا
اتنا بڑھا بشر کہ ستارے ہیں گرد راہ
اتنا گھٹا کہ خاک پہ سایہ سا ر ہ گیا
سر اٹھا کر زمیں پہ چلتا ہوں
سر چھپانے کو گھر نہیں ، نہ سہی
اٹھائے پھرتا ہوں سر اپنے تن کے نیزے پر
ہوئی ہے تنگ زمیں مجھ پہ کربلا کی طرح
مٹی اڑی تو اپنی حقیقت ہوئی عیاں
جھونکا ہوا کا میرا پتا دے گیا مجھے
اپنی کتاب زیست پہ تنقید کے لئے
آخر میں چند سادہ ورق چھوڑ جاءوں گا
شہر کے محتسب مجھے بھی دِکھا
ایسے دامن جو داغ دار نہیں
آگ پانی میں ہے کیا فرق کہ ہم سب کے بدن
کبھی بارش میں ،کبھی دھوپ میں نم ہوتے ہیں
یوں لگی مجھ کو خنک تاب سحر کی تنویر
جیسے جبریل نے میرے لئے پَر کھولے ہیں
اس مٹی کی ہر شے پر ہے ،اس مٹی کا قرض
میرے لئے ہے فرض سے پہلے اس مٹی کاقرض
ادبا او ر شعرا اپنے اپنے دور میں قدر ناشناسی کے عموماً شکوہ سنج
رہے ہیں ،بَلّے صاحب نے محسوس کیا ہو یا نہیں ،میں محسوس کرتا
ہوں کہ زمانے نے ان کے غیر معمولی اوصاف سے کماحقہ انصاف
نہیں کیا۔کیسے کیسے عظیم المرتبت اور نابغہ روزگار لوگوں نے انہیں
کیسا کیسا خراج تحسین پیش کیا ہے۔
فراق گورکھپوری نے کہا سید فخرالدین بلے رنگوں کے بجائے الفاظ
سے تصویریں بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔
جوش ملیح آبادی نے کہا سید فخرالدین بلے کے کلام میں دریا کی
روانی اور جذبوں کی فراوانی ہے۔تاریخ ،ادب اور تصوف کا مطالعہ ان
کے کلام میں بولتا ہوا اور سوچ کے در کھولتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق نے کہا کہ سید فخرالدین بلے کی نظم ہو یا
نثر ،اس میں کوئی نقص نکالنا محال ہے۔
ڈاکٹروزیرآغا نے کہا کہ تصوف پر ان کی نظر اتنی گہری ہے کہ آپ
بلاتکلف انہیں اس سلسلے میں ایک اہم اتھارٹی قرار دے سکتے ہیں ۔
جگن ناتھ آزاد نے کہا کہ سید فخرالدین کی شعری تخلیقات پڑھنے
یاسننے کے بعد برسوں تک ان کے سحر سے آزاد ہونا مشکل ہے۔
میرزا ادیب نے کہا کہ ہرملاقات میں ان کی شخصیت کا ایک نیا رخ
سامنے آیا،میں اس کثیرالجہت شخص کو پورے اعتماد کے ساتھ علم و
ادب کی آبرو قرار دے سکتا ہوں ۔
انتظار حسین نے کہا کہ فخرالدین بلے بڑی متحرک قسم کی شخصیت
تھے۔انہوں نے ملک کے تہذیبی فروغ کے لئے خود کو وقف کر رکھا
تھا ۔پھر ساتھ میں شاعری بھی کی،جتنی شاعری کی،اس سے انصاف
کیا۔اس پر علمی کام مستزاد۔
پریشان خٹک نے کہا کہ فخرالدین بلے ادب کی دیو قامت شخٰصیت کا
نام ہے۔
ڈاکٹر عاصی کرنالی نے کہا بلے ایک شخص کا نہیں،ایک یونیورسٹی
اور ایک تہذیبی ادارے کانام ہے۔وہ بے کراں علوم و فنون کے حامل
تھے۔
افتخارعارف نے کہا کہ بلے صاحب ہمارے زمانے کے یگانہ روزگار
شخصیتوں میں سے تھے۔جن کی ذات گرامی بے شمار کمالات کی
جامع تھی۔
ان معرکة الآرا آرا اور تبصروں کے باوجود بلے صاحب کو مسند ادب
و فن پر شہرت و مقبولیت کا وہ مقام بوجوہ نہیں دیا جاسکا،جوان کے
شایان شان تھا۔شاید اس کے لئے عہد حاضر میں ذاتی جمال کے علاوہ
کچھ اور کرشماتی احوال اور مال و مقال درکار ہوتے ہیں۔ملازمت کے
آغاز سے لے کر اس کے انجام تک اور ملازمتی فراغت سے سوئے
عدم مراجعت تک بلے صاحب سے میرا مخلصانہ اور محبانہ تعلق سدا
برقرار رہااور کوئی غلط فہمی یا ناراضی کبھی اس میں کوئی رخنہ پیدا
نہ کرسکی ۔پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں کے سلسلے میں لاہورقیام ہوتا
توان سے گھنٹوں گپ شپ رہتی۔پنجاب کے سابق درویش وزیراعلیٰ
غلام حیدر وائیں ہمارے مشترکہ دوست تھے۔مسلم لیگی میگزین مسلم
لیگ نیوز ،نظریاتی لٹریچر اور تشہیری حکمت عملی کے حوالے سے
مسلم لیگ ہاوس میں وائیں صاحب کاکمرہ ہمارے مشترکہ جنون
کامحورتھا۔وزارت اعلیٰ پرفائز ہونے کے باوجود ایک کارکن کی طرح
ان کاخشوع و خضوع بھی قابل تحسین ہوتاتھااور بلے صاحب کاانہماک
بھی قابل دید ۔
دوستوں کے لئے یہ بات ہمیشہ خوشگوار حیرت کاباعث رہی کہ بلے
صاحب نے عمر،بیماری اور نقاہت کو کبھی فعالیت پر حاوی نہیں ہونے
دیا۔جب تک بس چلا پریشانیوں کوٹہلاتے رہے اورزندگی کاساغر
چلاتے رہے۔
ایک روز وقت طے کرکے میرے پاس بہاول پور تشریف لائے۔کہنے
لگے اس دفعہ میری آمد خاص الخواص ہے۔میں نے کہا عام العوام کب
ہوتی ہے؟۔میرے لئے ہمیشہ خاص ہوتی ہے۔فرمانے لگے مذاق
چھوڑئیے ۔میں ایک انتہائی سنجیدہ مسئلے پر بات کرنے آیاہوں۔۔آپ کو
معلوم ہے کہ میرے تعلقات ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں مگر میں نے
سارے پاکستان میں اس کے لئے آپ کاانتخاب کیا ہے۔ان کی گفتگو میں
تجسس ڈرامائی شکل اختیار کررہاتھا ۔
آپ جانتے ہیں کہ میں نے قافلہ کے نام سے ایک ادبی تنظیم بنائی تھی
،لاہور میں ادبی پڑائو کےعنوان کے تحت میرے گھر پر برس ہابرس
تک اس کی تقریبات ہوتی رہی ہیں ۔جن میں لاہور ہی کے نہیں بلکہ
باہر سے آنے والے نامور ادیب ،شاعر اور نقاد شریک ہوتے رہے
ہیں۔میرے لاہور چھوڑنے کے بعد یہ سلسلہ ٹوٹ گیا ہے۔میں چاہتا ہوں
آپ بہاول پور میں اپنے گھر اس سلسلے کا آغاز کریں ۔یہ کام باقاعدگی
سے صرف آپ ہی کرسکتے ہیں ۔میں نے کہا آپ نے انکار یا فرار کی
گنجائش ہی نہیں چھوڑی ۔آپ کی اس خواہش کی تکمیل میرے لئے
اعزاز ہوگا۔چنانچہ اسی شام میرے گھر پر بہاول پور کے منتخب نامور
شعرا اور ادبا کااجلاس ہوا اور بلے صاحب کی موجودگی میں یہ طے
ہواکہ ہر ماہ کی سولہ تاریخ کوبعد نماز مغرب میرے گھر پرادبی
پڑاوہوگا اور اس کااہتمام ہماری تنظیم مجلس ثقافت پاکستان کیا کرے
گی۔وہ دن ہے اور آج کادن ادبی پڑاوبرس ہا برس سے بلاناغہ جاری
ہے۔جس سے بلے صاحب کی یاد بھی تازہ ہورہی ہے اور یہ پڑاواب
بہاول پور کی ایک مستقل روایت کی حیثیت بھی اختیار کرگیا ہے۔یوں
سید فخرالدین بلے بہاول کی سرزمین میں تہہِ خاک آسودہ ہیں مگر
بہاول پورکے ادبی آسمان پر بدستور تابندہ ہیں۔
سید فخرالدین بلے صاحب کی شخصیت ،فن اور خدمات سے متعلق
مشاہیر اور احباء نے محبتوں کے جو پھول اپنی تحریروں کی صورت
میں ان کی نذرکئے، انہیں میں نے سید فخرالدین بلے۔ایک داستان ۔
ایک دبستان کے عنوان کے تحت ایک گلدستے کی شکل دے دی
ہے۔ادب دوست تعاون نہ کرتے تو خوبصورت مضامین و آراء کو کتابی
شکل میں مدون کرنا آسان نہ ہوتا۔مجھے یقین ہے کہ اس کوشش کے
نتیجے میں بلے صاحب کاکلام، کام اورمقام تاریخ ادب و ابلاغیات میں
ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجائے گااور ممکن ہے کہ یہ کاوش ان پر
تحقیق کانیادروازہ کھول دے۔
سیدفخرالدین بلے ۔۔ایک منفرد تخلیقی شخصیت
دیباچہ نگار:سید تابش الوری تمغہ امتیاز
سیدفخرالدین بلے ۔ایک داستان ۔ایک دبستان کے اس باب میں ایک مایہ
ء ناز ماہرتعلقات عامہ اورابلاغیات کےاستاذالاساتذہ کی حیثیت سے
سیدفخرالدین بلے کی شخصیت ہمارےسامنے آئی ہے ۔انہوں نےاپنے
ایک خوبصورت شعر میں کہاتھا
اپنی کتاب زیست پہ تنقیدکےلئے
آخرمیں چندسادہ ورق چھوڑجاءوں گا
اورآپ دیکھئےکہ ان کی کتاب زیست پرآخرمیں چھوڑے ہوئے سادہ
اوراق پر تنقید ی کلمات لکھنےوالوں کی کمی نہیں ۔سیدتابش الوری نے
ان نگارشات کےگلابوں کویکجاکرکےایک گلدستے کی شکل دےدی ہے
۔اوراسے سیدفخرالدین بلے۔ایک داستان ۔ایک دبستان کانام دیاہے ۔عالمی
اخبار کےقارئین کرام اس خوبصورت تالیف کاایک اورباب بہت جلد
ملاحظہ کرسکیں گے،جس میں سیدفخرالدین بلے کی شخصیت کاایک
اور گوشہ ہم آپ کےسامنے لائیں گے۔تیاررہئیے۔اس میں بھی معروف
لکھاریوں کی نگارشات ہوں گی [ادارہ]














